Complete Urdu Notes
Click on the Heading panel to open and close it.
اسے کھولنے اور بند کرنے کے لیے ہیڈنگ پینل پر کلک کریں۔
غزل کی تعریف :غزل خالصتاً عربی لفظ ہے ۔ فیروز اللغات کے مطابق غزل کے معنی ٰ ’’عورت سے بات کرنا ہے ‘‘ اور ’’لغات کشوری‘‘ میں غزل کے دو معنیٰ دیئے گئے ہیں جس میں ایک ہے ’’ وہ شخص جو عورتوں سے عشق کی باتیں کرتا ہے ‘‘۔ اور دیگر معنوں میں ’’کاتنا‘‘ ۔ ’’رسی بٹنا‘‘ یا ’’سوت ریشی‘‘ کے ہیں ۔غزل کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنے یا عورتوں کی باتیں کرنے کے ہیں۔ چونکہ غزل میں روایتی طور پر وارداتِ عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہوتا ہے اس لیے اس صنفِ شعر کا یہ نام پڑا۔ غزل اس چیخ کو بھی کہا جاتا ہے جو شکار ہوتے ہوئے ہرن کے منہ سے نکلتی ہے۔ اصطلاحِ شاعری میں غزل سے مراد وہ صنفِ نظم ہے جس کا ہر ایک شعر الگ اور مکمل مضمون کا حامل ہو اور اس میں عشق وعاشقی کی باتیں بیان ہوئی ہوں خواہ وہ عشق حقیقی ہو یا عشق مجازی۔ تاہم آج کل کی غزل میں عشق و عاشقی کے علاوہ موضوعات پر اظہارِ خیال کو روا جانا جانے لگا ہے۔اردو میں غزل کا آغاز فارسی زبان سے ہوا۔رشید احمد صدّیقی نے غزل کو ’’ اردو شاعری کی آبر و ‘‘ کہا ہے۔کلیم الدین احمد نے غزل کو ’’ نیم وحشی صنف ‘‘ کہا ہے۔
غزل کی مقبولیت :غزل کی اردو ادب میں کامیابی اور پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر دور میں اہلِ اردو کے جذبات و احساسات کا ساتھ نبھانے میں کامیاب رہی ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور داخلی و خارجی اتار چڑھاؤ کے باوجود اردو شاعر کم و بیش ہر قسم کے تجربات کامیابی سے غزل میں بیان کرتے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بہت سی اصناف مثلاً قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی وغیرہ رفتہ رفتہ قبولِ عام کے درجے سے گر گئیں مگر غزل اپنی مقبولیت کے لحاظ سے ہنوز وہیں کی وہیں ہے۔ اردو غزل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا نمائندہ جس نے اس کو باقاعدہ رواج دیا ولی دکنی تھا۔ لیکن ولی سے غزل کاآغاز نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے ہمیں دکن کے بہت سے شعراءکے ہاں غزل ملتی ہے جن میں قلی قطب شاہ، نصرتی، غواصی اور ملا وجہی شامل ہیں۔ تاہم ولی وہ پہلا شخص ضرور تھا جس نے پہلی بار غزل میں مقامی تہذیبی قدروں کو سمویا۔ غزل کی ایک قسم مسلسل غزل ہے جس میں شاعر ایک ہی خیال کو تسلسل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اقبال، حسرت موہانی اور کلیم عاجز کے یہاں تسلسل غزل کی اچھی مثالیں مل جاتی ہیں۔
غزل اور نظم میں امتیاز :غزل اور نظم میں بنیادی طور پرمندرجہ ذیل فرق ہیں۔>
غزل کا ہر شعر ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے اور فی نفسہٖ مکمل ہوتا ہے ۔جبکہ نظم کا ہر بند/شعر نظم کے موضوع سے متعلق ہوتا ہے کیونکہ پوری نظم میں ایک ہی موضوع کے اشعار ہوتے ہیں۔
غزل کا کوئی عنوان نہیں ہوتا جبکہ نظم اپنے موضوع کے موافق باقاعدہ عنوان رکھتی ہے ۔
غزل میں ہر شعر دو مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ نظم میں دو سے زائد مصرعوں کا بند بھی ہوتا ہے۔جس کے مختلف نام (مثلث،مسدس،معشر)ہوتے ہیں۔
غزل کی ہیٔت
مطلع : مطلع لفظ ’طلوع ‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں ’نکلنا یا شروع ہونا‘ اسی لئے سورج کے نکلنے کو ’سورج طلوع ہونا کہا جاتا ہے ۔غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہےکیونکہ اسی شعر سے غزل کا آغاز ہوتا ہے۔شعرمظلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ (یکساں قافیہ والے)اور ہم ردیف (یکساں ردیف والے) ہوتے ہیں۔مطلع کو غزل کا اعلان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ مطلع کے ذریعہ شاعر یہ اعلان کر دیتا ہے کہ غزل کے باقی اشعار کی زمین،ردیف،قافیہ اور بحر کیا ہوگی۔
حسن مطلع :اگر غزل کا دوسرا شعر بھی مطلع ہو تو اسے حسن ِمطلع یا مطلعِ ثانی کہتے ہیں۔غالب کی ایک مشہور غزل کا مطلع اور حسن مطلع ملاخطہ کیجئے۔
ملتی ہے خوے یار سے نار، التہاب میں کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
مقطع :غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلّص استعمال کرتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ لفظ مقطع ،’قطع‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں سلسلہ ختم کرنا ۔ غزل کا آخری شعر کیونکہ غزل کے سلسلہ کو ختم کرتا ہے اس لئے اسے مقطع کہتے ہیں۔
سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو ابھی ٹُک روتے روتے سوگیا ہے
مکتب عشق سے کیا سیکھ کہ آیا اکملؔ درد کا نام بھی کیوں اس نے دوا رکھا ہے
قافیہ :شعر میں استعمال ہونے والے ہم آواز اور ہم وزن الفاظ جیسے اثر، نظر، شرر وغیرہ کو قافیہ کہتے ہیں۔قافیہ لفظ’ قفو‘ بہ معنی’ پیروی کرنے کے‘ نکلا ہے، جس کے لغوی معنی “ پیچھے آنے والے“ کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں قافیہ اس مجموعہ حروف کا نام ہے جو غزل اور قصیدہ کے مطلع میں مکرّر آئے اور بعد کے اشعار کے دوسرے مصرعے میں صوتی آہنگ میں مشابہت رکھتا ہو۔ امثال ملاحظہ کیجیے۔(عریانی/گریبانی)(اغماز/انداز)
چاک کی خواہش اگر وحشت عریانی کرے صبح کی مانند زخمِ دل گریبانی کرے
کیا بتائیں تیرے اغماز سے ڈر لگتا ہے روٹھنے کے تیرے انداز سے ڈر لگتا ہے
غزل اور قصیدے میں قافیہ، مطلع کے دونوں مصرعوں کے آخر میں آتاہے۔ مثنوی کے ہرمصرعے کے آخر اور قطعہ کے مصرع ثانی کے آخر میں۔ غزل اور قصیدے کے باقی اشعار ( ماسوائے مطلع ) میں بھی مصرع ثانی کے آخر میں آتا ہے۔
ردیف : ردیف کے لغوی معنی ہیں گُھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والا۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد وہ لفظ یا الفاظ کا مجموعہ ہے جو قافیے کے بعد مکرر آئیں اور بالکل یکساں ہوں۔ غزل کے مطلع میں دونوں مصرعوں میںردیف کا ہونا لازمی ہےکیونکہ یہ ہم ردیف ہوتا ہے جبکہ غزل کےبقیہ اشعار میں مصرعہ ثانی میں ردیف دہرائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر
نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
اس شعر میں (کا) ردیف ہے۔یہ ردیف دونوں مصرعوں میں ہے اس لئے یہ مطلع ہے۔
جذبہ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھے پردئہ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھے
س شعر میں (مجھے) ردیف ہے کیونکہ یہ قافیہ کے بعد دہرایا جا رہا ہے اور تبدیل نہیں ہو رہا۔
مردف غزل :جس غزل میں ردیف کی پابندی کی گئی ہو اسےمردف غزل کہتے ہیں۔فیضؔ کی غزل دیکھیں۔
ترے غم کو جان کی تلاش تھی، ترے جان نثار چلے گئے تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ راہ گزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کر ، شبِ انتظار چلی گئی مرے ضبطِ حال سے روٹھ کر ، میرے غم گسار چلے گئے
غیر مردف غزل :جس غزل میں ردیف کی پابندی نہ کی گئی ہو اسے غیر مردف غزل کہتے ہیں۔ فیضؔ کی ہی ایک غیر مردف غزل دیکھیں۔
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا ، سبھی راحتیں ، سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں
یہ سُخن جو ہم نے رقم کئے ، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ صبحِ وصال کا ، کئی شام ہجر کی مدتیں
دو غزلہ، سہہ غزلہ :جب کبھی بھی شاعر کسی ایک ہی بحر اور ایک ہی زمین میں دو یا تین غزلیں کہہ ڈالے تو اُن غزلوں کو دو غزلہ یا سہہ غزلہ کہتے ہیں بعض شعراے کرام نے تو یہاں بھی انتہائی غلو سے کام لیا ہے ، چہار غزلہ، پنج غزلہ ،شش غزلہ حتی کہ ہفت غزلہ تک موجود ہیں ۔
بحر : شعر کا وزن کرنے یا اسے ناپنے کا پیمانہ بحر کہلاتا ہے۔عروضی ارکان کی تکرار سے اشعار کے لیے جو وزن حاصل کیا جاتا ہے اسے بحر کہتے ہیںجیسے فاعلن ایک رکن ہے اگر اسے چار/چھ /آٹھ دفعہ مکرر لایا جائے تو اس سے جو وزن حاصل ہو گا اسے بحر کہتے ہیں۔
اگر بحر میں ایک ہی رکن کی تکرار ہو تو اسے مفرد بحر کہتے ہیں اور اگر بحر میں دو یا زیادہ ارکان ہوں تو اسے مرکب بحر کہتے ہیں جیسے۔(فعولن فعولن فعولن فعولن) ایک مفرد بحر ہے کیونکہ یہ ایک ہی رکن(فعولن) کی تکرار سے مرکب ہے اور(مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن) ایک مرکب بحر ہے کیونکہ اس میں مختلف ارکان استعمال ہوئے ہیں۔
پھر اگر بحر میں ایک یا مختلف ارکان کی تعداد چار ہو تو اسے مربع بحراور چھ ہو تو مسدس بحر اور آٹھ ہو تو مثمن بحر کہتے ہیں۔ جیسے
مربع بحر : فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
مسدس بحر : فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
مثمن بحر : فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
اعلان :مطلع کے ذریعہ شاعر اپنی زمین کا گویا اعلان کرتا ہے کہ اب پوری غزل اسی بحر میں،اسی ردیف و قافیہ کے ساتھ مکمل کی جائے گی۔
مضمون : ہر شعر میں ایک مکمل مضمون بیان کیا جاتا ہے۔
دو لخت : غزل کے ہر شعر کے ایک مصرع کا مفہوم دوسرے مصرع پر موقوف ہوتا ہے۔اگر ایک ہی شعر میں پہلے مصرع میں ایک مکمل بات کرکے دوسرے مصرع میں کوئی اور تخیل مکمل طور پر پیش کیا جائے تو اسے عیب مانا جاتا ہے جسے دو لخت کہتے ہیں۔
غزل مسلسل :اگر پوری غزل میں ایک ہی موضوع بیان کیا جائے تو اسے غزل مسلسل کہتے ہیں۔
متفرقات :
- غزل کا سب سے عمدہ شعر بیت الغزل یا شاہِ بیت کہا جاتا ہے۔
- غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل اکایٔ ہوتا ہے۔
- غزل میں کم سے کم ۵ اشعار اور زیادہ کی کویٔ تعداد مقرّر نہیں کی گیٔ ہے۔
- اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ولی دکنی ہے۔
- شمالی ہند کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر نواب صدر الدین محمد خاں فائز دہلوی ہیں
- انشاءؔ نے سب سے پہلے اردو شاعری میں انگریزی الفاظ کا استعمال کیا ۔
- میرؔ کی شاعری کو ’’قلبی واردات کی شاعری‘‘، داخلیت‘‘، ’’قنوطیت کی شاعری‘‘ کہا جاتا ہے۔ قنوطیت کے معنیٰ زندگی کا ماتم کرنا ہے۔
- سوداؔ نے غزل میں خارجیت کی ابتداء کی۔ خارجیت کے معنیٰ باہری دنیا کی خوبصورتی یا بدصورتی بیان کرنا ۔
- دردؔ اردو کے پہلے صوفی شاعر ہیں۔
مطلع : مطلع لفظ ’طلوع ‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں ’نکلنا یا شروع ہونا‘ اسی لئے سورج کے نکلنے کو ’سورج طلوع ہونا کہا جاتا ہے ۔غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہےکیونکہ اسی شعر سے غزل کا آغاز ہوتا ہے۔شعرمظلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ (یکساں قافیہ والے)اور ہم ردیف (یکساں ردیف والے) ہوتے ہیں۔مطلع کو غزل کا اعلان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ مطلع کے ذریعہ شاعر یہ اعلان کر دیتا ہے کہ غزل کے باقی اشعار کی زمین،ردیف،قافیہ اور بحر کیا ہوگی۔
حسن مطلع :اگر غزل کا دوسرا شعر بھی مطلع ہو تو اسے حسن ِمطلع یا مطلعِ ثانی کہتے ہیں۔غالب کی ایک مشہور غزل کا مطلع اور حسن مطلع ملاخطہ کیجئے۔
ملتی ہے خوے یار سے نار، التہاب میں کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
مقطع :غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلّص استعمال کرتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ لفظ مقطع ،’قطع‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں سلسلہ ختم کرنا ۔ غزل کا آخری شعر کیونکہ غزل کے سلسلہ کو ختم کرتا ہے اس لئے اسے مقطع کہتے ہیں۔
سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو ابھی ٹُک روتے روتے سوگیا ہے
مکتب عشق سے کیا سیکھ کہ آیا اکملؔ درد کا نام بھی کیوں اس نے دوا رکھا ہے
قافیہ :شعر میں استعمال ہونے والے ہم آواز اور ہم وزن الفاظ جیسے اثر، نظر، شرر وغیرہ کو قافیہ کہتے ہیں۔قافیہ لفظ’ قفو‘ بہ معنی’ پیروی کرنے کے‘ نکلا ہے، جس کے لغوی معنی “ پیچھے آنے والے“ کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں قافیہ اس مجموعہ حروف کا نام ہے جو غزل اور قصیدہ کے مطلع میں مکرّر آئے اور بعد کے اشعار کے دوسرے مصرعے میں صوتی آہنگ میں مشابہت رکھتا ہو۔ امثال ملاحظہ کیجیے۔(عریانی/گریبانی)(اغماز/انداز)
چاک کی خواہش اگر وحشت عریانی کرے صبح کی مانند زخمِ دل گریبانی کرے
کیا بتائیں تیرے اغماز سے ڈر لگتا ہے روٹھنے کے تیرے انداز سے ڈر لگتا ہے
غزل اور قصیدے میں قافیہ، مطلع کے دونوں مصرعوں کے آخر میں آتاہے۔ مثنوی کے ہرمصرعے کے آخر اور قطعہ کے مصرع ثانی کے آخر میں۔ غزل اور قصیدے کے باقی اشعار ( ماسوائے مطلع ) میں بھی مصرع ثانی کے آخر میں آتا ہے۔
ردیف : ردیف کے لغوی معنی ہیں گُھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والا۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد وہ لفظ یا الفاظ کا مجموعہ ہے جو قافیے کے بعد مکرر آئیں اور بالکل یکساں ہوں۔ غزل کے مطلع میں دونوں مصرعوں میںردیف کا ہونا لازمی ہےکیونکہ یہ ہم ردیف ہوتا ہے جبکہ غزل کےبقیہ اشعار میں مصرعہ ثانی میں ردیف دہرائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر
نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
اس شعر میں (کا) ردیف ہے۔یہ ردیف دونوں مصرعوں میں ہے اس لئے یہ مطلع ہے۔
جذبہ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھے پردئہ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھے
س شعر میں (مجھے) ردیف ہے کیونکہ یہ قافیہ کے بعد دہرایا جا رہا ہے اور تبدیل نہیں ہو رہا۔
مردف غزل :جس غزل میں ردیف کی پابندی کی گئی ہو اسےمردف غزل کہتے ہیں۔فیضؔ کی غزل دیکھیں۔
ترے غم کو جان کی تلاش تھی، ترے جان نثار چلے گئے تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ راہ گزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کر ، شبِ انتظار چلی گئی مرے ضبطِ حال سے روٹھ کر ، میرے غم گسار چلے گئے
غیر مردف غزل :جس غزل میں ردیف کی پابندی نہ کی گئی ہو اسے غیر مردف غزل کہتے ہیں۔ فیضؔ کی ہی ایک غیر مردف غزل دیکھیں۔
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا ، سبھی راحتیں ، سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں
یہ سُخن جو ہم نے رقم کئے ، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ صبحِ وصال کا ، کئی شام ہجر کی مدتیں
دو غزلہ، سہہ غزلہ :جب کبھی بھی شاعر کسی ایک ہی بحر اور ایک ہی زمین میں دو یا تین غزلیں کہہ ڈالے تو اُن غزلوں کو دو غزلہ یا سہہ غزلہ کہتے ہیں بعض شعراے کرام نے تو یہاں بھی انتہائی غلو سے کام لیا ہے ، چہار غزلہ، پنج غزلہ ،شش غزلہ حتی کہ ہفت غزلہ تک موجود ہیں ۔
بحر : شعر کا وزن کرنے یا اسے ناپنے کا پیمانہ بحر کہلاتا ہے۔عروضی ارکان کی تکرار سے اشعار کے لیے جو وزن حاصل کیا جاتا ہے اسے بحر کہتے ہیںجیسے فاعلن ایک رکن ہے اگر اسے چار/چھ /آٹھ دفعہ مکرر لایا جائے تو اس سے جو وزن حاصل ہو گا اسے بحر کہتے ہیں۔
اگر بحر میں ایک ہی رکن کی تکرار ہو تو اسے مفرد بحر کہتے ہیں اور اگر بحر میں دو یا زیادہ ارکان ہوں تو اسے مرکب بحر کہتے ہیں جیسے۔(فعولن فعولن فعولن فعولن) ایک مفرد بحر ہے کیونکہ یہ ایک ہی رکن(فعولن) کی تکرار سے مرکب ہے اور(مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن) ایک مرکب بحر ہے کیونکہ اس میں مختلف ارکان استعمال ہوئے ہیں۔
پھر اگر بحر میں ایک یا مختلف ارکان کی تعداد چار ہو تو اسے مربع بحراور چھ ہو تو مسدس بحر اور آٹھ ہو تو مثمن بحر کہتے ہیں۔ جیسے
مربع بحر : فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
مسدس بحر : فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
مثمن بحر : فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
اعلان :مطلع کے ذریعہ شاعر اپنی زمین کا گویا اعلان کرتا ہے کہ اب پوری غزل اسی بحر میں،اسی ردیف و قافیہ کے ساتھ مکمل کی جائے گی۔
مضمون : ہر شعر میں ایک مکمل مضمون بیان کیا جاتا ہے۔
دو لخت : غزل کے ہر شعر کے ایک مصرع کا مفہوم دوسرے مصرع پر موقوف ہوتا ہے۔اگر ایک ہی شعر میں پہلے مصرع میں ایک مکمل بات کرکے دوسرے مصرع میں کوئی اور تخیل مکمل طور پر پیش کیا جائے تو اسے عیب مانا جاتا ہے جسے دو لخت کہتے ہیں۔
غزل مسلسل :اگر پوری غزل میں ایک ہی موضوع بیان کیا جائے تو اسے غزل مسلسل کہتے ہیں۔
متفرقات :
- غزل کا سب سے عمدہ شعر بیت الغزل یا شاہِ بیت کہا جاتا ہے۔
- غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل اکایٔ ہوتا ہے۔
- غزل میں کم سے کم ۵ اشعار اور زیادہ کی کویٔ تعداد مقرّر نہیں کی گیٔ ہے۔
- اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ولی دکنی ہے۔
- شمالی ہند کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر نواب صدر الدین محمد خاں فائز دہلوی ہیں
- انشاءؔ نے سب سے پہلے اردو شاعری میں انگریزی الفاظ کا استعمال کیا ۔
- میرؔ کی شاعری کو ’’قلبی واردات کی شاعری‘‘، داخلیت‘‘، ’’قنوطیت کی شاعری‘‘ کہا جاتا ہے۔ قنوطیت کے معنیٰ زندگی کا ماتم کرنا ہے۔
- سوداؔ نے غزل میں خارجیت کی ابتداء کی۔ خارجیت کے معنیٰ باہری دنیا کی خوبصورتی یا بدصورتی بیان کرنا ۔
- دردؔ اردو کے پہلے صوفی شاعر ہیں۔
ولی اورنگاباد میں 1667ء میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک صوفی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور خود بھی مشہور صوفی سعد اللہ گلشن کے مرید ہوئے۔ انھوں نے بیرون گجرات کے کئی سفر کئے جس کی وجہ سے ان کی شاعری کی شہرت ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئی ۔ وہ دو مرتبہ دہلی آئے۔ دوسری مرتبہ جب وہ دہلی آئے تو اپنا دیوان بھی ساتھ لائے۔
اردو شاعری کا با ضابطہ آغاز ولیؔ دکنی سے ہوتا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کے محمّد حسیں آزادؔ نے انہیں اردو شاعری کا ”بابا آدم“ قرار دیا ہے اور انہیں اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسرؔ اور فارسی شاعری میں رودگیؔ کو حاصل ہے ۔
ولیؔ نے نہ صرف دکنی روایت کی پاسداری کی بلکہ امیر خسروؔ کی قائم کردہ ریختہ کی بنیاد پر شعر و سخن کی وہ عالیشان عمارت تیار کی کہ جس نے کلاسیکی اردو شاعری کی بنیاد کو مستحکم کیا اور اس میں آنے والے عہد کے سارے امکانات سمٹ گئے۔دوسرے الفاظ میں ولیؔ کا کمال یہ ہے انہوں نے اردو غزل کے ساز پر جو نغمے چھیڑے ،دنیائےغزل میں ان کی صدائے بازگشت آج تک سنائی دے رہی ہے ۔
ولیؔ نے زبان و بیان اور شعر ی مزاج کے لحاظ سے اردو شاعری کو وہ معیار اور مرکزیت عطا کی جس نے شمال و جنوب کی شعری روایات کو ایک کر دیا ۔اس ضمن میں جمیل جالبی لکھتے ہیں :”ولی کا کارنامہ یہ ہے کے اس نے شمالی ہند کی زبان کو دکنی ادب کی طویل روایت سے ملا کر ایک کر دیا۔ ولیؔ کی غزل میں اردو غزل کی کم و بیش وہ ساری آوازیں سنائی دیتی ہیں جو سراجؔ سے لے کر داغؔ تک مختلف شاعروں کی نشانیاں بنی اور جن سے آج تک بزمِ معنی کی شمع روشن ہے “
مجموعی طور پر ولی نے ایک ایسا رنگِ شاعری ایجاد کیا جس پر ایرانی اثرات کے ساتھ ساتھ ہندوستانی فضا کی خوشبو بھی موجود ہے ۔ان کی شاعری میں ہند ایرانی کلچر اور روایات کا وہی دلکش امتزاج و مزاج ملتا ہے جس نے ہندوستان میں اردو اور تاج محل کو جنم دیا ہے ۔ولی نے غزل میں تصوف کے موضوعات اور عشقیہ مضامین کو نہایت خوب صورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی زبان قدیم اردو (دکنی اردو) ہوتے ہوئے بھی نہایت سہل اور موثر ہے۔ یہ زبان دکنی اور دہلوی اردو کے درمیان کی ایک کڑی کہی جا سکتی ہے۔ ولی سے قبل دکن میں مثنوی کا بہت زور تھا مگر ولی نےغزل کو اولیت دی اور دکنی ادب میں اسے ایک ممتاز درجہ دیا۔
اردو شاعری کا باوا آدم : ایک طویل عرصہ تک ولی دکنی کو اردو کا پہلا غزل گو تسلیم کیا جاتا رہا لیکن بعد میں تحقیق سے یہ بات ثبوت کو پہنچ گئی کہ اردو غزل کا آغاز ولی سے پہلے امیر خسرو سے ہی ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر وحید قریشی اس بارے میں لکھتے ہیں،”ولی سے پہلے کم از کم غزل کے دوادوار گز ر چکے تھے ان ادوار کے شعراءکے کچھ نمونے بھی ملتے ہیں پہلا دور حضرت امیر خسرو سے شروع ہوتا ہے۔ جس میں دس شعراءہیں دوسرا قلی قطب شاہ سے شروع ہو کر میراں ہاشمی تک چودہ شاعروں پر مشتمل ہے اس کے بعد ولی کے معاصرین کا زمانہ ہے۔“گویا یہ بات طے ہو گئی کہ اردو غزل کی خشت اوّ ل ولی کے ہاتھوں نہیں رکھی گئی بلکہ ولی سے صدیوں قبل غزل اپنی ابتداءکر چکی تھی تو پھر کس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اردو غزل گو کی اولیت کا تاج ولی کے سر پر رکھا جائے ؟ اس سلسلے میں ہمیں ”آب حیات “ میں مولانا آزاد کی ایک رائے پر غور کرنا ہوگا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں”یہ نظم اردو کی نسل کا آدم جب ملک عدم سے چلا تو اس کے سر پر اولیت کا تاج رکھا گیا جس میں وقت کے محاورے نے اپنے جواہرات خرچ کیے اور مضامین کے رائج الوقت دستکاری سے میناکاری کی۔“
ولی کے بارے میں آزاد کے یہ تاثراتی اور ذاتی الفاظ اس بحث کا باعث بنے کہ ولی کو باواآدم قرار دیا جائے یا نہیں اگر اسے باوا آدم مان لیا جائے تو ان سے پہلے غزل گو شاعر کس کھاتے میں جائیں اگر ان کو باوا آدم تسلیم نہ کریں تو ان کی شا ن میں کیا کمی آجائے گی وغیر ہ وغیرہ۔اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ذہن میں آتی ہے کہ شائد آزاد کے زمانے تک ولی سے پہلے غزل گو شاعروں کے بارے میں تحقیق نہ ہو سکی تھی اورآزاد ؔ کو یہ بات قطعی معلوم نہ ہو سکی کہ ولی سے قبل ہی غزل گو بلکہ بعض اچھے شعراءموجود تھے۔اگر آزاد کا اس جملے سے یہی مطلب تھا تو یہ بات جدید تحقیقات کی روشنی میں بالکل غلط ثابت ہو چکی ہے۔ ہاں اگر آزاد کے ہاں جملے سے یہ تصور ہو کہ ولی سے قبل اردو شاعری کی روایت موجود تھی مگر اتنی پختہ نہ تھی اور ولی نے اسے ایک خاص شکل عطا کرکے ہمارے سامنے رکھا تو یہ بات ولی کو اردو شاعری کا باواآدم ضرور ثابت کرتی ہے۔ولی کو اس اعتبار سے یقینا ہم باوا آدم کہہ کر اولیت کا تاج ان کے سر پر رکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے اردو شاعری کی روایات ترتیب دیں نہ صرف زبان بلکہ مضامین کی جدت اُن کا کارنامہ ہے۔ ولی کے روپ میں اردو غزل کو پہلی مرتبہ ایسا شاعر ملا جس نے زبان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارا اور نہ صرف اپنے دور کے تمام ادبی و فکری روایات کو شاعری کا حصہ بنایا بلکہ اظہار کی لذت اور زبان کی تعمیر کا اعجاز بھی دکھایا۔ اُردو غزل کے اظہار کے موضوعات کا تعین کیا۔ جو صدیوں تک غزل کا لازمہ سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اردو غزل کے اظہار کے سانچے مرتب کیے اور زبان کے مختلف تجربات کے ذریعے ایسا شعری سرمایہ دیا کہ جو غزل کی ترقی میں مددگار ثابت ہوا۔ اور اس طرح ولی کے ہاتھوں غزل کی جاندار روایات کا قیام عمل میں آیا۔ ولی محمد صادق اس بارے میں لکھتے ہیں،” ولی کی شاعری کے چار نہایت اہم پہلو ہیں، تاریخی، لسانی، فنی اور جمالیاتی۔تاریخی لحاظ سے وہ اس وجہ سے اہم ہے کہ اس کے زیر اثر شمالی ہند میں جدید شاعری کا آغاز ہوااور رفتہ رفتہ یہ اسلوب تمام ملک پر چھا گیا۔ اس لیے اگر آزاد کے الفاظ میں اسے اردوشاعری کا باوا آدم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
ولی کی غزل گوئی : ولی کو اردو کا سب سے پہلا باقاعدہ غزل گو تسلیم کیا جاتا ہے ابتداً ولی نے قدیم رنگ میں شاعر ی کا آغاز کیا تھا مگر اپنے سفردہلی کے دوران شاہ سعد اللہ گلشن کے مشورے پر ریختہ گوئی کی ابتداءکی اور اُسی میں عظمت اور انفردیت کا ثبوت دیا۔ یہیں سے ان کی شاعری میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کی غزل گوئی کے جائزے کے بعد ان کی شاعری کی درج ذیل نمایاں خصوصیات کا تعین کیا جاسکتا ہے۔
ولی جمال دوست شاعر :ولی کی شاعری میں حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے۔ ولی سے پہلے کسی شاعرنے حسن و جمال کابھرپور اور کامیاب تصور نہیں دیا۔ اسی لیے ڈاکٹر سید عبد اللہ نے ولی کو جمال دوست شاعر کا لقب دیا ہے۔ ان کی حسن پر ستی میں سرمستی وارفتگی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں ان کی حسن پرستی میں سرمستی اور سر خوشی کا رنگ نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ وہ حسن کو ایک تجربے کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ جس سے اُن کی روح اور جسم میں سرمستی کی لہریں پیداہوتی ہیں۔ خود کو اس تجربے کے محسوسات میں گم کر د ینا چاہتے ہیں ان کی حسن پرستی صحت مندانہ انداز کی ہے۔ وہ حسن کو کسی ایسے تجربے کی بنیاد نہیں بناتے جو جنسی ہو اور جس سے صرف نفسانی خواہشات کا تعلق ہو یہی وجہ ہے کہ ولی کے ہاں جنسیت و احساساتِ حسن، آفاقی تصورات کا حامل محسوس ہوتے ہیں ۔وہ حسن کے احساس سے روح کی بالیدگی اور من کا سرور حاصل کرتے ہیں۔
نکل اے دِ لربا گھر سوں کہ وقت بے حجابی ہے چمن میں چل بہار نسترن ہے ماہتابی کا
آج گل گشت چمن کا وقت ہے اے نو بہار بادہ گل رنگ سوں ہر بام گل لبریز ہے
زندگی اور کائنات کا حسن : ولی حسن و جمال کے شعری تجربات بیان کرتے ہوئے کسی غم یا دکھ کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ وہ جمال دوست ہیں اس لیے کائنات کی ہر شے میں جمال دیکھتے ہیں ان کی نظر زندگی اور کائنات کے تاریک پہلوئو ں کو نہیں دیکھتی وہ صرف روشن پہلوئوں کا نظارہ کرتی ہے جہاں خوشی، امید اور مسرت کی سدا بہارچھائی ہے۔ وہ حسن سے مایوس ہو کر آہیں بھی نہیں بھرتے اس لیے کہ وہ با مراد عاشق ہیں اورمحبوب کے حسن کا دیدار انہیں حاصل ہے ۔ان کی شاعری میں زندگی اور کائنات کا حسن بھی نظر آتا ہے۔ ولی حسن کے حوالے سے ایسی فضاءقائم کرتے ہیں جہاں ہر طرف پھول ہی پھول اور وسیع سبزہ زار ہیں، شفاف اور ٹھنڈا پانی ہے، پرندے چہچہا رہے ہیں ،چاندنی کھلی ہوئی ہے، دور تک میدان اور راہ چاندنی میں نہائی ہوئی ہے۔ پوری کائنات مسکراتی معلوم ہوتی ہے جیسے فطرت کا تما م تر حسن ولی کے بیان میں سمٹ آیا ہے۔ ان اشعار کو دیکھیے جن میں ولی زندگی کے خوبصورت مظاہر کا ذکر کرتے ہیں۔
صنم تجھ دیدہ و دل میں گزر کر ہوا ہے باغ ہے آبِ رواں ہے
نہ جائوں صحن گلشن میں کہ خوش آتا نہیں مجھ کو بغیر از ماہ رو ہر گز تماشا ماہتابی کا
احساسات حسن کی شاعری : ڈاکٹر سید عبد اللہ کے خیال میں ولی کی شاعری عراقی طرز کے زیادہ قریب ہے اس ”عراقی“ طرز سے ان کی مراد یہ ہے کہ ولی کے ہاں معاملات عشق کے بیان کی بجائے احساسات حسن کا بیان زیادہ ہے وہ معاملات عشق جن سے گفتگو محبوب سے ملاقات اور مکالمے کاپہلو نکلتا ہے وہ سب ولی کی شاعری کا حصہ ہے۔
مسند گل منزل ِ شبنم ہوئی دیکھ رتبہ دیدہ بیدار کا
ڈاکٹر سید عبد اللہ ولی کے اس رجحان پر بحث کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں،”ولی نے فکر کی گتھیاں نہیں سلجھائیں، انہوں نے چاند کی چاندنی اور آفتاب کی حسرت انگیز دھوپ، سپر نیلگوں کی دلکش وسعت اور صبح و شام کے دلاآویز حسن کا تماشائی بننا اور ان سے حواس ظاہر و باطن کو مسرور بنانا سیکھا اور سکھایا ہے۔ ولی فلسفہ زندگی کے ترجمان شارح نہ تھے۔ جمال زندگی کے وصاف اور قصیدہ خواں تھے۔“
تیرالب دیکھ حیواں یاد آوے ترا مکھ دیکھ کنعاں یاد آوے
ترے دو نین دیکھوں جب نظر بھر مجھے تب نرگستاں یاد آوے
ترے مکھ کی چمن کو دیکھنے سوں مجھے فردوس ِ رضواں یاد آوے
سراپا نگاری :ولی نے اپنی شاعری میں جس محبوب کی تخلیق کی ہے وہ ان سے پہلے اورشاید بعد میں بھی اردو شاعری میں نہیں ملتا۔ انھوں نے واقعیت اور تخیل کی مدد سے اپنے محبوب کے حسن کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کی ہے ۔ان کے اشعار سے محبوب کی خوبصورت تصویریں بنتی ہیں۔ اسی لیے ولی کو اردو ادب کا سب سے بڑا سراپا نگار شاعر مانا جاتا ہے۔ ان کے لیے محبوب کے مکھ میں سب سے زیادہ دلکشی ہے یہ مکھ حسن کا دریا ہے۔ اس کی جھلک سے آفتاب شرمندہ و بے تاب ہے۔ اس کا مکھ صفحہ رخسار صفحہ قرآں ہے ۔اس کے بعد درجہ بدرجہ آنکھ اور ابرو، خال اور قد غرض سراپائے جسم کی تعریف و توصیف بہت عمدہ پیرائے میں بیان کی ہے۔ مندرجہ زیل اشعار دیکھیں کہ محبوب کے مختلف اعضائے جسمانی کا کتنی خوبصورتی کے ساتھ مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔
وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے ولی دل کو آب کرتی ہے نگہ چشم سرمگیں کی ادا
موج دریا کوں دیکھنے مت جا دیکھ توزلف عنبریں کی ادا
ولی کا تصور محبوب :ولی کی شاعری پڑھتے ہوئے اس کے ایک محبوب کا تصور بھی ہمارے سامنے آتا ہے اس کا کوئی بھی نام نہیں۔ ولی اسے مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ کبھی”ساجن“ کہتا ہے اور کبھی ”پیتم“ کبھی ”لالن“ کہا ہے۔ تو کبھی ”من موہن“ کبھی محشر ناز وادا کا خطاب دیتاہےتو کبھی ”فتنہ رنگیں ادا“ کا ۔ان تمام ناموں سے اُس کی والہانہ محبت اور وارفتگی عشق کا پتہ ملتا ہے۔ اس کی صداقت محبت میں تو کچھ کلام ہی نہیں، بلکہ عقل کہتی ہے کہ اس مبالغہ حسن میں بھی کچھ نہ کچھ اصلیت ضرور ہے۔ ولی کا ساجن اردو شاعری کا روایتی محبوب نہیں ولی کا محبوب ”من موہن“ ،”شریف“ ،”خودار“ پاک نفس اور با حیا ہے۔
گرنہ نکلے سیر کو وہ نو بہار ظلم ہے فریاد ہے افسوس ہے
عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل رخ سوں خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ
خوبصورت تشبیہات و استعارات : تشبیہ حسن کلام کا زیور اور شاعری کی جان خیال کی جاتی ہے ۔ولی کو تشبیہات کے استعمال کے معاملے میں اجتہاد کا درجہ حاصل ہے ۔ان کی شاعری کا نمایاں وصف ان کی خوبصورتشبیہات ہیں جو اپنے صحیح مواد پر انگوٹھی میں نگینے کی مانند خوبصورتی کے ساتھ جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
مسندِ گل منزل شبنم ہوئی دیکھ رتبہ دیدہ بیدارکا
تیری یہ زلف ہے شام غریباں جبیں تری مجھے صبح وطن ہے
دو آتش کیا ہے سرمہ چشم داغ دل دیدہ سمندر ہے
ان تشبیہات میں جو کیف، حسن ندرت، جدت، دل کشی اور دل آویزی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ پھول کی کھلی ہوئی پنکھڑی کو ”دیدہ بیدار“ کہا با حیا محبوب کے سینے میں راز کی مانند ولی کے گھر آنا، ”زلف کا “ ”شام غریباں“ اور جبیں کا صبح وطن ہونا اور دل کے داغ کا بمنزلہ ”دیدہ سمندر“ ہونا ولی کی بے مثال فن کاری ہے اور چابک دستی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔یہ صرف چند مثالیں ہیں ولی کا پورا دیوان اسی قسم کی نادر تشبیہات سے سجا سنوارا پڑا ہے۔
سوز وگداز : غزل چونکہ معاملات مہر و محبت اور واردات عشق و عاشقی کی داستا ن ہے اس راہ کے مسافر کو قدم قدم پر ہجر و فراق کی تلخیاں سہنا پڑتی ہیں۔ کتنی رکاوٹیں عبور کرنا پڑتی ہیں ،جی جی کر مرنا اور مرمر کر جینا پڑتا ہے اس لیے ان واردات و تجربات کے بیان میں سوز و گداز کا عنصر لازمی طور پر شامل ہوتا ہے ۔ولی کی غزلوں میں سوز و گداز یقینا موجود ہے مگر اس کی کیفیت میر کے سوز و گداز سے مختلف ہے۔ اسی لیے میر کے ہاں سوز و گداز کی شدت ہے جبکہ ولی کے ہاں اس کے برعکس سوز و گداز میں بھی اُ ن کا احساس جمال کار فرما محسوس ہوتا ہے۔
اک گھڑی تجھ ہجر میں اے دلرباءتنہا نہیں مونس و دمساز مری آہ ہے فریاد ہے
نہ ہوئے اُسے جگ میں ہر گز قرار جسے عشق کی بے قراری لگے
زبان شگفتگی اور آہنگ : ولی ایک ذہین شاعر تھے۔ جنہوں نے مروجہ اظہار کے سانچوں کے جائزے کے بعد اپنی شعری بصیرت کی مدد سے اس بات کو محسوس کر لیا تھاکہ اُس وقت مروجہ زبان، اعلی شاعرانہ خیالات کے اظہار کے قابل نہیں چنانچہ انہوں نے خود زبان کے سانچوں کو مرتب کیا۔ ولی کی زبان ان سے پہلے غزل گو شاعروں سے قطعی طور مختلف محسوس ہوتی ہے۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے اس تبدیلی کا نمایاں احساس ہوتا ہے۔ یہ زبان مقامی ہندی اور فارسی الفاظ کا ایک خوبصورت آمیزہ ہے اس طرح ان کی زبان میں سلاست و شگفتگی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
مت غصے کے شعلے سوں جلتے کو جلاتی جا ٹک مہر کے پانی سوں یہ آ گ بجھاتی جا
تجھ گھر کی طرف سندر آتا ہے ولی دائم مشتاق درس کا ہے ٹک درس دکھاتی جا
چھوٹی اور لمبی بحروں کا استعمال :شاعری کے بہائو کو تیز کرنے اور ترنم کی لہروں کو بلند کرنے کے لیے ولی چھوٹی اورلمبی بحروں کو استعمال کرتے ہیں او ر غنائیت و موسیقی کا وہ جادو جگاتے ہیں کہ اُن کی فن کاری پر ایمان لانا پڑتا ہے۔
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا ہے مطالعہ مطلع انوا رکا
یاد کرنا ہر گھڑی اُس یار کا ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا
شغل بہتر ہے عشق بازی کا کیا حقیقی و کیا مجازی کا
عجب کچھ لطف رکھتا ہے شبِ خلوت میں گل رخ سوں خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ
خارجیّت کا تصور :چونکہ ولی جمال دوست شاعر ہیں اس لیے وہ داخلیت کے اندھیرے کنویں میں بند نہیں رہ سکتے بلکہ اُن کے ہاں خارجیت کا بھی بھرپور نظارہ ہے وہ باہر کی دنیاکی رنگینیوں سے لطف اندوز اور محظوظ ہوتے تھے۔ وہ صرف اپنی ذات کے اندر آنکھیں بند کرکے گم نہیں ہو گئے تھے۔ ان کی آنکھیں زندگی اور کائنات کے حسن و جمال کا مسلسل مشاہدہ کرتی رہتی ہیں اور جہاں جہاں ان کے دیدہ بینا کے لیے سامان ِ نظارہ ملتا ہے وہ لطف و سرور حاصل کرتے ہیں۔ ان کی خارجیت بڑی نکھری ہوئی اور جاندار ہے اس میں صرف خارج کے کوائف کا احوال ہی قلمبند نہیں کیا گیا ولی کا ذاتی نقطہ نظر ہر موقع پر موجود رہتا ہے۔ وہ کائنات کا مطالعہ اس کے تحت کرتے ہیں خارجیت کا بیان کرتے ہوئے حسن و جمال کے تصورات کو پیش پیش رکھتے ہیں۔
مجموعی جائزہ : بقول رام بابو سکسینہ،” جب ولی کا اقبال چمکا تو چھوٹے چھوٹے تارے جو اُفق شاعری پر اُس وقت ضیاءفگن تھے سب ماند پڑ گئے ۔ولی کو ریختہ کا موجد، گویا اردو کا چاسر خیال کرنا چاہیے اس زمانے میں اردو شاعری کا سنگ بنیاد باقاعدہ طور پر رکھا گیا۔ بقول حامد افسر ،”یوں تو ولی دکنی اردو شاعر کہلاتے ہیں لیکن اُن کے کلام کا بہت سا حصہ اس زبان میں ہے جو فصیح مانی جاتی ہے اور ہمارے روزمرہ کی زبان میںداخل ہے۔ گویا ولی نے اپنے زمانے سے ڈھائی سوبرس بعد کی زبان کاصحیح اندازہ کر لیا۔ ولی حقیقی شاعر تھے انہوں نے غزل گوئی کا حق اد کر دیا۔“ بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ،” حق یہ ہے کہ معاملات اور حکیمانہ گہرائی اور درد مندی اور سوز و گداز کی کمی کے باوجود ولی کا کلام بڑاخوش رنگ اور خوشگوار ہے۔ بہار آفریں الفاظ، خوش صورت تراکیب، گل و گلگشت کی تکرار، حسن کے ترانے اور نغمے، مناسب بحروں کا انتخاب اور اسالیب فارسی سے گہری واقفیت اور ان سے استفادہ ان سب باتوں نے ولی کو ایک بڑا رنگین شاعر بنا دیا ہے۔“ بقول میر تقتی میرؔ
خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا
(1)
کیتا ہوں ترے نانوں کومیںدرد زباں کا کیتا ہوں ترے شکر کو عنوان بیاں کا
جس گرد اپر پانوں رکھیں تیرے رسولاں اس گرد کوں کحل کروں دیدہ جاں کا
مجھ صدق طرف عدل سوں اے اہل حیا دیکھ تجھ علم کے چہرے پہ تئیں رنگ گماں کا
ہر ذرہ عالم میں ہے خورشید حقیقی یوں بوجھ کے بلبل ہوں ہر اک غنچہ دہاں کا
کیاسہم ہے آفات قیامت ستی اس کوں کھایا ہے جوکئی تیر تجھ ابرو کی کماں کا
جاری ہوئے آنجھو مرے یو سبزہ خط دیکھ اے خضر قدم سیر کر اس آبِ رواں کا
کہتاہے ولی ؔ دل ستی یوں مصرع رنگیں ہے یاد تیری مجھ کو ں سبب راحت جاں کا
(2)
وو صنم جب سوں بسا دیدہ ٔ حیران میں آ آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ
ناز دیتا تئیں گر رخصت گل گشت چمن اے چمن زار حیا دل کے گلستاں میں آ
عیش ہے عیش کہ اس مہ کا خیال روشن شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستان میں آ
یاد آتاہے مجھے وو گل باغ وفا اشک کرتے ہیں مکاں گوشہ ٔ دامان میں آ
موج بے تابی دل اشک میں ہوئی جلوہ نما جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ
(3)
نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں دفتر درد بسا عشق کے دیوان میں آ
پنجہ ٔ عشق نے بے تاب کیا جب سوں مجھے چاک دل تب سوں چاک گریبان میں آ
دیکھ اے اہل نظر سبزہ خط میں لب لعل رنگ یاقوت چھپاہے خط ریحان میں آ
حسن تھا پردہ تجرید میں سب سوں آزاد طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ
شیخ یاں بات تیری پیش نہ جائے ہر گز عقل کو چھوڑ کے مت مجلس رندان میں آ
دردمنداں کو بجز درد تئیں صید مراد اے شہ ملک جنوں غم کے بیانان میں آ
حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیب بدخو دیو مختار ہوا ملک سلیمان میں آ
چشمہ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل یوسف حسن تیرے چاہ زنخدان میں آ
جگ کے خوبان نمک ہو کے نمک پروردہ چھپ رہاآکے ترے لب کے نمکدان میں آ
بسکہ مجھ حال سوں ہمسر ہے پریشانی میں دردکہتی ہے مرا زلف ترے کان میں آ
غم سوں تیرے ہے ترحم کا محل حال ولی ؔ ظلم کوچھوڑ سجن شیوہ ٔ احسان میں آ
(4)
اے گل عذار غنچہ دہن ٹک چمن میں آ گل سر پہ رکھ کے شمع نمن انجمن میں آ
جیوں طفل اشک بھاگ نکو مجھ نظر ستی اے نورچشم نور نمط مجھ نین میں آ
کب لگ اپس کے غنچہ ٔ مکھ کو رکھے گا بند اے نوبہار باغ محبت سخن میں آ
تاگل کے روسے رنگ اڑے اوس کی نمن اے آفتاب حسن ٹک یک تو چمن میں آ
تجھ عشق سوں کیا ولی ؔ دل کوں بیت غم سرعت ستی اے معنی بے گانہ من میں آ
(5)
وو نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے شوق تجھ نین میں دیکھا نگاہ کرکر عاشق کے مارنے کانداز ہے سراپا
جگ کے اداں شناساں ہے جن کی فکر عالی تجھ قد کوں دیکھ بولے یو ناز ہے سراپا
کیوں ہو سکیں جگت کے دلبر ترے برابر توحسن ہور ادا میں اعجاز ہے سراپا
گاہے اے عیسوی دم یک بات لطف سوں کر جاں بخش مجھ کو تیرا آواز ہے سراپا
مجھ ولی ؔ ہمیشہ دل دار مہرباں ہے ہرچند حسب ظاہر طناز ہے سراپا
(ردیف ب )
(1)
ترے جلوے سوں اے ماہ جہاں تاب ہوا دل سر بسر دریائے سیماب
ترے مکھ کے سرج کوں دیکھ جیوں برف ہوئے ہیں عاشقاں سر تا قدم آب
رکھوں جس خواب میں تجھ لب اپر لب مجھے شکر سوں شیریںتر ہے وو خواب
تری نیناں وو قاتل ہیں کہ جن کے پاس دو ابرو کی ہیں دو تیغ سیہ تاب
ولی تجھ سوز میں اے آتشیں خو سراپا ہے بہ رنگ شعلہ بے تاب
(2)
کیوں ہو سکے جہاں میں ترا ہم سر آفتاب تجھ حسن کی اگن کا ہے یک اخگر آفتاب
دیکھا جو تجھ کوں آپ سوں روشن جگت منیں شرموں لیا نقاب زریں مکھ پر آفتاب
آیاہے نقل لینے ترے مکھ کتاب کی تار خطوط سیتی بنا مسطر آفتاب
گرمی سوں بے قرار ہو نکلیا سِنے کوںکھول تجھ عشق کا پیا ہے مگر ساغر آفتاب
ہندو سُرج کو ں دور سوں نت پوجتے ولے ہندوئے زلف کے ہے بغل بھیتر آفتاب
جن ترے جمال پہ کیتا ہے یک نظر دیکھا نئیں وو پھر کے نظر بھر کے آفتاب
پوجا کوں تجھ درس کی ہوں جوگی فلک اپر نکلیا ہے پہن جامہ ٔ خاکستر آفتاب
تجھ مکھ کے آفتاب اپر گر کرے نگاہ پنہاں ہوں ہر نظر ستی جیوں اختر آفتاب
جگ میںولی ؔ سوکس کوں برابر کہے ترے ذرے سوں ہے نزدیک ترے کمتر آفتاب
(3)
ترے مکھ پراے ناز نیں یونقاب جھلکتاہے جیوں مطلع آفتاب
ادا فہم کے دل کی تسخیر کوں ترا قد ہے جیوں مصرع انتخاب
بجاہے ترے حسن کی تاب سوں تری زلف کھاتی ہے گرپیج وتاب
نظرکرکے تجھ مکھ کی صافی اپر ہوئی شرم سوں آرسی غرق آب
ترے عکس پڑنے سوں اے گل بدن عجب نئیں اگر آپ ہووے گلاب
ترے وصل میں اس قدرہے نشاط کہ مخمل کوں آئے سوں راحت خراب
کریں بخت میرے اگر ٹک مدد ولی ؔ اس سجن سوں ملوں بے حجاب
(4)
جب سوں دونازنیں کی میںدیکھا ہوں چھب عجب دل مرے خیال ہیں تب سوں عجب عجب
جاتاہے دن تمام اسی مکھ کی یاد میں ہوتا ہے فکر زلف میں احوال شب عجب
(5)
بے تاب ہوں کہ مثل گدا یاں نزیک جا بے باک ہوکے تب یو کیا میں طلب عجب
دونین سوں ترے ہے دو بادام کا سوال سن یو سوال دل میں رہا پستہ لب عجب
بولیا مری نگاہ کی قیمت ہے دو جہاں جس دیکھنے سوں دل میں ترے ہے طرب عجب
اس دولت عظیم کو یوں مفت مانگنا لگتی ہے بات مجھ کو تری بے ادب عجب
کیتا میں اس سوال میں دوجا بھی اک سوال کربہرہ مند لب سوں کہ تیرے ہیں لب عجب
یک بار اس سوال میں سن یہ دوجا سوال دل میں رہا اپس کے دوشیریں لقب عجب
اول توشوخ آکے غضب میں غصہ کیا سر تا قدم وو ناز اٹھا یو غضب عجب
جیو میں اپس کی ہمت عالی پہ کر نظر شیریں لباں سوں اپنے چکھایا رطب عجب
اس شعر کی یہ طرح نکالا ہے جب ولی ؔ یو اختراع سن کے رہے دل میں سب عجب
ردیف ’ے‘
(1)
گیاہے جب سوں سہی سرو نوبہار کرے نگہ کے پگ منیں انجھواں سوں ہے قطار کرے
ہوا ہے بسکہ دوانہ سجن قیامت کا قدم میں سرو کے ہے موج جوئبار کرے
اگرچہ بند رہا وصل ظاہری ہیں ولے خیال یار سوں دل کوں سکے حصار کرے
وو راحت دل و جان جب وہاں مقام کیا ہواہے درد دل و جان بے قرار کرے
میں اپنی آنکھوں کوں واللہ فرش راہ کروں گزر جو میری طرف کوں وو شہسوار کرے
سجن کی بزم سوں کیوں جاسکوں ولی ؔ باہر کہ قید حلقہ گیسوئے تاب دار کرے
(2)
دیکھ دستار بسنتی ساقی سر شار کی کھل گئی ہے آج انکھیاں نرگس بیمار کی
بات رہ جائے گی قاصد وقت رہنے کا تئیں دل تڑپتاہے شتابی لاخبر دلدار کی
بات کہنے کاکبھی جووقت پاتاہے غریب بھول جاتاہے دوسب کچھ دیکھ صورت یار کی
معرکہ میںعشق کے ہربوالہواس کاکام کیا دیکھ حالت کیا ہوئی منصور سوں سردارکی
اے ولی اس بے وفا کی مہربانی پرنہ بھول دل ہے دشمن ہے مگر کرتاہے باتیں پیار کی
(3)
ترے ہوٹاں کی لالی سوں معالی چھپی ہاتھوں میں جامہندی کی لالی
تراقد دیکھ تجھ پا ؤ پہ جھک جھک پڑی شمشادکی ڈالی پہ ڈالی
بیان تجھ زلف کی سیاہی کاکیاکہوں کہ تئیں ہے مثل اس کے رات کالی
تری شمشیر ابرو دیکھ ظالم لیاشیروں نے جا کوہوں کی جالی
خماری دیکھ انکھیاں کی بے کیف ہوئی ٹکڑے شراب پرتگالی
ترے مکھ کادیوانا ہوں چمن میں گیاہے پھول چمپا بھول مالی
ولی پاؤ میں اس کے کچھ عجب تئیں اگرچہ کر اٹھے سب نقش قالی
(4)
زبس نرم ہیں پاؤ کے اس تلے کہ ریشم پہ رکھتے ہیں اٹھتے چھلے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
ناز دیتا تئیں گر رخصت گل گشت چمن اے چمن زار حیا دل کے گلستاں میں آ
عیش ہے عیش کہ اس مہ کا خیال روشن شمع روشن کیا مجھ دل کے شبستان میں آ
یاد آتاہے مجھے وو گل باغ وفا اشک کرتے ہیں مکاں گوشہ ٔ دامان میں آ
موج بے تابی دل اشک میں ہوئی جلوہ نما جب بسی زلف صنم طبع پریشان میں آ
(3)
نالہ و آہ کی تفصیل نہ پوچھو مجھ سوں دفتر درد بسا عشق کے دیوان میں آ
پنجہ ٔ عشق نے بے تاب کیا جب سوں مجھے چاک دل تب سوں چاک گریبان میں آ
دیکھ اے اہل نظر سبزہ خط میں لب لعل رنگ یاقوت چھپاہے خط ریحان میں آ
حسن تھا پردہ تجرید میں سب سوں آزاد طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ
شیخ یاں بات تیری پیش نہ جائے ہر گز عقل کو چھوڑ کے مت مجلس رندان میں آ
دردمنداں کو بجز درد تئیں صید مراد اے شہ ملک جنوں غم کے بیانان میں آ
حاکم وقت ہے تجھ گھر میں رقیب بدخو دیو مختار ہوا ملک سلیمان میں آ
چشمہ آب بقا جگ میں کیا ہے حاصل یوسف حسن تیرے چاہ زنخدان میں آ
جگ کے خوبان نمک ہو کے نمک پروردہ چھپ رہاآکے ترے لب کے نمکدان میں آ
بسکہ مجھ حال سوں ہمسر ہے پریشانی میں دردکہتی ہے مرا زلف ترے کان میں آ
غم سوں تیرے ہے ترحم کا محل حال ولی ؔ ظلم کوچھوڑ سجن شیوہ ٔ احسان میں آ
(4)
اے گل عذار غنچہ دہن ٹک چمن میں آ گل سر پہ رکھ کے شمع نمن انجمن میں آ
جیوں طفل اشک بھاگ نکو مجھ نظر ستی اے نورچشم نور نمط مجھ نین میں آ
کب لگ اپس کے غنچہ ٔ مکھ کو رکھے گا بند اے نوبہار باغ محبت سخن میں آ
تاگل کے روسے رنگ اڑے اوس کی نمن اے آفتاب حسن ٹک یک تو چمن میں آ
تجھ عشق سوں کیا ولی ؔ دل کوں بیت غم سرعت ستی اے معنی بے گانہ من میں آ
(5)
وو نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے شوق تجھ نین میں دیکھا نگاہ کرکر عاشق کے مارنے کانداز ہے سراپا
جگ کے اداں شناساں ہے جن کی فکر عالی تجھ قد کوں دیکھ بولے یو ناز ہے سراپا
کیوں ہو سکیں جگت کے دلبر ترے برابر توحسن ہور ادا میں اعجاز ہے سراپا
گاہے اے عیسوی دم یک بات لطف سوں کر جاں بخش مجھ کو تیرا آواز ہے سراپا
مجھ ولی ؔ ہمیشہ دل دار مہرباں ہے ہرچند حسب ظاہر طناز ہے سراپا
(ردیف ب )
(1)
ترے جلوے سوں اے ماہ جہاں تاب ہوا دل سر بسر دریائے سیماب
ترے مکھ کے سرج کوں دیکھ جیوں برف ہوئے ہیں عاشقاں سر تا قدم آب
رکھوں جس خواب میں تجھ لب اپر لب مجھے شکر سوں شیریںتر ہے وو خواب
تری نیناں وو قاتل ہیں کہ جن کے پاس دو ابرو کی ہیں دو تیغ سیہ تاب
ولی تجھ سوز میں اے آتشیں خو سراپا ہے بہ رنگ شعلہ بے تاب
(2)
کیوں ہو سکے جہاں میں ترا ہم سر آفتاب تجھ حسن کی اگن کا ہے یک اخگر آفتاب
دیکھا جو تجھ کوں آپ سوں روشن جگت منیں شرموں لیا نقاب زریں مکھ پر آفتاب
آیاہے نقل لینے ترے مکھ کتاب کی تار خطوط سیتی بنا مسطر آفتاب
گرمی سوں بے قرار ہو نکلیا سِنے کوںکھول تجھ عشق کا پیا ہے مگر ساغر آفتاب
ہندو سُرج کو ں دور سوں نت پوجتے ولے ہندوئے زلف کے ہے بغل بھیتر آفتاب
جن ترے جمال پہ کیتا ہے یک نظر دیکھا نئیں وو پھر کے نظر بھر کے آفتاب
پوجا کوں تجھ درس کی ہوں جوگی فلک اپر نکلیا ہے پہن جامہ ٔ خاکستر آفتاب
تجھ مکھ کے آفتاب اپر گر کرے نگاہ پنہاں ہوں ہر نظر ستی جیوں اختر آفتاب
جگ میںولی ؔ سوکس کوں برابر کہے ترے ذرے سوں ہے نزدیک ترے کمتر آفتاب
(3)
ترے مکھ پراے ناز نیں یونقاب جھلکتاہے جیوں مطلع آفتاب
ادا فہم کے دل کی تسخیر کوں ترا قد ہے جیوں مصرع انتخاب
بجاہے ترے حسن کی تاب سوں تری زلف کھاتی ہے گرپیج وتاب
نظرکرکے تجھ مکھ کی صافی اپر ہوئی شرم سوں آرسی غرق آب
ترے عکس پڑنے سوں اے گل بدن عجب نئیں اگر آپ ہووے گلاب
ترے وصل میں اس قدرہے نشاط کہ مخمل کوں آئے سوں راحت خراب
کریں بخت میرے اگر ٹک مدد ولی ؔ اس سجن سوں ملوں بے حجاب
(4)
جب سوں دونازنیں کی میںدیکھا ہوں چھب عجب دل مرے خیال ہیں تب سوں عجب عجب
جاتاہے دن تمام اسی مکھ کی یاد میں ہوتا ہے فکر زلف میں احوال شب عجب
(5)
بے تاب ہوں کہ مثل گدا یاں نزیک جا بے باک ہوکے تب یو کیا میں طلب عجب
دونین سوں ترے ہے دو بادام کا سوال سن یو سوال دل میں رہا پستہ لب عجب
بولیا مری نگاہ کی قیمت ہے دو جہاں جس دیکھنے سوں دل میں ترے ہے طرب عجب
اس دولت عظیم کو یوں مفت مانگنا لگتی ہے بات مجھ کو تری بے ادب عجب
کیتا میں اس سوال میں دوجا بھی اک سوال کربہرہ مند لب سوں کہ تیرے ہیں لب عجب
یک بار اس سوال میں سن یہ دوجا سوال دل میں رہا اپس کے دوشیریں لقب عجب
اول توشوخ آکے غضب میں غصہ کیا سر تا قدم وو ناز اٹھا یو غضب عجب
جیو میں اپس کی ہمت عالی پہ کر نظر شیریں لباں سوں اپنے چکھایا رطب عجب
اس شعر کی یہ طرح نکالا ہے جب ولی ؔ یو اختراع سن کے رہے دل میں سب عجب
ردیف ’ے‘
(1)
گیاہے جب سوں سہی سرو نوبہار کرے نگہ کے پگ منیں انجھواں سوں ہے قطار کرے
ہوا ہے بسکہ دوانہ سجن قیامت کا قدم میں سرو کے ہے موج جوئبار کرے
اگرچہ بند رہا وصل ظاہری ہیں ولے خیال یار سوں دل کوں سکے حصار کرے
وو راحت دل و جان جب وہاں مقام کیا ہواہے درد دل و جان بے قرار کرے
میں اپنی آنکھوں کوں واللہ فرش راہ کروں گزر جو میری طرف کوں وو شہسوار کرے
سجن کی بزم سوں کیوں جاسکوں ولی ؔ باہر کہ قید حلقہ گیسوئے تاب دار کرے
(2)
دیکھ دستار بسنتی ساقی سر شار کی کھل گئی ہے آج انکھیاں نرگس بیمار کی
بات رہ جائے گی قاصد وقت رہنے کا تئیں دل تڑپتاہے شتابی لاخبر دلدار کی
بات کہنے کاکبھی جووقت پاتاہے غریب بھول جاتاہے دوسب کچھ دیکھ صورت یار کی
معرکہ میںعشق کے ہربوالہواس کاکام کیا دیکھ حالت کیا ہوئی منصور سوں سردارکی
اے ولی اس بے وفا کی مہربانی پرنہ بھول دل ہے دشمن ہے مگر کرتاہے باتیں پیار کی
(3)
ترے ہوٹاں کی لالی سوں معالی چھپی ہاتھوں میں جامہندی کی لالی
تراقد دیکھ تجھ پا ؤ پہ جھک جھک پڑی شمشادکی ڈالی پہ ڈالی
بیان تجھ زلف کی سیاہی کاکیاکہوں کہ تئیں ہے مثل اس کے رات کالی
تری شمشیر ابرو دیکھ ظالم لیاشیروں نے جا کوہوں کی جالی
خماری دیکھ انکھیاں کی بے کیف ہوئی ٹکڑے شراب پرتگالی
ترے مکھ کادیوانا ہوں چمن میں گیاہے پھول چمپا بھول مالی
ولی پاؤ میں اس کے کچھ عجب تئیں اگرچہ کر اٹھے سب نقش قالی
(4)
زبس نرم ہیں پاؤ کے اس تلے کہ ریشم پہ رکھتے ہیں اٹھتے چھلے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
جیوں طفل اشک بھاگ نکو مجھ نظر ستی اے نورچشم نور نمط مجھ نین میں آ
کب لگ اپس کے غنچہ ٔ مکھ کو رکھے گا بند اے نوبہار باغ محبت سخن میں آ
تاگل کے روسے رنگ اڑے اوس کی نمن اے آفتاب حسن ٹک یک تو چمن میں آ
تجھ عشق سوں کیا ولی ؔ دل کوں بیت غم سرعت ستی اے معنی بے گانہ من میں آ
(5)
وو نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے شوق تجھ نین میں دیکھا نگاہ کرکر عاشق کے مارنے کانداز ہے سراپا
جگ کے اداں شناساں ہے جن کی فکر عالی تجھ قد کوں دیکھ بولے یو ناز ہے سراپا
کیوں ہو سکیں جگت کے دلبر ترے برابر توحسن ہور ادا میں اعجاز ہے سراپا
گاہے اے عیسوی دم یک بات لطف سوں کر جاں بخش مجھ کو تیرا آواز ہے سراپا
مجھ ولی ؔ ہمیشہ دل دار مہرباں ہے ہرچند حسب ظاہر طناز ہے سراپا
(ردیف ب )
(1)
ترے جلوے سوں اے ماہ جہاں تاب ہوا دل سر بسر دریائے سیماب
ترے مکھ کے سرج کوں دیکھ جیوں برف ہوئے ہیں عاشقاں سر تا قدم آب
رکھوں جس خواب میں تجھ لب اپر لب مجھے شکر سوں شیریںتر ہے وو خواب
تری نیناں وو قاتل ہیں کہ جن کے پاس دو ابرو کی ہیں دو تیغ سیہ تاب
ولی تجھ سوز میں اے آتشیں خو سراپا ہے بہ رنگ شعلہ بے تاب
(2)
کیوں ہو سکے جہاں میں ترا ہم سر آفتاب تجھ حسن کی اگن کا ہے یک اخگر آفتاب
دیکھا جو تجھ کوں آپ سوں روشن جگت منیں شرموں لیا نقاب زریں مکھ پر آفتاب
آیاہے نقل لینے ترے مکھ کتاب کی تار خطوط سیتی بنا مسطر آفتاب
گرمی سوں بے قرار ہو نکلیا سِنے کوںکھول تجھ عشق کا پیا ہے مگر ساغر آفتاب
ہندو سُرج کو ں دور سوں نت پوجتے ولے ہندوئے زلف کے ہے بغل بھیتر آفتاب
جن ترے جمال پہ کیتا ہے یک نظر دیکھا نئیں وو پھر کے نظر بھر کے آفتاب
پوجا کوں تجھ درس کی ہوں جوگی فلک اپر نکلیا ہے پہن جامہ ٔ خاکستر آفتاب
تجھ مکھ کے آفتاب اپر گر کرے نگاہ پنہاں ہوں ہر نظر ستی جیوں اختر آفتاب
جگ میںولی ؔ سوکس کوں برابر کہے ترے ذرے سوں ہے نزدیک ترے کمتر آفتاب
(3)
ترے مکھ پراے ناز نیں یونقاب جھلکتاہے جیوں مطلع آفتاب
ادا فہم کے دل کی تسخیر کوں ترا قد ہے جیوں مصرع انتخاب
بجاہے ترے حسن کی تاب سوں تری زلف کھاتی ہے گرپیج وتاب
نظرکرکے تجھ مکھ کی صافی اپر ہوئی شرم سوں آرسی غرق آب
ترے عکس پڑنے سوں اے گل بدن عجب نئیں اگر آپ ہووے گلاب
ترے وصل میں اس قدرہے نشاط کہ مخمل کوں آئے سوں راحت خراب
کریں بخت میرے اگر ٹک مدد ولی ؔ اس سجن سوں ملوں بے حجاب
(4)
جب سوں دونازنیں کی میںدیکھا ہوں چھب عجب دل مرے خیال ہیں تب سوں عجب عجب
جاتاہے دن تمام اسی مکھ کی یاد میں ہوتا ہے فکر زلف میں احوال شب عجب
(5)
بے تاب ہوں کہ مثل گدا یاں نزیک جا بے باک ہوکے تب یو کیا میں طلب عجب
دونین سوں ترے ہے دو بادام کا سوال سن یو سوال دل میں رہا پستہ لب عجب
بولیا مری نگاہ کی قیمت ہے دو جہاں جس دیکھنے سوں دل میں ترے ہے طرب عجب
اس دولت عظیم کو یوں مفت مانگنا لگتی ہے بات مجھ کو تری بے ادب عجب
کیتا میں اس سوال میں دوجا بھی اک سوال کربہرہ مند لب سوں کہ تیرے ہیں لب عجب
یک بار اس سوال میں سن یہ دوجا سوال دل میں رہا اپس کے دوشیریں لقب عجب
اول توشوخ آکے غضب میں غصہ کیا سر تا قدم وو ناز اٹھا یو غضب عجب
جیو میں اپس کی ہمت عالی پہ کر نظر شیریں لباں سوں اپنے چکھایا رطب عجب
اس شعر کی یہ طرح نکالا ہے جب ولی ؔ یو اختراع سن کے رہے دل میں سب عجب
ردیف ’ے‘
(1)
گیاہے جب سوں سہی سرو نوبہار کرے نگہ کے پگ منیں انجھواں سوں ہے قطار کرے
ہوا ہے بسکہ دوانہ سجن قیامت کا قدم میں سرو کے ہے موج جوئبار کرے
اگرچہ بند رہا وصل ظاہری ہیں ولے خیال یار سوں دل کوں سکے حصار کرے
وو راحت دل و جان جب وہاں مقام کیا ہواہے درد دل و جان بے قرار کرے
میں اپنی آنکھوں کوں واللہ فرش راہ کروں گزر جو میری طرف کوں وو شہسوار کرے
سجن کی بزم سوں کیوں جاسکوں ولی ؔ باہر کہ قید حلقہ گیسوئے تاب دار کرے
(2)
دیکھ دستار بسنتی ساقی سر شار کی کھل گئی ہے آج انکھیاں نرگس بیمار کی
بات رہ جائے گی قاصد وقت رہنے کا تئیں دل تڑپتاہے شتابی لاخبر دلدار کی
بات کہنے کاکبھی جووقت پاتاہے غریب بھول جاتاہے دوسب کچھ دیکھ صورت یار کی
معرکہ میںعشق کے ہربوالہواس کاکام کیا دیکھ حالت کیا ہوئی منصور سوں سردارکی
اے ولی اس بے وفا کی مہربانی پرنہ بھول دل ہے دشمن ہے مگر کرتاہے باتیں پیار کی
(3)
ترے ہوٹاں کی لالی سوں معالی چھپی ہاتھوں میں جامہندی کی لالی
تراقد دیکھ تجھ پا ؤ پہ جھک جھک پڑی شمشادکی ڈالی پہ ڈالی
بیان تجھ زلف کی سیاہی کاکیاکہوں کہ تئیں ہے مثل اس کے رات کالی
تری شمشیر ابرو دیکھ ظالم لیاشیروں نے جا کوہوں کی جالی
خماری دیکھ انکھیاں کی بے کیف ہوئی ٹکڑے شراب پرتگالی
ترے مکھ کادیوانا ہوں چمن میں گیاہے پھول چمپا بھول مالی
ولی پاؤ میں اس کے کچھ عجب تئیں اگرچہ کر اٹھے سب نقش قالی
(4)
زبس نرم ہیں پاؤ کے اس تلے کہ ریشم پہ رکھتے ہیں اٹھتے چھلے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
ترے مکھ کے سرج کوں دیکھ جیوں برف ہوئے ہیں عاشقاں سر تا قدم آب
رکھوں جس خواب میں تجھ لب اپر لب مجھے شکر سوں شیریںتر ہے وو خواب
تری نیناں وو قاتل ہیں کہ جن کے پاس دو ابرو کی ہیں دو تیغ سیہ تاب
ولی تجھ سوز میں اے آتشیں خو سراپا ہے بہ رنگ شعلہ بے تاب
(2)
کیوں ہو سکے جہاں میں ترا ہم سر آفتاب تجھ حسن کی اگن کا ہے یک اخگر آفتاب
دیکھا جو تجھ کوں آپ سوں روشن جگت منیں شرموں لیا نقاب زریں مکھ پر آفتاب
آیاہے نقل لینے ترے مکھ کتاب کی تار خطوط سیتی بنا مسطر آفتاب
گرمی سوں بے قرار ہو نکلیا سِنے کوںکھول تجھ عشق کا پیا ہے مگر ساغر آفتاب
ہندو سُرج کو ں دور سوں نت پوجتے ولے ہندوئے زلف کے ہے بغل بھیتر آفتاب
جن ترے جمال پہ کیتا ہے یک نظر دیکھا نئیں وو پھر کے نظر بھر کے آفتاب
پوجا کوں تجھ درس کی ہوں جوگی فلک اپر نکلیا ہے پہن جامہ ٔ خاکستر آفتاب
تجھ مکھ کے آفتاب اپر گر کرے نگاہ پنہاں ہوں ہر نظر ستی جیوں اختر آفتاب
جگ میںولی ؔ سوکس کوں برابر کہے ترے ذرے سوں ہے نزدیک ترے کمتر آفتاب
(3)
ترے مکھ پراے ناز نیں یونقاب جھلکتاہے جیوں مطلع آفتاب
ادا فہم کے دل کی تسخیر کوں ترا قد ہے جیوں مصرع انتخاب
بجاہے ترے حسن کی تاب سوں تری زلف کھاتی ہے گرپیج وتاب
نظرکرکے تجھ مکھ کی صافی اپر ہوئی شرم سوں آرسی غرق آب
ترے عکس پڑنے سوں اے گل بدن عجب نئیں اگر آپ ہووے گلاب
ترے وصل میں اس قدرہے نشاط کہ مخمل کوں آئے سوں راحت خراب
کریں بخت میرے اگر ٹک مدد ولی ؔ اس سجن سوں ملوں بے حجاب
(4)
جب سوں دونازنیں کی میںدیکھا ہوں چھب عجب دل مرے خیال ہیں تب سوں عجب عجب
جاتاہے دن تمام اسی مکھ کی یاد میں ہوتا ہے فکر زلف میں احوال شب عجب
(5)
بے تاب ہوں کہ مثل گدا یاں نزیک جا بے باک ہوکے تب یو کیا میں طلب عجب
دونین سوں ترے ہے دو بادام کا سوال سن یو سوال دل میں رہا پستہ لب عجب
بولیا مری نگاہ کی قیمت ہے دو جہاں جس دیکھنے سوں دل میں ترے ہے طرب عجب
اس دولت عظیم کو یوں مفت مانگنا لگتی ہے بات مجھ کو تری بے ادب عجب
کیتا میں اس سوال میں دوجا بھی اک سوال کربہرہ مند لب سوں کہ تیرے ہیں لب عجب
یک بار اس سوال میں سن یہ دوجا سوال دل میں رہا اپس کے دوشیریں لقب عجب
اول توشوخ آکے غضب میں غصہ کیا سر تا قدم وو ناز اٹھا یو غضب عجب
جیو میں اپس کی ہمت عالی پہ کر نظر شیریں لباں سوں اپنے چکھایا رطب عجب
اس شعر کی یہ طرح نکالا ہے جب ولی ؔ یو اختراع سن کے رہے دل میں سب عجب
ردیف ’ے‘
(1)
گیاہے جب سوں سہی سرو نوبہار کرے نگہ کے پگ منیں انجھواں سوں ہے قطار کرے
ہوا ہے بسکہ دوانہ سجن قیامت کا قدم میں سرو کے ہے موج جوئبار کرے
اگرچہ بند رہا وصل ظاہری ہیں ولے خیال یار سوں دل کوں سکے حصار کرے
وو راحت دل و جان جب وہاں مقام کیا ہواہے درد دل و جان بے قرار کرے
میں اپنی آنکھوں کوں واللہ فرش راہ کروں گزر جو میری طرف کوں وو شہسوار کرے
سجن کی بزم سوں کیوں جاسکوں ولی ؔ باہر کہ قید حلقہ گیسوئے تاب دار کرے
(2)
دیکھ دستار بسنتی ساقی سر شار کی کھل گئی ہے آج انکھیاں نرگس بیمار کی
بات رہ جائے گی قاصد وقت رہنے کا تئیں دل تڑپتاہے شتابی لاخبر دلدار کی
بات کہنے کاکبھی جووقت پاتاہے غریب بھول جاتاہے دوسب کچھ دیکھ صورت یار کی
معرکہ میںعشق کے ہربوالہواس کاکام کیا دیکھ حالت کیا ہوئی منصور سوں سردارکی
اے ولی اس بے وفا کی مہربانی پرنہ بھول دل ہے دشمن ہے مگر کرتاہے باتیں پیار کی
(3)
ترے ہوٹاں کی لالی سوں معالی چھپی ہاتھوں میں جامہندی کی لالی
تراقد دیکھ تجھ پا ؤ پہ جھک جھک پڑی شمشادکی ڈالی پہ ڈالی
بیان تجھ زلف کی سیاہی کاکیاکہوں کہ تئیں ہے مثل اس کے رات کالی
تری شمشیر ابرو دیکھ ظالم لیاشیروں نے جا کوہوں کی جالی
خماری دیکھ انکھیاں کی بے کیف ہوئی ٹکڑے شراب پرتگالی
ترے مکھ کادیوانا ہوں چمن میں گیاہے پھول چمپا بھول مالی
ولی پاؤ میں اس کے کچھ عجب تئیں اگرچہ کر اٹھے سب نقش قالی
(4)
زبس نرم ہیں پاؤ کے اس تلے کہ ریشم پہ رکھتے ہیں اٹھتے چھلے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
ادا فہم کے دل کی تسخیر کوں ترا قد ہے جیوں مصرع انتخاب
بجاہے ترے حسن کی تاب سوں تری زلف کھاتی ہے گرپیج وتاب
نظرکرکے تجھ مکھ کی صافی اپر ہوئی شرم سوں آرسی غرق آب
ترے عکس پڑنے سوں اے گل بدن عجب نئیں اگر آپ ہووے گلاب
ترے وصل میں اس قدرہے نشاط کہ مخمل کوں آئے سوں راحت خراب
کریں بخت میرے اگر ٹک مدد ولی ؔ اس سجن سوں ملوں بے حجاب
(4)
جب سوں دونازنیں کی میںدیکھا ہوں چھب عجب دل مرے خیال ہیں تب سوں عجب عجب
جاتاہے دن تمام اسی مکھ کی یاد میں ہوتا ہے فکر زلف میں احوال شب عجب
(5)
بے تاب ہوں کہ مثل گدا یاں نزیک جا بے باک ہوکے تب یو کیا میں طلب عجب
دونین سوں ترے ہے دو بادام کا سوال سن یو سوال دل میں رہا پستہ لب عجب
بولیا مری نگاہ کی قیمت ہے دو جہاں جس دیکھنے سوں دل میں ترے ہے طرب عجب
اس دولت عظیم کو یوں مفت مانگنا لگتی ہے بات مجھ کو تری بے ادب عجب
کیتا میں اس سوال میں دوجا بھی اک سوال کربہرہ مند لب سوں کہ تیرے ہیں لب عجب
یک بار اس سوال میں سن یہ دوجا سوال دل میں رہا اپس کے دوشیریں لقب عجب
اول توشوخ آکے غضب میں غصہ کیا سر تا قدم وو ناز اٹھا یو غضب عجب
جیو میں اپس کی ہمت عالی پہ کر نظر شیریں لباں سوں اپنے چکھایا رطب عجب
اس شعر کی یہ طرح نکالا ہے جب ولی ؔ یو اختراع سن کے رہے دل میں سب عجب
ردیف ’ے‘
(1)
گیاہے جب سوں سہی سرو نوبہار کرے نگہ کے پگ منیں انجھواں سوں ہے قطار کرے
ہوا ہے بسکہ دوانہ سجن قیامت کا قدم میں سرو کے ہے موج جوئبار کرے
اگرچہ بند رہا وصل ظاہری ہیں ولے خیال یار سوں دل کوں سکے حصار کرے
وو راحت دل و جان جب وہاں مقام کیا ہواہے درد دل و جان بے قرار کرے
میں اپنی آنکھوں کوں واللہ فرش راہ کروں گزر جو میری طرف کوں وو شہسوار کرے
سجن کی بزم سوں کیوں جاسکوں ولی ؔ باہر کہ قید حلقہ گیسوئے تاب دار کرے
(2)
دیکھ دستار بسنتی ساقی سر شار کی کھل گئی ہے آج انکھیاں نرگس بیمار کی
بات رہ جائے گی قاصد وقت رہنے کا تئیں دل تڑپتاہے شتابی لاخبر دلدار کی
بات کہنے کاکبھی جووقت پاتاہے غریب بھول جاتاہے دوسب کچھ دیکھ صورت یار کی
معرکہ میںعشق کے ہربوالہواس کاکام کیا دیکھ حالت کیا ہوئی منصور سوں سردارکی
اے ولی اس بے وفا کی مہربانی پرنہ بھول دل ہے دشمن ہے مگر کرتاہے باتیں پیار کی
(3)
ترے ہوٹاں کی لالی سوں معالی چھپی ہاتھوں میں جامہندی کی لالی
تراقد دیکھ تجھ پا ؤ پہ جھک جھک پڑی شمشادکی ڈالی پہ ڈالی
بیان تجھ زلف کی سیاہی کاکیاکہوں کہ تئیں ہے مثل اس کے رات کالی
تری شمشیر ابرو دیکھ ظالم لیاشیروں نے جا کوہوں کی جالی
خماری دیکھ انکھیاں کی بے کیف ہوئی ٹکڑے شراب پرتگالی
ترے مکھ کادیوانا ہوں چمن میں گیاہے پھول چمپا بھول مالی
ولی پاؤ میں اس کے کچھ عجب تئیں اگرچہ کر اٹھے سب نقش قالی
(4)
زبس نرم ہیں پاؤ کے اس تلے کہ ریشم پہ رکھتے ہیں اٹھتے چھلے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
دونین سوں ترے ہے دو بادام کا سوال سن یو سوال دل میں رہا پستہ لب عجب
بولیا مری نگاہ کی قیمت ہے دو جہاں جس دیکھنے سوں دل میں ترے ہے طرب عجب
اس دولت عظیم کو یوں مفت مانگنا لگتی ہے بات مجھ کو تری بے ادب عجب
کیتا میں اس سوال میں دوجا بھی اک سوال کربہرہ مند لب سوں کہ تیرے ہیں لب عجب
یک بار اس سوال میں سن یہ دوجا سوال دل میں رہا اپس کے دوشیریں لقب عجب
اول توشوخ آکے غضب میں غصہ کیا سر تا قدم وو ناز اٹھا یو غضب عجب
جیو میں اپس کی ہمت عالی پہ کر نظر شیریں لباں سوں اپنے چکھایا رطب عجب
اس شعر کی یہ طرح نکالا ہے جب ولی ؔ یو اختراع سن کے رہے دل میں سب عجب
ردیف ’ے‘
(1)
گیاہے جب سوں سہی سرو نوبہار کرے نگہ کے پگ منیں انجھواں سوں ہے قطار کرے
ہوا ہے بسکہ دوانہ سجن قیامت کا قدم میں سرو کے ہے موج جوئبار کرے
اگرچہ بند رہا وصل ظاہری ہیں ولے خیال یار سوں دل کوں سکے حصار کرے
وو راحت دل و جان جب وہاں مقام کیا ہواہے درد دل و جان بے قرار کرے
میں اپنی آنکھوں کوں واللہ فرش راہ کروں گزر جو میری طرف کوں وو شہسوار کرے
سجن کی بزم سوں کیوں جاسکوں ولی ؔ باہر کہ قید حلقہ گیسوئے تاب دار کرے
(2)
دیکھ دستار بسنتی ساقی سر شار کی کھل گئی ہے آج انکھیاں نرگس بیمار کی
بات رہ جائے گی قاصد وقت رہنے کا تئیں دل تڑپتاہے شتابی لاخبر دلدار کی
بات کہنے کاکبھی جووقت پاتاہے غریب بھول جاتاہے دوسب کچھ دیکھ صورت یار کی
معرکہ میںعشق کے ہربوالہواس کاکام کیا دیکھ حالت کیا ہوئی منصور سوں سردارکی
اے ولی اس بے وفا کی مہربانی پرنہ بھول دل ہے دشمن ہے مگر کرتاہے باتیں پیار کی
(3)
ترے ہوٹاں کی لالی سوں معالی چھپی ہاتھوں میں جامہندی کی لالی
تراقد دیکھ تجھ پا ؤ پہ جھک جھک پڑی شمشادکی ڈالی پہ ڈالی
بیان تجھ زلف کی سیاہی کاکیاکہوں کہ تئیں ہے مثل اس کے رات کالی
تری شمشیر ابرو دیکھ ظالم لیاشیروں نے جا کوہوں کی جالی
خماری دیکھ انکھیاں کی بے کیف ہوئی ٹکڑے شراب پرتگالی
ترے مکھ کادیوانا ہوں چمن میں گیاہے پھول چمپا بھول مالی
ولی پاؤ میں اس کے کچھ عجب تئیں اگرچہ کر اٹھے سب نقش قالی
(4)
زبس نرم ہیں پاؤ کے اس تلے کہ ریشم پہ رکھتے ہیں اٹھتے چھلے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
بات رہ جائے گی قاصد وقت رہنے کا تئیں دل تڑپتاہے شتابی لاخبر دلدار کی
بات کہنے کاکبھی جووقت پاتاہے غریب بھول جاتاہے دوسب کچھ دیکھ صورت یار کی
معرکہ میںعشق کے ہربوالہواس کاکام کیا دیکھ حالت کیا ہوئی منصور سوں سردارکی
اے ولی اس بے وفا کی مہربانی پرنہ بھول دل ہے دشمن ہے مگر کرتاہے باتیں پیار کی
(3)
ترے ہوٹاں کی لالی سوں معالی چھپی ہاتھوں میں جامہندی کی لالی
تراقد دیکھ تجھ پا ؤ پہ جھک جھک پڑی شمشادکی ڈالی پہ ڈالی
بیان تجھ زلف کی سیاہی کاکیاکہوں کہ تئیں ہے مثل اس کے رات کالی
تری شمشیر ابرو دیکھ ظالم لیاشیروں نے جا کوہوں کی جالی
خماری دیکھ انکھیاں کی بے کیف ہوئی ٹکڑے شراب پرتگالی
ترے مکھ کادیوانا ہوں چمن میں گیاہے پھول چمپا بھول مالی
ولی پاؤ میں اس کے کچھ عجب تئیں اگرچہ کر اٹھے سب نقش قالی
(4)
زبس نرم ہیں پاؤ کے اس تلے کہ ریشم پہ رکھتے ہیں اٹھتے چھلے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
گرانی ستی بوے کی غش کرے دوجب عطر جامے پہ اپنے ملے
ادب سے اسے سروسجدہ کرے کہ جب دولٹکتا چمن میں چلے
شمع اس کے مکھ پرہو قربان تب پتنگ کی نمن سرسوں پگ لگ جلے
نظر گرم سوں ایک اس شوخ کی چمن میںگلاں کئی ہزاراں گلے
دومکھ دیکھ روشن سرج آپ سوں اپس تن کے تئیں جال کرتلملے
حرکت جواس دان میں درکے دیکھ دل عاشق کے مانند پارہلے
کرے مشتری رشک جب ہاتھ میں کناری جوا اس شوخ کی جھلملے
ولی کے بچن دل کے دریاستی نکلتے کہ جیسے در ان نرملے
(5)
چنیے کی کلی رشک سوں ہرکھلی توپھینٹاسجیا سر پو جب صندلی
گل چھوڑ کے سب چمن کے سجن کریں شور بلبلاں تری آگلی
تری تیغ آبرو کی دہشت ستی بچکتی فلک کے اوپر بجلی
اگرچہ جلیں سب شمع پتنگ ہے تجھ شمع پر شمع ساری جلی
ترے لب ہنسی کو ں کہاں پہنچی اگر کوئی بولے شکرکی ڈلی
پری دیکھ تجھ مکھ کی جھلکار کوں قدم بوس کرنے کو آوے چلی
فرامو ش قانوں حکمت کرے اگر مکھ کو دیکھے ترے بوعلی
پڑے گرے ترے پییچ میں زلف کے ولایت بسر جائے اپنی ولی ؔ
(6)
تیغ ابر جب وہ جھاڑاہے کئی ہزار کوجی سے ماراہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
ایک غمزے سوں چشم کے اس نے کئی چکاروں کے تئیں پچھاڑاہے
ان کی صورت کوں حق مصور ہو کھینچ کیاناز سوں اتاراہے
ہر پلک عاشقوں کے جی کے تئیں کاٹنے کو ں بس ایک آراہے
کان کے درکی کیاکروں تعریف پہلوئے ماہ جیوں ستاراہے
اس کے سر چہرہ مقیشی کا کیاجھلک اور عجب جھکار اہے
آج اس سیدا کی خوبی کا خیل پریوںمیں کیاپکاراہے
حق سے مغرور ہوکے پھرتاہے ہے ولی باز کیابچاراہے
(7)
منظور نظر غیر سہی اب ہمیںکیاہے بے دید آنکھ سے دل پہلے پھراہے
کھائی ہے قسم ہم نے کہ پرہیز کریں گے گردرد سے بھر جائے طبیعت تومزاہے
جب گھر میں نہ ہوں تم رہے کوچے میں ہم کیوں شکوہ جو تمہارا توہمارابھی بجاہے
بس بس نہ کروں بار کہ یاد آئے ہے مجھ کو ناصح سے جو کچھ بے خودیوں سے سناہے
کس طرح نہ اس شوخ کے رونے پہ ہنسوں میں نظروں میں مروت نہ آنکھوںمیں حیاہے
اب شوق سے تم محفل اغیارمیں بیٹھو یا ں گوشہ خلوت میں عجب لطف اٹھاہے
یارب کوئی معشوقہ دلجونہ ملے اب جو ان کی دعاہے وہی اپنی بھی دعاہے
توبہ گنہ عشق سے فرمائے ہے واعظ یہ کہیں دل دے کے گنہگار ہواہے
آزردہ حرمان ملاقات ملے کیا یعنی کہ نہ ملنا ہی نہ ملنے کی سزاہے
میرمحمد تقی میرؔ (پیدائش 28 مئی 1723ءاور وفات22 ستمبر 1810ء) اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میرؔ ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعری ميں مير تقی ميرؔکا مقام بہت اونچا ہے۔ ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئےاردو کے عظیم الشان شاعرمرزا غالب ؔنے کہا ہے۔
ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے ميں کوئی مير بھی تھا
حالات زندگی :میر تقی میر، آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھےاور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے تب ان کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتدا ہوئی۔
ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے اور اپنے خالو سراج الدین آرزو کے ہاں قیام پزیر ہوئے۔ سوتیلے بھائی کے اکسانے پر خان آرزو نے بھی پریشان کرنا شروع کر دیا۔ کچھ غم دوراں، کچھ غم جاناں سے جنوں کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف تنگدستی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ روانہ ہو گئے۔ اور سفر کی صعوبتوں کے بعد لکھنؤ پہنچے۔ وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ اور میر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ لیکن تند مزاجی کی وجہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر دربار سے الگ ہو گئے۔ آخری تین سالوں میں جوان بیٹی او ر بیوی کے انتقال نے صدمات میں اور اضافہ کر دیا۔ آخر اقلیم سخن کا یہ حرماں نصیب شہنشاہ 87 سال کی عمر پا کر 1810ء میں لکھنؤ کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ میر کی زندگی کے بارے میں معلومات کا اہم ذریعہ ان کی سوانح عمری "ذکرِ میر"، جو ان کے بچپن سے لکھنؤ میں ان کے قیام کے آغاز کی مدت پر محیط ہے۔ میر نے اپنی زندگی کے چند ایام مغل دہلی میں صر ف کیے۔ اس وقت وہ پرانی دہلی میں جس جگہ رہتے تھے اسے کوچہ چلم، کہا جاتا تھا۔ مولانا محمد حسین آزاد ؔ اپنی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں۔”میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو سواری گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اس نے بات کی میر صاحب چیں بجبیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے،بے شک گاڑی میں بیٹھے، مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا’ حضرت کیا مضائقہ ہے ؟‘ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ میر صاحب بگڑ کر بولے۔’ کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔‘ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرائے میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی۔ اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنؤ ، نئے انداز ، نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے، میرؔ صاحب بیچارے غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے، شمع ان کے سامنے آئی، تو پھر سب کی نظر پڑی۔ بعض اشخاص نے پوچھا ! حضور کا وطن کہاں ہے؟ میرؔ صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا :
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت طلب کی، میر صاحب سے عفو تقصیر چاہی، کمال کے طالب تھے۔ صبح ہوتے ہوتے شہر میں مشہور ہو گیا کہ میرؔ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں، رفتہ رفتہ نواب آصف الدولہ مرحوم نے سنا اور دو سو روپیہ مہینہ وظیفہ کر دیا۔ عظمت و اعزاز، جوہر کمال کے خادم ہیں، اگرچہ انہوں نے لکھنؤ میں بھی میر صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ مگر انہوں نے بد دماغی اور نازک مزاجی کو جو ان کے ذاتی مصاحب تھے، اپنے دم کے ساتھ ہی رکھا۔ چنانچہ کبھی کبھی نواب کی ملازمت میں جاتے تھے۔ ایک دن نواب مرحوم نے غزل کی فرمائش کی۔ دوسرے تیسرے دن جو پھر گئے تو پوچھا کہ میر صاحب ! ہماری غزل لائے ! میرے صاحب نے تیوری بدل کر کہا :’’ جناب عالی! مضمون غلام کی جیب میں تو بھرے ہی نہیں کہ کل آپ نے فرمائش کی آج غزل حاضر کردے۔‘‘ اس فرشتہ خصال نے کہا۔’’ خیر میرؔ صاحب، جب طبیعت حاضر ہوگی کہہ دیجئے گا۔‘‘ ایک دن نواب نے بلا بھیجا۔ جب پہنچے تو دیکھا کہ نواب حوض کے کنارے کھڑے ہیں۔ ہاتھ میں چھڑی ہے۔ پانی میں لال، سبز مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں۔ آپ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ میرؔ صاحب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا میر صاحب کچھ فرمائیے۔ میرؔ صاحب نے غزل سنانی شروع کی۔ نواب صاحب سنتے جاتے تھے اور چھڑی کے ساتھ مچھلیوں سے بھی کھیلتے جاتے تھے۔ میر صاحب چیں بجبیں ہوتے اور ہر شعر پر ٹھہر جاتے تھے۔ نواب صاحب کہے جاتے تھے کہ ہاں پڑھیے۔ آخر چار شعر پڑھ کر میر صاحب ٹھہر گئے۔ اور بولے کہ پڑھوں کیا آپ مچھلیوں سے کھیلتے ہیں۔ متوجہ ہوں تو پڑھوں۔ نواب نے کہا جو شعر ہوگا۔ آپ متوجہ کرلے گا۔ میر صاحب کو یہ بات زیادہ تر ناگوار گزری۔ غزل جیب میں ڈال کر گھر کو چلے آئے اور پھر جانا چھوڑ دیا۔ چند روز کے بعد ایک دن بازار میں چلے جاتے تھے۔ نواب کی سواری سامنے سے آگئی۔ دیکھتے ہی نہایت محبت سے بولے کہ میرؔ صاحب آپ نے بالکل ہی ہمیں چھوڑ دیا۔ کبھی تشریف بھی نہیں لاتے۔ میرؔ صاحب نے کہا۔ بازار میں باتیں کرنا آداب شرفا نہیں۔ یہ کیا گفتگو کا موقع ہے۔ غرض بدستور اپنے گھر میں بیٹھے رہے اور فقر و فاقہ میں گزارتے رہے۔
اردو ادب کے قدیم شعرا سے لے کر عہد جدید تک کے سبھی شعرا نے میرؔ کی عظمت کا اعتراف کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ اردو کے جن مشہور و معروف شعرا نے ان کی عظمت کو اپنے کلام کا موضوع بنایا ان میں سے کچھ شعرا کے اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
سودا تو اس زمین میں غزل در غزل لکھ ہونا ہے تم کو میر سے استا د کی طرحسودا
ریختے کہ تمہی استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا غالب
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں غالبؔ
نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا ذوقؔ
شعر میرے بھی ہیں پردرد، و لیکن حسرت میر کا شیوہ گفتار کہاں سے لاؤں حسرتؔ
اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی ابنِ انشاؔ
معتقد ہیں اگرچہ غالب کے میر کو بھی سلام کرتے ہیں حزیں ؔ
بقول عبد الحق، ” اُن کا ہر شعر ایک آنسو ہے اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے۔“ ایک اور جگہ عبد الحق لکھتے ہیں،’’ انہوں نے سوز کے ساتھ جو نغمہ چھیڑا ہے اس کی مثال دنیائے اردو میں نہیں ملتی۔“
خدائے سخن کی خود سرائی
ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کریں چاہیے اہل ِ سخن میر کو استاد کریں
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے معتقد کون نہیں میر کی استادی کا
گر دیکھو تم طرز ِ کلام اس کی نظر کر اے اہل ِ سخن میر کو استاد کرو گے
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنیے گا کہتے کسی کو سنیے گا تو دیر تلک سر دُھنیے گا
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہر گز تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
ہر ورق ہر صفحہ میں ایک شعر شورانگیز ہے عر صہٴ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا
جہاں سے دیکھیے ایک شعر شور انگیز نکلے ہے قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں
جی میں آتا ہے کچھ اور بھی موزوں کیجئے درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ میر جی بھی کمال رکھتے ہیں
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا مستند ہے میرا فرمایا ہوا
غم و حزن : میر کا تصور، زندگی کے بارے میں بڑا واضح ہے کہ ان کا زندگی کے بارے میں نقطۂ نظر حزنیہ تھا۔ حزن ایک ایسے غم کا نام ہے جو اپنے اندر تفکر اورتخلیقی صلاحیتیں بھی رکھتا ہے۔ یہ غم ذاتی مقاصد اور ذاتی اغراض کا پرتو نہیں رکھتا۔ اس غم میں تو سوچ، غور و فکر اور تفکر کو دخل ہے۔ میر کے متعلق یہ کہنا بھی درست نہیں کی میر قنوطی شاعر ہیں یا محض یاسیت کا شکار ہیں۔ محض یاس کا شاعر ہونا کوئی بڑی بات نہیں، اصل بات تو یہ ہے کی انسان یاس و غم کا شکار ہونے کے باوجود زندگی سے نباہ کیسے کرتا ہے۔ یہی نباہ اس کا تصور زندگی کی تشکیل دیتا ہے۔ میر کا تصور ِ زندگی مایوس کن نہیں صرف اس میں غم و الم کا ذکر بہت زیادہ ہے۔ مگر یہ غم و الم ہمیں زندگی سے نفرت نہیں سکھاتا بلکہ زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کر تا ہے۔ اس میں زندگی کی بھرپور توانائی کا احساس ہوتا ہے۔
میر کا تصور غم :میر کا تصور غم تخیلی اور فکری ہے۔ یہ قنوطیت پیدا نہیں کرتا۔ اس کے ہوتے ہوئے میر کی شاعری میں توازن اور ٹھہراؤ نظر آتا ہے۔ شکستگی کا احساس نہیں ہوتا اور ضبط، سنجیدگی اور تحمل ملتا ہے۔ وہ غم سے سرشار ہو کر اسے سرور اور نشاط بنا دیتے ہیں۔ مجنوں گورکھپوری ان کے تصورات غم سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ” میر نے غم عشق اور اس کے ساتھ غم زندگی کو ہمارے لیے راحت بنا دیا ہے۔ وہ درد کو ایک سرور اور الم کو ایک نشاط بنا دیتے ہیں۔ میر کے کلام کے مطالعہ سے ہمارے جذبات و خیالات اور ہمارے احساسات و نظریات میں وہ ضبط اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ جس کو صحیح معنوں میں تحمل کہتے ہیں۔
ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے خونابہ کشی مدام کی ہے ہم نے
یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر مر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے
میر کی دردمندی : میر کے ہاں دردمندی ان کے فلسفہ غم کا دوسرا نام ہے۔ اگرچہ لفظ فلسفہ انہوں نے استعمال ہی نہیں کیا، مگر اس سے مراد ان کی یہی ہے۔ دردمندی سے مراد زندگی کی تلخ حقیقتوں کا اعتراف و ادراک اور مقدور بھر ان تلخیوں کو دور کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ یہ دردمندی ان کی زندگی کے تضادات سے جنم لیتی ہیں۔ دردمندی کا سرچشمہ دل ہے۔ میر کے یہ اشعار ذہن میں رکھیے:
آبلے کی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے دردمندی میں کٹی ساری جوانی اپنی
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ قدم قدم پہ تھی یاں جائے نالہ و فریاد
چشم رہتی ہے اب پرُ آب بہت دل کو میرے ہے اضطراب بہت
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا لوہو (لہو) آتا ہے جب نہیں آتا
دردمندی کے محرکات : میر کا دور شدید ابتری کا دور تھا۔ زندگی کے مختلف دائروں کی اقدار کی بے آبروئی ہو رہی تھی۔ انسانی خون کی ارزانی، دنیا کی بے ثباتی اور ہمہ گیرانسانی تباہی نے انسانوں کو بے حد متاثر کیا۔ میر اس تباہی کے محض تماشائی نہ تھے بلکہ وہ خود اس تباہ حال معاشرہ کے ایک رکن تھے۔ جو صدیوں کے لگے بندھے نظام کی بردبادی سے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر کر رہ گیا تھا۔ اوراب اس کو جوڑنا ممکن نہ رہا تھا۔ میر نے اس ماحول کے اثرات شدت سے محسوس کیے ہیں۔ ان کی غزلوں میں اس تباہی کے نقوش ملتے ہیں۔ لٹے ہوئے نگروں، شہروں اور اجڑی ہوئی بستیوں کے حالات، بجھے ہوئے دلوں کی تصویریں، زمانے کے گرد و غبار کی دھندلاہٹیں، تشبیہوں اور استعاروں کی شکل میں میر کے ہاں موجود ہیں۔
روشن ہے اس طرح دل ِ ویراں میں داغ ایک اُجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
دل کی ویرانی کا کیا مذکور یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
حوصلے کی بلندی :بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ: ” میر کو زندگی سے بیزار شاعر نہیں کہا جاسکتا۔ ان کا غم بعد میں آنے والے شاعر، فانی کے غم سے مختلف ہے جس کی تان ہمیشہ موت پرٹوٹتی ہے۔ ان کا غم سودا سے بھی مختلف ہے۔ ان کا غم ایک مہذب اوردردمند آدمی کا غم ہے جو زندگی کے تضاد کو گہرے طور سے محسوس کرتا ہے کہ ایسی دلکش جگہ اور اتنی بے بنیاد اور محروم۔“ غم و الم کے اس عالم میں میر بے حوصلہ نہیں ہوتے۔ وہ سپاہیانہ دم خم رکھتے ہیں۔ فوجی ساز و سامان کے استعاروں میں مطلب ادا کرکے زندگی کا ایسا احساس دلاتے ہیں جس میں بزدلی بہرحال عیب ہے۔ وہ رویہ جسے اہل تذکرہ بے دماغی یا بد دماغی کہتے ہیں وہ دراصل وہ احتجاجی روش ہے جو ہر سپاہی کا شیوہ ہے۔
خوش رہا جب تلک رہا جیتا میر معلوم ہے قلندر تھا
بہت آرزو تھی گلی کی تیری سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے
حوصلہ شرط عشق ہے ورنہ بات کا کس کو ڈھب نہیں آتا
دنیا کی بے ثباتی : بے ثباتی دنیا کا احساس اردو شاعری میں بہت عام ہے۔ اس موضوع پر تقریباً سبھی شعرا نے طبع آزمائی کی ہے۔ لیکن دبستان دہلی کے شعرا کے ہاں بے ثباتی کا احساس زیادہ گہرا نظرآتا ہے۔ خصوصاً میرتقی میر کی تمام شاعری میں دنیا کی بے ثباتی کا ذکر بڑے واضح الفاظ میں ملتا ہے۔ جس کی اصل وجہ اُس دور کے غیر یقینی اور ہنگامی حالات تھے۔ جس کی وجہ سے اُن کی شاعری میں دنیا سے بے زاری اور بے ثباتی کے موضوعات پروان چڑھے۔
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
نمود کرکے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا کہے تو میر اک بلبلا تھا پانی کا
جس سر کو ہے یاں آج غرور تاج وری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نو حہ گری کا
دلی کی بربادی کا غم : بقول ڈاکٹر غلام حسن: ” شاعروں نے دل کے استعارے میں اس عہد کے سیاسی اور سماجی احوال کو سمو کر بڑے بلیغ کنایے سے کام لیا ہے۔ جس طرح انسانی جسم کی ساری نقل و حرکت کا مرکز و محور دل ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک سلطنت کا مرکز و محور اس کا دار الحکومت ہوتا ہے۔ زیر نظر دور میں ہندوستان کا مرکز سلطنت شہر دہلی تھا۔ دہلی جو صدیوں سے اس ملک کے دل کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔۔ دہلی کی تباہی کو شاعروں نے کنایتاً دل کی ویرانی و بربادی سے تشبیہ دے کر سارے جسم یعنی کل ملک کی تباہی کی داستان بیان کی ہے۔“ میر نے دوسرے شعرا کی طرح یہ تمام خونی واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ میر کی شاعری پر خون کے یہ دھبے آج تک نمایاں ہیں۔
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
خاک بھی سر پر ڈالنے کو نہیں کس خرابے میں ہم ہوئے آباد دلی میں
آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
سادگی، خلوص، صداقت : میر نے فنی خلوص کو پوری صداقت سے استعمال کیا ہے۔ فنی خلوص سے یہ مراد ہے کہ شاعر زندگی کے واقعات کو جس طرح دیکھتا ہے، اسی طرح بیان کرے۔ میر کا انداز اسی لیے مقبول ہے کہ اس میں صداقت اور خلوص اور تمام باتیں بے تکلفی کے انداز میں کہی گئی ہیں۔ میر نے خیال بند شاعروں کی سی معنی آفرینی سے کام نہیں لیا۔ محض تخیل کے گھوڑے نہیں دوڑائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میر عوام کا شاعر ہے۔ اس کے آس پاس کی زندگی سے درد و غم کے مضامین کے چشمے ابل رہے تھے۔ میر نے انہی مضامین کو سادہ الفاظ میں بے تکلف انداز میں پیش کیا۔ میرکے خلوص و صداقت کا اندازہ ان اشعار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
قدر رکھتی نہ تھی متاع دل سارے عالم کو میں دکھا لایا دل
مجھے اس گلی میں لے جا کر اور بھی خاک میں ملا لایا
ابتدا ہی میں مر گئے سب یار عشق کی کون انتہا لایا
خطابیہ انداز : میر کو خطاب اور گفتگو کا انداز بڑا پسند ہے۔ کبھی وہ خود سے مخاطب ہو کر ”باتیں “ کرتے ہیں اور کبھی کسی دوسرے شخص سے۔ کبھی ان کا تخاطب بلبل سے ہے اور کبھی شمع و پروانہ سے۔ ان تمام حالتوں میں شعر میں بات چیت اور بے تکلفی کا رنگ بہر حال قائم رہتا ہے۔ ایک مانوس اور محبت بھری آواز کانوں سے ٹکراتی ہے جو اپنے پیرایہ ادا کی کشش سے قاری یا سامع کو فوراً اپنے حلقہ اثر میں لے لیتی ہے اور وہ خود بخود میر صاحب کی ان بے ساختہ اور پر خلوص ”باتوں“ سے لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
بارے دنیا میں رہو غمزدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
میر کا طنز :میر کا طنز ان کی طبیعت کا آئینہ ہے۔ جب کوئی بات طنز کے ساتھ کہتے ہیں تو اس سے محض بے تکلفی نہیں ٹپکتی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس عالم یا اس تجربہ سے گزر چکے ہیں۔ ان کا طنز اس شدید اور عمیق تعلق کا نتیجہ ہے جو بے تکلفی کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر عمر بھر قائم رہتا ہے۔ ان کے طنز میں ایک مدہم سی تلخی ہوتی ہے جو پختہ مغزی کی علامت ہوتی ہے۔ ان کے طنز میں غالب کی تیزی کی جگہ ایک عجب پرکیف نرمی ہوتی ہے۔
ہوگا کسو دیوار کے سائے تلے میں میرؔ کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو
عشق کرتے ہیں اس پری رو سے میر صاحب بھی کیا دوانے ہیں
حال بد گفتنی نہیں میرا تم نے پوچھا تو مہربانی ہے
تشبیہات و استعارات :میر نے اپنے شیوہ گفتار کو زیادہ موثر اور دلکش بنانے کے لیے تشبیہ و استعارے کا بڑے سلیقے سے استعمال کیا ہے۔ یہ تشبیہات مردہ نہیں بلکہ ان کے اندر زندگی دوڑتی ہوئی نظرآتی ہے۔ اس لیے کہ ان کے خالق کے خون میں گرمی اور حرارت ہے اور وہ پوری صداقت اور پورے فنی خلوص سے اپنی زندگی بھر کے تجربات و تاثرات کو ان تشبیہات و استعارات کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ ان میں کہیں بھی تصنع یا بناوٹ کا احساس تک نہیں ہوتا۔
شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر ان نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے اُس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
بس اے میر مژگاں سے پونچھ آنسوؤ ں کو تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا
ترنم اور موسیقیت : میر کے شاعرانہ انداز کی غنائیت اور موسیقیت اپنے اندر فنی دلکشی کے بہت سے پہلو رکھتی ہے۔ میر کے اندازکی نغمگی اور ترنم مسلم ہے۔ اور یہی میر کی عظمت کا راز ہے۔ ان کا کمال فن یہ ہے کہ وہ مختلف خیالات کے اظہار کے لیے مختلف بحروں کا انتخاب کرکے نغمگی پیدا کرتے ہیں۔ فارسی مروجہ بحروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ میر نے ہندی کے پنگل کو اردو غزل کے مزاج کا حصہ بنا کر ہم آہنگی کی صورت دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ا س کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی شاعری میں بڑی کیف آور اور اثر انگیز غنائیت و موسیقی پیدا ہوتی ہے۔
پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
تصوف :میر کی شاعری کے فکری عناصر میں متصوفانہ رنگ خاص طور پرقابل ذکر ہے۔ ان کے باپ اور چچا صوفیانہ مزاج کے مالک تھے اور رات دن جذب و مستی کی کیفیات میں سرشار رہتے تھے۔ میر نے ان بزرگوں کی آنکھیں دیکھی تھیں۔ وہ بھلا کس طرح صوفیانہ تجربہ سے الگ رہ سکتے تھے۔ ان کے ہاں تصوف کا تجربہ محض روایتی نہیں ہے، یہ رسمی بھی نہیں ہے، اس تجربے نے میر کے ذہن و فکر کی تہذیب پر گہرے اثرات مرتسم کیے ہیں۔ وہ زندگی کو کسی عام انسان کی طرح نہیں دیکھتے، ان کی نظر صاف دل صوفی کی نظر ہے۔
موت اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
سرسری تم جہان سے گزرے ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
حکیمانہ انداز :عام اخلاقی مضامین بھی ہمارے تصوف کے اہم مسائل ہیں۔ نیکی، شرافت، دیانت، صدق و امانت اور دیگر چھوٹے چھوٹے اخلاقی مسائل پر بھی اس انداز سے گفتگو کرتے ہیں کہ ایک طرف تو ان مسائل کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور دوسرے ان کا انداز اس قدر دل نشین ہوتا ہے کہ قاری پر اثر بھی پڑتا ہے۔ میر تقی میر کی شاعری میں حکیمانہ انداز پایا جاتاہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مثلاً
یہ توہم کا کارخانہ ہے یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
سرسری تم جہان سے گزرے ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
تصور محبوب :یہ بات تو طے ہے کہ میر نے ایک گوشت پوست کے زندہ و متحرک محبوب سے عشق نہیں، بھرپور عشق کیا تھا۔ اور محبوب سے ان کے احساسِ جمال، قوتِ تخیل او ر تصو ر حسن پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کا محبوب خود حسن و نور کا منبع ہے اور روشنی کی طرح شفاف۔ میر کا محبوب صرف روشنی ہی نہیں بلکہ جسم، خوشبواور رنگ و بو کا پیکر بھی ہے۔
ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
تصور عشق :میر کے ہاں عشق آداب سکھاتا ہے۔ محبوب کی عزت و تکریم کا درس دیتا ہے۔ اگرچہ اس کا انجام ہمیشہ المیاتی اور دردناک ہوتا ہے پھر بھی میر کو اس عشق سے پیار ہے۔ یہ عشق ان کی زندگی کا حاصل ہے۔ اسی عشق سے میر نے زندگی کا سلیقہ اورحوصلہ سیکھا ہے۔ اسی عشق نے ان کی زندگی میں حرکت و عمل اور چہل پہل پیدا کی۔ میر کے خیال میں زندگی کی ساری گہما گہمی اور گونا گونی اسی عشق کی وجہ سے ہے۔ اگر عشق نہ ہوتا تو یہ کار خانہ قدرت بے کار، خاموش، بے حرکت اور بے لذت ہوتا۔ تصور عشق کے حوالے سے ان کے نمائندہ اشعار درج ذیل ہیں۔
دور بیٹھا غبار میر اس سے عشق بن یہ ادب نہیں آتا
محبت ہی اس کارخانے میں ہے محبت سے سب کچھ زمانے میں ہے
ہم طور ِ عشق سے واقف نہیں ہیں لیکن سینے میں جیسے دل کو کوئی ملا کرے ہے
سہلِ ممتنع :میر کی سہل ممتنع کے بارے میں اثر لکھنوی کہتے ہیں کہ ” زندگی کا شائد ہی کوئی پہلو ہو جس کی مصوری میر نے بہترین الفاظ میں اور موثر ترین پیرائے میں نہ کی ہو ان کے اشعار سہل ممتنع ہیں۔
سب پہ جس بار نے گرانی کی اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا مستند ہے میرا فرمایا ہوا
احساس برتری :میر کی شاعری کا ایک مخصوص رنگ ہے اور انداز شعر گوئی کی کیفیات ہیں ،جس نے تما م شاعروں کو بے حد متاثر کیا اور سارے شاعروں نے اس رنگ میں شعر کہنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ اس لیے میر احساس برتری کو سامنے لاتے ہوئے کہتے ہیں کہ
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا مستند ہے میرا فرمایا ہوا
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر یہ ہماری زبان ہے پیارے
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
بعض صاحب کمال ایسے ہوتے ہیں جن کے فن کی نمایاں خصوصیت نہ صرف اپنے دور کو متاثر کرتی ہے بلکہ مستقبل میں بھی لوگ ان کی طرز خاص کو مانتے ہیں میر بھی ایسے ہی صاحب کمال ہیں۔
مجموعی جائزہ :مولوی عبد الحق فرماتے ہیں کہ ” میر تقی میر سرتاج شعرائے اردو ہیں ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدی کا کلام فارسی میں، اگر دنیا کے ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میر کا نام اس فہرست میں ضرور داخل ہوگا۔“ بقول رشیداحمد صدیقی، ” غزل شاعری کی آبرو ہے اور میر غزل کے بادشاہ ہیں۔
(1)
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس کا ہی ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل نا صبور تھا پیدا ہر ایک نالہ سے شور نشور تھا
پہننچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک تیرے پر توے بغیر کیا شمع کیا پتنگ ہر ایک بے حضور تھا
منعم کے پاس قاقم وسنجاب تھا تو کیا اس رند کی بھی رات گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پاؤں ایک کاسہ سر پر جو آ گیا یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔ سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
(2)
کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لئے لیکن ہونٹوں پہ میرے جب نفس بازپسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ جو درد والم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
نام آج کوئی یہاں نہ لیتا ہے انہوں کا جن لوگوںکے کل ملک یہ سب زیرنگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آکے وہاں سے کل تک تو یہیں میرؔ خرابات نشیں تھا
(3)
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا حسن کیا صبح کے پھر چہرہ نورانی کا
کفر کچھ چاہئے اسلام کی رونق کے لئے حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
درہمی حال کی ہے سارے میرے دیواں میں سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں میں کیا کیا تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
کھیل لڑکوں کاسمجھتے تھے محبت کے تئیں ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں معتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا
(4)
جامہ ہستی عشق اپنا مگر کم گھیر تھا دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا
دیر میں کعبے گیا میں خانقہ سے اب کی بار راہ سے میخانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا
بلبلوں نے کیا گلافشاں میرؔ کا مرقد تھا دور سے آیا نظر تو پھولوں کا ایک ڈھیر تھا
(5)
اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدہ دیدار مر چلے آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
(6)
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رورو کاٹا پیری میںلیں آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بد نام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کاکعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کویہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یہاں کےسپید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے رات کو رو رو صبح کیا یا دن کوجوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین ومذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نےتو قشقہ کھنیچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک سلام کیا
(7)
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر برنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
(8)
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد تاحشر میرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کانہیں شور سخن کا مرے ہرگز تاحشر جہاں میں مرادیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی جب تک جیے گا میرؔ پشیمان رہے گا
(9)
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
(10)
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ مےخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اتھا آج دامن وسیع ہے اسکا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ مجلس کا
(11)
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعوی کیاتھا گل نے تیرے رخ سے باغ میں سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار تیرا تو میرؔ غم میں عجب حال ہو گیا
(12)
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلا کشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
(13)
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
(14)
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لئے لیکن ہونٹوں پہ میرے جب نفس بازپسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ جو درد والم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
نام آج کوئی یہاں نہ لیتا ہے انہوں کا جن لوگوںکے کل ملک یہ سب زیرنگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آکے وہاں سے کل تک تو یہیں میرؔ خرابات نشیں تھا
(3)
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا حسن کیا صبح کے پھر چہرہ نورانی کا
کفر کچھ چاہئے اسلام کی رونق کے لئے حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
درہمی حال کی ہے سارے میرے دیواں میں سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں میں کیا کیا تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
کھیل لڑکوں کاسمجھتے تھے محبت کے تئیں ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں معتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا
(4)
جامہ ہستی عشق اپنا مگر کم گھیر تھا دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا
دیر میں کعبے گیا میں خانقہ سے اب کی بار راہ سے میخانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا
بلبلوں نے کیا گلافشاں میرؔ کا مرقد تھا دور سے آیا نظر تو پھولوں کا ایک ڈھیر تھا
(5)
اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدہ دیدار مر چلے آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
(6)
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رورو کاٹا پیری میںلیں آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بد نام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کاکعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کویہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یہاں کےسپید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے رات کو رو رو صبح کیا یا دن کوجوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین ومذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نےتو قشقہ کھنیچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک سلام کیا
(7)
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر برنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
(8)
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد تاحشر میرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کانہیں شور سخن کا مرے ہرگز تاحشر جہاں میں مرادیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی جب تک جیے گا میرؔ پشیمان رہے گا
(9)
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
(10)
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ مےخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اتھا آج دامن وسیع ہے اسکا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ مجلس کا
(11)
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعوی کیاتھا گل نے تیرے رخ سے باغ میں سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار تیرا تو میرؔ غم میں عجب حال ہو گیا
(12)
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلا کشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
(13)
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
(14)
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
دیر میں کعبے گیا میں خانقہ سے اب کی بار راہ سے میخانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا
بلبلوں نے کیا گلافشاں میرؔ کا مرقد تھا دور سے آیا نظر تو پھولوں کا ایک ڈھیر تھا
(5)
اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدہ دیدار مر چلے آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
(6)
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رورو کاٹا پیری میںلیں آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بد نام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کاکعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کویہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یہاں کےسپید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے رات کو رو رو صبح کیا یا دن کوجوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین ومذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نےتو قشقہ کھنیچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک سلام کیا
(7)
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر برنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
(8)
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد تاحشر میرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کانہیں شور سخن کا مرے ہرگز تاحشر جہاں میں مرادیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی جب تک جیے گا میرؔ پشیمان رہے گا
(9)
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
(10)
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ مےخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اتھا آج دامن وسیع ہے اسکا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ مجلس کا
(11)
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعوی کیاتھا گل نے تیرے رخ سے باغ میں سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار تیرا تو میرؔ غم میں عجب حال ہو گیا
(12)
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلا کشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
(13)
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
(14)
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
عہد جوانی رورو کاٹا پیری میںلیں آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بد نام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کاکعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کویہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یہاں کےسپید وسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے رات کو رو رو صبح کیا یا دن کوجوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین ومذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نےتو قشقہ کھنیچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک سلام کیا
(7)
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر برنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
(8)
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد تاحشر میرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کانہیں شور سخن کا مرے ہرگز تاحشر جہاں میں مرادیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی جب تک جیے گا میرؔ پشیمان رہے گا
(9)
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
(10)
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ مےخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اتھا آج دامن وسیع ہے اسکا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ مجلس کا
(11)
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعوی کیاتھا گل نے تیرے رخ سے باغ میں سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار تیرا تو میرؔ غم میں عجب حال ہو گیا
(12)
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلا کشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
(13)
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
(14)
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد تاحشر میرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کانہیں شور سخن کا مرے ہرگز تاحشر جہاں میں مرادیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی جب تک جیے گا میرؔ پشیمان رہے گا
(9)
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
(10)
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ مےخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اتھا آج دامن وسیع ہے اسکا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ مجلس کا
(11)
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعوی کیاتھا گل نے تیرے رخ سے باغ میں سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار تیرا تو میرؔ غم میں عجب حال ہو گیا
(12)
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلا کشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
(13)
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
(14)
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ مےخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اتھا آج دامن وسیع ہے اسکا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ مجلس کا
(11)
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعوی کیاتھا گل نے تیرے رخ سے باغ میں سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار تیرا تو میرؔ غم میں عجب حال ہو گیا
(12)
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلا کشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
(13)
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
(14)
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلا کشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
(13)
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
(14)
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری گاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔ بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
(15)
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کے سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتے جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا جس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
(16)
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے ٍ اس کو سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(17)
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
(18)
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
(19)
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخود رفتگی میں میرؔ گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
(20)
گل کومحبوب ہم قیاس کا فرق نکلا بہت جوباس کا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
دل نے ہم کو مثال آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن شوق نے ہم کو بےحواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کودھنتی رہی کیا بتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں میر کو تم عبث اداس کیا
(20)
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا ا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبد اللہ بیگ تھا۔ آپ دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراؤ بیگم سے ہو گئی، شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔
غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا۔
’’آئین اکبری‘‘ کی منظوم تقریظ :1855ء میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئین اکبری‘‘ کی تصحیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھی۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ غالب نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں ان کا شمار ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر ان کے احسانات کو تو لیا ،مگر قومی معاملات میں ان کی رہنمائی کو نظر انداز کر دیا۔
دہلی کے جن نامور لوگوں کی تقریظیں آثارالصنادید کے آخر میں درج ہیں انہوں نے آئینِ اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقریظیں لکھی تھیں مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی کی تقریظ چھپی ہے۔ مرزا غالب کی تقریظ جو ایک چھوٹی سی فارسی مثنوی ہے وہ کلیاتِ غالب میں موجود ہے مگر آئینِ اکبری میں سرسید نے اس کو قصدا ً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ابوالفضل کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔سر سید کہتے تھے کہ : ’’جب میں مرادآباد میں تھا، اس وقت مرزا صاحب، نواب یوسف علی خاں مرحوم سے ملنے کو رام پور گئے تھے۔ ان کے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی مگر جب دلی کو واپس جاتے تھے، میں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں سرائے میں آکر ٹھہرے ہیں۔ میں فوراً سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو مع اسباب اور تمام ہم راہیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔‘‘ظاہرا جب سے کہ سر سید نے تقریظ کے چھاپنے سے انکار کیا تھا وہ مرزا سے اور مرزا ان سے نہیں ملے تھے اور دونوں کو حجاب دامن گیر ہو گیا تھا اور اسی لیے مرزا نے مرادآباد میں آنے کی ان کو اطلاع نہیں دی تھی۔ الغرض جب مرزا سرائے سے سرسید کے مکان پر پہنچے اور پالکی سے اُترے تو ایک بوتل ان کے ساتھ تھی انہوں نے اس کو مکان میں لا کر ایسے موقع پر رکھ دیا جہاں ہر ایک آتے جاتے کی نگاہ پڑتی تھی۔ سر سید نے کسی وقت اس کو وہاں سے اُٹھا کر اسباب کی کوٹھڑی میں رکھ دیا۔ مرزا نے جب بوتل کو وہاں نہ پایا توبہت گھبرائے، سرسید نے کہا : ــ’’ آپ خاطر جمع رکھیے، میں نے اس کو بہت احتیاط سے رکھ دیا ہے۔‘‘مرزا صاحب نے کہا ،’’ بھئی مجھے دکھا دو، تم نے کہاں رکھی ہے؟‘‘انہوں نے کوٹھڑی میں لے جا کر بوتل دکھا دی۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے بوتل اُٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہنے لگے کہ، ’’بھئی ! اس میں تو کچھ خیانت ہوئی ہے۔ سچ بتاؤ، کس نے پی ہے، شاید اسی لیے تم نے کوٹھڑی میں لا کر رکھی تھی، حافظ نے سچ کہا ہے : ’’واعظاں کایں جلوہ در محراب و منبر میکنند چوں بخلوت میروند آں کارِ دیگر میکنند‘‘ سرسید ہنس کے چُپ ہو رہے اور اس طرح وہ رکاوٹ جو کئی برس سے چلی آتی تھی، رفع ہو گئی، میرزا دو ایک دن وہاں ٹھہر کر دلی چلے آئے۔سرسید کے ذہن میں یہ نکتہ بیٹھ گیا اور اس کی باقی ماندہ زندگی مردہ پروردن کے کار نامہ مبارک سے بلند ہوکر مردہ قوم میں زندگی کا تازہ خون دوڑانے کی مبارک و مسعود کو ششوں میں بسر کر دی۔
سید الاخبار کے لیتھو گرافک پریس دہلی سے غالب کا اردو دیوان ان کی زندگی کے دوران میں پہلی بار شعبان 7521ھ مطابق اکتوبر 1481ءمیں چھپا تھا۔ غالب شاید اسی لیے سید محمد خاں اور ان کے سید الاخبار کو عزیز رکھتے تھے۔ سید الاخبار اور سید محمد خاں کے متعلق غالب نے میجر جان کوب کو اپنے ایک فارسی خط میں جو کچھ لکھا ہے اس کا اردو مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔ ”سید الاخبار کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ منت مزید ہے مطبع سید الاخبار کے مالک جو میرے دوست ہیں میراکلام چھاپ رہے ہیں۔ دیوان اردو غالباً ایک مہینے کے اندر چھپ کر نظر عالی سے گزرے گا۔ سید الاخبار ہر ہفتے آپ کی خدمت میں پہونچتا رہے گا مطبع والوں نے میری آپ سے نیاز مندی کی بنا پر آپ کا نام نامی سر فہرست خریداران رکھا ہے۔ “ مطبع سید الاخبار سے غالب کے اردو دیوان کے علاوہ خودسید احمد خاں کی بھی بعض کتب شائع ہوئی تھیں۔ جن میں آثار الصنادید طبع اول (مطبوعہ 7481ءبھی شامل ہے ۔
متفرقات :
۔ مرزا اسداللہ خاں دسمبر 27 ،کو آگرہ میں مرزا عبداللہ بیگ خاں کے ہاں پیدا ہوئے
۔ 1802میںء مرزا اسداللہ خاں غالب کے والدِ محترم مرزا عبداللہ بیگ خاں راج گڑھ کی جنگ میں گولی لگنے سے اللہ کو پیارے ہوگئے۔
۔ 1810ء ،اگست 9 کو نواب احمد بخش خاں کے چھوٹے بھائی الٰہی بخش خاں معروف کی 11 سالہ صاحبزادی امراؤ بیگم سے مرزا اسداللہ خاں غالب کی شادی ہوئی ۔جب غالب کی عمر صرف 13 سال تھی۔
۔ 1813ءمیں مرزا اسداللہ خاں غالب آگرہ سے دہلی منتقل ہوگئے۔
۔ غالباَ1868کے آخر میں یا 1869کے آغاز میں مرزا غالب بیمار ہو گئے14فروری 1869کو بیماری سے کچھ افاقہ ہوا تو کھانے کی خواہش کا اظہار فرمایا ۔پھر ملازم سےکہا کہ میرزا جیون بیگ (یعنی میرزا باقر خاں کامل کی سب سے بڑی صاحبزادی ) کو بلاؤ ۔ نوکر نے آکر بتیا کہ وہ سو رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ جب وہ آئے گی تو تب میں کھانا کھاؤں گا ۔ اُس کے بعد جونہی گاؤ تکیے پر سر رکھا بے ہوش ہوگئے - فوراّ حکیم محمود خاں اور حکیم احسن اللہ خاں کو اطلاع دی گئی- انہوں نے تشخیض کی کہ دماغ پر فالج گرا ہے
1869ء، فروری 15 کا دن ۔ اُس کے بعد انہیں پھر ہوش نصیب نہ ہوا - آخرکارمرزا اسداللہ خاں غالب زندگی کی بازی دہلی میں ہار گئے ۔
1869ء ، مارچ ، 6 ، اُردوئے معلٰی (رقعات) شائع ہوئی۔
غالب کی پسندیدہ خوراک
۔ نہار منہ باداموں کی ٹھڈائی سے دن کا آغاز کرتے تھے۔
2۔ دوپہر اور رات کے کھانے میں گوشت کا ناغہ نہیں ہوتا تھا گوشت میں چنے کی دال بہت ہی پسند تھی جس کو شادی کے بعد چونکہ بگیم کو پسند نہیں تھی اس لئے اُس کو چھوڑنا پڑا۔
۔ بکرے اور دمبے کا گوشت ،پرندوں میں مُرغ ،کبوتر اور بٹیر بہت پسند تھے۔
4۔ پھلوں میں انگور اور آم پسند تھے ۔ایک دفعہ آم کے موسم میں نواب علاءالدین احمد خاں نے انہیں لوہارو آنے کی دعوت دی تو انہوں نے مذاق میں لکھا کہ میں اندھا ہوں کہ اس موسم میں دہلی چھوڑ کر لوہارو جاؤں۔ اُس ویرانے میں نہ آم نہ انگور نہ کوئی اور لُطف نا صاحب ! آج کل نہیں آ سکتا
ادبی زندگی
- شاگردی ، پہلے استاد تو مدرسے کے مولوی محمد معظم تھے دوسرے استاد ایرانی فارسی شاعر ملا عبدالصمد (جنہیں غالب نے دو سال تک اپنے گھر پر بھی ٹھہرایا) تھے۔
- دہلی میں پہلی ادبی رشتے داری اور دوستی ، غالب کے سُسر الٰہی بخش خاں معروف جو خود فارسی اور اُردو کے شاعر تھے انہی کے پاس مولوی فضل حق خیرآبادی بھی آتے رہتے تھے اُن کے ساتھ غالب کی گہری دوستی ہوگئی
تخلص : پہلے اسد اور پھر غالب
غالب کی خط و کتابت : مندرجہ ذیل شعراء و ادباء سے 1847ء سے 1869ء کے درمیان غالب کی خط و کتابت ہوتی رہی۔
مرزا ہرگوپال تفتہ ،منشی نبی بخش حقیر ، منشی جواہر سنگھ جواہر ، محمد زکریا خاں زکی ، منشی عبداللطیف، عبدالحق ، سعدالدین خاں شفق ، قاضی عبدالجلیل جنون ، سید بدرالدین احمد کاشف المعروف بہ فقیر، نواب یوسف مرزا ، شاہ عالم ، سید غلام حسنین قدر بلگرامی، یوسف علی خاں ناظم، حکیم غلام غوث، نجف خاں بابو ہرگوبند سہائے نشاط، میر مہدی مجروح، مرزا شہاب الدین، احمد ثاقب، چودھری عبدالغفور سرور، نواب زین الدین خاں بہادر عرف کلن میاں، علاءالدین خاں علائی، مرزا حاتم علی مہر ، منشی شیو نرائن آرام، میر افضل علی عرف میرن صاحب، غلام غوث خاں بے خبر، مہاراجہ سردار سنگھ والی بیکانیر، محمد نعیم آزاد صاحب، عالم مارہروی، نواب حسین مرزا، ذوالفقارالدین حیدر خاں ، میاں داد خاں سیاح ، احمد حسن قنوجی، منشی محمد ابراہیم خلیل، منشی سخاوت حسین، قاضی عبدالرحمٰن تحسین ، حکیم سید احمد حسن مودودی ، عباس رفعت، قاضی محمد نورالدین حسین فائق ، مفتی محمد عباس ، نواب ضیاءالدین احمد خاں نیر، رخشاں،منشی نولکشور ، میر سرفراز حسین ، مرزا عباس بیگ ، محمود مرزا ، منشی حبیب اللہ ذکا، نواب میر غلام باہا خاں ، مردان علی خاں رعنا ، میر بندہ علی خاں عرف مرزا امیر ، نواب امین الدین احمد خاں ، مرزا قربان علی بیگ خاں سالک، منشی سیل چند ، عبدالرزاق شاکر، حکیم غلام مرتضٰی خاں ، سید سجاد مرزا ، سید فرزند احمد صفیر بلگرامی ، میر ولات علی خاں ، نواب کلب علی خاں، ماسٹر پیارے لال آشوب، حکیم غلام رضا خاں، حکیم ظہیرالدین خاں ، مرزا شمشاد علی بیگ رضوان ، ضیاءالدین احمد خاں ضیاء ، محمد محسن صدرالصدور، نواب میر ابراہیم علی خاں وفا، مولوی نغمان احمد، سید محمد عباس علی خاں بیتاب ، فرقانی میرٹھی، محمد حسین خاں ، شہزادہ بشیرالدین توفیق ، مولانا احمد حسین مینا مرزا پوری ، مرزا باقر علی خاں کامل ، شاہ فرزند علی صوفی منیری ، منشی ہیرا چند ،بہاری لال مشتاق ، مظہر علی ،شیخ لطیف احمد بلگرامی ، میر سرفراز حسیب، تفضل حسین خاں ، خلیفہ احمد علی ،احمد رامپوری، مرزا رحیم بیگ، عزیز صفی پوری ، یوسف علی خاں عزیز ، منشی غلام بسمل اللہ، مرزا امیرالدین خاں فرخ مرزا، مولوی کرامت علی ، حکیم محب علی ، میر احمد حسین میکش ، منشی کیول رام ہوشیار، منشی ہیرا سنگھ، مولوی عبدالغفور خاں نساخ ، منشی سید اسمٰعیل منیر شکوہ آبادی
مرزا اسداللہ خاں غالب کے شاگرد
(1) آرام ، منشی شیو نرائن (2) آذر، نواب ذوالفقار علی خاں (3) آشوب ، رائے بہادر ماسٹر پیارے لال (4) آگاہ ، نواب سید محمد رضا دہلوی معروف بہ احمد مرزا (5) احسن ، حکیم مظہر حسن خاں رامپوری (6) اخگر ، فتح یاب خاں رامپوری
(7) ادیب ، مولوی سیف الحق دہلوی ( اسمٰعیل ، مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی (8) انور ، سید شجاع الدین عرف اُمراؤ مرزا دہلوی (9) غلام ، منشی غلام اللہ (11) بیتاب ، عباس علی خاں (12) بیدل ، حبیب الرحمٰن (13) بے صبر ، لالہ بالمکند سکندرآبادی
(14) پیرجی ، قمر الدین دہلوی (15) تپش ، مولوی سید مدد علی (16) تفتہ ، منشی ہرگو پال (17) توفیق ، محمد بشیرالدین (18) ثاقب ، نواب شہاب الدین احمد خاں (19) جنون ، قاضی عبدالجمیل (20) جوہر ، حکیم معشوق علی خاں شاہجانپوری
(21) جوہر ، جواہر سنگھ دہلوی (22) حالہ ، خواجہ الطاف حسین (23) حباب ، پنڈت اُمراؤ سنگھ لاھوری (24) حزیں ، میر بہادر علی دہلوی (25) حقیر ، منشی نبی بخش (26) خضر ، مرزا خضر سلطان
(27) خورشید ، خورشید احمد (28) ذکاء ، مولوی حبیب اللہ خاں (29) رابط ، دربھگہ (30) راضی ، بہاری لال جی اکبرآبادی (31) رسوا ، شیخ عبدالحمید غازی پوری (32) رضوان ، مرزا شمشاد علی بیف
(33) رضوان ، نواب رضوان علی خاں (34) رعنا ، نواب مُراد علی خاں (35) رنج ، حکیم محمد فصیح الدین میرٹھی (36) رنجور ، نواب علی بخش خاں (37) روشن ، دیوان روشن لال دہلوی (38) ذکی ، حافظ سید محمد ذکریا خاں دہلوی
(39) سالک ، مرزا قربان علی بیگ (40) سجاد ، نواب سید سجاد مرزا دہلوی (41) سخن ، خواجہ محمد فخرالدین حسین دہلوی (42) سرور ، چودھری عبدالغفور مارہروی (43) سروش ، عبدالوہاب خاں رامپوری (44) سوزاں ، حبیب الدین احمد سہارنپوری
(45) سیاح ، میاں داد خاں اوررنگ آبادی (46) شاداں ، مرزا حسن علی خاں دہلوی (47) شائق ، خواجہ فیض الدین عرف خواجہ حیدر خاں، ڈھاکہ (48) شوخی ، نادر شاہ خاں رامپوری (49) شاکر ، مولوی عبدالرزاق اکبرآبادی (50) عالم ، شاہ عالم مارہروی
(51) شفق ، نواب سعدالدین احمد خاں (52) شیفتہ ، نواب محمد مصطفٰی خان دہلوی (53) صوفی منیری ، شاہ جلیل الرحمٰن حسین عرف شاہ فرزند علی (54) صوفی ، حکیم محمد علی نجیب آبادی (55) صفیر ، سید فرزند احمد بلگرامی (56) صادق ، عزیز ،محمد عزیز الدین دہلوی
(57) طرار ، میرزا سرفراز حسین (5 (65)ظفر ، سراج الدین بہادر شاہ ثانی (59) ظہیر ، لالہ پیارے لال (60) طالب ، مرزا سعیدالدین احمد خاں دہلوی (61) عارف ، نواب زین العابدین خاں دہلوی (62) عاشق ، محمد عاشق حسین خاں اکبرآبادی
(63) عاشق ، ماسٹر شنکر دیال اکبرآبادی (64) عاشق ، منشی محمد اقبال حسین دہلوی (65) عاقل ، محمد رضا علی خاں رامپوری (66) عالم ، شاہ عالم (67) عالم ، میر عالم علی خاں (68 )عزیز ، مرزا یوسف علی خاں
(69) علائی ، نواب علاءالدین خاں (70) فنا ، حکیم میر احمد حسن (71) قدر ، سید غلام حسین بلگرامی (72) سالک ، کاشف ، سید بدرالدین احمد دہلوی (73) کامل ، مرزا باقر علی خاں دہلوی (74) کرامت ، سید شاہ کرامت حسین ہمدانی گیاوی
(75) محو ، نواب غلام حسین خاں دہلوی (76) مجروع ، میر مہدی دہلوی (77) مداح ، سوزاں ،شیخ محمد صادق (78) مشتاق ، منشی بہاری لال دہلوی (79) مفتوں ، پنڈت لچھمی نرائن (80) مقصود ، سید مقصود عالم رضوی
(81) منشی ، منشی سیل چند دہلوی (82) مونس ، پنڈت شیوجی رام (83) میکش ، میر احمد حسین دہلوی (84) میکش ، میر ارشاد احمد دہلوی (85) ناظم ، نواب ناظم علی خاں رامپوری (86) نامی ، منشی شیو دیبی دیال
(87) نشاط ، ہرگوبند سہائے ماتھر (87) نیئر ، نواب ضیاءالدین خاں دہلوی (89) وفا ، نواب ابراہیم علی خاں (90) ولی ، مولوی امو خاں دہلوی (91) ہشیار ، کیول رام
(92) رمزر ، مرزا فخروالدین معروف بہ میرزا فخرو
تصانیفِ غالب :درفش کاویانی (لاھور، مطبوعات یادگار غالب،پنجاب یونیورسٹی، 1969ء ، 294 صفحات )
فالنامہ (1876ء-8 صفحات)دہلی
دعائی صباح ( ،لکھنؤ،مطبع نو ل کشور، ت ن ،26 صفحات) (فارسی مثنوی)
غالب نے یہ مثنوی اپنے بھانجے میرزا عباس بیگ اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،لکھنؤ کی فرمائش پر لکھی
سبد باغِ دودر (کتابت 7 جولائی 1870ء میں مکمل ہوئی) (فارسی تصانیف)
مخطوطات: قلمی نسخہ پروفیسر سید وزیر حسن عابدی،صدر شعبہ فارسی و عربی دہلی یونیورسٹی
قاطع برہان ( ،لکھنؤ،مطبع نولکشور، 1862ء ، 97 صفحات) (فارسی تصانیف)
دستنبو (مطبع مفید خلائق ، نومبر 1858ء،88 صفحات) (فارسی تصانیف)
تیغِ تیز ( اکمل المطابع ، 1867ء )(اُردو تصانیف)
مہر نیم وز ( فخرالمطابع ، 1271 ھ ، 116 صفحات) (فارسی تصانیف)
غالب نامہ ( مطبع محمدی،دہلی ، 16 اگست 1865ء) (اُردو تصانیف)
پنچ آہنگ ( مطبع سلطانی ، 4 اگست 1849ء ) (فارسی تصانیف) ،دہلی،مطبع داراسلام، اپریل 1853ء
دیوانِ اُردو( سیّدالمطابع ، اکتوبر 1841ء ، 108 صفحات) (شاعری)
عودِ ہندی (27 اکتوبر 1868ء)مطبع مجتبائی.میرٹھ (خطوط - اُردو تصانیف)
نادرات غالب (1949ء) (اُردو تصانیف)
نکاتِ غالب و رقعاتِ غالب (فروری 1867ء)
سبد چین (اگست 1867ء)مطبع محمدی (اپریل 1938ء-807 اشعار)مکتبہ جامعہ لمٹیڈ.دہلی (فارسی تصانیف)
کلیاتِ نظمِ فارسی (1845ء-506 صفحات 6672 اشعار)مطبع داداسلام.دہلی (1863ء- 10424 اشعار)مطبع نولکشور، (فارسی تصانیف)
غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، ”غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔“عبد الرحمان بجنوری لکھتے ہیں کہ، ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ”وید مقدس“ اور ”دیوان غالب“ ۔“
اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔
غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انہیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔غالب کی شاعری کا اثرحواس پر شدت سے ہوتا ہے وہ ان میں غیر شعوری طور پرایک ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اسی ارتعاش کی وجہ سے اس کے پڑھنے اور سننے والے کے ذہن پر اس قسم کی تصویریں ابھرتی ہیں۔ ان کے موضوع میں جووسعتیں اور گہرائیاں ہیں اس کا عکس ان کے اظہار و ابلاغ میں بھی نظرآتا ہے۔ ان گنت عناصر کے امتزاج سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔
استدلالی انداز بیان :غالب کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا منطقی اور استدلالی انداز بیان ہے بقول پروفیسر اسلوب احمد انصاری ”یعنی غالب صرف جذبات کا تجزیہ ہی نہیں کرتے بلکہ ان میں باہمی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محبت ان کے لیے کوئی ایسا جذبہ نہیں جو فطری طریقے سے دلکش محاکات میں ڈھل جائے۔ بلکہ یہ ایک گرم تیز رو ہے جو پوری شخصیت کے اندر انقلاب پیدا کردیتی ہے۔ غالب صرف اشاروں سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے نرم و لطیف، احساسات و کیفیات کا تجزیہ کرتے اور ان پر استدلال کرتے ہیں۔“غالب کے اس اندازِبیان کو سمجھنے کے لیے یہ اشعار ملاحظہ ہوں کہ استدلال کا یہ انداز کس طرح شاعر کے جذبات و احساسات کی معنویت میں اضافہ کرتا ہے۔
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
قولِ محال کا استعمال : غالب نے قولِ محال کے استعمال سے بھی اپنی شاعری میں حسن و خوبی پیدا کی ہے۔ قول محال سے مراد یہ ہے کہ کسی حقیقت کا اظہار اس طرح کیا جائے کہ بظاہر مفہوم عام رائے کے اُلٹ معلوم ہو مگر غور کریں تو صحیح مفہوم واضح ہو۔ قول محال دراصل ایک طرف ذہنی ریاضت ہے۔ اس سے ایک طرف اگر شاعر کی قوت ِفکر کا انحصار ہوتا ہے تو دوسر ی طرف قار ی کو بھی ذہن و دماغ پر زور دینا پڑتا ہے۔ اس سے شاعر لطیف حقائق کی طرف اشارہ ہی نہیں کرتا بلکہ حیرت و استعجاب کی خوبصورت کیفیات بھی پیدا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں غالب کے اشعار دیکھیں۔
ملنا تیرا اگر نہیں آساں تو سہل ہے دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
تشکک پسندی :غالب کی شاعری میں تشکک پسندی کا پہلو بہت اہم ہے۔ جو بحیثیتِ مجموعی غالب کی شاعری کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ اس کی ایک وجہ غالب کا فلسفیانہ مزاج ہے۔ جبکہ دوسری وجہ غالب کا ماحول ہے۔ غالب نے جس دَور میں آنکھ کھولی وہ ایک ہنگامی دور تھا۔ ایک طرف پرانی تہذیب مٹ رہی تھی اور اس کی جگہ جدید تہذیب اور تعلیم اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی۔ یوں انتشار اور آویزش کے اس دور میں اُن کی تشکک پسندی کو مزید تقویت ملی۔
ہیں آج کیو ں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب ہم بھی کیا یاد کر یں گے کہ خدا رکھتے تھے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھاہے
معانی دار پہلو : حالی نے بڑے زور و شور کے ساتھ غالب کی شاعری کی جس خصوصیت کا ذکر کیا ہےوہ یہ ہے کہ اس میں معانی کی مختلف سطحیں موجود ہیں۔ غالب کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جن کی فلسفیانہ ،سیاسی اور شخصی تفسیر ہم بیک وقت کر سکتے ہیں۔ ایسے اشعار ان ترشے ہوئے ہیروں کی مانند ہیں جن کی آب وتاب اور خیرگی سے ،ہر زاویہ نگاہ سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک غالب کی کئی شرحیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں۔
ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
اُگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
رمز و ایمائیت :غالب نے اپنی شاعری میں رمز و ایمائیت سے بھی حسن پیدا کیا ہے۔ انہوں نے زندگی کی بڑی بڑی حقیقتوں اور گہرے مطالب کو رمز و ایما کے پیرائے میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ انہوں نے اردو غزل کی روایت میں تصوف نے جو رمز و ایمائیت پیدا کی اسے اپنے لیے شمع راہ بنایا۔ یوں انہوں نے سیاسی او ر تہذیبی، معاشرتی موضوعات کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا اور انفرادی رنگ کے پردے میں اجتماعی تجربات کی ترجمانی کی۔ اس طرح سے رمزیت اور ایمائیت کا رنگ ان کی شاعری پر غالب نظرآتا ہے۔
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
لطافت خیال اور نکتہ آفرینی :غالب کی شاعری میں نکتہ آفرینی پائی جاتی ہے غالب عام روش سے ہٹ کر چلنا پسند کرتے تھے۔ شاعری میں بھی ان کا یہی رنگ تھا۔ انہوں نے لفظی سے زیادہ معنو ی نکتہ آفرینی پر زور دیا۔ اس طرح وہ مومن سے ممتاز اور برتر ہیں۔ ان کی نکتہ آفرینی سلاست، گہرائی اور معنویت سے پر ہے۔ اس میدان میں غالب نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اس کی وضاحت اُن کے درج ذیل اشعار سے ہوتی ہے۔
بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا موئے آتش دیدہ ہے حلقہ میری زنجیر کا
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
زندگی کی محرومیاں :غالب کی ذاتی بھی تلخیوں اور محرمیوں کی زنجیر ہے۔ بچپن میں باپ کی موت، چچا کی پرورش، اُن کی شفقت سے محرومی، تیرہ سال کی ناپختہ عمر میں شادی کا بندھن، بیوی کے مزاج کا شدید اختلاف ،قرضوں کا بوجھ۔ ان سب نے غالب کو زمانے کی قدرشناسی کا شاکی بنا دیا۔ چنانچہ ان محرومیوں کی تصویر بھی ان کی شاعری میں نمایاں خصوصیت کی حامل ہے۔
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
زندگی کا حقیقت پسندانہ تصور :
ان تمام تر محرومیوں کے باوجود غالب کا اندازِ فکر قنوطی نہیں۔ چنانچہ قدم قدم پر ان کے ہاں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی خوشی کے ساتھ گزرے یا غموں کی گود میں بہرحال قابلِ قدر ہے۔ خود زندگی کا ہونا ہی بجائے خود ایک بڑی نعمت ہے ا س لیے ہر حال میں اسے غنیمت تصور کرنا چاہیے۔ اس کا اعتراف غالب نے اپنے بعض خطوط میں بھی کیا ہے۔ غم سے بچنے کی غالب نے ایک صورت یہ بھی نکالی ہے کہ آدمی رند مشربی اور آزادی اختیار کر لے اور لذت و الم دونوں سے بے نیاز ہو جائے۔
نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی
طنز و مزاح شوخی وظرافت :شوخی و ظرافت غالب کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ عملی زندگی میں وہ خوش باش انسان تھے۔ اسی لیے حالی انھیں حیوان ِ ظریف کہتے ہیں۔ انتہائی کٹھن حالات میں بھی وہ زندہ دلی کا دامن نہیں چھوڑتے۔ انہیں زمانے نے نجانے کتنے دکھ دیے لیکن غالب پھر بھی ہنسے جاتے ہیں۔ ان کی ظرافت میں محض شوخی ہی کام نہیں کر رہی ،جس طرح غالب کی شخصیت پہلو دار شخصیت ہے اسی طرح غالب کی ظرافت کی بھی متعدد سطحیں ہیں۔ ان کی شاعری میں طنز و طرافت کے اعلی نمونے ملتے ہیں۔ غالب کے کچھ طنزیہ اشعار ملاحظہ ہوں۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
جانتا ہوں ثواب طاعت وزہد پر طبیعت ادھر نہیں آتی
زندہ دلی اور خوش طبعی :غالب کی شاعر ی میں طنز یہ اشعار کے ساتھ ساتھ شوخی اور خوشدلی کا پہلو بھی بڑا نمایاں ہے۔ چنانچہ ان کے ہاں ایسے اشعار بھی بہت ہیں جنہیں خالص مزاح کا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ اصل میں غالب زندگی کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔ اگرچہ وہ زندگی کی تلخیوں سے آگاہ ہیں لیکن انہیں زندگی سے والہانہ لگائو بھی ہے۔ غالب ایک فلسفی شاعر تھے۔ انہوں نے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی اور پھر اپنے انکشافات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کر دیا۔ غالب کے کچھ مزاح سے پھرپور اشعار ملاحظہ ہوں۔
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
پیکر تراشی اور تصویر کاری :غالب کی شاعری میں پیکر تراشی کا عمل جاندار ہے۔ اور بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی، ”غالب کی شاعری میں جو پیکر اور تصویریں ملتی ہیں۔ وہ ان کے سیاسی، معاشرتی، تہذیبی حالات، نجی معاملات اور ان کے زیر اثر پرورش پانے والی ذہنی کیفیات کا آئینہ دار ہیں۔ غالب ایک تہذیب کی پیداوار اور ایک تہذیبی روایت کے علمبردار ہیں۔ اگرچہ یہ تہذیب مٹ رہی تھی لیکن زوال کے احساس نے اس کی عظمت کے احساس کو اوربھی بڑھا دیا۔ چنانچہ غالب کی تصویر کاری اور پیکر تراشی میں بھی اس تہذیبی روایت کا اثر مختلف انداز میں خود بخود ظاہر ہوتا ہے۔ اس دور کی بزم ہائے نشاط کی تصویریں غالب کے ہاں بہت خوبصورت اور جاندار ہیں۔
ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر ِ مستی ایک دن
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آگیا سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہوگئیں
فارسی زبان کے اثرات :غالب کو فارسی زبان پر بڑا عبور حاصل تھا۔ اس لیے ان کی شاعری میں فارسی زبان کے اثرات زیادہ ہیں۔ خود فارسی شاعری کے بلند پایہ شاعر بھی تھے۔ اور فارسی کو اردو سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ چنانچہ فارسی زبان کے اثر سے ان کی زبان میں شیرینی حلاوت اور شگفتگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے فارسی الفاظ استعمال کرکے اور ان کی ترکیبیں تراش کر نہ صرف اردو زبان کے دامن کو وسیع کیا بلکہ اپنی شاعری میں بھی ایک نکھار اور رعنائی پیدا کر لی۔ یہ اشعار ملاحظہ ہوں۔
یا د تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں لیکن اب نقش و نگار ِ طاق نسیاں ہوگئیں
بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی یہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے
سادہ انداز بیان : مشکل الفا ظ و تراکیب کے ساتھ ساتھ غالب کے ہاں آسان زبان بھی موجود ہے۔ غالب نے پیچیدہ مسائل کے اظہار میں عموماً فارسی ترکیبوں سے کام لیا ہے اور سنجیدہ مضامین کے لیے الفاظ کا انتخاب بھی اسی مناسبت سے کیا ہے۔ لیکن سیدھے سادے اور ہلکے پھلکے مضامین کو غالب نے فارسی کا سہار ا لیے بغیر رواں دواں اور سلیس اردو میں پیش کیا ہے۔ زبان کی سادگی ان اشعار کی معنوی قدرو قیمت پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالتی بلکہ ان کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔ کیونکہ یہ سادگی شعری تجربے سے ہم آہنگ ہے۔ اس سلسلے میں یہ اشعار ملاحظہ ہوں۔
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آئے ہے بے کسی عشق پہ رونا غالب کس کے گھر جائے گا سیلاب ِ بلا میر ے بعد
فارسی اور اردو کا حسین امتزاج :غالب نے فارسی اور اردوکے امتزاج سے بھی اپنے فن کو نکھارا ہے۔ غالب نے فارسی کی شیرینی کو ہندی کی گھلاوٹ سے اس طرح ملا دیا ہے کہ ان کی زبان میں ایک گنگا جمنی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ غالب کے ایسے کلام میں فارسی اثرات زیادہ ہیں۔ جہاں زندگی کے رنگین پہلوئوں کا بیان آیا ہے۔ انہوں نے رومانوی مضامین کے لیے خصوصاً فارسی کی آمیزش کی ہے لیکن فارسی اور ہندی روایتوں کا ملاپ ان کے ایسے اشعار میں نسبتاً زیادہ ہے جہاں انہوں نے قلبی واردات کو پیش کیا ہے اس لیے ایسے اشعار میں ایک گداز کی کیفیت ملتی ہے۔
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
غالب کی شاعری میں صوتی آہنگ بھی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے الفاظ کےانتخاب میں بڑی فنکاری کا ثبوت دیا ہے۔ اور ان سے وہ موسیقیت اور نغمگی پیدا کی ہے جو پڑھنے والے کومسحور کر دیتی ہے۔ غالب مختلف الفاظ کو ملا کر ایک مترنم کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔ وہ منفر د الفاظ کی نغمگی اور موسیقیت کا بھی گہرا شعور رکھتے ہیں اور انہوں نے تجربات کے اظہار کے لیے موضوع کی مناسبت سے ان الفاظ کے انتخاب میں بھی بڑے فن کارانہ شعور کا اظہار کیا ہے۔
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا اسے تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غم عشق گر نہ ہوتا غم روز گار ہوتا
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
تشبیہ و استعارہ کا حسن :غالب کی شاعری کی ایک اور اہم خصوصیت خوبصورت تشبیہات و استعارات کا استعمال ہے۔ مرزا اپنی انفرادیت پسند طبع کے تحت قدیم روایتی استعارات کی بجائے جدید اور دلکش تشبیہات استعمال کرتے ہیں۔ مولانا حالی نے اس کی وجہ اُن کے خیالات کی جدت قرار دیا ہے۔ یہ بات بڑی واضح ہے کہ جب خیال جدید اور اچھوتا ہوگا تو اس کے لیے تشبیہ میں بھی لازمی جدت ہوگی۔ اسی طرح شیخ اکرام نے ان کو ”تشبیہات کا بادشاہ “ قرار دیا ہے۔ مثلاً
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز ھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
سبزہ خط سے ترا کاکل ِ سرکش نہ دبا یہ زمرد بھی حریف ِ دم افعی نہ ہوا
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
جوئے خون آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق مین يہ سمجھوں گا کہ شمعين دو فروزاں ہو گئیں
جدت ادا :غالب ذہنی اور طبعی اعتبار سے انفرادیت پسند تھے۔ کسی کی تقلید کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ وبائے عام میں بھی مرنا نہیں چاہتے تھے۔ غالب کی یہی جدت ادا ان کی شاعری میں نئے نئے گل کھلاتی ہے۔ مرزا سے پہلے تمام شعراءکا طریقہ شعر گوئی یہ رہا کہ وہ قدیم خیالات میں کچھ ترمیم کرکے پیش کر دیتے تھے۔ لیکن غالب کے ہاں ایسا نہیں۔ اُن کی جدت طبع اور انفرادیت پسندی ہمیشہ نئے نئے خیال ڈھونڈ نے پر مجبور کرتی رہی۔ چنانچہ اُن کی شاعری میں ہمیں رنگا رنگی اور بوقلمونی محسوس ہوتی ہے۔ اگر کبھی مرزا نے کسی قدیم خیال کو ادا بھی کیا ہے تو اس انداز میں کہ شانِ استادی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
بسکہ دشوار ہے ہرکام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
تصوف :غالب کوئی باقاعدہ صوفی شاعر نہ تھے اور نہ اُن کو تصوف سے دلچسپی تھی لیکن پھر بھی ان کی شاعری میں بعض مقامات پر تصوف کے عناصر ملتے ہیں جس کی بنیادی وجہ فارسی شاعری میں تصوف کی روایت کی موجودگی ہے اس کے علاوہ اس دور کے حالات بھی تصوف کے لیے خاص طور پر سازگار تھے۔ طبیعتیں بھی غم و الم اور فرار کی طرف مائل تھیں۔ لیکن غالب نے تصوف کو محض رسمی طور پر ہی قبول کیا۔
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
اُسے کون دیکھ سکتا وہ یگانہ ہے وہ یکتا جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیاہوتا
غالب کا تصور عشق : غالب کے ہاں حسن و عشق کے تصورات اگرچہ وہی ہیں جو صدیوں سے اردو اور فارسی شاعری میں اظہار پاتے رہے ہیں۔ تاہم غالب کی فطری جدت پسندی نے ان کو صرف انہی موضوعات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے ذاتی تجربات و محسوسات کی روشنی میں حسن و عشق کے بارے میں انہوں نے اپنی انفرادیت قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔غالب عشق کی اہمیت کے اس قدر قائل ہیں کہ وہ اس کے بغیر انجمن ہستی کو بے رونق سمجھتے ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ
رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
غالب کو اس بات کا بڑا قلق ہے کہ وہ عشق کی بزم آرائی تو عمر بھر کرتے رہے لیکن عشق کی راہ میں حقیقی قربانی ایک بھی نہ دے سکے اور وہ غالباً اس لیے کہ ان کے پاس عشق کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ فرماتے ہیں کہ
ہوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہ سوائے حسرت تعمیرگھر میں خاک نہیں
غالب عشق کے پرانے افلاطونی تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ اس کے برخلاف ان کا عشق زمینی اوصاف کا حامل ہے۔
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
غالب کے ہاں عشق کی روایتی عاجزی اور مسکینی کے برخلاف ایک جارحانہ انداز پایا جاتا ہے۔ ایک خاص مقام اور مخصوص شان ہے۔ وہ سوتے ہوئے محبوب کے پاؤں کا بوسہ محض اس لیے نہیں لیتے کہ وہ بدگماں نہ ہو جائے۔ وہ ناراض محبوب کو مناتے بھی نہیں کہ یوں ان کی سبکسری کا پہلو نکل سکتا ہے۔ وہ بزم میں نہیں بلاتا تو یہ راہ میں نہیں ملتے اور جب وہ عجز و نیاز سے رہ پر نہیں آتے تو اس کے دامن کو حریفانہ کھینچنے کی جرات رندانہ بھی کر لیتے ہیں۔
لے تو لوں سوتے میں اُس کے پاؤں کا بوسہ مگر ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جائے گا
عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر دامن کو اس کے آج حریفانہ کھنچئے
غالب کا تصور حسن یا تصور محبوب :حسن کے بارے میں غالب کے تصورات کا سراغ لگانے کے لیے اُن کے محبوب کی تصویر دیکھنا ہوگی اس لیے کہ ان کے محبوب کی ذات میں وہ تمام خصوصیات جمع ہوگئیں ہیں۔ ایک طرف تو غالب نے روایتی تصوارت سے استفادہ کیا ہے۔ اور دوسری جانب بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو قدیم تصورات سے مختلف ہیں۔ ان کے خیال میں حسن میں سادگی و پرکاری دونوں ہونے چاہئیں۔ غالب کو دراز قد، دراز زلف، شوخ و شنگ، سادہ و پرکار، شان محبوبی کا مالک، لمبی لمبی پلکوں والا۔ چاند چہرے کا مالک، ستارہ آنکھوں والا محبوب پسند ہے اور وہ اسی کے حسن کے قصیدے گاتے ہیں۔
سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری حسن کوتغافل میں جرا ت آزما پایا
اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا ہاتھ آئیں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
جال جیسے کڑی کمان کا تیر دل میں ایسے کے جاکرے کوئی
غالب کی مشکل پسندی : نفسیات کے نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو انسانی ذہن بہت سے پیچیدہ مسائل کی آماجگاہ نظر آتا ہے۔ ان کا تجزیہ کرنا اور مسائل کا حل تلاش کرنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے عام آدمی کے تجزئوں کو اہمیت نہیں دی جاتی لیکن جب یہی بات ہمیں کسی شاعر کی شاعری‘ مصور کے فن پارے‘یا کسی ادیب کی تحریر میں نظر اتی ہے تو ہم حیران رہ جاتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ اس نے ہمارے دل کی بات کہہ دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہانسانی ذہن تک رسائی بہت مشکل ہے۔ مگر نفسیات کو سمجھنا اور اس سے فن پارہ تشکیل دے دیناخالصتا“ فن کی معراج ہے۔ اردو دان طبقہ بجا طور پر “ غالب “ کو اردو غزل کا سب سے بڑا شاعرتسلیم کرتے ہیں۔ غالب نفسیاتی لحاظ سے مشکل پسند شاعر تھے۔ ان کی غزلیں ان کی اپنی نفسیاتی زندگی کی تصویریں ہیں شاید اسی نفسیاتی پیچیدگی نے ان میں مشکل پسندی کوٹ کوٹ کر بھر دی۔ شعر کا مضمون ہو یا الفاظ کی تراکیب‘ اسلوب بیان ہو یا بحروں کا چناؤ غالب نے نہایت آسانی سے مشکل پسندی کو برتا۔ غالب کے کلام کا جائزہ ہمیں بتاتا ہے کہ الفت ذات اور محبوب کی چاہ نے ان کے شعروں میں مشکل پسندی کے خد و خال ابھارے۔ اور وہ اپنی علمیت کا احساس دلاتے چلے گئے۔ ابتدائے شاعری ہی میں شعور اور لا شعور میں پیدہ ہونے والے سوالات سے شعر کی تخلیق‘ فارسی تراکیب کا استعمال‘ غالب اپنی علمیت کا سکہ جماتے نظر آتے ہیں۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
ان کی ابتدئی شاعری میں بیدل کا رنگ نظر آتا ہے۔ مگر جب وہ عرفی اور نظیری سے ہوتے ہوئے میر کی شاعری سے متاثر ہوئے تو سادگی اور سہل پسندی کی انتہا پر پہنچ گئے۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ ان کا اصل کلام فارسی کلام ہے مگر جب اردو کلام میں ان کا نام ہر جگہ گونجنے لگا تو غالب کو فارسی کی مشکل پسندی سے میر کی سہل نگاری کی طرف سفر کرنا پڑا مگر رمز کا مارا دل مشکل پسندی کو ترک کر نہ سکا۔ ایک تنقید نگار کا کہنا ہے کہ غالب کی شاعری کا ارتقا بہت تیزی سے ہوا۔ وہ بہت سے شاعروں سے متاثر ہوئے مگر میر کی طرف سب سے آخر میں آئے۔ غالب کی شاعری کی نمایاں خصوسیات میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری کو جس دور میں بھی تنقید کی نظر سے دیکھا گیا وہ ہر معیار پر پورا اترا۔ ادبی تحریکوں نے اپنی کسوٹیوں پر پرکھا جدید تخلیقی تصورات بھی بہت نمایاں رہے مگر کوئے ان کی شہرت کو داغ نہ لگا سکا۔ اردو ادب کی تاریخ میں ان کاہمیت مسلم ہے۔ غالب کے ادبی دشمن بھی ان کی عظمت اور علمیت کے معترف رہے اپنے عصر سے دور حاضر تک ان کی شہرت بڑھتی رہی کبھی کم نہ ہوئی۔
’مفلوک الحال مقروض‘ خود پسند ‘ حسن پرست‘ نفسیاتی مسائل کو موضوع سخن بنانا‘محرومیوں کے ساتھ ساتھ زندہ دلی کی تصویر پیش کرنا اس عظیم شاعر کے مقام کو متعین کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے کہ جہاں ہر شاعر پہنچنے کا آرزومند ہے مگر یہ مقام غالب کے علاوہ کسی کو نہ مل سکا۔ ان کی شاعری میں جہاں سدگی اور موضوعات کا تنوع نظر اتا ہے وہیں خیال کی بلندی اور تراکیب کا اچھوتا پن بھی نمایاں ہے۔ ان کی مشکل پسندی میں بھی ایک سہل پرستی ہے جو ہر دور کے انسان کی زندگی کے تصورات کو منعکس کرتی ہے تبھی ہر دور کا قاری ان کا گرویدہ ہے۔
درد منت کش دوا نہ ہوا میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں ترے لب کہ ترا رقیب گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں آج غالب غزل سرا نہ ہوا
جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیئے سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار صحرا، مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
مجموعی جائزہ :ڈاکٹر فرمان فتح پور ی لکھتے ہیں کہ،’’غالب کے اقوال و بیانات کے سلسلے میں خصوصاً محتاط رہنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ وہ بنوٹ باز شاعر ہیں قدم قدم پر پنتیر ے بدلتے ہیں اور اپنی خوداری اور انانیت کے باوصف مصلحت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔‘‘
عبادت بریلوی لکھتے ہیں کہ” غالب ایک بڑی رنگین ایک بڑی ہی پر کار اور پہلو دار شخصیت رکھتے تھے اور اس رنگینی، پر کاری اور پہلو داری کی جھلک ان کی ایک ایک بات میں نظرآتی ہے۔“
بقول رشید احمد صدیقی، ”مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا۔ تو میں بے تکلف یہ تین نا م لوں گا غالب اردو اور تاج محل۔“بقول ڈاکٹر محمد حسن، ”دیوان ِ غالب کو ہم نئی نسل کی انجیل قرار دے سکتے ہیں۔“بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی، ”اردو میں پہلی بھرپور اور رنگارنگ شخصیت غالب کی ہے۔“ ایک اور جگہ لکھتے ہیں، ”غالب کی بڑائی اس میں ہے کہ انہوں نے متنوع موضوعات کو غزل کے سانچے میں ڈھالاہے۔“
مومن خان مومن (پیدائش 1801ء- وفات 14 مئی 1852ء) دبستان دہلی سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے مشہور شاعر اور اسد اللہ خاں غالب کے ہم عصر تھے۔
حالات زندگی : مومن خان نام اور مومن تخلص تھا۔ والد کا نام غلام نبی خاں تھا۔ مومن کے دادا سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیبوں میں داخل ہوئے اورحکومت سے جاگیر بھی حاصل کی۔ مومن 1800ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بہت عقیدت تھی۔ چنانچہ شاہ صاحب موصوف نے ہی مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اسی لیے انہوں نے آپ کا نام حبیب اللہ رکھنا چاہا لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔ مومن بچپن ہی سے ذہن طبع تھے۔ حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ عربی و فارسی، طب، نجوم اور موسیقی میں جلدی کمال حاصل کر لیا۔ اصناف شاعری میں قصیدہ، رباعی،واسواخت، غزل، ترکیب بند، مثنوی سبھی پر طبع آزمائی کی ہے۔
دلی سے پانچ مرتبہ باہر نکلے مگر وطن کی محبت نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ مومن نہایت آزاد مزاج، قانع اور وطن پرست تھے۔ امراوء اور روساء کی خوشامد سے انہیں سخت نفرت تھی۔مومن کی یادگار ایک دیوان اور چھ مثنویاں ہیں۔ 1851ء میں اپنے کوٹھے سے گر کر وفات پائی۔
مومنؔ کی شاعری
مومن کایہ کمالِ فن اور شاعرانہ عظمت ہے کہ ان کی زبان و قلم سے بعض ایسے اشعار نکلے، جودوسرے شاعروں کے مکمل دیوان کے ہم پلہ تھے، وہ ایک شعرمیں بھی معانی و مفاہیم کی ایسی رنگارنگ کائنات بسادیتے تھے کہ ان کی تشریح میں مکمل کتاب لکھنی پڑجائے، ایسے ان کے کئی اشعارہیں ؛لیکن ایک شعر۔
تم مرے پاس ہو تے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کے بارے میں جب غالب جیسے عبقری شاعر یہ کہتے ہیں کہ تم اپنا یہ ایک شعر مجھے دے دو اور میرا پورا دیوان لے لو، توہمیں یقین ہوجاتاہے کہ واقعی مومن کی شاعری میں خیالات، افکار، تصورات واحساسات کی ایسی گہرائیاں ہیں، جوصرف انہی کاخاصہ ہے ۔
تغزل کے شہنشاہ : مومن خان مومن اردو کے ایک قادر الکلام شاعر ہیں۔ ان کی شاعری فنی اور جمالیاتی اعتبار سے نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔ مومن کی شاعری کی نمایاں صفت ان کی جدت ادا اور ندرت خیال ہے۔ آپ پرانے خیا لات کو نئے اسلوب میں پیش کرنے کے ماہر ہیں۔ اس کی وجہ ان کا علم و فضل اور شعر و سخن سے ان کی طبیعت کی ہم آہنگی ہے۔آپ خالص تغزل کے شاعر ہیں۔
بقول ڈاکٹر سید عبادت بریلوی’’مومن کے یہاں نہ تو میر کا سوز ہے اور نہ جرات کی سی بے باکی انہوں نے دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیا ہے‘‘مومن نے شاعری میں ایک توازن اور ہم آہنگی پیدا کی ہے وہ سماجی اقدار اور تہذیبی معیار کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔اسی لئے ان کی غزل کی رمزیت اور ایمائیت اپنی طرف متوجہ کرتی ہے –۔
تغزل مومن کےکلام کی نمایاں خوبی ہے۔ مومن کا کلام رنگ تغزل کے اعتبار سے نقظہ عروج پر ہے ۔ مومن نے غزل کو دائرے کے اندر رہتے ہوئے اس کے اصلی روپ میں پیش کیا ہے ۔خاص اور نکھرا ہوا سلوب جوغزل کے حقیقی مفہوم کا آئینہ دار ہے ۔مومن نے اردو شاعری کو خوبصورت غزلوں کا سرمایہ دیا ہے ۔ان کی زبان نہایت صاف ،رواںاور ستھری ہے ،وہ غزل کے فن سے آگاہی رکھتے تھے اور اس کی نزاکتوں سے خوب واقف تھے۔ – اس لئے مولانا محمد حسین آزادنے کہا ہے کہ۔’’ غزلوں میں ان کے خیالات نہایت نازک اور مضامین اعلی ہیں الغرض مومن تغزل اور عاشفانہ رنگ کا امام ہے ‘‘۔اشعار ملاحظہ ہوں۔
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
ہے دوستی تو جانب دشمن نہ دیکھنا جادو بھرا ہوا ہے تمھاری نگاہ میں
لیاقت اور ذوق سلیم :دہلی چونکہ صدیوں سے علم وادب کے مہ وانجم کا شہر رہا ہے اور علم کی اسی بستی میں مومن کو بھی پروان چڑھنے کا اچھا موقع ملا، اس کے علاوہ مومن کوقدرت نے غیر معمولی ذہانت وذکاوت سے نوازاتھا، سونہایت ہی کم عمری میں انھوں نے اردو، عربی اورفارسی زبان وادب، نیز طب ونجوم میں خوب مہارت حاصل کرلی اور فن شاعری میں اس شکوہ کے ساتھ قدم رنجہ ہوئے کہ ان کے معاصرین نے بھی ان کو رشک کی نگاہوں سے دیکھا، شاعری ہر چند کہ ایک بہت بڑا فن ہے، مگر اس میں لیاقت سے کہیں زیادہ ذوقِ سلیم اور جذبات واحساسات کا دخل ہوتا ہے اور مومن اس سمندر کے ماہر غوطہ خور تھے، بلکہ ان کی زیست عجائب فطرت کی ہر طرح کی رنگینیوں سے لبریز تھی۔
خاک اڑائی میں نے کیا طرزِ جنوں قیس کی شاہ جہاں آباد گویا نجد کا سابن گیا
سادگی و سہل ممتنع :مومن کے کلام میں جہاں فارسی الفاظ و تراکیب نظر آتی ہیں وہیں سادگی اور پرکاری کے دریا بھی بہتے ہیں ۔ وہ نہایت سادہ زبان میں بڑے موثراور دل میں اتر جانے والے اشعارکہتے چلے جاتے ہیں۔یہ ان کا امتیازی وصف ہے –۔اشعار ملاحظہ ہوں۔
تم مرے پاس ہوتے ہوگویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
معاملہ بندی :
معاملات عشق و محبت جب جذبات کی لپیٹ میں آجاتے ہیں تو وہ حدآجاتی ہے جسےشاعرانہ اصطلاح میں معاملہ بندی کہا جاتا ہے ۔مومن کی غزل میں صاف اور شائستہ قسم کی معاملہ بندی نطر آتی ہے ۔مومن کا عشق پردہ نشین بھی خاصامشہور ہے ۔مومن تہذیب کے دائرے میں رہ کر جذبات عشق اور معاملات محبت اداکرتے ہیں –۔کلام ملاحظہ ہو۔
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یادہو وہی وعدہ یعنی نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئےگلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں وہ ہر اک بات پہ رو ٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
نازک خیالی : مومن نے محاوروں اور رعایت لفظی کی بنا پر نازک خیالی کے بڑے عمدہ نمونے پیش کئے ہیں۔ یہ جوہر ان کی غزلوں میں بےحد نمایاں ہے ۔وہ اس فن میں ایک خاص انداز کے مالک ہیں –۔اسی لئے ڈاکٹر رام بابو سکسینہ تاریخِ اردو میں کچھ یوں رقم طراز ہیں۔’’مومن کا کلام نارک خیالی اور بلند پروازی کے لئے شہرہ آفاق ہے۔ ‘‘کلام ملاحظہ ہو۔
شعلہ دل کو ناز تابش ہے اپنا جلوہ ذرا دکھا جانا
کیا تم نے قتل جہاں اک نظر میں کسی نے نہ دیکھا تماشہ کسی کا
روزمرہ اور محاورہ : مومن کے کلام میں زبان کی صحت وسلاست ، فصاحت و بلاغت اور برجستگی کے ساتھ ساتھ روزمرہ اور محاورہ نیز ضرب الامثال کا استعمال، پایا جاتا ہے ۔ وہ محاورے کواپنے اشعار میں اس طرح بٹھاتے ہیں کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے اشعار اور مصرعے زبان زدخاص و عام ہیں اور روزمرہ کی طرح استعمال ہوتے ہیں –۔مثلاً
الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
کل جو مسجد میں جاپھنسے مومن رات کاٹی خدا خدا کرکے
عشق و محبت :عشق و محبت مومن کی شاعری کی خاص پہچان ہے۔ ان کی غزلوں کا موضوع یہی ہے ۔انہوں نے فلسفہ اخلاق ، تصوف اور دوسرے مضامین کی طرف کم توجہ دی ہے – انہوں نے اس صنفِ لطیف کو اپنا محبوب بنایا اور اس دل فریبی کی مختلف زاویوں سے عکاسی کی ہے۔مثلاً –
مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ بد نامی عاشق کا اعزاز تو دیکھو
دیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑے اے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھا منا
حالات زمانہ کی عکاسی :اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مومن کی غزلوں میں عشق و محبت ہے ۔ لیکن مومن نے آس پاس کی زندگی سے آنکھیں بند نہیں کیں تھیں انہوں نے اپنے زمانے کے نشیب و فراز کو دیکھا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں کہیں کہیں اس زمانے کے اجتماعی معاملات و مسائل کی تر جمانی ملتی ہے –۔’’زمانے کا غم ، اپنی عظمتوں کے مٹنے کا احساس ، پرانی اقدار کے فنا ہو جانے کا ملال ،انقلاب کی تمنا ،کچھ کرنے کی آرزو، یہ باتیں کہیں کہیں واضح اور کہیں اشاروں میں مومن کے ہاں موجود ہیں۔‘‘کلام ملاحظہ ہو۔
کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی آشیاں اپنا ہوا برباد کیا
پائمال ہم نہ ہوئے فقظ جور چرخ آئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح
یاد ایام وصل یار افسوس دہر کے انقلاب نے مارا
مومن کے مقطعے : اردو شاعری میں میر کی طرح مومن کے مقطعے بھی بہت مشہور ہیں۔ مومن اپنے تخلص کو اس طرح اور اس رنگ میں استعمال کرتے ہیں کہ اکژ جگہ شعر کا مفہوم نکھر جاتا ہے اور اس کی لطافت اور رعنائی میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔وہ اپنے تخلص کی رعایت سے مضمون باندھتے ہیں اور تخلص کے مقابلے میں ، بت ، کافر ، اور صنم جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ –کلام ملاحظہ ہو۔
عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
ہائے صنم ہائے صنم لب پہ کیوں خیر ہے مومن تمہیں کیا ہو گیا
خود آرائی : اردوشاعری میں ہی نہیں، دیگر ز بانوں کی شاعری میں بھی یہ دیکھاگیا ہے کہ ہرشاعر اپنے سامنے دوسروں کوخاطر خواہ اہمیت نہیں دیتا، لیکن اردوشاعری میں یہ رویہ عام رہاہے، اس کے نقصانات بھی ہوں گے؛ لیکن بڑا فائدہ یہ ہواکہ اس احساسِ عظمت نے ہمارے شاعروں سے ایسے ایسے کلام کہلوائے اورلکھوائے، جوواقعی ان کے عظیم اورنابغہ ہونے کی تصدیق کرتے تھے، مومن بھی طبیعتاً ایک غیور اور انا پرست انسان تھے، وہ اپنے معاصرین کو شاعر تسلیم نہیں کرتے تھے، جب وہ گلستانِ سعدی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، تو بھلا اورکسی کو کیوں کر خاطر میں لاتے ؛چنانچہ اسی احساس کی نمایندگی کرنے والے ان کے یہاں متعدد ایسے اشعار ملتے ہیں، جن میں خود آرائی اور خود ستائی پائی جاتی ہے۔
مومن یہ شاعروں کا مرے آگے رنگ ہے جوں پیش آفتاب ہو بے نور تر چراغ
حد تو یہ ہے کیا غز ل اک اور مومن نے پڑھی آج باطل سارے استادوں کا دعویٰ ہو گیا
اپنے ڈھب کی کیا پڑھی اک اورمومن نے غزل دو ہی دن میں یہ تو کیسا ماہر فن ہو گیا
اسی طرح خود کلامی بڑی شاعری کا ایک خاص وصف ہے اور مومن اس حوالے سے بھی یکتاے رو زگار تھے۔
چل کے کعبہ میں سجدہ کر مومن چھوڑ اس ْبت کے آستانے کو
ترکِ صنم بھی کم نہیں سوزِ جحیم سے مومن غمِ مآل کا انجام دیکھنا
مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی آخر کو دشمنی ہے دعا کو اثر کے ساتھ
خلاصہ :ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں کہ’’اردو شاعری کی وہ شمع جو مومن کے ہاتھوں روشن ہوئی ہے اسے وقت کی آندھی نہیں بجھاسکے گی‘‘محمد حسین آذاد کہتے ہیں کہ ’’ غزلوں میں ان کے خیالات نہایت نازک اور مضامین اعلی ہیں الغرض مومن تغزل اور عاشفانہ رنگ کا امام ہے ‘‘ – رام بابو سکسینہ ، تارتخ اردو میں لکھتے ہیں کہ ’’ مومن کا کلام نارک خیالی اور بلند پروازی کے لئے شہرہ آفاق ہے ‘‘ –مختصر یہ کہ مومن اپنے اسلوب اور انداز فکر کی بدولت ہمارے شعری ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ بلاشبہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ میر کا عشق دل کا ہے ، غالب کا دماغ کا جبکہ مومن کا عشق نظر کا عشق ہے۔ مومن اپنے ذوق جمال کے سبب عشق سے زیادہ حسن کے پرستار ہیں ان کے کاروبار محبت میں دیکھنے اور دکھانے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
(1)
میں اگر آپ سے جاؤں توقرار آجائے پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہویار آ جائے
باندھو اب چارہ گرو چلے کہ وہ بھی شاید وصل دشمن کے لئے سوئے مزار آ جائے
کر ذرا اور بھی اے جوش جنوں خوار و ذلیل مجھ سے ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آ جائے
نام بد بختی عشاق خزاں ہے بلبل تو اگر نکلے چمن سے تو بہار آ جائے
جیتے جی غیر کو ہو آتش دوزخ کا عذاب گر میری نعش پہ وہ شعلہ عذار آ جائے
کلفت ہجر کو کیا رؤوں تیرے سامنے میں دل جو خالی ہو تو آنکھوں میں غبار آ جائے
محو دلدار ہوں کس طرح نہ ہوں دشمن جاں مجھ پہ جب ناصح بے درد کوپیار آ جائے
ٹھہر جا جوش تپش ہے تو تڑپنا لیکن چارہ سازوں میں ذرا دم دل زار آ جائے
حسن انجام کا مومن میرے بارے ہے خیال یعنی کہتا ہے وہ کافر تو مارا جائے
(2)
تیری پابوسی سے اپنی خاک بھی مایوس ہے نقش پا پر نقش پا ظالم کف افسوس ہے
ہائے یاد مرغ مجنوں کی جنوں افزائیاں میرے سر کو سایہ بال ہما منحوس ہے
چشم دریا بار ہے کس کے خیال خط میں جو فلس ماہی داغ افزاے پرطاؤس ہے
کیا یہ مطلب ہے کہ برعکس وفا ہوگی جفا جو تمہارے عہد نامے میں خط معکوس ہے
یاں جلایا جی حجاب شمع رو نے اور بھی سوز پروانہ کو مانع پردہ فانوس ہے
بس کہ شام وصل آغاز سحر میں مر گئے سینہ کوبی اہل غم کی ہم صدائے کوس ہے
غیرت آمد شد دشمن سے تلووں سے لگی جل بجھیں گے اب کہ حال مشعل منکوس ہے
گر نہ ہو شکر جفاے متصل سے درد سر لب پہ کچھ کچھ التماس جان غم مانوس ہے
نزع میں جی کا نکلنا تیرا آنا ہو گیا بس کہ مرتے مرتے دل میں حسرت پابوس ہے
شاعری اپنی ہوئی نیرنگی دانش وری جوسخن ہے سو طلسم راز بطلیموس ہے
کرچکاہوں دور اخلاص بتاں میں امتحان میں نہ مانوں گاکہ مومن زاہد سالوس ہے
(3)
دیتے ہو تسکین میرے آزار سے دوستی تم کو نہیں اغیار سے
کچھ نہ سوجھا حسرت دیدار سے سہل چھوٹے مردن دشوار سے
داغ خوں سے میرے وہ حیراں ہوا دامن الجھا ہے گل بے خار سے
پھوڑ جلد اے بوالہوس سر کو کہ اب جھانکتے ہیں روز زن دیوار سے
فصد کی حاجت مجھے کیا چارہ گر بہہ گیا خوں دیدہ خوں بار سے
مال کیسا جاں بھی دے کر بوالہوس گر بنے تو دل چھٹا لوں یار سے
مت کرو کنگھی نہ یہ دزد حنا دل چرائے طرہ طرار سے
آہ دور چرخ کی کیا خاک اڑاے فتنہ برپا ہے تری رفتار سے
کھا گیا جان آ کہ دوں اس کو نکال میں نہیں خوش صحبت غم خوار سے
یوں کہے درد آیا اپنی چیز کا حال دل گر پوچھے دلدار سے
گرنصیحت گر میں سوچ ہوں سادہ لوح تو نبھے گی خوب آس عیار سے
کیوں نہ کانٹیں لب اطبا مر گیا حال پوچھا تھا تیرے بیمار سے
وعدہ کرکے وہ نہ آئے نامہ پر تونے پوچھا ہوئےگا تکرار سے
دست قاصد کاٹے کیوں ثابت ہے کیا دزدی مضموں مرے طومار سے
ہائے بخت خفتہ کی یوں جھپکی آنکھ دشمنوں کے طالع بیدار سے
مجھ وہ چھپتے پھریں اس کے سوا اور حاصل عشق کے اظہار سے
کہہ غزل اک اور بھی مومن کہ ہے شوق اس بت کو تیرے اشعار سے
(3)
زہر ٹپکے ہے نگاہ یار سے موت سوجھی نرگس بیمار سے
قتل ہوکر ہم بچے آزار سے عمر کے دن کٹ گئے تلوار سے
جابہ جا نہریں ہیں جاری میں نے اشک پونچھے ہوںگے دامن کہسار سے
گر نہ کھیلیں جان پر جی ہار دیں عشق بازی سیکھیے اغیار سے
لاغری سے زندگی مشکل ہوئی ہے گراں تر جان جسم زار سے
کر علاج جوش وحشت چارہ گر لادے اک جنگل مجھے بازار سے
ذکر اشک غیر میں رنگینیاں بوئے خوں آئی تیری گفتار سے
عشق میں ناصح بھی ہے کیا مدعی جرم ثابت ہوگیا انکار سے
چھڑکے ہے کان ملاحت لون کیا خود لپٹ جاسینہ افگار سے
گر دعا کرتا ہوں مومن وصل کی ہاتھ باندھے ہے وہ بت زنار سے
(4)
ہے نگاہ لطف دشمن پر تو بند ہ جائے تھے یہ ستم اے بے مروت کس سے دیکھاجائے ہے
سامنے سے جب وہ شوخ دل رباآجائے ہے تھامتاہوں پریہ دل ہوتھوں سے نکلاجائے ہے
حال کیوںکر کہوں میں کس سے بولاجائے ہے سر اٹھے بالیں سے کیاکچھ جی ہی بیٹھاجائے ہے
جاں نہ کہاوصل عدو سچ ہی سہی پر کیاکروں جب گلہ کرتاہوں ہمدم وہ قسم کھاجائے ہے
رشک دشمن نے بنادی جان پر اے بے وفا کب تلک کوئی نہ بگڑے حال بگڑاجائے ہے
تلخ کام عشق شیریں لب جیے توکیاہوا شور بختی سے مزاہی زندگی کاجائے ہے
حسن روزافزون پہ غرہ کس لئے اے ماہ رو یوہی گھٹتاجائے گا جتناکہ بڑھتاجائے ہے
پونچھے آنسو وارثوں کے کیاکروں اب ہائے ہائے داغ میری خون کادامن سے چھوٹاجائے ہے
غیر ہمراہ وہ آتاہے میں حیران ہون کس کواستقبال کو جی تن سے میراجائے ہے
تاب وطاقت صبر وراحت جان وایماں عقل وہوش ہائے کیاکہیے کہ دل کے ساتھ کیاکیا جائے ہے
رورہاہوں خندہ ٔ دنداں نماکی یادمیں آب گوہر کے لئے آنکھوں سے دریاجائے ہے
خاک میں مل جائے یارب بے کسی کی آب رو غیر میری نعش کے ہمراہ روتاجائے ہے
اب تو مرجانابھی مشکل ہے تیرے بیمارکو ضعف باعث کہاں دنیاسے اٹھاجائے ہے
پند گواب تو فرماکس کو سودا ہے یہ کون اور کی سنتانہیں اپنی ہی بکتاجائے ہے
دیکھیے انجام کیاہومومن صورت پرست شیخ صنعاں کی طرح سوے کلیسا جائے ہے
(5)
بے سبب کیون کہ لب زخم پہ افغاں ہوگا شورمحشر سے بھرا اس کا نمک داں ہوگا
آخر امید ہی سے چارہ حرماں ہوگا مرگ کی آس پہ جینا شب ہجراں ہوگا
مجمع بستر مخمل شب غم یاد آیا طالع خفتہ کا کیا خواب پریشاں ہوگا
دل میں شوق رخ روشن نہ چھپے گا ہرگز ماہ پردے میں کتاں کے کوئی پنہاں ہوگا
درد ہے جاں کے عوض ہر رگ وپے میں ساری چارہ گر ہم نہیں ہونے کے جو درماں ہوگا
شومئی بخت توہے چین لے اے وحشت دل دیکھ زنداں ہی کوئی دن میں بیاباں ہوگا
نسبت عیش سے ہو ں نزع میں گریاں یعنی ہے یہ رونا کہ دھن گور کا خنداں ہوگا
بات کرنے میں رقیبوں سے ابھی ٹوٹ گیا دل بھی شاید اسی بد عہد کاپیماں ہوگا
چارہ جو اوربھی اچھا میں کروں گا ٹکڑے پردہ شوخ جو پیوند گریباں ہوگا
دوستی اس صنم آفت ایماں سے کرے مومنؔ ایسا بھی کوئی دشمن ایماں ہوگا
ردیف الف
(1)
نہ کیوں کر مطلع دیوان ہومطلع مہر وحدت کا کہ ہاتھ آیاہے روشن مصرع انگشت شہادت کا
بچاؤں آبلہ پائی کو کیوں کر خار ماہی سے کہ بام عرش سے پھسلا ہے یارب پاؤںدقت کا
سرشک اعتراف عجز نے الماس ریزی کی جگر صدپارہ ہے اندیشہ خوں گشتہ طاقت کا
نہ یہ دست جنوں ہے اور نہ وہ جیب جنوںکیشاں کہ ہو دست مژہ سے چاک پردہ چشم حیرت کا
نہ دے تیغ زباں کیوںکر شکست رنگ کے طعنے کہ صف ہائے خرد پر حملہ ہے فوج خجالت کا
غضب سے تیرے ڈرتاہوں رضاکی تیری خواہش ہے نہ میں بے زا ر دوزخ سے نہ میں مشتاق جنت کا
گلوے خامہ میں سرمہ مداد دودہ دل ہے مگر لکھنا ہے وصف خاتمہ جلد رسالت کا
نہ پوچھو گرمئی شوق ثنا کی آتش افروزی بنا جاتا ہے دست عجز شعلہ شمع فکرت کا
نمک تھا بخت شور فکر خوان مدح شیریں پر کہ دندان طمع نے خوں کیاہے دست حسرت کا
خدایاہاتھ اٹھاؤں عرض مطلب سے بھلا کیوںکر کہ ہے دست دعا میں گوشہ دامان اجابت کا
عنایت کر مجھے آشوب گاہ حشر غم اک دل کہ جس کا ہر نفس ہم نغمہ ہو شور قیامت کا
جراحت زار اک جاں دے کہ جس کی ہرجراحت ہو نمک داں شور الفت سے مزا آئے عیادت کا
فروغ جلوہ توحید کو وہ برق جولاں کر کہ خرمن پھونک دیوے ہستی اہل ضلالت کا
میرا جوہر ہو سر تا پا صفائے مہر پیغمبر میرا حیرت زدہ دل آئینہ خانہ ہو سنت کا
مجھے وہ تیغ جوہر کرکہ میرے نام سے خوں ہو دل صد پارہ اصحاب نفاق واہل بدعت کا
خدایا لشکر اسلام تک پہنچا کہ آ پہنچا لبوں پر دم بلاہے جوش خوں شوق شہادت کا
نہ رکھ بیگانہ مہر امام اقتدا سنت کہ انکار آشنائے کفر ہے اس کی امامت کا
امیر لشکر اسلام کا محکوم ہوں یعنی ارادہ ہے میرا فوج ملائک پر حکومت کا
زمانہ مسہدی موعود کا پایا اگر مومن توسب سے پہلے تو کہیو سلام پاک حضرت کا
(2)
آگ اشک گرم کولگے جی کیا ہی جل گیا آنسو جو اس نے پوچھے شب اور ہاتھ پھل گیا
پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا
کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا
اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا
جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا
مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا
بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا
(3)
لگے خدنگ جب اس نالہ سحر کا سا فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا
نہ جاؤ گا کبھی جنت کومیں نہ جاؤں گا اگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا
کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور کہ اب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا
یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت دعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا
لگے ان آنکھوں سے ہروقت اے دل صد چاک ترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کردے چرخ میرا سرور ہے گل خندہ شرر کا سا
یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتا میرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا
جنوں کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احباب ہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا
خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پر نشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا
دل اسیے شوخ کو مومنؔ نے دے دیاکہ وہ ہے محب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا
(4)
گر وہاں بھی یہ خموشی اثر فغان ہوگا حشر میں کون میرے حال کا پرساں ہوگا
آن سے بد خو کا کرم بھی ستم جاں ہوگا میں تو میں غیر بھی دل دے کے پشیماں ہوگا
اور ایسا کوئی کیا بے سرو ساماں ہوگا کہ مجھے زہر بھی دیجیے گا تو احساں ہوگا
محو مجھ سا دم نظارہ جاناں ہوگا آئینہ آئینہ دیکھیے گا تو حیراں ہوگا
خواہش مرگ ہو اتنا نہ ستانا ورنہ دل میں پھر تیرے سوا اور بھی ارماں ہوگا
ایسی لذت خلش دل میں کہاں ہوتی ہے رہ گیا سینے میں آس کاکوئی پیکاں ہوگا
بوسہ ہائے لب شیریں کے مضامیں ہیں نہ کیوں لفظ سے لفظ میرے شعر کا چسپاں ہوگا
کیاسناتے ہو کہ ہے ہجر میں جینا مشکل تم سے بے رحم پہ مرنے سے تو آساں ہوگا
حیرت حسن نے دیوانہ کیا گر اس کو دیکھنا خانہ آئینہ بھی ویراں ہوگا
دیدہ منتظر آتا نہیں شاید تجھ تک کہ میرے خواب کا بھی کوئی نگہباں ہوگا
ایک ہی جلوہ مہ رو میں ہوا سو ٹکڑے جامہ صبر جسے کہتے ہیں کتاں ہوگا
گر یہی گرمئی مضمون شررریز رہی رشتہ شمع سے شیرازہ دیواں ہوگا
کیوں کہ امید وفا سے ہو تسلی دل کو فکر ہے یہ کہ وہ وعدے سے پریشاں ہوگا
گر تیرے خنجر مژگاں نے کیا قتل مجھے غیر کیا کیا ملک الموت کے قرباں ہوگا
اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومنؔ آخر اس بزم میں کوئی توسخن داں ہوگا
ہائے یاد مرغ مجنوں کی جنوں افزائیاں میرے سر کو سایہ بال ہما منحوس ہے
چشم دریا بار ہے کس کے خیال خط میں جو فلس ماہی داغ افزاے پرطاؤس ہے
کیا یہ مطلب ہے کہ برعکس وفا ہوگی جفا جو تمہارے عہد نامے میں خط معکوس ہے
یاں جلایا جی حجاب شمع رو نے اور بھی سوز پروانہ کو مانع پردہ فانوس ہے
بس کہ شام وصل آغاز سحر میں مر گئے سینہ کوبی اہل غم کی ہم صدائے کوس ہے
غیرت آمد شد دشمن سے تلووں سے لگی جل بجھیں گے اب کہ حال مشعل منکوس ہے
گر نہ ہو شکر جفاے متصل سے درد سر لب پہ کچھ کچھ التماس جان غم مانوس ہے
نزع میں جی کا نکلنا تیرا آنا ہو گیا بس کہ مرتے مرتے دل میں حسرت پابوس ہے
شاعری اپنی ہوئی نیرنگی دانش وری جوسخن ہے سو طلسم راز بطلیموس ہے
کرچکاہوں دور اخلاص بتاں میں امتحان میں نہ مانوں گاکہ مومن زاہد سالوس ہے
(3)
دیتے ہو تسکین میرے آزار سے دوستی تم کو نہیں اغیار سے
کچھ نہ سوجھا حسرت دیدار سے سہل چھوٹے مردن دشوار سے
داغ خوں سے میرے وہ حیراں ہوا دامن الجھا ہے گل بے خار سے
پھوڑ جلد اے بوالہوس سر کو کہ اب جھانکتے ہیں روز زن دیوار سے
فصد کی حاجت مجھے کیا چارہ گر بہہ گیا خوں دیدہ خوں بار سے
مال کیسا جاں بھی دے کر بوالہوس گر بنے تو دل چھٹا لوں یار سے
مت کرو کنگھی نہ یہ دزد حنا دل چرائے طرہ طرار سے
آہ دور چرخ کی کیا خاک اڑاے فتنہ برپا ہے تری رفتار سے
کھا گیا جان آ کہ دوں اس کو نکال میں نہیں خوش صحبت غم خوار سے
یوں کہے درد آیا اپنی چیز کا حال دل گر پوچھے دلدار سے
گرنصیحت گر میں سوچ ہوں سادہ لوح تو نبھے گی خوب آس عیار سے
کیوں نہ کانٹیں لب اطبا مر گیا حال پوچھا تھا تیرے بیمار سے
وعدہ کرکے وہ نہ آئے نامہ پر تونے پوچھا ہوئےگا تکرار سے
دست قاصد کاٹے کیوں ثابت ہے کیا دزدی مضموں مرے طومار سے
ہائے بخت خفتہ کی یوں جھپکی آنکھ دشمنوں کے طالع بیدار سے
مجھ وہ چھپتے پھریں اس کے سوا اور حاصل عشق کے اظہار سے
کہہ غزل اک اور بھی مومن کہ ہے شوق اس بت کو تیرے اشعار سے
(3)
زہر ٹپکے ہے نگاہ یار سے موت سوجھی نرگس بیمار سے
قتل ہوکر ہم بچے آزار سے عمر کے دن کٹ گئے تلوار سے
جابہ جا نہریں ہیں جاری میں نے اشک پونچھے ہوںگے دامن کہسار سے
گر نہ کھیلیں جان پر جی ہار دیں عشق بازی سیکھیے اغیار سے
لاغری سے زندگی مشکل ہوئی ہے گراں تر جان جسم زار سے
کر علاج جوش وحشت چارہ گر لادے اک جنگل مجھے بازار سے
ذکر اشک غیر میں رنگینیاں بوئے خوں آئی تیری گفتار سے
عشق میں ناصح بھی ہے کیا مدعی جرم ثابت ہوگیا انکار سے
چھڑکے ہے کان ملاحت لون کیا خود لپٹ جاسینہ افگار سے
گر دعا کرتا ہوں مومن وصل کی ہاتھ باندھے ہے وہ بت زنار سے
(4)
ہے نگاہ لطف دشمن پر تو بند ہ جائے تھے یہ ستم اے بے مروت کس سے دیکھاجائے ہے
سامنے سے جب وہ شوخ دل رباآجائے ہے تھامتاہوں پریہ دل ہوتھوں سے نکلاجائے ہے
حال کیوںکر کہوں میں کس سے بولاجائے ہے سر اٹھے بالیں سے کیاکچھ جی ہی بیٹھاجائے ہے
جاں نہ کہاوصل عدو سچ ہی سہی پر کیاکروں جب گلہ کرتاہوں ہمدم وہ قسم کھاجائے ہے
رشک دشمن نے بنادی جان پر اے بے وفا کب تلک کوئی نہ بگڑے حال بگڑاجائے ہے
تلخ کام عشق شیریں لب جیے توکیاہوا شور بختی سے مزاہی زندگی کاجائے ہے
حسن روزافزون پہ غرہ کس لئے اے ماہ رو یوہی گھٹتاجائے گا جتناکہ بڑھتاجائے ہے
پونچھے آنسو وارثوں کے کیاکروں اب ہائے ہائے داغ میری خون کادامن سے چھوٹاجائے ہے
غیر ہمراہ وہ آتاہے میں حیران ہون کس کواستقبال کو جی تن سے میراجائے ہے
تاب وطاقت صبر وراحت جان وایماں عقل وہوش ہائے کیاکہیے کہ دل کے ساتھ کیاکیا جائے ہے
رورہاہوں خندہ ٔ دنداں نماکی یادمیں آب گوہر کے لئے آنکھوں سے دریاجائے ہے
خاک میں مل جائے یارب بے کسی کی آب رو غیر میری نعش کے ہمراہ روتاجائے ہے
اب تو مرجانابھی مشکل ہے تیرے بیمارکو ضعف باعث کہاں دنیاسے اٹھاجائے ہے
پند گواب تو فرماکس کو سودا ہے یہ کون اور کی سنتانہیں اپنی ہی بکتاجائے ہے
دیکھیے انجام کیاہومومن صورت پرست شیخ صنعاں کی طرح سوے کلیسا جائے ہے
(5)
بے سبب کیون کہ لب زخم پہ افغاں ہوگا شورمحشر سے بھرا اس کا نمک داں ہوگا
آخر امید ہی سے چارہ حرماں ہوگا مرگ کی آس پہ جینا شب ہجراں ہوگا
مجمع بستر مخمل شب غم یاد آیا طالع خفتہ کا کیا خواب پریشاں ہوگا
دل میں شوق رخ روشن نہ چھپے گا ہرگز ماہ پردے میں کتاں کے کوئی پنہاں ہوگا
درد ہے جاں کے عوض ہر رگ وپے میں ساری چارہ گر ہم نہیں ہونے کے جو درماں ہوگا
شومئی بخت توہے چین لے اے وحشت دل دیکھ زنداں ہی کوئی دن میں بیاباں ہوگا
نسبت عیش سے ہو ں نزع میں گریاں یعنی ہے یہ رونا کہ دھن گور کا خنداں ہوگا
بات کرنے میں رقیبوں سے ابھی ٹوٹ گیا دل بھی شاید اسی بد عہد کاپیماں ہوگا
چارہ جو اوربھی اچھا میں کروں گا ٹکڑے پردہ شوخ جو پیوند گریباں ہوگا
دوستی اس صنم آفت ایماں سے کرے مومنؔ ایسا بھی کوئی دشمن ایماں ہوگا
ردیف الف
(1)
نہ کیوں کر مطلع دیوان ہومطلع مہر وحدت کا کہ ہاتھ آیاہے روشن مصرع انگشت شہادت کا
بچاؤں آبلہ پائی کو کیوں کر خار ماہی سے کہ بام عرش سے پھسلا ہے یارب پاؤںدقت کا
سرشک اعتراف عجز نے الماس ریزی کی جگر صدپارہ ہے اندیشہ خوں گشتہ طاقت کا
نہ یہ دست جنوں ہے اور نہ وہ جیب جنوںکیشاں کہ ہو دست مژہ سے چاک پردہ چشم حیرت کا
نہ دے تیغ زباں کیوںکر شکست رنگ کے طعنے کہ صف ہائے خرد پر حملہ ہے فوج خجالت کا
غضب سے تیرے ڈرتاہوں رضاکی تیری خواہش ہے نہ میں بے زا ر دوزخ سے نہ میں مشتاق جنت کا
گلوے خامہ میں سرمہ مداد دودہ دل ہے مگر لکھنا ہے وصف خاتمہ جلد رسالت کا
نہ پوچھو گرمئی شوق ثنا کی آتش افروزی بنا جاتا ہے دست عجز شعلہ شمع فکرت کا
نمک تھا بخت شور فکر خوان مدح شیریں پر کہ دندان طمع نے خوں کیاہے دست حسرت کا
خدایاہاتھ اٹھاؤں عرض مطلب سے بھلا کیوںکر کہ ہے دست دعا میں گوشہ دامان اجابت کا
عنایت کر مجھے آشوب گاہ حشر غم اک دل کہ جس کا ہر نفس ہم نغمہ ہو شور قیامت کا
جراحت زار اک جاں دے کہ جس کی ہرجراحت ہو نمک داں شور الفت سے مزا آئے عیادت کا
فروغ جلوہ توحید کو وہ برق جولاں کر کہ خرمن پھونک دیوے ہستی اہل ضلالت کا
میرا جوہر ہو سر تا پا صفائے مہر پیغمبر میرا حیرت زدہ دل آئینہ خانہ ہو سنت کا
مجھے وہ تیغ جوہر کرکہ میرے نام سے خوں ہو دل صد پارہ اصحاب نفاق واہل بدعت کا
خدایا لشکر اسلام تک پہنچا کہ آ پہنچا لبوں پر دم بلاہے جوش خوں شوق شہادت کا
نہ رکھ بیگانہ مہر امام اقتدا سنت کہ انکار آشنائے کفر ہے اس کی امامت کا
امیر لشکر اسلام کا محکوم ہوں یعنی ارادہ ہے میرا فوج ملائک پر حکومت کا
زمانہ مسہدی موعود کا پایا اگر مومن توسب سے پہلے تو کہیو سلام پاک حضرت کا
(2)
آگ اشک گرم کولگے جی کیا ہی جل گیا آنسو جو اس نے پوچھے شب اور ہاتھ پھل گیا
پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا
کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا
اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا
جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا
مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا
بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا
(3)
لگے خدنگ جب اس نالہ سحر کا سا فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا
نہ جاؤ گا کبھی جنت کومیں نہ جاؤں گا اگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا
کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور کہ اب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا
یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت دعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا
لگے ان آنکھوں سے ہروقت اے دل صد چاک ترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کردے چرخ میرا سرور ہے گل خندہ شرر کا سا
یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتا میرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا
جنوں کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احباب ہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا
خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پر نشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا
دل اسیے شوخ کو مومنؔ نے دے دیاکہ وہ ہے محب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا
(4)
گر وہاں بھی یہ خموشی اثر فغان ہوگا حشر میں کون میرے حال کا پرساں ہوگا
آن سے بد خو کا کرم بھی ستم جاں ہوگا میں تو میں غیر بھی دل دے کے پشیماں ہوگا
اور ایسا کوئی کیا بے سرو ساماں ہوگا کہ مجھے زہر بھی دیجیے گا تو احساں ہوگا
محو مجھ سا دم نظارہ جاناں ہوگا آئینہ آئینہ دیکھیے گا تو حیراں ہوگا
خواہش مرگ ہو اتنا نہ ستانا ورنہ دل میں پھر تیرے سوا اور بھی ارماں ہوگا
ایسی لذت خلش دل میں کہاں ہوتی ہے رہ گیا سینے میں آس کاکوئی پیکاں ہوگا
بوسہ ہائے لب شیریں کے مضامیں ہیں نہ کیوں لفظ سے لفظ میرے شعر کا چسپاں ہوگا
کیاسناتے ہو کہ ہے ہجر میں جینا مشکل تم سے بے رحم پہ مرنے سے تو آساں ہوگا
حیرت حسن نے دیوانہ کیا گر اس کو دیکھنا خانہ آئینہ بھی ویراں ہوگا
دیدہ منتظر آتا نہیں شاید تجھ تک کہ میرے خواب کا بھی کوئی نگہباں ہوگا
ایک ہی جلوہ مہ رو میں ہوا سو ٹکڑے جامہ صبر جسے کہتے ہیں کتاں ہوگا
گر یہی گرمئی مضمون شررریز رہی رشتہ شمع سے شیرازہ دیواں ہوگا
کیوں کہ امید وفا سے ہو تسلی دل کو فکر ہے یہ کہ وہ وعدے سے پریشاں ہوگا
گر تیرے خنجر مژگاں نے کیا قتل مجھے غیر کیا کیا ملک الموت کے قرباں ہوگا
اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومنؔ آخر اس بزم میں کوئی توسخن داں ہوگا
قتل ہوکر ہم بچے آزار سے عمر کے دن کٹ گئے تلوار سے
جابہ جا نہریں ہیں جاری میں نے اشک پونچھے ہوںگے دامن کہسار سے
گر نہ کھیلیں جان پر جی ہار دیں عشق بازی سیکھیے اغیار سے
لاغری سے زندگی مشکل ہوئی ہے گراں تر جان جسم زار سے
کر علاج جوش وحشت چارہ گر لادے اک جنگل مجھے بازار سے
ذکر اشک غیر میں رنگینیاں بوئے خوں آئی تیری گفتار سے
عشق میں ناصح بھی ہے کیا مدعی جرم ثابت ہوگیا انکار سے
چھڑکے ہے کان ملاحت لون کیا خود لپٹ جاسینہ افگار سے
گر دعا کرتا ہوں مومن وصل کی ہاتھ باندھے ہے وہ بت زنار سے
(4)
ہے نگاہ لطف دشمن پر تو بند ہ جائے تھے یہ ستم اے بے مروت کس سے دیکھاجائے ہے
سامنے سے جب وہ شوخ دل رباآجائے ہے تھامتاہوں پریہ دل ہوتھوں سے نکلاجائے ہے
حال کیوںکر کہوں میں کس سے بولاجائے ہے سر اٹھے بالیں سے کیاکچھ جی ہی بیٹھاجائے ہے
جاں نہ کہاوصل عدو سچ ہی سہی پر کیاکروں جب گلہ کرتاہوں ہمدم وہ قسم کھاجائے ہے
رشک دشمن نے بنادی جان پر اے بے وفا کب تلک کوئی نہ بگڑے حال بگڑاجائے ہے
تلخ کام عشق شیریں لب جیے توکیاہوا شور بختی سے مزاہی زندگی کاجائے ہے
حسن روزافزون پہ غرہ کس لئے اے ماہ رو یوہی گھٹتاجائے گا جتناکہ بڑھتاجائے ہے
پونچھے آنسو وارثوں کے کیاکروں اب ہائے ہائے داغ میری خون کادامن سے چھوٹاجائے ہے
غیر ہمراہ وہ آتاہے میں حیران ہون کس کواستقبال کو جی تن سے میراجائے ہے
تاب وطاقت صبر وراحت جان وایماں عقل وہوش ہائے کیاکہیے کہ دل کے ساتھ کیاکیا جائے ہے
رورہاہوں خندہ ٔ دنداں نماکی یادمیں آب گوہر کے لئے آنکھوں سے دریاجائے ہے
خاک میں مل جائے یارب بے کسی کی آب رو غیر میری نعش کے ہمراہ روتاجائے ہے
اب تو مرجانابھی مشکل ہے تیرے بیمارکو ضعف باعث کہاں دنیاسے اٹھاجائے ہے
پند گواب تو فرماکس کو سودا ہے یہ کون اور کی سنتانہیں اپنی ہی بکتاجائے ہے
دیکھیے انجام کیاہومومن صورت پرست شیخ صنعاں کی طرح سوے کلیسا جائے ہے
(5)
بے سبب کیون کہ لب زخم پہ افغاں ہوگا شورمحشر سے بھرا اس کا نمک داں ہوگا
آخر امید ہی سے چارہ حرماں ہوگا مرگ کی آس پہ جینا شب ہجراں ہوگا
مجمع بستر مخمل شب غم یاد آیا طالع خفتہ کا کیا خواب پریشاں ہوگا
دل میں شوق رخ روشن نہ چھپے گا ہرگز ماہ پردے میں کتاں کے کوئی پنہاں ہوگا
درد ہے جاں کے عوض ہر رگ وپے میں ساری چارہ گر ہم نہیں ہونے کے جو درماں ہوگا
شومئی بخت توہے چین لے اے وحشت دل دیکھ زنداں ہی کوئی دن میں بیاباں ہوگا
نسبت عیش سے ہو ں نزع میں گریاں یعنی ہے یہ رونا کہ دھن گور کا خنداں ہوگا
بات کرنے میں رقیبوں سے ابھی ٹوٹ گیا دل بھی شاید اسی بد عہد کاپیماں ہوگا
چارہ جو اوربھی اچھا میں کروں گا ٹکڑے پردہ شوخ جو پیوند گریباں ہوگا
دوستی اس صنم آفت ایماں سے کرے مومنؔ ایسا بھی کوئی دشمن ایماں ہوگا
ردیف الف
(1)
نہ کیوں کر مطلع دیوان ہومطلع مہر وحدت کا کہ ہاتھ آیاہے روشن مصرع انگشت شہادت کا
بچاؤں آبلہ پائی کو کیوں کر خار ماہی سے کہ بام عرش سے پھسلا ہے یارب پاؤںدقت کا
سرشک اعتراف عجز نے الماس ریزی کی جگر صدپارہ ہے اندیشہ خوں گشتہ طاقت کا
نہ یہ دست جنوں ہے اور نہ وہ جیب جنوںکیشاں کہ ہو دست مژہ سے چاک پردہ چشم حیرت کا
نہ دے تیغ زباں کیوںکر شکست رنگ کے طعنے کہ صف ہائے خرد پر حملہ ہے فوج خجالت کا
غضب سے تیرے ڈرتاہوں رضاکی تیری خواہش ہے نہ میں بے زا ر دوزخ سے نہ میں مشتاق جنت کا
گلوے خامہ میں سرمہ مداد دودہ دل ہے مگر لکھنا ہے وصف خاتمہ جلد رسالت کا
نہ پوچھو گرمئی شوق ثنا کی آتش افروزی بنا جاتا ہے دست عجز شعلہ شمع فکرت کا
نمک تھا بخت شور فکر خوان مدح شیریں پر کہ دندان طمع نے خوں کیاہے دست حسرت کا
خدایاہاتھ اٹھاؤں عرض مطلب سے بھلا کیوںکر کہ ہے دست دعا میں گوشہ دامان اجابت کا
عنایت کر مجھے آشوب گاہ حشر غم اک دل کہ جس کا ہر نفس ہم نغمہ ہو شور قیامت کا
جراحت زار اک جاں دے کہ جس کی ہرجراحت ہو نمک داں شور الفت سے مزا آئے عیادت کا
فروغ جلوہ توحید کو وہ برق جولاں کر کہ خرمن پھونک دیوے ہستی اہل ضلالت کا
میرا جوہر ہو سر تا پا صفائے مہر پیغمبر میرا حیرت زدہ دل آئینہ خانہ ہو سنت کا
مجھے وہ تیغ جوہر کرکہ میرے نام سے خوں ہو دل صد پارہ اصحاب نفاق واہل بدعت کا
خدایا لشکر اسلام تک پہنچا کہ آ پہنچا لبوں پر دم بلاہے جوش خوں شوق شہادت کا
نہ رکھ بیگانہ مہر امام اقتدا سنت کہ انکار آشنائے کفر ہے اس کی امامت کا
امیر لشکر اسلام کا محکوم ہوں یعنی ارادہ ہے میرا فوج ملائک پر حکومت کا
زمانہ مسہدی موعود کا پایا اگر مومن توسب سے پہلے تو کہیو سلام پاک حضرت کا
(2)
آگ اشک گرم کولگے جی کیا ہی جل گیا آنسو جو اس نے پوچھے شب اور ہاتھ پھل گیا
پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا
کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا
اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا
جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا
مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا
بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا
(3)
لگے خدنگ جب اس نالہ سحر کا سا فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا
نہ جاؤ گا کبھی جنت کومیں نہ جاؤں گا اگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا
کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور کہ اب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا
یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت دعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا
لگے ان آنکھوں سے ہروقت اے دل صد چاک ترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کردے چرخ میرا سرور ہے گل خندہ شرر کا سا
یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتا میرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا
جنوں کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احباب ہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا
خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پر نشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا
دل اسیے شوخ کو مومنؔ نے دے دیاکہ وہ ہے محب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا
(4)
گر وہاں بھی یہ خموشی اثر فغان ہوگا حشر میں کون میرے حال کا پرساں ہوگا
آن سے بد خو کا کرم بھی ستم جاں ہوگا میں تو میں غیر بھی دل دے کے پشیماں ہوگا
اور ایسا کوئی کیا بے سرو ساماں ہوگا کہ مجھے زہر بھی دیجیے گا تو احساں ہوگا
محو مجھ سا دم نظارہ جاناں ہوگا آئینہ آئینہ دیکھیے گا تو حیراں ہوگا
خواہش مرگ ہو اتنا نہ ستانا ورنہ دل میں پھر تیرے سوا اور بھی ارماں ہوگا
ایسی لذت خلش دل میں کہاں ہوتی ہے رہ گیا سینے میں آس کاکوئی پیکاں ہوگا
بوسہ ہائے لب شیریں کے مضامیں ہیں نہ کیوں لفظ سے لفظ میرے شعر کا چسپاں ہوگا
کیاسناتے ہو کہ ہے ہجر میں جینا مشکل تم سے بے رحم پہ مرنے سے تو آساں ہوگا
حیرت حسن نے دیوانہ کیا گر اس کو دیکھنا خانہ آئینہ بھی ویراں ہوگا
دیدہ منتظر آتا نہیں شاید تجھ تک کہ میرے خواب کا بھی کوئی نگہباں ہوگا
ایک ہی جلوہ مہ رو میں ہوا سو ٹکڑے جامہ صبر جسے کہتے ہیں کتاں ہوگا
گر یہی گرمئی مضمون شررریز رہی رشتہ شمع سے شیرازہ دیواں ہوگا
کیوں کہ امید وفا سے ہو تسلی دل کو فکر ہے یہ کہ وہ وعدے سے پریشاں ہوگا
گر تیرے خنجر مژگاں نے کیا قتل مجھے غیر کیا کیا ملک الموت کے قرباں ہوگا
اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومنؔ آخر اس بزم میں کوئی توسخن داں ہوگا
آخر امید ہی سے چارہ حرماں ہوگا مرگ کی آس پہ جینا شب ہجراں ہوگا
مجمع بستر مخمل شب غم یاد آیا طالع خفتہ کا کیا خواب پریشاں ہوگا
دل میں شوق رخ روشن نہ چھپے گا ہرگز ماہ پردے میں کتاں کے کوئی پنہاں ہوگا
درد ہے جاں کے عوض ہر رگ وپے میں ساری چارہ گر ہم نہیں ہونے کے جو درماں ہوگا
شومئی بخت توہے چین لے اے وحشت دل دیکھ زنداں ہی کوئی دن میں بیاباں ہوگا
نسبت عیش سے ہو ں نزع میں گریاں یعنی ہے یہ رونا کہ دھن گور کا خنداں ہوگا
بات کرنے میں رقیبوں سے ابھی ٹوٹ گیا دل بھی شاید اسی بد عہد کاپیماں ہوگا
چارہ جو اوربھی اچھا میں کروں گا ٹکڑے پردہ شوخ جو پیوند گریباں ہوگا
دوستی اس صنم آفت ایماں سے کرے مومنؔ ایسا بھی کوئی دشمن ایماں ہوگا
ردیف الف
(1)
نہ کیوں کر مطلع دیوان ہومطلع مہر وحدت کا کہ ہاتھ آیاہے روشن مصرع انگشت شہادت کا
بچاؤں آبلہ پائی کو کیوں کر خار ماہی سے کہ بام عرش سے پھسلا ہے یارب پاؤںدقت کا
سرشک اعتراف عجز نے الماس ریزی کی جگر صدپارہ ہے اندیشہ خوں گشتہ طاقت کا
نہ یہ دست جنوں ہے اور نہ وہ جیب جنوںکیشاں کہ ہو دست مژہ سے چاک پردہ چشم حیرت کا
نہ دے تیغ زباں کیوںکر شکست رنگ کے طعنے کہ صف ہائے خرد پر حملہ ہے فوج خجالت کا
غضب سے تیرے ڈرتاہوں رضاکی تیری خواہش ہے نہ میں بے زا ر دوزخ سے نہ میں مشتاق جنت کا
گلوے خامہ میں سرمہ مداد دودہ دل ہے مگر لکھنا ہے وصف خاتمہ جلد رسالت کا
نہ پوچھو گرمئی شوق ثنا کی آتش افروزی بنا جاتا ہے دست عجز شعلہ شمع فکرت کا
نمک تھا بخت شور فکر خوان مدح شیریں پر کہ دندان طمع نے خوں کیاہے دست حسرت کا
خدایاہاتھ اٹھاؤں عرض مطلب سے بھلا کیوںکر کہ ہے دست دعا میں گوشہ دامان اجابت کا
عنایت کر مجھے آشوب گاہ حشر غم اک دل کہ جس کا ہر نفس ہم نغمہ ہو شور قیامت کا
جراحت زار اک جاں دے کہ جس کی ہرجراحت ہو نمک داں شور الفت سے مزا آئے عیادت کا
فروغ جلوہ توحید کو وہ برق جولاں کر کہ خرمن پھونک دیوے ہستی اہل ضلالت کا
میرا جوہر ہو سر تا پا صفائے مہر پیغمبر میرا حیرت زدہ دل آئینہ خانہ ہو سنت کا
مجھے وہ تیغ جوہر کرکہ میرے نام سے خوں ہو دل صد پارہ اصحاب نفاق واہل بدعت کا
خدایا لشکر اسلام تک پہنچا کہ آ پہنچا لبوں پر دم بلاہے جوش خوں شوق شہادت کا
نہ رکھ بیگانہ مہر امام اقتدا سنت کہ انکار آشنائے کفر ہے اس کی امامت کا
امیر لشکر اسلام کا محکوم ہوں یعنی ارادہ ہے میرا فوج ملائک پر حکومت کا
زمانہ مسہدی موعود کا پایا اگر مومن توسب سے پہلے تو کہیو سلام پاک حضرت کا
(2)
آگ اشک گرم کولگے جی کیا ہی جل گیا آنسو جو اس نے پوچھے شب اور ہاتھ پھل گیا
پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا
کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا
اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا
جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا
مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا
بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا
(3)
لگے خدنگ جب اس نالہ سحر کا سا فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا
نہ جاؤ گا کبھی جنت کومیں نہ جاؤں گا اگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا
کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور کہ اب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا
یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت دعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا
لگے ان آنکھوں سے ہروقت اے دل صد چاک ترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کردے چرخ میرا سرور ہے گل خندہ شرر کا سا
یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتا میرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا
جنوں کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احباب ہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا
خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پر نشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا
دل اسیے شوخ کو مومنؔ نے دے دیاکہ وہ ہے محب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا
(4)
گر وہاں بھی یہ خموشی اثر فغان ہوگا حشر میں کون میرے حال کا پرساں ہوگا
آن سے بد خو کا کرم بھی ستم جاں ہوگا میں تو میں غیر بھی دل دے کے پشیماں ہوگا
اور ایسا کوئی کیا بے سرو ساماں ہوگا کہ مجھے زہر بھی دیجیے گا تو احساں ہوگا
محو مجھ سا دم نظارہ جاناں ہوگا آئینہ آئینہ دیکھیے گا تو حیراں ہوگا
خواہش مرگ ہو اتنا نہ ستانا ورنہ دل میں پھر تیرے سوا اور بھی ارماں ہوگا
ایسی لذت خلش دل میں کہاں ہوتی ہے رہ گیا سینے میں آس کاکوئی پیکاں ہوگا
بوسہ ہائے لب شیریں کے مضامیں ہیں نہ کیوں لفظ سے لفظ میرے شعر کا چسپاں ہوگا
کیاسناتے ہو کہ ہے ہجر میں جینا مشکل تم سے بے رحم پہ مرنے سے تو آساں ہوگا
حیرت حسن نے دیوانہ کیا گر اس کو دیکھنا خانہ آئینہ بھی ویراں ہوگا
دیدہ منتظر آتا نہیں شاید تجھ تک کہ میرے خواب کا بھی کوئی نگہباں ہوگا
ایک ہی جلوہ مہ رو میں ہوا سو ٹکڑے جامہ صبر جسے کہتے ہیں کتاں ہوگا
گر یہی گرمئی مضمون شررریز رہی رشتہ شمع سے شیرازہ دیواں ہوگا
کیوں کہ امید وفا سے ہو تسلی دل کو فکر ہے یہ کہ وہ وعدے سے پریشاں ہوگا
گر تیرے خنجر مژگاں نے کیا قتل مجھے غیر کیا کیا ملک الموت کے قرباں ہوگا
اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومنؔ آخر اس بزم میں کوئی توسخن داں ہوگا
پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا
کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا
اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا
جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا
مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا
بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا
(3)
لگے خدنگ جب اس نالہ سحر کا سا فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا
نہ جاؤ گا کبھی جنت کومیں نہ جاؤں گا اگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا
کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور کہ اب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا
یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت دعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا
لگے ان آنکھوں سے ہروقت اے دل صد چاک ترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کردے چرخ میرا سرور ہے گل خندہ شرر کا سا
یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتا میرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا
جنوں کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احباب ہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا
خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پر نشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا
دل اسیے شوخ کو مومنؔ نے دے دیاکہ وہ ہے محب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا
(4)
گر وہاں بھی یہ خموشی اثر فغان ہوگا حشر میں کون میرے حال کا پرساں ہوگا
آن سے بد خو کا کرم بھی ستم جاں ہوگا میں تو میں غیر بھی دل دے کے پشیماں ہوگا
اور ایسا کوئی کیا بے سرو ساماں ہوگا کہ مجھے زہر بھی دیجیے گا تو احساں ہوگا
محو مجھ سا دم نظارہ جاناں ہوگا آئینہ آئینہ دیکھیے گا تو حیراں ہوگا
خواہش مرگ ہو اتنا نہ ستانا ورنہ دل میں پھر تیرے سوا اور بھی ارماں ہوگا
ایسی لذت خلش دل میں کہاں ہوتی ہے رہ گیا سینے میں آس کاکوئی پیکاں ہوگا
بوسہ ہائے لب شیریں کے مضامیں ہیں نہ کیوں لفظ سے لفظ میرے شعر کا چسپاں ہوگا
کیاسناتے ہو کہ ہے ہجر میں جینا مشکل تم سے بے رحم پہ مرنے سے تو آساں ہوگا
حیرت حسن نے دیوانہ کیا گر اس کو دیکھنا خانہ آئینہ بھی ویراں ہوگا
دیدہ منتظر آتا نہیں شاید تجھ تک کہ میرے خواب کا بھی کوئی نگہباں ہوگا
ایک ہی جلوہ مہ رو میں ہوا سو ٹکڑے جامہ صبر جسے کہتے ہیں کتاں ہوگا
گر یہی گرمئی مضمون شررریز رہی رشتہ شمع سے شیرازہ دیواں ہوگا
کیوں کہ امید وفا سے ہو تسلی دل کو فکر ہے یہ کہ وہ وعدے سے پریشاں ہوگا
گر تیرے خنجر مژگاں نے کیا قتل مجھے غیر کیا کیا ملک الموت کے قرباں ہوگا
اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومنؔ آخر اس بزم میں کوئی توسخن داں ہوگا
آن سے بد خو کا کرم بھی ستم جاں ہوگا میں تو میں غیر بھی دل دے کے پشیماں ہوگا
اور ایسا کوئی کیا بے سرو ساماں ہوگا کہ مجھے زہر بھی دیجیے گا تو احساں ہوگا
محو مجھ سا دم نظارہ جاناں ہوگا آئینہ آئینہ دیکھیے گا تو حیراں ہوگا
خواہش مرگ ہو اتنا نہ ستانا ورنہ دل میں پھر تیرے سوا اور بھی ارماں ہوگا
ایسی لذت خلش دل میں کہاں ہوتی ہے رہ گیا سینے میں آس کاکوئی پیکاں ہوگا
بوسہ ہائے لب شیریں کے مضامیں ہیں نہ کیوں لفظ سے لفظ میرے شعر کا چسپاں ہوگا
کیاسناتے ہو کہ ہے ہجر میں جینا مشکل تم سے بے رحم پہ مرنے سے تو آساں ہوگا
حیرت حسن نے دیوانہ کیا گر اس کو دیکھنا خانہ آئینہ بھی ویراں ہوگا
دیدہ منتظر آتا نہیں شاید تجھ تک کہ میرے خواب کا بھی کوئی نگہباں ہوگا
ایک ہی جلوہ مہ رو میں ہوا سو ٹکڑے جامہ صبر جسے کہتے ہیں کتاں ہوگا
گر یہی گرمئی مضمون شررریز رہی رشتہ شمع سے شیرازہ دیواں ہوگا
کیوں کہ امید وفا سے ہو تسلی دل کو فکر ہے یہ کہ وہ وعدے سے پریشاں ہوگا
گر تیرے خنجر مژگاں نے کیا قتل مجھے غیر کیا کیا ملک الموت کے قرباں ہوگا
اپنے انداز کی بھی ایک غزل پڑھ مومنؔ آخر اس بزم میں کوئی توسخن داں ہوگا
شادؔ عظیم آبادی کا شمار اردو کے کلاسیکی شعرأ میں ہوتا ہے ۔ انہوںنے نثر اور نظم میں بہت سی کتابیں یادگار چھوڑی ہیں ،جن سے ان کی گونا گوں خوبیوں کا علم ہوتا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ شادؔ اپنی ذات سے ایک انجمن تھے ۔ انہوں نے اردو شاعری کی بیشتر اصناف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کی شخصیت کا اصل جوہر غزلوں ہی میں کھلتا ہے ۔ شادؔ کا شعری لہجہ منفرد بھی ہے اور موثربھی ۔ ان کی شاعری ایک طرف دبستان لکھنؤ سے کسب فیض کرتی ہے تو دوسری طرف دبستان دہلی کی شعری خصوصیات بھی اپناتی ہے ۔ وہ اگر قدیم شعری لہجے کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں تو اپنے دور کے جدید طرز اظہار سے بھی پوری طرح آشنا ہیں ۔
شادؔعظیم آبادی کا اصل نام علی محمد، تخلص شادؔ تھا ۔ ان کی ولادت7 جنوری ۱۸۴۶ کو نانا کے مکان ،واقع پورب دروازہ، شہر عظیم آباد (پٹنہ ) میں ہوئی تھی ۔ انہیں اپنے شہر سے بے حد لگاؤ تھا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ اپنے شہر کا نام بھی منسلک کرلیا ۔ شادؔ کے والد کا نام سید اظہار حسین عرف عباس مرزا تھا ۔ جو الٰہ آباد کے رہنے والے تھے ۔ چودہ پندرہ برس کی عمر میں وہ عظیم آباد چلے آئے جہاں شادؔ پیدا ہوئے ۔ شادؔ کی تعلیم کا سلسلہ چار برس کی عمر سے شروع ہوگیا تھا ۔ ان کے اساتذہ میں سید فرحت حسین، سید رمضان علی، شیخ برکت اللہ،شیخ آغا جان اور حاجی محمد رضا جیسے نامور لوگوں کا نام شامل ہے ۔ حالاں کہ خود شادؔ نے اپنے استاد کا نام سید شاہ الفت حسین فریاد تحریر کیا ہے ۔
شادؔ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی ۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصے تک انگریزی بھی پڑھی ۔ اپنی ذاتی لیاقت اور لائق اساتذہ کی تربیت سے اردو،عربی اور فارسی نیز مذہبی علوم اور فنِ شعر میں ایسی مہارت حاصل کی کہ ان کا شمار دورِ جدیدکے اہل علم شعرأ میں ہوتا ہے ۔ علوم اسلامی کے ساتھ ساتھ انہوں نے عیسائیوں، پارسیوں اور ہندؤں کی مذہبی کتابیں بھی پڑھی تھیں، جس سے ان کی علمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ۔ابتدا میں شادؔ نے کلام پر اصلاح دو لوگوں سے لی، جن کے نام ناظر وزیری عبرتی ؔ اور مولانا میر تصدق حسین زخمیؔ ہیں۔ ادبیات اور فنونِ شاعری کی بیشترکتابیں انہیں دو بزرگوں سے پڑھیں لیکن اس کی تکمیل شاہ الفت حسین فریاد سے ہوئی، جو خواجہ میردردؔ کے شاگرد تھے ۔ شادؔ نے اپنی پوری عمر ادب کی خدمت میں گزاری اور تقریباً۶۰ تصانیف یادگار چھوڑی ہیں ۔ ان کی علمی خدمات کا صلہ گورنمنٹ کی طرف سے بھی ملتا رہا ۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے 1891 میں خان بہادر کا خطاب عطا کیا ۔ ساتھ ہی انہیں سرکار سے ایک ہزار روپئے سالانہ کا وظیفہ بھی ملتا رہا ۔
شادؔ کا قد درمیانہ، اکہرا جسم، موزوں وضع قطع اور رنگ صاف تھا ۔ لباس میں شیروانی یا ترکی کوٹ،ایرانی ٹوپی اور انگریزی بوٹ پہنتے تھے ۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں ۔ پہلی شادی ۱۸۶۲میں کلثوم فاطمہ بنت میر آغا جان سے ہوئی تھی ۔ ان کے بطن سے ایک صاحبزادے سید حسین ۱۸۸۰ میں پیدا ہوئے اور اسی دن ماں نے اس سرائے فانی سے کوچ کیا ۔ شادؔ کی دوسری شادی ۱۸۸۶میں زہرہ بیگم سے ہوئی ۔ اس بیوی سے ایک لڑکی آمنہ پیدا ہوئیں ۔ انہیں دو اولادوں سے شادؔ کا خاندان پھولا پھلا اور آگے بڑھا۔
شادؔ سیر و سیاحت کے دلدادہ تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہندستان کے مختلف شہروں کے دورے کیے ۔ مثلاً: کلکتہ، مرشد آباد،لکھنؤ، علی گڑھ، دارجلنگ، کانپور اور جونپور۔ اس کے علاوہ نظامِ حیدرآباد کی دعوت پر حیدرآباد جانے کی آرزو تھی، جو کسی وجہ سے پوری نہ ہوسکی ۔
اپنی ذاتی جائیداد کے علاوہ حکومت کی جانب سے بھی ایک ہزار سالانہ وظیفہ مقرر تھا ۔17 سال تک آنریری مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز رہے اور 14 برس تک میونسپل کمشنر کے عہدے پر بھی کام کیا ۔ ان سب کے باوجود زندگی کے آخری ایام میں مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ آخر کار اردو کا یہ روشن چراغ6جنوری 1927 کو عالم اجسام سے عالم ارواح کو منتقل ہوگیا ۔
شادؔ نے نثر و نظم میں کل ملاکر تقریباً ساٹھ کتابیں یادگار چھوڑی ہیں ، جن میں سے زیادہ تر زیورِ طباعت سے آراستہ ہوچکی ہیں ۔ کلیاتِ شادؔ تین حصوں میں اردو کے نامور ناقد کلیم الدین احمد نے ترتیب دے کر 1978 میں شائع کیا ہے ۔ اس سے قبل انتخابِ کلام شادؔ ،مرتبہ حسرتؔ موہانی:1909 ، ریاض عمر:1914 ،کلامِ شادؔ، مرتبہ قاضی عبدالودود:1922 ، میخانۂ الہام، مرتبہ حمیدؔ عظیم آبادی:1938، سروش ہستی ،مرتب نقی احمد ارشاد :1956، فروغِ ہستی، مرتب نقی احمد ارشاد:1958 ، قطعاتِ شاد،ؔ مرتب فاطمہ بیگم:1964 میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی ان کے کئی اور مجموعے ہیں ، جن میں مراثی شادؔ،( دو جلدیں) مرتب نقی احمد ارشاد:1952، رباعیات شادؔ، تہنیت نامے، طلسم کدہ دنیا، ثمرۂ زندگی، فغانِ دلکش اور مادرِ ہند جیسی بہت سی تخلیقات ابھی بھی طباعت کی راہ دیکھ رہی ہیں ۔
ابھی تک ہم نے جن کتابوں کا ذکر کیا ہے، وہ سبھی شاعری سے متعلق تھیں ۔ شادؔ نے شعری میدان کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی تقریباً24 کتابیں تصنیف کی ہیں ، جن میں سے بعض ابھی طباعت کی منتظر ہیں ۔ نثری تصانیف میں تاریخِ بہار1875 اور1891 میں یعنی دوبارہ شائع ہوچکی ہے ۔ نقش پائے دار تین جلدوں میں علی الترتیب 1924،1927 اور1928 میں منظر عام پر آئیں ۔ ان کی نثری تصانیف میں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا24 میں سے صرف آٹھ ہی شائع ہوسکی ہیں۔ باقی ماندہ کے نام حیاتِ فریاد،صورت الخیال، اردو تعلیم، صورتِ حال، مردم دیدہ، نوائے وطن، فارسی تعلیم، ذخیرۃ الادب، کشکول، فکر بلیغ اور الصرف النحواور المنطق وغیرہ ہیں ۔
شادؔ نے جیسا کہ پچھلے صفات میں عرض کیا گیا، مثنوی، غزل، قیصدہ، مرثیہ اور دوسری اصناف سخن میںبھی طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کی شہرت کا اصل سبب ان کی غزلیں ہیں،جو سادگی، گھلاوٹ، ترنم و شیریں، کیف و سرور اور تاثیر اور اثر کی بدولت لائق توجہ ہیں ۔ ان کے کلام کی سب سے ممتاز خوبی ان کی زبان کی صفائی اور سادگی ہے ۔ وہ نہایت شیریں اور منتخب الفاظ استعمال کرتے ہیں جو فوراً دل و دماغ کو متاثرکرتے ہیں ۔ شادؔ کے زمانے میں غزل کا زور ذرا کم ہونے لگا تھا ۔اس وقت انہوں نے بھی اپنے چند ہم عصروں کے ساتھ غزل کی پلکیں سنوارنے میں خاص کردار ادا کیا اور اپنے منفرد لب و لہجے میں اسے ایک توانائی بھی عطا کی ۔ واردات قلبی کے ساتھ ہی ساتھ اخلاق،فلسفہ اور توحید، ان کے محبوب موضوعات ہیں ۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں حمد، نعت اور منقبت کے مضامین کو اس طرح سے پرویا ہے کہ ان سے ان کی غزلوں کو ایک نئی معنویت حاصل ہوگئی ہے۔
مذہبی تصورات کی آئینہ داری :شا دؔ کے بعض اشعارکی تفہیم کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان کے مذہبی تناظر اور ان احادیث سے واقفیت نہ ہو، جن سے شعر میں استفادہ کیا گیا ہے ۔ ان کے بہت سے شعر اسی خصوصیت کے حامل ہیں ۔ انہیں اسلامی پس منظر میں پیش کرتے ہوئے غزل کی علامتوں سے مذہبی تصورات کی آئینہ داری کا کام لیا گیا ہے۔
خرابات میں میکشو آ کے چن لو نبی اپنا اپنا امام اپنا اپنا
سبو کے آتے ہی اللہ رے خوشی اے مست امام آئے، رسول آئے، خدا آیا
لب پہ آیا نام ادھر اور مست گرنے سے بچا یہ تو ادنیٰ معجزہ ساقی کے میخانوں میں تھا
ساقیِ مہ لقا نے جب خم سے سبو میں ڈال دی مجلسِ مئے میں چار سو شور اٹھا درود کا
ان اشعار میں اگر ایک طرف خمریاتی شاعری کے موضوعات اور غزل کی علامتوں کی لچکداری اور نئے مفہوم کی ترجمانی سے کام لیا گیا ہے تو دوسری طرف ان کا سلسلہ صنف مرثیہ کے ’’ساقی نامہ‘‘ سے استوار نظر آتا ہے ۔ ’’ ساقی نامہ‘‘ کا بنیادی تصور آنحضرت ﷺ اور خانوادۂ رسالت کی محبت کو شراب طہور کے تصور سے ہم آہنگ کرنا ہے ۔ اس شرابِ پاکیزہ کی تعریف دیکھیے ۔
یدِ قدرت سے بنی عرش کے میخانے میں جوچھلکتی رہی قرآن کے پیمانے میں
نوح و اصحاب بہم جس کے سہارے پہنچے جس کا ڈوبا ہوا کوثر کے کنارے پہنچے
شعلۂ نار و سقر سے جو بچا لے وہ شراب حشر میں گرتے ہوؤں کو جو سنبھالے وہ شراب
آگ کی طرح گناہوں کو جو کھالے وہ شراب اپنی پاکی پہ جو قرآن اٹھالے وہ شراب
جس کی قوت سے جوانی فلکِ پیر میں ہے جس کی منزل قدح آئینۂ تطہیر میں ہے
اسلامی تاریخ کے موضوعات : غزل کے دیگر شعراکی طرح شادؔ نے بھی اسلامی تاریخ اور واقعات پر بلیغ اشارے کیے ہیں ،جس کی مثالیں ان کے کلام سے بہ آسانی فراہم ہوجاتی ہیں ۔ اس کے سمجھنے کے لیے ہمیں اسلامی تاریخ سے واقف ہونا ضروری ہے ۔مثلاً۔
اللہ اللہ شکر کا کلمہ نہ بھولا مرکے بھی سرکٹا پر لب تیرے بسمل کا جنباں رہ گیا
بخشوا دیں گے ہم اوروں کے بھی اے شادؔ قصور جد ا علی ہے شہنشاہ دو عالم اپنا
گردن میں طوق ہو کہ سلاسل میں ہو قدم آزاد ہر طرح ہے گرفتار آپ کا
شہنشاہ دو عالم سے مراد حضور پاک ﷺ ہیں پہلے اور تیسرے شعر میں واقعات کربلا کی طرف اشارہ ہے ۔
وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا تصور :شادؔ کے یہاں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی بھی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک اوربات یہاں عرض کرنا مناسب استوار نظر آتا ہے ۔ ’’ ساقی نامہ‘‘ کا بنیادی تصور آنحضرت ﷺ اور خانوادۂ رسالت کی محبت کو شراب طہور کے تصور سے ہم آہنگ کرنا ہے ۔ اس شرابِ پاکیزہ کی تعریف دیکھیے ۔
یدِ قدرت سے بنی عرش کے میخانے میں جوچھلکتی رہی قرآن کے پیمانے میں
نوح و اصحاب بہم جس کے سہارے پہنچے جس کا ڈوبا ہوا کوثر کے کنارے پہنچے
شعلۂ نار و سقر سے جو بچا لے وہ شراب حشر میں گرتے ہوؤں کو جو سنبھالے وہ شراب
آگ کی طرح گناہوں کو جو کھالے وہ شراب اپنی پاکی پہ جو قرآن اٹھالے وہ شراب
جس کی قوت سے جوانی فلکِ پیر میں ہے جس کی منزل قدح آئینۂ تطہیر میں ہے
اسلامی تاریخ کے موضوعات :غزل کے دیگر شعراکی طرح شادؔ نے بھی اسلامی تاریخ اور واقعات پر بلیغ اشارے کیے ہیں ،جس کی مثالیں ان کے کلام سے بہ آسانی فراہم ہوجاتی ہیں ۔ اس کے سمجھنے کے لیے ہمیں اسلامی تاریخ سے واقف ہونا ضروری ہے ۔مثلاً۔
اللہ اللہ شکر کا کلمہ نہ بھولا مرکے بھی سرکٹا پر لب تیرے بسمل کا جنباں رہ گیا
بخشوا دیں گے ہم اوروں کے بھی اے شادؔ قصور جد ا علی ہے شہنشاہ دو عالم اپنا
گردن میں طوق ہو کہ سلاسل میں ہو قدم آزاد ہر طرح ہے گرفتار آپ کا
شہنشاہ دو عالم سے مراد حضور پاک ﷺ ہیں پہلے اور تیسرے شعر میں واقعات کربلا کی طرف اشارہ ہے ۔
وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا تصور :شادؔ کے یہاں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی بھی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک اوربات یہاں عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شادؔ کے یہاں حمدیہ رویہ بھی کارفرما نظر آتا ہے ، وہ اسے اللہ کی قدرت کا کرشمہ تصور کرتے ہیں کہ اس کا جلوہ ذرے ذرے میں نمایا ں ہے۔
جہاں پہنچے اسی کا نور پایا جدھر دیکھا وہی خورشید رو تھا
جس طرف جاتی نظر اپنا ہی جلوہ تھا عیاں میں نہ تھا وحشی کوئی اس آئینہ خانے میں تھا
مہک اٹھا چمنِ دہر کا پتہ پتہ راز چھپنے نہیں دیتی تری خوشبو تیرا
عشق ہے عالمِ امکاں کو محیط اے پیراک ڈھونڈتا پھرتا ہے گھبرا کے کنارہ کس کا
تصور عشق :غزل کے بنیادی موضوعات عشق و محبت کی باتیں کرنا ہے ۔ ان موضوعات میں بھی شادؔ نے اپنی ایک شناخت قائم کی ہے ۔ ان کا عشق والہانہ ہے اور اس میں وہ بڑی بے باکی سے کہتے ہیں ۔
ویران کیجیے کہ دلوں کو بسائیے مئے کش تمام آپ کے میخانہ آپ کا
شادؔ کا عشق،عشق کا بہت پاس رکھتا ہے ۔ انہیں اس تجاہل عارفانہ سے بھی آگاہی ہے، جو دلوں کو ویران تو کرتاہے مگر ذہن سے یادوں کو نہیں مٹاتا ۔ اس لیے کسی کی یاد شادؔ کے یہاں نگاہِ ناز کی برچھی تو بنتی ہے لیکن وہ اس راز سے بھی واقف ہیں کہ نیا فسوں ساز نئے انداز کے ساتھ آیا ہے ۔ وہ شکوہ و شکایت اپنے محبوب سے نہیں کرتے بلکہ اپنے جذبوں کو کچھ یوں ادا کرتے ہیں ۔
پوچھو نہ حال چشم دل آویز یار کا کھولو نہ راز گردش لیل و نہار کا
پاس ناموس عشق تھا ورنہ کتنے آنس پلک تک آئے تھے
میں تو درد و غم و اندوہ کا پتلا ٹھہرا بھول جاتا تجھے پر تو تو نہ بھولا ہوتا
شادؔ کا عشق اس بنیادی انسانی فطرت سے تعلق رکھتا ہے، جہاں جنس ایک مسلّم قوت کی حیثیت سے ابھرتی ہے۔ شادؔ کی عشقیہ غزلیں اپنے اندر اس رس کی کیفیت رکھتی ہیں ،جو ہندوستانی نظریات کی پہچان ہیں ۔
جب کسی نے حال پوچھا رو دیا چشمۂ تر تو نے مجھ کو کھو دیا
نگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینہ اسی کا ہے ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے
تجھ سے مایوس ہزاروں ہیں تصدق تجھ پر تو سلامت رہے تجھ سے ہے تمنا باقی
ساقی کی چشمِ مست پہ مشکل نہیں نگاہ مشکل سنبھالنا ہے دل بے قرار کا
اوپر درج کیے گئے اشعار سے ایک خاص طرح کی فکر، ذہنی پختگی اور سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ شادؔ کے یہاں ان کا ایک اور رنگ ہے، جسے ہم بے حد دل آویز کہہ سکتے ہیں ۔
ایک ستم اور لا کھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
ترچھی نگاہیں، تنگ قبائیں، اف ری جوانی ہائے زمانے
اپنی ہوا سے آپ جھجھکنا، اپنی ادا سے آپ کھٹکنا
چال میں لغزش، منھ پہ حیائیں، اف ری جوانی ہائے زمانے
کالی گھٹائیں، باغ میں جھولے، دھانی دو پٹے لٹ چھٹکائے
مجھ پہ یہ قدغن آپ نہ آئیں، اف ری جوانی ہائے زمانے
پچھلے پہر اٹھ اٹھ کے نمازیں، ناک رگڑنی، سجدوں پہ سجدے
جو نہیں جائز اس کی دعائیں، اف ری جوانی، ہائے زمانے
شادؔ نہ وہ دیدار پرستی، اور نہ وہ بے نشہ کی مستی
تجھ کو کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں، اف ری جوانی، ہائے زمانے
یہ پوری غزل اپنا منفرد لب و لہجہ رکھتی ہے ۔ شا دکا عشق اسی دنیا کا عشق ہے ۔ اسی مادی و فانی دنیا کا عشق ، جی ہاں لیکن ان کے عشق میں ایک طرح کی طرح داری پائی جاتی ہے ۔انہیں یہ بھی احساس تھا کہ یہ دنیا یوں ہی چلتی رہے گی ۔ عشق کی محفل اسی طرح رنگ برنگی اور پرکشش بنی رہے گی ۔ شاید اسی لیے انہوں نے کہا تھا ۔
نت نئے کھیل زمانے کو نظر آئیں گے جب تک اس خاک پہ ہے خاک کا پتلا باقی
شادؔ کی غزلوں سے ان کے ذہن کی پختگی، مزاج کی شائستگی او رطرز فکر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ اب تک ہم نے جتنی مثالیں شادؔ کے کلام سے پیش کی ہیں، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شادؔ نے عشقیہ مضامین بھی باندھے ہیں، تجرباتِعشق کی مصوری بھی کی ہے اور محبوب کی پیکر تراشی بھی لیکن انہوں نے ہر جگہ اپنا ایک معیار قائم رکھا ہے ۔ کہیں بھی کوئی بات اعتدال سے ہٹ کر نہیں کی ۔ انہوں نے اپنے لیے ایک معیار بنائے رکھا او رکلام میں ایک سنجیدگی کی فضا ہمیشہ قائم رکھی ۔ شادؔ کے چند ایسے شعر جو مادی محبت اور عشق مجازی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہاں پیش کیے جاتے ہیں ، جس سے یہ اندازہ بہ خوبی ہوجائے گا کہ ان کا عشق ایک مہذب شخص کا تجربۂ حیات ہے ،جس میں چاہنے اور چاہے جانے کا جذبہ پوری طرح موجود ہے ۔
جو مسکرا کے نظر کی تو جی گئے قاتل نگاہ پھر جو چرائی تو قتل عام کیا
سوچتا ہوں کہ جب آئے گی میری یاد تجھے کون پونچھے گا ڈھلکتا ہوا آنسو تیرا
وہ بزم غیر میں ہر بار اضطراب میرا بہ مصلحت وہ تیرا سر جھکا کے رہ جانا
زبان و بیان : شادؔ نے اپنی زبان کو کبھی بھی دہلی اور لکھنؤ کے دبستانوں میں مقید نہیں کیا ۔ البتہ دونوں سے زبان کی ہمواری، محاوروں کے استعمال، روزمرہ کی برجستگی، لفظوں کے در و بست اور ان کی معنوی قدر وقیمت سے استفادہ ضرور کیا ۔ شادؔ صنائع و بدائع کے استعمال کو بہت اہمیت نہیں دیتے تھے ۔ ہاں کہیں کہیں رعایت لفظی سے کام ضرور لیتے تھے ۔اس طرح شاد کی غزل گوئی اپنے انفرادی لب و لہجے کے باعث اردو کی غزلیہ شاعری میںایک اہم اور منفرد آواز بن کرہمارے سامنے آتی ہے ۔
یہ بزمِ مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں محرومی جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
درج بالا شعر کے بغیر شادؔ عظیم آبادی کا ذکرنا مکمل ہے۔ان کا یہ شعر اس قدر مقبول خاص و عام ہے کہ ان کے نام کے ساتھ جزوِ لا ینفک کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
(1)
میکدے میں تو ہے یکتا ساقیا انّما اللہ اِلٰہاً واحِدَا
کَم مُحبِّ لا یریٰ شیٗاً سِوَک جن کے آگے لفظ مہمل ماسوا
کم عطاشِِ دید شاں برکفت اَنْتَ ساقیہم و خیْرٌ ساَقِیا
انتبہ یا قلْب وشْربْ جُرْعۃً مِن صُبوُحِیِِ ولا لاً طَیِّبَ
اِنّما ا لا فُراحُ میراثُ الْھموم صبر تلخ اَمّا بود حبُ شَفا
سچ تو یوں ہے ظُلمۃٌ فی ظُلمۃِِ جب نہ خود سمجھا تجھے سمجھائوں کیا
کمْ لَکَ السّاقیِ مِنَ القلْبِ الْکَبیر جن کے ہیں بشکستہ دل صرف ثنا
لا اُباَلی او بَری اَو اَقبلیِ تجھ سے اے دنیا نہیں مجھ کو گلا
فاحِ نثرو الورد مِن بستانِہم عطر آگیں کیوں نہ ہو ارض و سماں
اِستَمع یا شادُ یا شیخ الکبیر عمر کو فانی سمجھ دھوکہ نہ کھا
(2)
نہ پہنچا کوئی تا مقصود سُبحان الّذی اَسْراَ کھلا آئینہ دارِ لو کَشفْ پر سرِّ ما اوَحاَ
مجھے بھی تو بنا دے رازدار عَلَّم الاسْمَا خدایا داورا! حَیَّ لَنا مِن اَمْرَنا رُشْدَا
کہوں کیا مجمع الضدّین ہے دنیا وماَ فیِہا نہ ظاہر ہے نہ مخفی ہے نہ پیدا ہے، نہ ناپیدا
قدم رکھتے گھرا بحر فنا کے سخت طوفاں میں بچا لے اے امید بے کساں اے داَفع البَلوَا
حیات جاوداں میں فرق بھی آئے تو آنی ہو مٹوں اور پھر بنوں دریائے ہستی میں حباب آ سا
جو قطرے کی طرح اس بحر پے پایاں میں مل جائوں تو چلائوں کہ بِسم اللہ مَجریھا و مُرسٰھا
وہ دولت دے کہ ان آنکھوں میں سب کچھ ہیچ ہو جائے خطا پوشا ! عطا پاشا ! کرم سازا ! خداوندا
وجود اعتباری کو لگائوں کچھ نہ آنکھوں میں ہٹا دے عشق و حسن ظاہری کا بیچ سے پردا
بصیرت کو میری معراج ہو صدقے میں احمد کے کسی دن مجھ پہ بھی کھل جائے گا اَسرار ما اَوحا
مٹا دے دل سے وحشت زمرہ انساں میں داخل قُوا سے سب وہی لوں کام جو مقصود ہے تیرا
ہیولیٰ کو میرے وہ مو قلم یارب عنایت کر اتارے صفحہ خالی پہ تیرا ہو بہ ہو نقشا
میرے شعروں میں یارب شاہد معنی کا جلوہ ہو مگر حائل رہے لفظوں کا بھی مہکا سا اک پودا
خریدارو بضاعت گو میری مرجات ہے لیکن تردّد کیا خریداری میں ہے بے دام کا سودا
زباں دانوں گہر بھی ہے خزف چشم تعنت میں ہنر ہے جہل سے بدتر جو داغ آیا تعصب کا
نواسنجو! میرے نغموں کا غل ہے عرش اعظم پر خوش آوازو ! سر طوبیٰ پہ جاتا ہے میرا نالا
ہمارا خانوادہ مرکز اردو تھا دہلی میں بحمدللہ گئی ہم سے نہ اب تک خصلتِ آبا
نواسا خان صادق کا ہوں جو تھا نائب سلطاں ہوں کمبل پوش سید خاںدورا خاں کا ہوں پوتا
تعارف کے لئے اتنا بھی لکھا منصفو ورنہ خدا کی مجھ پہ لانت ہو اگر کچھ بھی ہو فخر اس کا
اٹھائوں کیا سر اپنا منیہ کاری میں کاٹی ہے نصب پر کچھ ہے غرہ نہ علم و فضل کا دعوا
وہی پیدا ہے جس ہر ناپید پیدا ہے مسلّم ہے کہ ناپیدا سے کچھ ہوتا نہیں پیدا
محیط کل کے معنی ظاہری گر لیں تو باطل ہے حدوں سے ہی مبرّا، حد کے اندر آ نہیں سکتا
وجود اس کا ہے واجب عقل و وجداں اس پہ ہیںشاہد بجز اتنا سمجھنے کے نہ میں سمجھا نہ تو سمجھا
کوئی شے اس سے باہر کب ہے، ہر شے میں وہی وہ ہے اسی پر متفق دونوں ہے ، نابینا ہو یا بینا
یہ حسرت ہے کہ اس کو دیکھ لوں ، اس کی صدا سن لوں بہ این چشمان نابینابہ ایں اسماع ناشنوا
کیا جو تونے یارب، یا جو اب کرتا ہے سب حق ہے کرم کی جا ستم بھی ہو تو ہے تیرے لئے زیبا
ریاضت نے مجھے سمجھا دئے معنی عبادت کے قوا سے کام لیتا ہوں وہی مطلب ہے جو تیرا
سرور محض بن جائوں جو یکسوئی میسر ہو مٹیں سب آرزوئیں دل سے یہی ارماں نہیں مٹتا
سراپا مو قلم بن جائوں بند آنکھیں اگر کر لوں اتاروں صفحہ خالی پہ تیرا ہوبہو نقشہ
فنا کے بعد جس دن ابر رحمت قطرہ افشاں ہو اگوں زیرِ زمیں سے خاک ہو ہو کر نبات آسا
سیاحت کا مزہ ہستی میں جب جب کھینچ کر لائے تو ہر آنے پہ ظاہر ہو نیا عالم نئی دنیا
فنا کا خوف ہو جائے فنا دل سے تو چین آئے مجرد مادے سے ہوکے ہو جائوں بہشت آسا
یہ سب چاہا مگر اب چاہتا ہوں کچھ نہ چاہوں میں یہی گر چاہتا پہلے تو کیوں ہوتا بشر رسوا
نہ لوں کشتی کا بھی احسان سر پر عین طوفاں میں نہ پوچھوں خضر تک سے وادیٗ پُر ہول میں رستا
مزا دیکھو کہ اس بازار میں سر پر اٹھائے ہوں خریداروں کا احساں بیچ کر بے دام کا سودا
کہاں تک ذی کمالوں، خونِ انصاف ،اک ذرا سوچو خس خاشاک کے روکے کبھی رکتا نہیں دریا
نئی بات آج تک اے شادؔ دیکھی کچھ نہ عالم میں وہی گھٹتی ہوئی عمریں وہی مٹتی ہوئی دنیا
(3)
اے ازلی الوجود اے ابدی البقا بے ادبانہ نہ چل حلقہ عبدیت میں آ
خالق و مخلوق تو مالک و مملوک تو ساجد و مسجود تو عُجب نہ کر سر جھکا
کعبۂ مقصودکاحج تیرے اوپرہے فرض وسعت دل ہے مناـ‘خون تمنا بہا
جان صداقت پہ دے صدق ہے فطرت تری زیست کی پروا نہ کر زیست ہے دام فنا
موردِ آفات رہ ظلم کا تابع نہ بن بھول نہ بھلولے سے بھی واقعہ کربلا
گلشن حق الیقیں سامنے آنکھوں کے ہے چہرہ سے اپنے ہٹا پردہ بیم و رجا
روز ازل خود کہا جوش طرب میں الست ہو گیا پھر کیوں خموش دے کے صدائے بلا
کلمہ قالوا کو تو صیغہ غائب نہ جان جمع کو واحد سمجھ لفظ کا دھوکا نہ کھا
خاک کے پتلے سنبھل خاک کا پُتلا نہ بن تیری تو مسند ہے عرش خاک کجا تو کجا
خار بھی اس باغ کا اپنی جگہ پھول ہے شان سے تیری ہے دور خود کو سمجھنا ہوا
آنکھ سے اشکال دیکھ کان سے آواز سن کہہ کے پشیماں نہ ہو مطلب چوں و چرا
فرش زمیں اے پسر ہے تری تعلیم گاہ جملہ شئونات کے معنی و مطلب لگا
تاکہ ہو عین الیقیں پاک کثافت سے پیس یہاں تک کہ دل پس کے بنے سرمہ سا
زندگی دائمی کی جو تجھے ہے تلاش ذات میں اپنی فنا ہو کے طلب کر بقا
ہے تیری تسبیح پاک غازہ روح وجود تیری ہی توحید ہے شانہ گیسوئے لا
روح امر ہے تیری اس کا عدم نا درست موت ہے تبدیل جا اس سے عبث تو ڈرا
عرصہ کون و مکاں ہیں تری زنبیل میں فیضِ تو افضوں ز حصر جودِ توفوق ؛عطا
دشمن خانہ ہے نفس،پہلے اسی سے سمجھ پھر ہے امیدوں کا پیش جیش طویل اللّوا
آیت والفتح پڑھ ، تا ہو یہ رایت نگوں جہل تمنا ہے یہ جیش طویل اللّوا
باندھ کے محکم کمر، لے تبرِ نفی غیر کاٹ کے سب پھینک دے خارو خسِ ماسوا
چین سے کر زندگی پائوں کو پھیلا کو سو شامِ ازل فرش خواب صبح ابد متّکا
بزم حقیقت میں تو لائق تمجید ہے تیری ہی توحید ہے، قطع کن ما سوا
عرصہ کون و مکاں ، ذرہ کے اندر نہاں شہر تیرا ہے وہاں، جس کا عدم اوستا
عقلِ عسر رائگاں، ہیچ ہے سارا گماں بازی طفلانہ ہے، مسئلہ ارتقا
جلوہ کناں تو جہاں‘ واں نہیں دخل گماں نقش تو تحت اشریٰ شان توفوق السما
تیری گلی کے فقیر مفتخر شاہ و میر دست تو دریا نوال جودِ تو فوق العطا
تیرے تو قانون کی ہے وہی محکم کتاب جس کا ہے صرف ایک ورق معرکہ کربلا
عمر کے بڑھنے سے شاد گھٹ گیا زور زباں پہلے تھا کن جس جگہ ، اب ہے وہیں لفظ لا
شادؔ سخن کی ترے قدر کوئی کیا کرے ایسے جواہر ہیں یہ خلد ہے جن کی بہا
(4)
تیرے جور کا نہ کروں گلہ، کٹے تیغ سے بھی اگر گلا کروں وجد میں یہی میں صدا،کہ اناالشہیدبکر بلا
ہوا نور رخ جو عیاں تیراوسموع وجہک اعقلا مک اٹھے دشت و جبال و در متعشعشاً متزلک
اسی شرم سے کہ الست کا تو جواب میں نے دیا بلیٰ جو بلا کا مجھ پہ نزول تھاتو نہ سمجھا میں کہ ہے کیا بلا
شب غم پہ کچھ نہیں منحصر ہے جہاں حدوث کا مرملا کہ اسی میں سب ہے بھری ہوئی بہت اس طرح کی الا بلا
مجھے ذوق ہے مے وصل کا پہ نہیں عجول میں ساقیہ کہ یہ جام آئے گا مجھ تلک تیری بزم میں متداولا
تیرا ظلم بھی ہے عجب عطاکہ میں فارغ آج ہوں ہر طرح تھے اس ایک وار میں لطف دونہ گلہ رہا نہ رہا گلا
تیرے دم سے اس کا رواج ہے تیرا ناز منفرد آج ہے تیرے سر پہ حسن کا تاج ہے مترصعاً متکلاّ
ہیں نگاہ شوق میں متحد تیرا کوچہ ہو کہ ہو قتل گہہ تیری جلوہ گاہ ہیں دونوں ہی جو منیٰ ہے یہ تو وہ کربلا
جو رضا تیری ثمر اس کا ہے تو سکون و صبر ہیں اس کے گل ہے عجیب چیز نہاں غم نہ ہمیں کو ہائے کبھی پھلا
جو کھلے زبان مہیمنی ، کہیں ہم کو سب سے ہے ایمنی کہ ہیں جملہ کام سے ہم غنی نہکہ عاطلاً وَ مُعَطّلاً
مجھے خوف ہے کہ الجھ کہ یہ کہیں راستے میں نہ رہ پڑے میری روح علم کون سے جو یونہی رکھے گی خلا ملا
ہمیں شاد جس کا بہت تھا ڈر وہی پیش آ گیا الحذر تمہیں کہتے تھے کہ امید سے نہ زیادہ رکھو خلا ملا
مری عمر شاد تمام تر اسی گومگو میں ہوئی بسر نہ کلام کرنے سے غم گھٹا نہ خموشیوں سے کٹی بلا
میں ہریک شعر پہ شادؔ کے کروں جان و مال سی شے فدا مجھے کل کلام ملے کہیں جو مرتبہ مکللا
(5)
دل تو بد نام ہےاک عمر سے کیااس کا گلہ، کہتے آئی ہے صبا یہ تمنا یہ امیدیں جنہیں برسوں پالا ،کب میری ہوں گی بھلا
وہ تری کج روشی، کج کلہی کینہ وری، دلبری عشوہ گری کون غش کھاکے سرِ راہ گرا،کون موا۔پھر کے دیکھا نہ ذرا
بان مارا تری آنکھوں نے جو کی پھر کے نگاہ ۔ نہ ملی دل کو پناہ یار کیا قہر ہے چلتا ہوا جادو تیرا۔ لاکھ روکا نہ رکا
رُت پھری ساری ہری ڈالوں میں پھوٹی کونپل ہوگئے پھول بھی پھل اک یہ اجڑا ہوا دل ہے کہ نہ پھولا نہ پھلا اور سوکھا ہی کیا
کالی کالی وہ گھٹائیں وہ پیپہوں کی پکار دھیمی دھیمی وہ پھوار اب کے ساون بھی ہمارا یوں ہی رونے میں کٹا کیا کہیں چپ کے سوا
بوسہ لینے کا مری خاک کو بھی ہے ارمان، تاب اُٹھنے کی کہاں جامہ زیبی کا بھلا اے صنم تنگ قبا ،کچھ تو دامن کو جھکا
فتنہ خو آفت جاں سنگ دل آشوب جہاں ، دشمن امن و اماں سرورِ کج کلہاں، خسرو اقلیم جفا، بانی مکرو دغا
رس بھری ہائے وہ آنکھیں تری کالی کالی بے پیئے متوالی سانولارنگ ، نمک ریزجراحات جفا، اُف کہاں دھیان گیا
دیکھناتیرا کنکھیوں سےہے آڑی برچھی یار اس کی نہ سہی کب کو گنتی میں ہے وہ گھائو جو اوچھا سا لگا پھر کے پھر دیکھ ذرا
ردیف ب
(1)
میرے سبب سے تھے عیاں آتش و خاک و باد و آب میں نہ رہا تو پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
خلوت ناز میں تھا میں اور وہ شوخ بے حجاب بے سبب آئے درمیاں آتش و خاک و باد و آب
جب نہ ملا عدم میں کچھ قابل نظر دوستاں لے کے چلے ہم ارمغاں آتش و خاک و باد و آب
جبکہ خیال و وہم ہیں تابع حکم اے حکیم پہونچیں گے تابہ لامکاں آتش و خاک و باد و آب
ایسے پڑے ہیں کتنے ہی جن میں نہیں دوئی کا میل سمجھے ہیں صرف ہم یہاں آتش و خاک و باد و آب
لے کے چلا جو کارواں ساتھ وہ شہ سوار حسن گرد میں ہو گئے نہاں آتش و خاک و باد و آب
روح میری ادھر ادھر جائے گی ساتھ میں سایہ دار ہوں گے جدھر بدھر سواں آتش و خاک و باد و آب
جب وہ نہیں کہ جس سے تھا ایک کو دوسرے سے ربط میل کے ساتھ پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
جی نہ لگے گا روح کا اپنے ندیم کے بغیر جائیں گے سب سوئے جناں آتش و خاک و باد و آب
کہتے تھے شادؔ لوگ سچ ایسوں کی دوستی ہی کیا روح سے چھٹ گئے یہاں آتش و خاک و باد و آب
(2)
نالہ دل میں تو پایا نہ اثر آخر شب اے دعا تو مجھے محروم نہ کر آخر شب
اکثر اے درد جگر تجھکو بھی غافل پایا کون لیتا ہے مریضوں کی خبر آخر شب
شام سے یاس نے گھیرا تجھے ناحق اے دل جاگی ہے عرش تلک آہ اگر آخر شب
خود بخود غنچہ خاطر ہے شگفتہ میرا دل نے کس بات کی پائی ہے خبر آخر شب
واسطہ ضبط کا آغاز مشب فرقت کے چشم شد تو مجھے شرمندہ نہ کر آخر شب
دور جانا ہے مسافر تجھے کیسی ہے یہ نیند چونک مل آنکھ اٹھا زاد سفر آخر شب
جھاڑتی جاتی ہے وہ راہ صبا بالوں سے بوئے گل باغ سے جاتی ہے جدھر آخر شب
ٹھنڈے ٹھنڈے دل سوزاں سے نکل جا اے روح کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب
مطمئن ہو تو خدا کے لئے کچھ عرض کروں درد دل بس مجھے بے چین نہ کر آخر شب
کہیں سیل میں بہہ جائے نہ دفتر غم کا جوش اپنا نہ دکھا دیدہ تر آخر شب
شوق دیدار میں عالم ہے یہ آنکھوں کا میری جیسے جاگے ہوئے انساں کی نظر آخر شب
ہو گیا دل کو یقیں صاف کہ پانی برسا بستر اپنا ہوا یوں اشکوں سے تر آخر شب
تیرے کوچے میں کہیں شادؔ نہ ہو پوچھ تو لے اک بڑا شور تھا نالوں کا ادھر آخر شب
(3)
فائدہ اے شادؔ کیا تکمیل سے یہ زمانہ ہے پر آشوب و خراب
ہر طرف ہے جہل کا بازار گرم اہل فن کیوں کر نہ کھائیں پیچ و تاب
مدعی علم ہر بے ربط ہے کیا ہے اس جہل مرکب کا جواب
جاہلان علم و معنی و بدیع ہادیان شاہراہ ناصواب
طبع موزوں پر بھروسا نظم میں بے پڑھے سارے فنوں میں کامیاب
پسلیاں بندش سے توڑیں شعر کی اصطلاحوں کی کریں مٹی خراب
معنی تصنیف سے بھی بے خبر کر سکیں ہرگز نہ فرق فصل و باب
باکمالوں سے بھڑیں آ آ کے وہ تا کہے ذی معرفت ہر شیخ و شباب
خود غلط املا غلط انشا غلط یوں سخن فہموں کو دیں اکثر جواب
اس زمیں میں ہے ہماری بھی غزل ہم نے بھی اس فن میں لکھی ہے کتاب
صرف اس تقریر پر بھی بس نہ ہو سخت گوئی سے کریں اکثر خطاب
امتیاز رطب و یابس کچھ نہ ہو ایک ہو ان کی نظر میں خاک و آب
نظم ہوں کوٹھوں کے مضموں شعر میں محو دل سے پرسش روز حساب
بے سروپا اعتراضوں پر غرور کاملوں سے اس پہ خواہان جواب
خندہ ام آیدازیں طامات مفت لاَ اُبالی صوتھِم صَوتُ الکلاب
(4)
کیا منھ جو دے سکوں تیری تقریر کا جواب بخشش تری ہے خود میری تقصیر کا جواب
لکھے گا یار کیا میری تحریر کا جواب دیکھا نہیں نوشتہ تقدیر کا جواب
آئینہ لے کے ہاتھ میں کہتا ہوں یار سے لایا ہوں ڈھونڈ کر تیری تصویر کا جواب
صیاد جاں شکار ہے ترچھی نظر تیری ترکش میں ایک بھی نہیں اس تیر کا جواب
اتنا ہوا کہ دل میں اترنے لگی ہے بات دیں گے وہ سوچ کر مری تقریر کا جواب
زنداں میں غل مچانے لگی ہے جو بے محل کڑیاں کڑک کے دیتی ہیں زنجیرکا جواب
ناز اپنی گفتگو پہ نہ کر او فضول گو خاموشیاں ہیں اس تیری تقریر کا جواب
ایسا نہ ہو کہ دست ستم کو لگے نظر اے نوجواں نہ دے فلک پیر کا جواب
دل میں ہے گرد غم تو کدورت مزاج میں تعبیر جیسے ہوتی ہے تعمیر کا جواب
جی میں یہ ہے کہ آپ حلق اپنا گھونٹ دوں سوچا ہے میں نے نالہ شبگیر کا جواب
قاصد کو چلتے وقت قسم دی رسول کی ہاں میرے پاساب نہیں تاخیر کا جواب
اے شادؔ ہاتھ پائوں ہلانے سے بھی گئے موت آ کے دے گئی میری تدبیر کا جواب
(5)
شمع فانوس میں ہے اپنی لطافت کے سبب روشنی بند ہے شیشے کی کثافت کے سبب
رنج سے ہوتی ہے ہر چند بشر کو تکلیف تو بھی انسان ممیز ہے اس آفت کے سبب
تب تو ہے خاک میں بھی شعلہ جنبان حیات کیوں الگ رہ نہ سکی روح لطافت کے سبب
ابن آدم ہوں میرے دم سے جہاں کی رونق قدمیوں سے بھی میں اعلیٰ ہوں محبت کے سبب
کہنے والے مجھے جو چاہے کہیں کیا پروا سن کے خاموش ہوں اے شادؔ شرافت کے سبب
کَم مُحبِّ لا یریٰ شیٗاً سِوَک جن کے آگے لفظ مہمل ماسوا
کم عطاشِِ دید شاں برکفت اَنْتَ ساقیہم و خیْرٌ ساَقِیا
انتبہ یا قلْب وشْربْ جُرْعۃً مِن صُبوُحِیِِ ولا لاً طَیِّبَ
اِنّما ا لا فُراحُ میراثُ الْھموم صبر تلخ اَمّا بود حبُ شَفا
سچ تو یوں ہے ظُلمۃٌ فی ظُلمۃِِ جب نہ خود سمجھا تجھے سمجھائوں کیا
کمْ لَکَ السّاقیِ مِنَ القلْبِ الْکَبیر جن کے ہیں بشکستہ دل صرف ثنا
لا اُباَلی او بَری اَو اَقبلیِ تجھ سے اے دنیا نہیں مجھ کو گلا
فاحِ نثرو الورد مِن بستانِہم عطر آگیں کیوں نہ ہو ارض و سماں
اِستَمع یا شادُ یا شیخ الکبیر عمر کو فانی سمجھ دھوکہ نہ کھا
(2)
نہ پہنچا کوئی تا مقصود سُبحان الّذی اَسْراَ کھلا آئینہ دارِ لو کَشفْ پر سرِّ ما اوَحاَ
مجھے بھی تو بنا دے رازدار عَلَّم الاسْمَا خدایا داورا! حَیَّ لَنا مِن اَمْرَنا رُشْدَا
کہوں کیا مجمع الضدّین ہے دنیا وماَ فیِہا نہ ظاہر ہے نہ مخفی ہے نہ پیدا ہے، نہ ناپیدا
قدم رکھتے گھرا بحر فنا کے سخت طوفاں میں بچا لے اے امید بے کساں اے داَفع البَلوَا
حیات جاوداں میں فرق بھی آئے تو آنی ہو مٹوں اور پھر بنوں دریائے ہستی میں حباب آ سا
جو قطرے کی طرح اس بحر پے پایاں میں مل جائوں تو چلائوں کہ بِسم اللہ مَجریھا و مُرسٰھا
وہ دولت دے کہ ان آنکھوں میں سب کچھ ہیچ ہو جائے خطا پوشا ! عطا پاشا ! کرم سازا ! خداوندا
وجود اعتباری کو لگائوں کچھ نہ آنکھوں میں ہٹا دے عشق و حسن ظاہری کا بیچ سے پردا
بصیرت کو میری معراج ہو صدقے میں احمد کے کسی دن مجھ پہ بھی کھل جائے گا اَسرار ما اَوحا
مٹا دے دل سے وحشت زمرہ انساں میں داخل قُوا سے سب وہی لوں کام جو مقصود ہے تیرا
ہیولیٰ کو میرے وہ مو قلم یارب عنایت کر اتارے صفحہ خالی پہ تیرا ہو بہ ہو نقشا
میرے شعروں میں یارب شاہد معنی کا جلوہ ہو مگر حائل رہے لفظوں کا بھی مہکا سا اک پودا
خریدارو بضاعت گو میری مرجات ہے لیکن تردّد کیا خریداری میں ہے بے دام کا سودا
زباں دانوں گہر بھی ہے خزف چشم تعنت میں ہنر ہے جہل سے بدتر جو داغ آیا تعصب کا
نواسنجو! میرے نغموں کا غل ہے عرش اعظم پر خوش آوازو ! سر طوبیٰ پہ جاتا ہے میرا نالا
ہمارا خانوادہ مرکز اردو تھا دہلی میں بحمدللہ گئی ہم سے نہ اب تک خصلتِ آبا
نواسا خان صادق کا ہوں جو تھا نائب سلطاں ہوں کمبل پوش سید خاںدورا خاں کا ہوں پوتا
تعارف کے لئے اتنا بھی لکھا منصفو ورنہ خدا کی مجھ پہ لانت ہو اگر کچھ بھی ہو فخر اس کا
اٹھائوں کیا سر اپنا منیہ کاری میں کاٹی ہے نصب پر کچھ ہے غرہ نہ علم و فضل کا دعوا
وہی پیدا ہے جس ہر ناپید پیدا ہے مسلّم ہے کہ ناپیدا سے کچھ ہوتا نہیں پیدا
محیط کل کے معنی ظاہری گر لیں تو باطل ہے حدوں سے ہی مبرّا، حد کے اندر آ نہیں سکتا
وجود اس کا ہے واجب عقل و وجداں اس پہ ہیںشاہد بجز اتنا سمجھنے کے نہ میں سمجھا نہ تو سمجھا
کوئی شے اس سے باہر کب ہے، ہر شے میں وہی وہ ہے اسی پر متفق دونوں ہے ، نابینا ہو یا بینا
یہ حسرت ہے کہ اس کو دیکھ لوں ، اس کی صدا سن لوں بہ این چشمان نابینابہ ایں اسماع ناشنوا
کیا جو تونے یارب، یا جو اب کرتا ہے سب حق ہے کرم کی جا ستم بھی ہو تو ہے تیرے لئے زیبا
ریاضت نے مجھے سمجھا دئے معنی عبادت کے قوا سے کام لیتا ہوں وہی مطلب ہے جو تیرا
سرور محض بن جائوں جو یکسوئی میسر ہو مٹیں سب آرزوئیں دل سے یہی ارماں نہیں مٹتا
سراپا مو قلم بن جائوں بند آنکھیں اگر کر لوں اتاروں صفحہ خالی پہ تیرا ہوبہو نقشہ
فنا کے بعد جس دن ابر رحمت قطرہ افشاں ہو اگوں زیرِ زمیں سے خاک ہو ہو کر نبات آسا
سیاحت کا مزہ ہستی میں جب جب کھینچ کر لائے تو ہر آنے پہ ظاہر ہو نیا عالم نئی دنیا
فنا کا خوف ہو جائے فنا دل سے تو چین آئے مجرد مادے سے ہوکے ہو جائوں بہشت آسا
یہ سب چاہا مگر اب چاہتا ہوں کچھ نہ چاہوں میں یہی گر چاہتا پہلے تو کیوں ہوتا بشر رسوا
نہ لوں کشتی کا بھی احسان سر پر عین طوفاں میں نہ پوچھوں خضر تک سے وادیٗ پُر ہول میں رستا
مزا دیکھو کہ اس بازار میں سر پر اٹھائے ہوں خریداروں کا احساں بیچ کر بے دام کا سودا
کہاں تک ذی کمالوں، خونِ انصاف ،اک ذرا سوچو خس خاشاک کے روکے کبھی رکتا نہیں دریا
نئی بات آج تک اے شادؔ دیکھی کچھ نہ عالم میں وہی گھٹتی ہوئی عمریں وہی مٹتی ہوئی دنیا
(3)
اے ازلی الوجود اے ابدی البقا بے ادبانہ نہ چل حلقہ عبدیت میں آ
خالق و مخلوق تو مالک و مملوک تو ساجد و مسجود تو عُجب نہ کر سر جھکا
کعبۂ مقصودکاحج تیرے اوپرہے فرض وسعت دل ہے مناـ‘خون تمنا بہا
جان صداقت پہ دے صدق ہے فطرت تری زیست کی پروا نہ کر زیست ہے دام فنا
موردِ آفات رہ ظلم کا تابع نہ بن بھول نہ بھلولے سے بھی واقعہ کربلا
گلشن حق الیقیں سامنے آنکھوں کے ہے چہرہ سے اپنے ہٹا پردہ بیم و رجا
روز ازل خود کہا جوش طرب میں الست ہو گیا پھر کیوں خموش دے کے صدائے بلا
کلمہ قالوا کو تو صیغہ غائب نہ جان جمع کو واحد سمجھ لفظ کا دھوکا نہ کھا
خاک کے پتلے سنبھل خاک کا پُتلا نہ بن تیری تو مسند ہے عرش خاک کجا تو کجا
خار بھی اس باغ کا اپنی جگہ پھول ہے شان سے تیری ہے دور خود کو سمجھنا ہوا
آنکھ سے اشکال دیکھ کان سے آواز سن کہہ کے پشیماں نہ ہو مطلب چوں و چرا
فرش زمیں اے پسر ہے تری تعلیم گاہ جملہ شئونات کے معنی و مطلب لگا
تاکہ ہو عین الیقیں پاک کثافت سے پیس یہاں تک کہ دل پس کے بنے سرمہ سا
زندگی دائمی کی جو تجھے ہے تلاش ذات میں اپنی فنا ہو کے طلب کر بقا
ہے تیری تسبیح پاک غازہ روح وجود تیری ہی توحید ہے شانہ گیسوئے لا
روح امر ہے تیری اس کا عدم نا درست موت ہے تبدیل جا اس سے عبث تو ڈرا
عرصہ کون و مکاں ہیں تری زنبیل میں فیضِ تو افضوں ز حصر جودِ توفوق ؛عطا
دشمن خانہ ہے نفس،پہلے اسی سے سمجھ پھر ہے امیدوں کا پیش جیش طویل اللّوا
آیت والفتح پڑھ ، تا ہو یہ رایت نگوں جہل تمنا ہے یہ جیش طویل اللّوا
باندھ کے محکم کمر، لے تبرِ نفی غیر کاٹ کے سب پھینک دے خارو خسِ ماسوا
چین سے کر زندگی پائوں کو پھیلا کو سو شامِ ازل فرش خواب صبح ابد متّکا
بزم حقیقت میں تو لائق تمجید ہے تیری ہی توحید ہے، قطع کن ما سوا
عرصہ کون و مکاں ، ذرہ کے اندر نہاں شہر تیرا ہے وہاں، جس کا عدم اوستا
عقلِ عسر رائگاں، ہیچ ہے سارا گماں بازی طفلانہ ہے، مسئلہ ارتقا
جلوہ کناں تو جہاں‘ واں نہیں دخل گماں نقش تو تحت اشریٰ شان توفوق السما
تیری گلی کے فقیر مفتخر شاہ و میر دست تو دریا نوال جودِ تو فوق العطا
تیرے تو قانون کی ہے وہی محکم کتاب جس کا ہے صرف ایک ورق معرکہ کربلا
عمر کے بڑھنے سے شاد گھٹ گیا زور زباں پہلے تھا کن جس جگہ ، اب ہے وہیں لفظ لا
شادؔ سخن کی ترے قدر کوئی کیا کرے ایسے جواہر ہیں یہ خلد ہے جن کی بہا
(4)
تیرے جور کا نہ کروں گلہ، کٹے تیغ سے بھی اگر گلا کروں وجد میں یہی میں صدا،کہ اناالشہیدبکر بلا
ہوا نور رخ جو عیاں تیراوسموع وجہک اعقلا مک اٹھے دشت و جبال و در متعشعشاً متزلک
اسی شرم سے کہ الست کا تو جواب میں نے دیا بلیٰ جو بلا کا مجھ پہ نزول تھاتو نہ سمجھا میں کہ ہے کیا بلا
شب غم پہ کچھ نہیں منحصر ہے جہاں حدوث کا مرملا کہ اسی میں سب ہے بھری ہوئی بہت اس طرح کی الا بلا
مجھے ذوق ہے مے وصل کا پہ نہیں عجول میں ساقیہ کہ یہ جام آئے گا مجھ تلک تیری بزم میں متداولا
تیرا ظلم بھی ہے عجب عطاکہ میں فارغ آج ہوں ہر طرح تھے اس ایک وار میں لطف دونہ گلہ رہا نہ رہا گلا
تیرے دم سے اس کا رواج ہے تیرا ناز منفرد آج ہے تیرے سر پہ حسن کا تاج ہے مترصعاً متکلاّ
ہیں نگاہ شوق میں متحد تیرا کوچہ ہو کہ ہو قتل گہہ تیری جلوہ گاہ ہیں دونوں ہی جو منیٰ ہے یہ تو وہ کربلا
جو رضا تیری ثمر اس کا ہے تو سکون و صبر ہیں اس کے گل ہے عجیب چیز نہاں غم نہ ہمیں کو ہائے کبھی پھلا
جو کھلے زبان مہیمنی ، کہیں ہم کو سب سے ہے ایمنی کہ ہیں جملہ کام سے ہم غنی نہکہ عاطلاً وَ مُعَطّلاً
مجھے خوف ہے کہ الجھ کہ یہ کہیں راستے میں نہ رہ پڑے میری روح علم کون سے جو یونہی رکھے گی خلا ملا
ہمیں شاد جس کا بہت تھا ڈر وہی پیش آ گیا الحذر تمہیں کہتے تھے کہ امید سے نہ زیادہ رکھو خلا ملا
مری عمر شاد تمام تر اسی گومگو میں ہوئی بسر نہ کلام کرنے سے غم گھٹا نہ خموشیوں سے کٹی بلا
میں ہریک شعر پہ شادؔ کے کروں جان و مال سی شے فدا مجھے کل کلام ملے کہیں جو مرتبہ مکللا
(5)
دل تو بد نام ہےاک عمر سے کیااس کا گلہ، کہتے آئی ہے صبا یہ تمنا یہ امیدیں جنہیں برسوں پالا ،کب میری ہوں گی بھلا
وہ تری کج روشی، کج کلہی کینہ وری، دلبری عشوہ گری کون غش کھاکے سرِ راہ گرا،کون موا۔پھر کے دیکھا نہ ذرا
بان مارا تری آنکھوں نے جو کی پھر کے نگاہ ۔ نہ ملی دل کو پناہ یار کیا قہر ہے چلتا ہوا جادو تیرا۔ لاکھ روکا نہ رکا
رُت پھری ساری ہری ڈالوں میں پھوٹی کونپل ہوگئے پھول بھی پھل اک یہ اجڑا ہوا دل ہے کہ نہ پھولا نہ پھلا اور سوکھا ہی کیا
کالی کالی وہ گھٹائیں وہ پیپہوں کی پکار دھیمی دھیمی وہ پھوار اب کے ساون بھی ہمارا یوں ہی رونے میں کٹا کیا کہیں چپ کے سوا
بوسہ لینے کا مری خاک کو بھی ہے ارمان، تاب اُٹھنے کی کہاں جامہ زیبی کا بھلا اے صنم تنگ قبا ،کچھ تو دامن کو جھکا
فتنہ خو آفت جاں سنگ دل آشوب جہاں ، دشمن امن و اماں سرورِ کج کلہاں، خسرو اقلیم جفا، بانی مکرو دغا
رس بھری ہائے وہ آنکھیں تری کالی کالی بے پیئے متوالی سانولارنگ ، نمک ریزجراحات جفا، اُف کہاں دھیان گیا
دیکھناتیرا کنکھیوں سےہے آڑی برچھی یار اس کی نہ سہی کب کو گنتی میں ہے وہ گھائو جو اوچھا سا لگا پھر کے پھر دیکھ ذرا
ردیف ب
(1)
میرے سبب سے تھے عیاں آتش و خاک و باد و آب میں نہ رہا تو پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
خلوت ناز میں تھا میں اور وہ شوخ بے حجاب بے سبب آئے درمیاں آتش و خاک و باد و آب
جب نہ ملا عدم میں کچھ قابل نظر دوستاں لے کے چلے ہم ارمغاں آتش و خاک و باد و آب
جبکہ خیال و وہم ہیں تابع حکم اے حکیم پہونچیں گے تابہ لامکاں آتش و خاک و باد و آب
ایسے پڑے ہیں کتنے ہی جن میں نہیں دوئی کا میل سمجھے ہیں صرف ہم یہاں آتش و خاک و باد و آب
لے کے چلا جو کارواں ساتھ وہ شہ سوار حسن گرد میں ہو گئے نہاں آتش و خاک و باد و آب
روح میری ادھر ادھر جائے گی ساتھ میں سایہ دار ہوں گے جدھر بدھر سواں آتش و خاک و باد و آب
جب وہ نہیں کہ جس سے تھا ایک کو دوسرے سے ربط میل کے ساتھ پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
جی نہ لگے گا روح کا اپنے ندیم کے بغیر جائیں گے سب سوئے جناں آتش و خاک و باد و آب
کہتے تھے شادؔ لوگ سچ ایسوں کی دوستی ہی کیا روح سے چھٹ گئے یہاں آتش و خاک و باد و آب
(2)
نالہ دل میں تو پایا نہ اثر آخر شب اے دعا تو مجھے محروم نہ کر آخر شب
اکثر اے درد جگر تجھکو بھی غافل پایا کون لیتا ہے مریضوں کی خبر آخر شب
شام سے یاس نے گھیرا تجھے ناحق اے دل جاگی ہے عرش تلک آہ اگر آخر شب
خود بخود غنچہ خاطر ہے شگفتہ میرا دل نے کس بات کی پائی ہے خبر آخر شب
واسطہ ضبط کا آغاز مشب فرقت کے چشم شد تو مجھے شرمندہ نہ کر آخر شب
دور جانا ہے مسافر تجھے کیسی ہے یہ نیند چونک مل آنکھ اٹھا زاد سفر آخر شب
جھاڑتی جاتی ہے وہ راہ صبا بالوں سے بوئے گل باغ سے جاتی ہے جدھر آخر شب
ٹھنڈے ٹھنڈے دل سوزاں سے نکل جا اے روح کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب
مطمئن ہو تو خدا کے لئے کچھ عرض کروں درد دل بس مجھے بے چین نہ کر آخر شب
کہیں سیل میں بہہ جائے نہ دفتر غم کا جوش اپنا نہ دکھا دیدہ تر آخر شب
شوق دیدار میں عالم ہے یہ آنکھوں کا میری جیسے جاگے ہوئے انساں کی نظر آخر شب
ہو گیا دل کو یقیں صاف کہ پانی برسا بستر اپنا ہوا یوں اشکوں سے تر آخر شب
تیرے کوچے میں کہیں شادؔ نہ ہو پوچھ تو لے اک بڑا شور تھا نالوں کا ادھر آخر شب
(3)
فائدہ اے شادؔ کیا تکمیل سے یہ زمانہ ہے پر آشوب و خراب
ہر طرف ہے جہل کا بازار گرم اہل فن کیوں کر نہ کھائیں پیچ و تاب
مدعی علم ہر بے ربط ہے کیا ہے اس جہل مرکب کا جواب
جاہلان علم و معنی و بدیع ہادیان شاہراہ ناصواب
طبع موزوں پر بھروسا نظم میں بے پڑھے سارے فنوں میں کامیاب
پسلیاں بندش سے توڑیں شعر کی اصطلاحوں کی کریں مٹی خراب
معنی تصنیف سے بھی بے خبر کر سکیں ہرگز نہ فرق فصل و باب
باکمالوں سے بھڑیں آ آ کے وہ تا کہے ذی معرفت ہر شیخ و شباب
خود غلط املا غلط انشا غلط یوں سخن فہموں کو دیں اکثر جواب
اس زمیں میں ہے ہماری بھی غزل ہم نے بھی اس فن میں لکھی ہے کتاب
صرف اس تقریر پر بھی بس نہ ہو سخت گوئی سے کریں اکثر خطاب
امتیاز رطب و یابس کچھ نہ ہو ایک ہو ان کی نظر میں خاک و آب
نظم ہوں کوٹھوں کے مضموں شعر میں محو دل سے پرسش روز حساب
بے سروپا اعتراضوں پر غرور کاملوں سے اس پہ خواہان جواب
خندہ ام آیدازیں طامات مفت لاَ اُبالی صوتھِم صَوتُ الکلاب
(4)
کیا منھ جو دے سکوں تیری تقریر کا جواب بخشش تری ہے خود میری تقصیر کا جواب
لکھے گا یار کیا میری تحریر کا جواب دیکھا نہیں نوشتہ تقدیر کا جواب
آئینہ لے کے ہاتھ میں کہتا ہوں یار سے لایا ہوں ڈھونڈ کر تیری تصویر کا جواب
صیاد جاں شکار ہے ترچھی نظر تیری ترکش میں ایک بھی نہیں اس تیر کا جواب
اتنا ہوا کہ دل میں اترنے لگی ہے بات دیں گے وہ سوچ کر مری تقریر کا جواب
زنداں میں غل مچانے لگی ہے جو بے محل کڑیاں کڑک کے دیتی ہیں زنجیرکا جواب
ناز اپنی گفتگو پہ نہ کر او فضول گو خاموشیاں ہیں اس تیری تقریر کا جواب
ایسا نہ ہو کہ دست ستم کو لگے نظر اے نوجواں نہ دے فلک پیر کا جواب
دل میں ہے گرد غم تو کدورت مزاج میں تعبیر جیسے ہوتی ہے تعمیر کا جواب
جی میں یہ ہے کہ آپ حلق اپنا گھونٹ دوں سوچا ہے میں نے نالہ شبگیر کا جواب
قاصد کو چلتے وقت قسم دی رسول کی ہاں میرے پاساب نہیں تاخیر کا جواب
اے شادؔ ہاتھ پائوں ہلانے سے بھی گئے موت آ کے دے گئی میری تدبیر کا جواب
(5)
شمع فانوس میں ہے اپنی لطافت کے سبب روشنی بند ہے شیشے کی کثافت کے سبب
رنج سے ہوتی ہے ہر چند بشر کو تکلیف تو بھی انسان ممیز ہے اس آفت کے سبب
تب تو ہے خاک میں بھی شعلہ جنبان حیات کیوں الگ رہ نہ سکی روح لطافت کے سبب
ابن آدم ہوں میرے دم سے جہاں کی رونق قدمیوں سے بھی میں اعلیٰ ہوں محبت کے سبب
کہنے والے مجھے جو چاہے کہیں کیا پروا سن کے خاموش ہوں اے شادؔ شرافت کے سبب
خالق و مخلوق تو مالک و مملوک تو ساجد و مسجود تو عُجب نہ کر سر جھکا
کعبۂ مقصودکاحج تیرے اوپرہے فرض وسعت دل ہے مناـ‘خون تمنا بہا
جان صداقت پہ دے صدق ہے فطرت تری زیست کی پروا نہ کر زیست ہے دام فنا
موردِ آفات رہ ظلم کا تابع نہ بن بھول نہ بھلولے سے بھی واقعہ کربلا
گلشن حق الیقیں سامنے آنکھوں کے ہے چہرہ سے اپنے ہٹا پردہ بیم و رجا
روز ازل خود کہا جوش طرب میں الست ہو گیا پھر کیوں خموش دے کے صدائے بلا
کلمہ قالوا کو تو صیغہ غائب نہ جان جمع کو واحد سمجھ لفظ کا دھوکا نہ کھا
خاک کے پتلے سنبھل خاک کا پُتلا نہ بن تیری تو مسند ہے عرش خاک کجا تو کجا
خار بھی اس باغ کا اپنی جگہ پھول ہے شان سے تیری ہے دور خود کو سمجھنا ہوا
آنکھ سے اشکال دیکھ کان سے آواز سن کہہ کے پشیماں نہ ہو مطلب چوں و چرا
فرش زمیں اے پسر ہے تری تعلیم گاہ جملہ شئونات کے معنی و مطلب لگا
تاکہ ہو عین الیقیں پاک کثافت سے پیس یہاں تک کہ دل پس کے بنے سرمہ سا
زندگی دائمی کی جو تجھے ہے تلاش ذات میں اپنی فنا ہو کے طلب کر بقا
ہے تیری تسبیح پاک غازہ روح وجود تیری ہی توحید ہے شانہ گیسوئے لا
روح امر ہے تیری اس کا عدم نا درست موت ہے تبدیل جا اس سے عبث تو ڈرا
عرصہ کون و مکاں ہیں تری زنبیل میں فیضِ تو افضوں ز حصر جودِ توفوق ؛عطا
دشمن خانہ ہے نفس،پہلے اسی سے سمجھ پھر ہے امیدوں کا پیش جیش طویل اللّوا
آیت والفتح پڑھ ، تا ہو یہ رایت نگوں جہل تمنا ہے یہ جیش طویل اللّوا
باندھ کے محکم کمر، لے تبرِ نفی غیر کاٹ کے سب پھینک دے خارو خسِ ماسوا
چین سے کر زندگی پائوں کو پھیلا کو سو شامِ ازل فرش خواب صبح ابد متّکا
بزم حقیقت میں تو لائق تمجید ہے تیری ہی توحید ہے، قطع کن ما سوا
عرصہ کون و مکاں ، ذرہ کے اندر نہاں شہر تیرا ہے وہاں، جس کا عدم اوستا
عقلِ عسر رائگاں، ہیچ ہے سارا گماں بازی طفلانہ ہے، مسئلہ ارتقا
جلوہ کناں تو جہاں‘ واں نہیں دخل گماں نقش تو تحت اشریٰ شان توفوق السما
تیری گلی کے فقیر مفتخر شاہ و میر دست تو دریا نوال جودِ تو فوق العطا
تیرے تو قانون کی ہے وہی محکم کتاب جس کا ہے صرف ایک ورق معرکہ کربلا
عمر کے بڑھنے سے شاد گھٹ گیا زور زباں پہلے تھا کن جس جگہ ، اب ہے وہیں لفظ لا
شادؔ سخن کی ترے قدر کوئی کیا کرے ایسے جواہر ہیں یہ خلد ہے جن کی بہا
(4)
تیرے جور کا نہ کروں گلہ، کٹے تیغ سے بھی اگر گلا کروں وجد میں یہی میں صدا،کہ اناالشہیدبکر بلا
ہوا نور رخ جو عیاں تیراوسموع وجہک اعقلا مک اٹھے دشت و جبال و در متعشعشاً متزلک
اسی شرم سے کہ الست کا تو جواب میں نے دیا بلیٰ جو بلا کا مجھ پہ نزول تھاتو نہ سمجھا میں کہ ہے کیا بلا
شب غم پہ کچھ نہیں منحصر ہے جہاں حدوث کا مرملا کہ اسی میں سب ہے بھری ہوئی بہت اس طرح کی الا بلا
مجھے ذوق ہے مے وصل کا پہ نہیں عجول میں ساقیہ کہ یہ جام آئے گا مجھ تلک تیری بزم میں متداولا
تیرا ظلم بھی ہے عجب عطاکہ میں فارغ آج ہوں ہر طرح تھے اس ایک وار میں لطف دونہ گلہ رہا نہ رہا گلا
تیرے دم سے اس کا رواج ہے تیرا ناز منفرد آج ہے تیرے سر پہ حسن کا تاج ہے مترصعاً متکلاّ
ہیں نگاہ شوق میں متحد تیرا کوچہ ہو کہ ہو قتل گہہ تیری جلوہ گاہ ہیں دونوں ہی جو منیٰ ہے یہ تو وہ کربلا
جو رضا تیری ثمر اس کا ہے تو سکون و صبر ہیں اس کے گل ہے عجیب چیز نہاں غم نہ ہمیں کو ہائے کبھی پھلا
جو کھلے زبان مہیمنی ، کہیں ہم کو سب سے ہے ایمنی کہ ہیں جملہ کام سے ہم غنی نہکہ عاطلاً وَ مُعَطّلاً
مجھے خوف ہے کہ الجھ کہ یہ کہیں راستے میں نہ رہ پڑے میری روح علم کون سے جو یونہی رکھے گی خلا ملا
ہمیں شاد جس کا بہت تھا ڈر وہی پیش آ گیا الحذر تمہیں کہتے تھے کہ امید سے نہ زیادہ رکھو خلا ملا
مری عمر شاد تمام تر اسی گومگو میں ہوئی بسر نہ کلام کرنے سے غم گھٹا نہ خموشیوں سے کٹی بلا
میں ہریک شعر پہ شادؔ کے کروں جان و مال سی شے فدا مجھے کل کلام ملے کہیں جو مرتبہ مکللا
(5)
دل تو بد نام ہےاک عمر سے کیااس کا گلہ، کہتے آئی ہے صبا یہ تمنا یہ امیدیں جنہیں برسوں پالا ،کب میری ہوں گی بھلا
وہ تری کج روشی، کج کلہی کینہ وری، دلبری عشوہ گری کون غش کھاکے سرِ راہ گرا،کون موا۔پھر کے دیکھا نہ ذرا
بان مارا تری آنکھوں نے جو کی پھر کے نگاہ ۔ نہ ملی دل کو پناہ یار کیا قہر ہے چلتا ہوا جادو تیرا۔ لاکھ روکا نہ رکا
رُت پھری ساری ہری ڈالوں میں پھوٹی کونپل ہوگئے پھول بھی پھل اک یہ اجڑا ہوا دل ہے کہ نہ پھولا نہ پھلا اور سوکھا ہی کیا
کالی کالی وہ گھٹائیں وہ پیپہوں کی پکار دھیمی دھیمی وہ پھوار اب کے ساون بھی ہمارا یوں ہی رونے میں کٹا کیا کہیں چپ کے سوا
بوسہ لینے کا مری خاک کو بھی ہے ارمان، تاب اُٹھنے کی کہاں جامہ زیبی کا بھلا اے صنم تنگ قبا ،کچھ تو دامن کو جھکا
فتنہ خو آفت جاں سنگ دل آشوب جہاں ، دشمن امن و اماں سرورِ کج کلہاں، خسرو اقلیم جفا، بانی مکرو دغا
رس بھری ہائے وہ آنکھیں تری کالی کالی بے پیئے متوالی سانولارنگ ، نمک ریزجراحات جفا، اُف کہاں دھیان گیا
دیکھناتیرا کنکھیوں سےہے آڑی برچھی یار اس کی نہ سہی کب کو گنتی میں ہے وہ گھائو جو اوچھا سا لگا پھر کے پھر دیکھ ذرا
ردیف ب
(1)
میرے سبب سے تھے عیاں آتش و خاک و باد و آب میں نہ رہا تو پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
خلوت ناز میں تھا میں اور وہ شوخ بے حجاب بے سبب آئے درمیاں آتش و خاک و باد و آب
جب نہ ملا عدم میں کچھ قابل نظر دوستاں لے کے چلے ہم ارمغاں آتش و خاک و باد و آب
جبکہ خیال و وہم ہیں تابع حکم اے حکیم پہونچیں گے تابہ لامکاں آتش و خاک و باد و آب
ایسے پڑے ہیں کتنے ہی جن میں نہیں دوئی کا میل سمجھے ہیں صرف ہم یہاں آتش و خاک و باد و آب
لے کے چلا جو کارواں ساتھ وہ شہ سوار حسن گرد میں ہو گئے نہاں آتش و خاک و باد و آب
روح میری ادھر ادھر جائے گی ساتھ میں سایہ دار ہوں گے جدھر بدھر سواں آتش و خاک و باد و آب
جب وہ نہیں کہ جس سے تھا ایک کو دوسرے سے ربط میل کے ساتھ پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
جی نہ لگے گا روح کا اپنے ندیم کے بغیر جائیں گے سب سوئے جناں آتش و خاک و باد و آب
کہتے تھے شادؔ لوگ سچ ایسوں کی دوستی ہی کیا روح سے چھٹ گئے یہاں آتش و خاک و باد و آب
(2)
نالہ دل میں تو پایا نہ اثر آخر شب اے دعا تو مجھے محروم نہ کر آخر شب
اکثر اے درد جگر تجھکو بھی غافل پایا کون لیتا ہے مریضوں کی خبر آخر شب
شام سے یاس نے گھیرا تجھے ناحق اے دل جاگی ہے عرش تلک آہ اگر آخر شب
خود بخود غنچہ خاطر ہے شگفتہ میرا دل نے کس بات کی پائی ہے خبر آخر شب
واسطہ ضبط کا آغاز مشب فرقت کے چشم شد تو مجھے شرمندہ نہ کر آخر شب
دور جانا ہے مسافر تجھے کیسی ہے یہ نیند چونک مل آنکھ اٹھا زاد سفر آخر شب
جھاڑتی جاتی ہے وہ راہ صبا بالوں سے بوئے گل باغ سے جاتی ہے جدھر آخر شب
ٹھنڈے ٹھنڈے دل سوزاں سے نکل جا اے روح کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب
مطمئن ہو تو خدا کے لئے کچھ عرض کروں درد دل بس مجھے بے چین نہ کر آخر شب
کہیں سیل میں بہہ جائے نہ دفتر غم کا جوش اپنا نہ دکھا دیدہ تر آخر شب
شوق دیدار میں عالم ہے یہ آنکھوں کا میری جیسے جاگے ہوئے انساں کی نظر آخر شب
ہو گیا دل کو یقیں صاف کہ پانی برسا بستر اپنا ہوا یوں اشکوں سے تر آخر شب
تیرے کوچے میں کہیں شادؔ نہ ہو پوچھ تو لے اک بڑا شور تھا نالوں کا ادھر آخر شب
(3)
فائدہ اے شادؔ کیا تکمیل سے یہ زمانہ ہے پر آشوب و خراب
ہر طرف ہے جہل کا بازار گرم اہل فن کیوں کر نہ کھائیں پیچ و تاب
مدعی علم ہر بے ربط ہے کیا ہے اس جہل مرکب کا جواب
جاہلان علم و معنی و بدیع ہادیان شاہراہ ناصواب
طبع موزوں پر بھروسا نظم میں بے پڑھے سارے فنوں میں کامیاب
پسلیاں بندش سے توڑیں شعر کی اصطلاحوں کی کریں مٹی خراب
معنی تصنیف سے بھی بے خبر کر سکیں ہرگز نہ فرق فصل و باب
باکمالوں سے بھڑیں آ آ کے وہ تا کہے ذی معرفت ہر شیخ و شباب
خود غلط املا غلط انشا غلط یوں سخن فہموں کو دیں اکثر جواب
اس زمیں میں ہے ہماری بھی غزل ہم نے بھی اس فن میں لکھی ہے کتاب
صرف اس تقریر پر بھی بس نہ ہو سخت گوئی سے کریں اکثر خطاب
امتیاز رطب و یابس کچھ نہ ہو ایک ہو ان کی نظر میں خاک و آب
نظم ہوں کوٹھوں کے مضموں شعر میں محو دل سے پرسش روز حساب
بے سروپا اعتراضوں پر غرور کاملوں سے اس پہ خواہان جواب
خندہ ام آیدازیں طامات مفت لاَ اُبالی صوتھِم صَوتُ الکلاب
(4)
کیا منھ جو دے سکوں تیری تقریر کا جواب بخشش تری ہے خود میری تقصیر کا جواب
لکھے گا یار کیا میری تحریر کا جواب دیکھا نہیں نوشتہ تقدیر کا جواب
آئینہ لے کے ہاتھ میں کہتا ہوں یار سے لایا ہوں ڈھونڈ کر تیری تصویر کا جواب
صیاد جاں شکار ہے ترچھی نظر تیری ترکش میں ایک بھی نہیں اس تیر کا جواب
اتنا ہوا کہ دل میں اترنے لگی ہے بات دیں گے وہ سوچ کر مری تقریر کا جواب
زنداں میں غل مچانے لگی ہے جو بے محل کڑیاں کڑک کے دیتی ہیں زنجیرکا جواب
ناز اپنی گفتگو پہ نہ کر او فضول گو خاموشیاں ہیں اس تیری تقریر کا جواب
ایسا نہ ہو کہ دست ستم کو لگے نظر اے نوجواں نہ دے فلک پیر کا جواب
دل میں ہے گرد غم تو کدورت مزاج میں تعبیر جیسے ہوتی ہے تعمیر کا جواب
جی میں یہ ہے کہ آپ حلق اپنا گھونٹ دوں سوچا ہے میں نے نالہ شبگیر کا جواب
قاصد کو چلتے وقت قسم دی رسول کی ہاں میرے پاساب نہیں تاخیر کا جواب
اے شادؔ ہاتھ پائوں ہلانے سے بھی گئے موت آ کے دے گئی میری تدبیر کا جواب
(5)
شمع فانوس میں ہے اپنی لطافت کے سبب روشنی بند ہے شیشے کی کثافت کے سبب
رنج سے ہوتی ہے ہر چند بشر کو تکلیف تو بھی انسان ممیز ہے اس آفت کے سبب
تب تو ہے خاک میں بھی شعلہ جنبان حیات کیوں الگ رہ نہ سکی روح لطافت کے سبب
ابن آدم ہوں میرے دم سے جہاں کی رونق قدمیوں سے بھی میں اعلیٰ ہوں محبت کے سبب
کہنے والے مجھے جو چاہے کہیں کیا پروا سن کے خاموش ہوں اے شادؔ شرافت کے سبب
وہ تری کج روشی، کج کلہی کینہ وری، دلبری عشوہ گری کون غش کھاکے سرِ راہ گرا،کون موا۔پھر کے دیکھا نہ ذرا
بان مارا تری آنکھوں نے جو کی پھر کے نگاہ ۔ نہ ملی دل کو پناہ یار کیا قہر ہے چلتا ہوا جادو تیرا۔ لاکھ روکا نہ رکا
رُت پھری ساری ہری ڈالوں میں پھوٹی کونپل ہوگئے پھول بھی پھل اک یہ اجڑا ہوا دل ہے کہ نہ پھولا نہ پھلا اور سوکھا ہی کیا
کالی کالی وہ گھٹائیں وہ پیپہوں کی پکار دھیمی دھیمی وہ پھوار اب کے ساون بھی ہمارا یوں ہی رونے میں کٹا کیا کہیں چپ کے سوا
بوسہ لینے کا مری خاک کو بھی ہے ارمان، تاب اُٹھنے کی کہاں جامہ زیبی کا بھلا اے صنم تنگ قبا ،کچھ تو دامن کو جھکا
فتنہ خو آفت جاں سنگ دل آشوب جہاں ، دشمن امن و اماں سرورِ کج کلہاں، خسرو اقلیم جفا، بانی مکرو دغا
رس بھری ہائے وہ آنکھیں تری کالی کالی بے پیئے متوالی سانولارنگ ، نمک ریزجراحات جفا، اُف کہاں دھیان گیا
دیکھناتیرا کنکھیوں سےہے آڑی برچھی یار اس کی نہ سہی کب کو گنتی میں ہے وہ گھائو جو اوچھا سا لگا پھر کے پھر دیکھ ذرا
ردیف ب
(1)
میرے سبب سے تھے عیاں آتش و خاک و باد و آب میں نہ رہا تو پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
خلوت ناز میں تھا میں اور وہ شوخ بے حجاب بے سبب آئے درمیاں آتش و خاک و باد و آب
جب نہ ملا عدم میں کچھ قابل نظر دوستاں لے کے چلے ہم ارمغاں آتش و خاک و باد و آب
جبکہ خیال و وہم ہیں تابع حکم اے حکیم پہونچیں گے تابہ لامکاں آتش و خاک و باد و آب
ایسے پڑے ہیں کتنے ہی جن میں نہیں دوئی کا میل سمجھے ہیں صرف ہم یہاں آتش و خاک و باد و آب
لے کے چلا جو کارواں ساتھ وہ شہ سوار حسن گرد میں ہو گئے نہاں آتش و خاک و باد و آب
روح میری ادھر ادھر جائے گی ساتھ میں سایہ دار ہوں گے جدھر بدھر سواں آتش و خاک و باد و آب
جب وہ نہیں کہ جس سے تھا ایک کو دوسرے سے ربط میل کے ساتھ پھر کہاں آتش و خاک و باد و آب
جی نہ لگے گا روح کا اپنے ندیم کے بغیر جائیں گے سب سوئے جناں آتش و خاک و باد و آب
کہتے تھے شادؔ لوگ سچ ایسوں کی دوستی ہی کیا روح سے چھٹ گئے یہاں آتش و خاک و باد و آب
(2)
نالہ دل میں تو پایا نہ اثر آخر شب اے دعا تو مجھے محروم نہ کر آخر شب
اکثر اے درد جگر تجھکو بھی غافل پایا کون لیتا ہے مریضوں کی خبر آخر شب
شام سے یاس نے گھیرا تجھے ناحق اے دل جاگی ہے عرش تلک آہ اگر آخر شب
خود بخود غنچہ خاطر ہے شگفتہ میرا دل نے کس بات کی پائی ہے خبر آخر شب
واسطہ ضبط کا آغاز مشب فرقت کے چشم شد تو مجھے شرمندہ نہ کر آخر شب
دور جانا ہے مسافر تجھے کیسی ہے یہ نیند چونک مل آنکھ اٹھا زاد سفر آخر شب
جھاڑتی جاتی ہے وہ راہ صبا بالوں سے بوئے گل باغ سے جاتی ہے جدھر آخر شب
ٹھنڈے ٹھنڈے دل سوزاں سے نکل جا اے روح کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب
مطمئن ہو تو خدا کے لئے کچھ عرض کروں درد دل بس مجھے بے چین نہ کر آخر شب
کہیں سیل میں بہہ جائے نہ دفتر غم کا جوش اپنا نہ دکھا دیدہ تر آخر شب
شوق دیدار میں عالم ہے یہ آنکھوں کا میری جیسے جاگے ہوئے انساں کی نظر آخر شب
ہو گیا دل کو یقیں صاف کہ پانی برسا بستر اپنا ہوا یوں اشکوں سے تر آخر شب
تیرے کوچے میں کہیں شادؔ نہ ہو پوچھ تو لے اک بڑا شور تھا نالوں کا ادھر آخر شب
(3)
فائدہ اے شادؔ کیا تکمیل سے یہ زمانہ ہے پر آشوب و خراب
ہر طرف ہے جہل کا بازار گرم اہل فن کیوں کر نہ کھائیں پیچ و تاب
مدعی علم ہر بے ربط ہے کیا ہے اس جہل مرکب کا جواب
جاہلان علم و معنی و بدیع ہادیان شاہراہ ناصواب
طبع موزوں پر بھروسا نظم میں بے پڑھے سارے فنوں میں کامیاب
پسلیاں بندش سے توڑیں شعر کی اصطلاحوں کی کریں مٹی خراب
معنی تصنیف سے بھی بے خبر کر سکیں ہرگز نہ فرق فصل و باب
باکمالوں سے بھڑیں آ آ کے وہ تا کہے ذی معرفت ہر شیخ و شباب
خود غلط املا غلط انشا غلط یوں سخن فہموں کو دیں اکثر جواب
اس زمیں میں ہے ہماری بھی غزل ہم نے بھی اس فن میں لکھی ہے کتاب
صرف اس تقریر پر بھی بس نہ ہو سخت گوئی سے کریں اکثر خطاب
امتیاز رطب و یابس کچھ نہ ہو ایک ہو ان کی نظر میں خاک و آب
نظم ہوں کوٹھوں کے مضموں شعر میں محو دل سے پرسش روز حساب
بے سروپا اعتراضوں پر غرور کاملوں سے اس پہ خواہان جواب
خندہ ام آیدازیں طامات مفت لاَ اُبالی صوتھِم صَوتُ الکلاب
(4)
کیا منھ جو دے سکوں تیری تقریر کا جواب بخشش تری ہے خود میری تقصیر کا جواب
لکھے گا یار کیا میری تحریر کا جواب دیکھا نہیں نوشتہ تقدیر کا جواب
آئینہ لے کے ہاتھ میں کہتا ہوں یار سے لایا ہوں ڈھونڈ کر تیری تصویر کا جواب
صیاد جاں شکار ہے ترچھی نظر تیری ترکش میں ایک بھی نہیں اس تیر کا جواب
اتنا ہوا کہ دل میں اترنے لگی ہے بات دیں گے وہ سوچ کر مری تقریر کا جواب
زنداں میں غل مچانے لگی ہے جو بے محل کڑیاں کڑک کے دیتی ہیں زنجیرکا جواب
ناز اپنی گفتگو پہ نہ کر او فضول گو خاموشیاں ہیں اس تیری تقریر کا جواب
ایسا نہ ہو کہ دست ستم کو لگے نظر اے نوجواں نہ دے فلک پیر کا جواب
دل میں ہے گرد غم تو کدورت مزاج میں تعبیر جیسے ہوتی ہے تعمیر کا جواب
جی میں یہ ہے کہ آپ حلق اپنا گھونٹ دوں سوچا ہے میں نے نالہ شبگیر کا جواب
قاصد کو چلتے وقت قسم دی رسول کی ہاں میرے پاساب نہیں تاخیر کا جواب
اے شادؔ ہاتھ پائوں ہلانے سے بھی گئے موت آ کے دے گئی میری تدبیر کا جواب
(5)
شمع فانوس میں ہے اپنی لطافت کے سبب روشنی بند ہے شیشے کی کثافت کے سبب
رنج سے ہوتی ہے ہر چند بشر کو تکلیف تو بھی انسان ممیز ہے اس آفت کے سبب
تب تو ہے خاک میں بھی شعلہ جنبان حیات کیوں الگ رہ نہ سکی روح لطافت کے سبب
ابن آدم ہوں میرے دم سے جہاں کی رونق قدمیوں سے بھی میں اعلیٰ ہوں محبت کے سبب
کہنے والے مجھے جو چاہے کہیں کیا پروا سن کے خاموش ہوں اے شادؔ شرافت کے سبب
اکثر اے درد جگر تجھکو بھی غافل پایا کون لیتا ہے مریضوں کی خبر آخر شب
شام سے یاس نے گھیرا تجھے ناحق اے دل جاگی ہے عرش تلک آہ اگر آخر شب
خود بخود غنچہ خاطر ہے شگفتہ میرا دل نے کس بات کی پائی ہے خبر آخر شب
واسطہ ضبط کا آغاز مشب فرقت کے چشم شد تو مجھے شرمندہ نہ کر آخر شب
دور جانا ہے مسافر تجھے کیسی ہے یہ نیند چونک مل آنکھ اٹھا زاد سفر آخر شب
جھاڑتی جاتی ہے وہ راہ صبا بالوں سے بوئے گل باغ سے جاتی ہے جدھر آخر شب
ٹھنڈے ٹھنڈے دل سوزاں سے نکل جا اے روح کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب
مطمئن ہو تو خدا کے لئے کچھ عرض کروں درد دل بس مجھے بے چین نہ کر آخر شب
کہیں سیل میں بہہ جائے نہ دفتر غم کا جوش اپنا نہ دکھا دیدہ تر آخر شب
شوق دیدار میں عالم ہے یہ آنکھوں کا میری جیسے جاگے ہوئے انساں کی نظر آخر شب
ہو گیا دل کو یقیں صاف کہ پانی برسا بستر اپنا ہوا یوں اشکوں سے تر آخر شب
تیرے کوچے میں کہیں شادؔ نہ ہو پوچھ تو لے اک بڑا شور تھا نالوں کا ادھر آخر شب
(3)
فائدہ اے شادؔ کیا تکمیل سے یہ زمانہ ہے پر آشوب و خراب
ہر طرف ہے جہل کا بازار گرم اہل فن کیوں کر نہ کھائیں پیچ و تاب
مدعی علم ہر بے ربط ہے کیا ہے اس جہل مرکب کا جواب
جاہلان علم و معنی و بدیع ہادیان شاہراہ ناصواب
طبع موزوں پر بھروسا نظم میں بے پڑھے سارے فنوں میں کامیاب
پسلیاں بندش سے توڑیں شعر کی اصطلاحوں کی کریں مٹی خراب
معنی تصنیف سے بھی بے خبر کر سکیں ہرگز نہ فرق فصل و باب
باکمالوں سے بھڑیں آ آ کے وہ تا کہے ذی معرفت ہر شیخ و شباب
خود غلط املا غلط انشا غلط یوں سخن فہموں کو دیں اکثر جواب
اس زمیں میں ہے ہماری بھی غزل ہم نے بھی اس فن میں لکھی ہے کتاب
صرف اس تقریر پر بھی بس نہ ہو سخت گوئی سے کریں اکثر خطاب
امتیاز رطب و یابس کچھ نہ ہو ایک ہو ان کی نظر میں خاک و آب
نظم ہوں کوٹھوں کے مضموں شعر میں محو دل سے پرسش روز حساب
بے سروپا اعتراضوں پر غرور کاملوں سے اس پہ خواہان جواب
خندہ ام آیدازیں طامات مفت لاَ اُبالی صوتھِم صَوتُ الکلاب
(4)
کیا منھ جو دے سکوں تیری تقریر کا جواب بخشش تری ہے خود میری تقصیر کا جواب
لکھے گا یار کیا میری تحریر کا جواب دیکھا نہیں نوشتہ تقدیر کا جواب
آئینہ لے کے ہاتھ میں کہتا ہوں یار سے لایا ہوں ڈھونڈ کر تیری تصویر کا جواب
صیاد جاں شکار ہے ترچھی نظر تیری ترکش میں ایک بھی نہیں اس تیر کا جواب
اتنا ہوا کہ دل میں اترنے لگی ہے بات دیں گے وہ سوچ کر مری تقریر کا جواب
زنداں میں غل مچانے لگی ہے جو بے محل کڑیاں کڑک کے دیتی ہیں زنجیرکا جواب
ناز اپنی گفتگو پہ نہ کر او فضول گو خاموشیاں ہیں اس تیری تقریر کا جواب
ایسا نہ ہو کہ دست ستم کو لگے نظر اے نوجواں نہ دے فلک پیر کا جواب
دل میں ہے گرد غم تو کدورت مزاج میں تعبیر جیسے ہوتی ہے تعمیر کا جواب
جی میں یہ ہے کہ آپ حلق اپنا گھونٹ دوں سوچا ہے میں نے نالہ شبگیر کا جواب
قاصد کو چلتے وقت قسم دی رسول کی ہاں میرے پاساب نہیں تاخیر کا جواب
اے شادؔ ہاتھ پائوں ہلانے سے بھی گئے موت آ کے دے گئی میری تدبیر کا جواب
(5)
شمع فانوس میں ہے اپنی لطافت کے سبب روشنی بند ہے شیشے کی کثافت کے سبب
رنج سے ہوتی ہے ہر چند بشر کو تکلیف تو بھی انسان ممیز ہے اس آفت کے سبب
تب تو ہے خاک میں بھی شعلہ جنبان حیات کیوں الگ رہ نہ سکی روح لطافت کے سبب
ابن آدم ہوں میرے دم سے جہاں کی رونق قدمیوں سے بھی میں اعلیٰ ہوں محبت کے سبب
کہنے والے مجھے جو چاہے کہیں کیا پروا سن کے خاموش ہوں اے شادؔ شرافت کے سبب
لکھے گا یار کیا میری تحریر کا جواب دیکھا نہیں نوشتہ تقدیر کا جواب
آئینہ لے کے ہاتھ میں کہتا ہوں یار سے لایا ہوں ڈھونڈ کر تیری تصویر کا جواب
صیاد جاں شکار ہے ترچھی نظر تیری ترکش میں ایک بھی نہیں اس تیر کا جواب
اتنا ہوا کہ دل میں اترنے لگی ہے بات دیں گے وہ سوچ کر مری تقریر کا جواب
زنداں میں غل مچانے لگی ہے جو بے محل کڑیاں کڑک کے دیتی ہیں زنجیرکا جواب
ناز اپنی گفتگو پہ نہ کر او فضول گو خاموشیاں ہیں اس تیری تقریر کا جواب
ایسا نہ ہو کہ دست ستم کو لگے نظر اے نوجواں نہ دے فلک پیر کا جواب
دل میں ہے گرد غم تو کدورت مزاج میں تعبیر جیسے ہوتی ہے تعمیر کا جواب
جی میں یہ ہے کہ آپ حلق اپنا گھونٹ دوں سوچا ہے میں نے نالہ شبگیر کا جواب
قاصد کو چلتے وقت قسم دی رسول کی ہاں میرے پاساب نہیں تاخیر کا جواب
اے شادؔ ہاتھ پائوں ہلانے سے بھی گئے موت آ کے دے گئی میری تدبیر کا جواب
(5)
شمع فانوس میں ہے اپنی لطافت کے سبب روشنی بند ہے شیشے کی کثافت کے سبب
رنج سے ہوتی ہے ہر چند بشر کو تکلیف تو بھی انسان ممیز ہے اس آفت کے سبب
تب تو ہے خاک میں بھی شعلہ جنبان حیات کیوں الگ رہ نہ سکی روح لطافت کے سبب
ابن آدم ہوں میرے دم سے جہاں کی رونق قدمیوں سے بھی میں اعلیٰ ہوں محبت کے سبب
کہنے والے مجھے جو چاہے کہیں کیا پروا سن کے خاموش ہوں اے شادؔ شرافت کے سبب
حسرت موہانی (پیدائش 4 اکتوبر 1878ء -وفات 13 مئی 1951ء) بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔
حالات زندگی :اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص حسرتؔ، قصبہ موہان ضلع اناؤ میں 1875ءپیداہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔ عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتحپوری سے اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خان سے حاصل کی تھی ۔ حسرت سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور انہوں نے آخری وقت تک کوئی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ءمیں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے پھر سیاست دان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“ حسرت پہلے کانگرسی تھے۔ گورنمنٹ کانگریس کے خلا ف تھی۔ چنانچہ 1907میں ایک مضمون شائع کرنے پر جیل بھیج دیے گئے۔ ان کے بعد 1947 ءتک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگران تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔ آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘بھی کہا جاتا ہے۔حسرت موہانی نے 72 سال 7 ماہ 9 دن کی عمر میں 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں وفات پائی۔
حسرت موہانی کی شاعریبقول ڈاکٹر سید عبد اللہ،” حسرت محبت کے خوشگوار ماحول کے بہترین، مقبول ترین اور مہذب ترین مصور اور ترجمان تھے وہ خالص غزل کے شاعر تھے ان کے شعروں میں ہر اس شخص کے لیے اپیل ہے جو محبت کے جذبات سے متصف ہے۔“بقول آل احمد سرور، ” عشق ہی ان کی عبادت ہے عشق کی راحت اور فراغت کا یہ تصور اُن کا اپنا ہے اور یہ تصور ہی حسرت کو نیا اور اپنے زمانہ کا ایک فرد ثابت کر سکتا ہے۔“حسرت موہانی اردو غزل گوئی کی تاریخ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو شاعری کے ارتقاءمیں ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ان کے خیال اور انداز بیان دونوں میں شخصی اور روایتی عناصر کی آمیزش ہے۔ حسرت موہانی کو قدیم غزل گو اساتذہ سے بڑا ہی ذہنی و جذباتی لگائو تھا۔ اور یہ اسی لگائو کا نتیجہ تھا کہ کلاسیکل شاعروں کا انہوں نے بڑی دقت نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ اور اپنی طبیعت کے مطابق ان کے مخصوص رنگوں کی تقلید بھی کی۔ قدیم اساتذہ کے یہ مختلف رنگ حسرت کی شاعری میں منعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اور خود حسرت کو اس تتبع کا اعتراف بھی ہے۔
حسرت کے اس رجحان پر فراق لکھتے ہیں کہ حسرت کے اشعار بیان حسن و عشق میں صاف مصحفی کی یاد دلاتے ہیں۔ معاملہ بندی اور ادا بندی میں جرات کی یاد دلاتے ہیں۔ اور داخلی اور نفسیاتی امور کی طرف اشارہ کرنے میں عموماً نئی فارسی ترکیبوں کے ذریعے مومن کی یاد دلاتے ہیں۔ لیکن حسرت کی شاعری محض مصحفی ،جرات اور مومن کی آواز کی بازگشت نہیں ہے۔ وہ ان تینوں کے انداز ِ بیان و وجدان اور ان کے فن شاعری کی انتہا و تکمیل ہیں۔حسرت کی غزل میں ایک ذہنی گدگدی، ایک داخلی چھیڑ چھاڑ، ایک حسین چہل کی عکاسی نظر آتی ہے۔ حسرت کی شاعری کا میدان ان معنوں میں محدود ہے کہ وہ جذبات حسن و عشق ہی سے سروکار رکھتے ہیں۔ ان کاد ل ایک شاعر کا دل ہے اور ان کی شاعر ی کا محور محبت اور صرف محبت ہے۔
سیدا حتشام حسین کے نزدیک حسرت کی شاعری کا محور محبت ہے۔ اسی طرح اکثر دوسرے ناقدین نے بھی عشقیہ شاعری ہی ان کی نمائندہ شاعری ہے۔ اور حسرت کو اردو غزل میں ممتاز مقام دلاتی ہے اور اور بلاشبہ یہ کائنات کاایک ایسا جذبہ ہے جس کو فنا نہیں۔ یہ ہمیشہ نت نئے انداز میں ظہور پزیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ممتاز حسین کہتے ہیں کہ کائنات میں روزانہ لاکھوں بچے پہلی مرتبہ اپنی ماں یا باپ کو پکارتے ہیں۔ ایک ہی لفظ صدیوں سے ادا ہو رہا ہے مگر اس کی خوبصورتی اور رعنائی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اور یہی لفظ اور جذبہ حسرت کی شاعری کا بنیادی محور اور موضوع ہے۔
بڑھ گئیں تم سے تو مل کر او ر بھی بے تابیاں ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا
حقیقت کھل گئی حسرت ترے ترک محبت کی تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت میں وہ کیونکر یاد آتے ہیں
عشقیہ شاعری :اسلوب احمد انصاری لکھتے ہیں کہ نمائندہ اور باقی رہنے والی شاعری از اوّل تا آخر عشقیہ شاعر ی ہے۔ حسرت بڑی حساس طبیعت کے اور بڑا دردمند دل رکھتے ہیں۔ انھوں نے حسن کو چلتے چلتے، سوتے جاگتے، روٹھتے منتے، شعلہ بن کر بھڑکتے اور پھول بن کر رنگ و خوشبو لٹاتے دیکھا۔یوں ان کی شاعری بھاگتی دھوپ کی شاعری نہیں، شباب کی شاعری ہے۔ جس میں پہلی نگاہیں اور اجنبیت کے مزے بھی ہیں۔ ”ننگے پاؤں کوٹھے پر آنے“ کا دور بھی ہے اور جوانی کے دوسرے تجربات بھی ہیں۔ حسرت کے یہاں عاشقی کا مشرب، عاشقی کی نظر اور عاشقی کا ذہن یہ ساری کیفیتیں موجود ہیں۔
ہجر میں پاس میر ے اور تو کیا رکھا ہے اک تیرے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے
حسن بے پروا کو خو د بین و خودآرا کر دیا کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا
آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن آیا میر ا خیال تو شرما کہ رہ گئے
فلسفی عشق : کلام حسرت کو دوسرے شاعروں سے ممتاز کرنے والی ایک صفت یہ بھی ہے کہ حسرت صرف عشق و عاشقی کے ترجمان نہیں بلکہ وہ عاشقی کے فلسفی بھی ہیں اور عاشقی کے ذوق کے بارے میں ہمیں بعض افکار بھی دیے ہیں۔ حسرت کی عشقیہ شاعری ایک قدرت شفا رکھتی ہے۔ جو قاری کے لیے راحت اور فراغت کا سبب بنتی ہے۔ قاری کے دل کو گداز اور درمندی سے کی دولت سے آشنا کرتی ہے۔ یہ ان کے لیے راہ فرار نہیں بلکہ اسی وجہ سے انسان زندگی کی دوسری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل ہوتے ہیں۔
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا
حسرت بہت بلند ہے مرتبہ عشق تجھ کو تو مفت لوگوں نے بدنام کر دیا
تغزل اور نظمیت :حسرت نے مسلسل غزلیں بھی لکھی ہیں ان کے ہاں عام طور پر پوری غزل پڑھنے کے بعد ہی ان کے اشعار سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ جو کیفیت پہلے شعر میں ملتی ہے اس کی تشریح کے لیے باقی شعر کہے گئے ہیں۔ مثلاً ان کی چند مسلسل غزلوں کے پہلے اشعار ملاحظہ ہوں،>br>
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں
تو ڑ کر عہد و کرم نا آشنا ہو جائیے بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے
محبوب کی نفسیات کا نقشہ : حسرت نے متفرق اشعار میں اور بعض غزلوں میں اپنے مثالی محبوب کے ایسے دلکش مرقعے پیش کیے ہیں کہ اردو غزل میں اور کہیں مشکل ہی سے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کی جیتی جاگتی تصویریں اور نفسیات کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ مثلاً
بزم اغیار میں ہر چند وہ بیگانہ رہے ہاتھ آہستہ مرا پھر بھی دبا کر چھوڑا
ہو کے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش صلح میں شان ہے لڑائی کی
ٹوکا جو بزم غیر میں آتے ہوئے انہیں کہتے بنا نہ کچھ وہ قسم کھا کے رہ گئے
تصور محبوب : حسرت کا محبوب متقدمین کے محبوب کی طرح محض ایک تخیلی پرچھائی نہیں بلکہ وہ ایک جیتا جاگتا کردار معلوم ہوتا ہے۔ وہ داغ کی طرح صرف طوائف سے محبت نہیں کرتے حسرت کا محبوب عام انسانی جذبات رکھتا ہے۔
لایا ہے دل پہ کتنی خرابی اے یار تیرا حسن شرابی
پیراہن اس کا سادہ و رنگین با عکس مئے سے شیشہ گلابی
پھرتی ہے اب تک دل کی نظر میں کیفیت اس کی وہ نیم خوابی
معاملہ بندی :معاملہ بندی کے موضوعات قدیم اردو شاعری کا اہم موضوع رہا ہے۔ حسرت موہانی نے بھی اپنی شاعری میں مومن کی طرح معاملہ بندی سے کام لیا ہے۔ ان کی شاعری میں اس قسم کی عکاسی عام نظر آتی ہے۔
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یا دہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یادہے
بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا اور تیر ا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے
زبان وبیان کی لطافت :حسرت کے اشعار کی زبان سادہ اور سلیس ہے۔ انہوں نے زبان لکھنؤ میں رنگ دہلی کی نمود کی ہے۔ زبان کی سادگی کے علاوہ ان کی شاعری میں خلوص اور سچائی ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ۔
سہل کہتا ہوں ممتنع حسرت نغز گوئی مرا شعار نہیں
شعردراصل ہیں وہی حسرت سنتے ہی دل میں جو اُتر جائیں
رکھتے ہیں عاشقان حسن سخن لکھنوی سے نہ دہلوی سے غرض
صحت مندانہ لہجہ :حسرت موہانی کی شاعری کا لہجہ صحت مندانہ ہے ان کے لہجی میں خلوص اور صداقت کی پرچھائیاں موجود ہیں مثلاً۔
اس شوخ کورسوا نہ کیا ہے نہ کریں گے ہم نے کبھی ایسا نہ کیا ہے نہ کریں گے
نہیں آتی تو یاد ا ن کی مہینوں تک نہیں آتی مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں
غزل کی زبان سے استفادہ : فارسی شعراءمیں حسرت نے شمس تبریز ( مولانا روم) جامی، سعدی، نظیری اور فغانی کے تتبع کا اعتراف کیا ہے۔ اور اردو شعراءمیں میر، غالب، نسیم اور مومن اور جرات سے خصوصیت کے ساتھ متاثر ہیں مثلاً وہ خود کہتے ہیں کہ۔
غالب و مصحفی و میرو نسیم و مومن طبع حسرت نے اٹھا یا ہر استاد سے فیض
طرز مومن پہ مرحبا حسرت تیری رنگین نگاریاں نہ گئیں
اردو میں کہاں ہے اور حسرت یہ طرز نظیری و فغانی!
حسن پرستی :حسرت موہانی کی ساری شاعری عشق و محبت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی شاعری میں محبوب کے نفسیات اور حسن و خوبصورتی کی عکاسی زیادہ ہیں۔ ان کی شاعری میں حسن پرستی کے عناصر بہت زیادہ ہیں مثلاً۔
سر کہیں، بال کہیں، ہاتھ کہیں پاؤں کہیں ان کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو
برق کو ابرکے دامن میں چھپا دیکھا ہے ہم نے اس شوخ کو مجبور ِ حیا دیکھا
یادبھی دل کو نہیں صبر و سکوں کی صورت جب سے اس ساعد سمیں کو کھلا دیکھا ہے
حسن تغزل :حسرت موہانی کی شاعری کی ایک اور اہم خصوصیت حسن تغزل ہے۔ مثلاً
تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا
بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بے تابیاں ہم یہ سمجھے تھے اب دل کو شکیبا کر دیا
اک مرقع ہے حسن شوخ ترا کشمکش ہائے نوجوانی کا
سیاسی رنگ :حسرت موہانی کاسیاست سے بھی گہرا واسطہ تھا۔ سیاسی حوالے سے وہ کئی بار جیل کی ہوا کھا چکے تھے ۔مشق سخن اور چکی کی مشقت ان کی شاعری میں واضح ہے۔ مثلاً
کٹ گیا قید میں رمضاں بھی حسرت گرچہ سامان سحر کا تھا نہ افطاری
ہم قول کے صادق ہیں اگر جان بھی جاتی واللہ کہ ہم خدمت انگریز نہ کرتے
مجموعی جائزہ : ڈاکٹر سیدعبداللہ کا حسرت موہانی کے بارے میں کہنا ہے”حسرت کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے قدیم و جدید رنگ کو باہم اسی طرح ملا دیا کہ ان کی غزل سے ہر رنگ اور ہر ذوق کا قاری متاثر ہوتا ہے۔“بقول عطا کاکوروی،” حسرت کا اندازبیان اتنا اچھوتا اور والہانہ ہے اور اس میں ایسی شگفتگی و رعنائی ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔“بقول نیاز فتح پوری ” حسرت کی نغمہ بیخودی کو سن کر لوگ چونک اُٹھے روحیں وجد کرنے لگیں اور شعر و فن کی فضا چمک اٹھی وہ اپنے رنگ میں منفرد تھے اور ان کا کوئی ہمسر نہیں ۔
فانی بدایونی (پیدائش 13 ستمبر 1879ء- وفات 27 اگست 1961ء) اردو کے شاعر تھے۔شوکت علی فانی 1879ء میں بدایون میں پیدا ہوئے۔ فانی کے والد محمد شجاعت علی خان محکمہ پولیس میں انسپکٹر تھے۔ روش زمانہ کے مطابق پہلے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی پڑھی اور 1901ء میں بریلی سے بی اے کیا۔کالج چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ پریشانی کے عالم میں گزارا۔ لیکن شعر و سخن کی دلچسپیاں ان کی تسلی کا ذریعہ بنی رہیں۔ 1908ء میں علی گڑھ سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ لیکن وکالت کے پیشے سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ صرف والد کے مجبور کرنے پر وکالت شروع کی اور کچھ عرصہ بریلی اور لکھنؤ میں پریکٹس کرتے رہے۔ لیکن قانون سے لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے بحیثیت وکیل کامیاب وکیل ثابت نہ ہوئے۔
مجموعی طور سے فانی کی زندگی پریشانی میں گزری۔ لیکن جس وقار اور فراخ دلی کے ساتھ انہوں نے مصائب کو برداشت کیا وہ انہی کا کام تھا۔ ان کی اس پریشان حالی سے متاثر ہو کر مہاراجا حیدرآباد نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اسٹیٹ سے تنخواہ مقرر کر دی۔ پھر وہ محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے اور ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اسی اثناء میں رفیقہ حیات فوت ہوگئیں۔ 1933ء میں جواں سال بیٹی کا انتقال ہو گیا۔ جس سے فانی کے دل کو ٹھیس لگی۔ آخر کار ساری زندگی ناکامیوں اور مایوسیوں میں بسر کرکے 1941ء میں وفات پائی۔
فانی بدایونی کی شاعری
فانی و ہ بلا کش ہوں غم بھی مجھے راحت ہے میں نے غم ِ راحت کی صورت بھی نہ پہچانی
فانی یاسیت کے امام مانے جاتے ہیں۔ حزن و یاس اُن کے کلام کاجزو اعظم ہے۔ سوز و گداز جو غزل کی روح ہے اس کی جلوہ فرمائی یا تو میر کے یہاں ہے یا فانی کے یہاں۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرکے غم میں ایک گھٹن سی محسوس ہوتی ہے۔ اور فانی کا غم لذت بخش ہے۔ میر کے یہاں نشاط ِ غم کا عنصر نمایاں ہے۔ فانی کو مرگھٹ کا شاعر یا قبرستان کا منجاور کہنا حد درجہ ناانصافی ہے۔ ہاں وہ موت کا شاعر ضرور تھا۔ مگر موت ہی اُس کے نزدیک سرچشمہ حیات بن گئی تھی۔ غم نے نشاط کا روپ اختیار کر لیا تھا۔ لذت ِ غم سے اُس کا سے نہ معمور نظر آتا ہے۔ یہ اُس کے فن کا کما ل ہے کہ انسان غم سے فرار نہیں چاہتا بلکہ غم میں ایک ابدی سکون اور سرور پاتا ہے۔ زندگی کی نامرادیوں میں وہ درد اور میر کے ہمنوا ہیں۔میرؔ کہتے ہیں’’ہم نے مر مر کے زندگانی کی‘‘دردؔکہتے ہیں’’ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے‘‘فانی ؔکا قول ہے ’’زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا‘‘۔
بقول مجنوں گورکھپوری ،” فانی کی شاعری کو ”موت“ کی انجیل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔“ بقول خواجہ احمد فاروقی،”غم عشق اور غم روزگار نے مل کر دل کو آتش کدہ بنا دیا تھا یہی آگ کے شعلے زبان ِشعر سے نکلے ہیں اُن کی شاعر ی کا عنصر غالب غم و اندوہ ہے لیکن یہ غم روایت نہیں صداقت ہے۔“فانی بدایونی نے 12 اگست 1941ءکو حیدرآباد میں وفات پائی۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر 62 بر س تھی اگر اُ ن کی شاعر ی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی موت بہت پہلے واقع ہو چکی تھی۔ یا واقع ہونا شروع ہو چکی تھی۔ اور یہ باسٹھ سال ایک مرگ مسلسل کی طرح گزرے ہر لمحے انہیں موت کا انتظار تھا۔
فانی کی زندگی بھی کیا زندگی تھی یا رب موت اور زندگی میں کچھ فرق چاہیے تھا
فانی کا اصل نام شوکت علی خان تھا۔ شوکت تخلص ہو سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے فانی تخلص رکھ کر اس خواہش کی تسکین کا سامان کیا۔ جب کبھی ہم کو دامن بہار سے عالم ِیاس میں بوئے کفن آتی ہے تو فانی کی یاد آتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے موت ہی کو ”زندگی جانا تھا اور غم کو موضوع بنایا۔ بقول آمدی،فانی ایک زندہ جنازہ ہیں جن کو یاس و الم اپنے ماتمی کندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔“ڈاکٹر سلا م سندیلوی”اپنی کتاب”مزاج اور ماحول‘ ‘ میں فانی کی غم و یاسیت کے متعلق لکھتے ہیں،” فانی زندگی بھر گلشن ہستی کو مغموم نگاہوں سے دیکھتے رہے او رنسترن کو کافور و کفن سمجھتے رہے۔ اُن کی شاعری کی تخلیق اشک شبنم اور خون ِحنا سے ہوئی ہے۔ وہ زندگی بھر آہیں بھر تے رہے۔ اور مرتے دم تک سسکیاں لیتے رہے۔ فانی کو محض غم و یاس کی بدولت رفعت و عظمت حاصل ہوئی ہے اسی وجہ سے اُن کو یاسیت کا امام کہاجاتاہے۔“
چمن سے رخصت فانی قریب ہے شائد کچھ آج بوئے کفن دامن ِ بہار میں ہے
فانی غم ہی کو زندگی تصور کرتے تھے۔ اور فانی اس طرح زندگی گزارنے پر مجبو رتھے۔ جو اُن کی تمنائوں سے ہم آہنگ نہ تھی ان کی شخصیت چیختی تھی، دماغ احتجاج کرتا تھا۔ دل بغاوت کرتا تھا۔ ہڈیاں چٹختی تھی لیکن زمانے کی گرفت ڈھیلی نہ ہوتی تھی۔ کون جانتا ہے کہ فانی کو اپنے حالات نے جبر کا قائل بنا دیا ہے۔ اس زندگی سے صرف موت ہی نجات دلا سکتی تھی۔اس لئے وہ کہتے ہیں۔
ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا
آج روز وصال ِ فانی ہے موت سے ہو رہے ہیں راز و نیاز
جب دیکھیے جی رہا ہے فانی اللہ رے اس کی سخت جانی
اس طرح زندگی کو موت میں تبدیل کر لینا، زندگی کو موت سمجھنا، مرنے سے پہلے مر جانا وغیرہ یہ سب اُسی خواہش مرگ کے پہلو ہیں۔ اس وجہ سے فانی کا غم گہرا اور فلسفیانہ ہے۔
موت، کفن، قبر اور میت : فانی کی شاعر ی جس چیز کے بارے میں مشہور ہے اور جوان کی پہچان بن گئی ہےو ہ فانی کی شاعری میں موت، کفن، قبر اور میت کااستعمال ہے۔ فانی ان ڈرائونی چیزوں کو بہت بے جگری کے ساتھ دل میں لپیٹ لیتے ہیں۔ اور موت، کفن، قبر اور میت کو ایک خوبصورت چیز بنا دیتے ہیں ۔وہ اس میں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور ان کے درمیا ن سکون و اطمینان تصور کرتے ہیں۔ بقول درد گورکھپوری ”فانی موت اور حیات کے درمیان ہمیشہ ٹھوکر یں کھاتے رہے موت نے جب آنکھیں دکھائیں تو حیا ت کی طرف پلٹے اور جب حیات نے پریشان کیا تو موت کو آواز دی۔“
چلے بھی آؤ وہ ہے قبر ِ فانی دیکھتے جاؤ تم اپنے مرنے والے کی نشانی دیکھتے جاؤ
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے کفن سرکائو میری بے زبانی دیکھتے جاؤ
دیکھ فانی وہ تری تدبیر کی میت نہ ہو اک جنازہ جا رہا ہے دوش پر تقدیر کے
شب فرقت کٹی یا عمر فانی اجل کے ساتھ آمد ہے سحر کی
فانی کا غم : فانی کی حیات کا مطالعہ اس امر کو ثابت کرتا ہے، کہ انہوں نے ساری عمر مصیبت میں گزاری۔ فانی نے دل سے جن لوگوں کو عزیز جانا تھا۔ وہ لوگ اُن کی آنکھوں کے سامنے مرتے چلے گئے۔ اس کے بعد د و سال کے اندر اندر والد اور والدہ کا انتقال، دوستوں میں کشن پرشاد اور ان کی بیٹی اورآخر میں ان کی بیوی کا انتقال اُن پر کافی اثر انداز ہوا۔ جو انسان اتنے سارے جنازوں کو دیکھ رہا ہو۔ اُس کے غم کا اندازہ لگانا مشکل ہے ایک خط میں لکھتے ہیں،”اس دور میں اتنے جنازے اُٹھائے لگتا ہے کہ جب میں مرجائوں تو اُٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔“
فانی نے جس دور میں آنکھ کھولی وہ فسادات کا دور تھااور پھر سب سے بڑھ کر اُن کا اپنا مزاج تھا جس نے ا ن کوغم برتنے پر مجبور کر دیا۔ انہی حالات و واقعات نے غم کا ایک مکمل فلسفہ پیش کیا۔غالب کے ہاں غم اور زندگی لازم و ملزوم ہیں میر کے ہاں غم ہی غم تھا لیکن فانی کے ہاں غم کے عناصر اتنے بڑھ گئے کہ لگتا ہے کہ فانی غم کو زندگی قرار دے رہے ہیں۔
میں غم نصیب وہ مجبور ِ شوق ہوں فانی جو نامراد جیے اور امیدوار رہے
مختصر قصہ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا
زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا غم نے دل کو دل بنا یا ورنہ کیاتھا کچھ نہ تھا
غم جاناں : اس میں وہی پرانے عناصر ہیں جس میں محبوب ظالم ہے جس میں محبوب عاشق کے حالت زار پر ترس نہیں کھاتا۔ چونکہ فانی نے خود پے درپے عشق بازیاں کیں اور اُن کی زندگی میں گوہر جانیں او ر نور جانیں آئیں۔ شائد اُن کے غم جاناں کو تابانی بخشنے میں اُن طوائفوں کا ہاتھ تھا جن کے ساتھ فانی نے اپنے غم کی کچھ گھڑیاں سرور و راحت میں تبدیل کیں تھیں اور بعد میں بچھڑنا غم برتنے کا سبب بنی وہ محبوب کو ظالم دکھاتا ہے۔
سنے جاتے نہ تھے تم سے میرے دن رات کے شکوے کفن سرکائو میری بے زبانی دیکھتے جاؤ
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ آؤ دیکھو نا تماشا میر ے غم خانے کا
غم دوراں : فانی کے یہاں غم کی جو دوسری کیفیت ملتی ہے وہ غم دوراں ہیں یہ وہ غم ہے جو آلام روزگار کی دین ہے یہ حقیقت ہے کہ معاشرے کے حالات نے اُن کی طبیعت کو متاثر کیا۔ فانی کا غم دوراں اس کیفیت سے تعلق رکھتا ہے کہ جہاں اُس پراثر پڑا انہوں نے احتجاج کیا۔
ہر شام شا م گور ہے ہر صبح صبح حشر کیا دن دکھائے گردش لیل و نہار نے
ہر گھڑی انقلاب میں گزری زندگی کس عذاب میں گزری
زندگی کس عذاب میں گزری، میں وہ جس عذاب کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ معاشرے کی مادی ترقی ہے اور تیز رفتاری ہے۔ جس کا بحیثیت شاعر فانی ساتھ نہیں دے سکتا اور مادی ترقی شاعر کو پیچھے دھکیل دیتی ہے پھر اُس دور کا جو بڑا مسئلہ تھا جس سے فرد متاثر ہو رہا تھاوہ محبت اور اقدا ر کا تیزی سے فقدان تھا۔ پہلے محبت کی قدردانی تھی۔ پہلے بے وفائی کا تعلق شرافت سے تھا ۔آج کل مادی ترقی میں بے وفائی کا مسئلہ مادی ترقی ہے کہ انسان بدل رہا ہے۔ شاعر کو دکھ اس بات کا ہے کہ محبتیں مٹ رہی ہیں۔
دیار مہر میں آپ کہتے مہر ہے فانی کوئی اجل کے سوا مہرباں نہیں ملتا
وطن کا غم :بعض لوگوں کی طبیعت یہ بات گوارا نہیں کرتی کہ اُن کو اپنے وطن سے دور رکھا جائے۔ فانی کا یہ غم بھی بہت شدید ہے ۔فانی کو وطن چھوڑنے کا سخت غم تھا۔ وہ آخری ایام میں بدایونںکو بہت یاد کرتے تھے۔ انہوں نے حیدرآباد میں اپنے ایک شاگرد ماہر سے کہا، ” ماہر میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح بدایوں پہنچ جائوں اور وہیں جا کر مر جائوں۔“
فانی ہم تو جیتے جی و ہ میت ہیں بے گور و کفن غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
وہ وطن واپس آنا چاہتے تھے اس لیے ان کے کچھ اشعار میں ”غربت “ کا لفظ آ رہا ہے۔
غربت میں سنگ راہ کچھ آسانیاں بھی تھیں کھاتی ہے ٹھوکریں میری مشکل جگہ جگہ
غم ہستی :فانی کے یہاں غم کی چوتھی صورت ”غم ہستی “ کے رنگ میں نظرآتی ہے۔ یہ غم آفاقی اور کائناتی ہے۔ اس غم کوفانی نے ایک فلسفہ کی حیثیت سے پیش کیا وہ غالب کی طرح غم ہستی کے قائل ہیں چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ۔
فانی غم ہستی نے زندہ ہی مجھے سمجھا جب تک میرے مرنے میں تاخیر نظرآئی
فانی کی ذات سے غم ہستی کی تھی نمود شیرازہ آج دفتر ِ غم کا بکھر گیا
فانی نے غم ہستی کی تشریح مندرجہ ذیل شعر میں بھی کی ہے اس میں انہوں نے غم کو اصل کائنات تصور کیاہے۔
غم اصل کائنات ہے دل جوہر حیات دل غم سے غم ہے دل سے مقابل جگہ جگہ
فانی غم ہستی کو درد کا خزانہ سمجھتے ہیں،
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پر موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
غرض یہ کہ فانی غم ہستی کی تشریح مختلف طریقے سے کرتے ہیں اس طرح و ہ غالب کی سرحد میں داخل ہو جاتے ہیں۔
مراجعت کا رجحان :ماہر نفسیات نے مراجعت اس ذہنیت کا نام رکھا ہے جس کا سہارا لے کر انسان اپنے طفلی عہد میں واپس جاتا ہے۔ چونکہ عہد طفلی پر سکوں ہوتا ہے اس لیے انسان مراجعت کے ذریعے سکون ِ دل حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے چونکہ انسان مراجعت کے ذریعے عہد طفلی میں واپس جانا چاہتا ہے اس لیے وہ مصائب کے مو قع پر گریہ زاری سے مجبور ہے۔ فانی نے بھی اپنی شاعری میں مراجعت کا اظہار کیا ہے۔اُن کے بہت سے اشعار میں گریہ و زاری اور اشکباری کا عالم نظرآتا ہے۔ فانی نے مندرجہ ذیل غزل میں گریہ و زاری سے کام لیا ہے۔
کچھ اس طرح تڑپ کر میں بے قرار رویا دشمن بھی چیخ اُٹھا، بے اختیار رویا
کیا اُس کو بے قراری یاد آگئی ہماری مل مل کے بجلیوں سے ابر بہار، رویا
فانی کو یہ جنوں ہے یا تیری آرزو ہے کل نام لے کے تیرا بے اختیار رویا
انفرادیت : فانی کی انفرادیت کے بارے میں نقاد قاضی عبد الغفار فرماتے ہیں، ” فانی کی شاعری یکسر فانی ہی کی روح ہے۔ اس شاعری کو فانی کی روح سے الگ کر لیجئے یا فانی کی روح کو اس شاعری سے خارج کر دیجئے ( گو کہ یہ دونوں باتیں ممکن نہیں) تو رہ کیا جاتا ہے ،ان اوراق میں سوائے وحشت ذدہ اور ویران خلا کے ۔“قنوطیت ان کی ایک خصوصیت ہے اور یہ خصو صیت ان کی انفرادیت ہے۔ فانی نے جو کچھ کہا وہ گویا اس کی اپنی بات ہے اس کی اپنی واردات ہے آپ بیتی ہے۔
خاک فانی کی قسم ہے تجھے اے دشت جنوں کس سے سیکھا تیرے ذروں نے بیاباں ہونا
بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا دم تو نکلا مگرآزردہ احساں نکلا
بقول قاضی عبد الغفار ، ” میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر فلسفہ غم سے فانی کے افکار اس قد ر متاثر نہ ہوئے ہوتے تو شائد ان کی انفرادیت اس مقام تک نہ پہنچ سکتی جہاں اس کو ہم دیکھ رہے ہیں ۔ وہ مردانہ وار مرنے کی عظمت کے قائل ہیں۔“
ناکام ہے تو کیا ہے کچھ کام پھر بھی کر جا مردانہ وار جی اور مردانہ وار مرجا
اہل دنیا مجھے سمجھ لیں گے دل کسی دن ذرا لہو تو کریں
دو گھڑی کے لیے میزان عدالت ٹھہرے کچھ مجھے حشر میں کہنا ہے خدا سے پہلے
مجموعی جائزہ : بقول فراق گورکھپوری،” فانی نے غم اور قنوطیت کو نیا مزاج دیا ایک کلچر دیا، انہوں نے غم کو ایک نئی چمکار دی، اُسے نرم اور لچک دار اُنگلیوں سے رچایا اور نکھارا ،اسے نئی لوریاں سنائیں، اسے اپنی آواز کے ایک خاص لوچ سے سلایا اور جگایا، زندگی کے اندر نئی روک تھام نئی تھر تھری پیدا کی۔ نئی چٹکیاں، نئی گدگدی، نئی لرزشیں، نئی سرن اُن کے ہاتھوں سے غم کی دکھی ہوئی رگوں کو ملیں۔“ بقول عطا” میر کی روح نے غالب کے قالب میں دوبارہ جنم لے کر فانی نام پایا۔“بقول جوش ” جب ہم فانی کا کلام پڑھتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنسوئوں کی ندی کے ساحل پر سنگ موسیٰ کا ایک بڑا مندر ہے جس کے وسط میں غم کی دیوی کا ایک بت رکھا ہوا ہے۔ اور ایک سیاہ پوش برہمن ہے جو دھڑکتے ہوئے دل کی گھنٹی بجا بجا کر پوجا کر رہا ہے۔“
ہمیں ابھی تیرے اشعار یا د ہیں فانی تیرا نشاں نہ رہا اور بے نشاں نہ ہوا
(1)
یاں ہوش سے بیزار ہوا بھی نہیں جاتا اس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتا
کہتے ہو کہ ہم وعدہ ٔ پرسش نہیں کرتے یہ سن کے تو بیمار ہوا بھی نہیں جاتا
دشواریٔ انکار سے طالب نہیں ڈرتے یوں سہل تو اقرار ہوا بھی نہیں جاتا
آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا
جاتے ہوئے کھاتے ہو مری جان کی قسمیں اب جان سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا
غم کیا ہے اگر منزل جاناں ہے بہت دور کیا خاک رہ یار ہوا بھی نہیں جاتا
دیکھا نہ گیا اس سے تڑپتے ہوئے دل کو ظالم سے جفاکار ہوا بھی نہیں جاتا
یہ طرفہ ستم ہے کہ ستم بھی ہے کرم بھی اب خوگر آزار ہوا بھی نہیں جاتا
(2)
سر ہوش برق گرتی وہ ہجوم ناز ہوتا وہ نظر فریب جلوہ جو نظر نواز ہوتا
خبر اپنی مغفرت کی تو نہیں یہ جانتا ہوں مری توبہ چاہتی ہے در توبہ باز ہوتا
مرے شوق نے سکھایا اسے شیوۂ تغافل نہ مجھے نیاز ہوتا نہ وہ بے نیاز ہوتا
(3)
یہ کس قیامت کی بے کسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یا ر میرا نہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشکبار میرا
نشان تربت عیاں نہیں ہے نہیں کہ باقی نشاں نہیں ہے مزار میرا کہاں نہیں ہے کہیں نہیں ہے مزار میرا
وصال تیرا خیال تیرا جو ہو تو کیوںکر نہ ہو تو کیوں کر نہ تجھ پہ کچھ اختیار دل کا نہ دل پہ کچھ اختیار میرا
نگاہ دل دوز کی دہائی جمال جاں سوز کی دہائی رہ محبت میں غم نے لوٹا شکیب و صبر قرار میرا
میں در د فرقت سے جاں بلب ہوں تمہیں یقیں وفانہیں ہے مجھے نہیں اعتبار اپنا تمہیں نہیں اعتبار میرا
قدم نکال اب توگھر سے باہر جو دم بھی سینے سے سہل نکلے دکھانہ اب انتظار اپنا لحد کو ہے انتظار میرا
سناہے اٹھاہے اک بگولہ جلومیںکچھ آندھیوں کو لیکر طواف دشت جنوں کو شاید گیاہے فانی ؔغبار میرا
(4)
ہل گیازنداں برُا ہوں نالہ شبگیر کا چونک اٹھا گھبرا کے ہر حلقہ میری زنجیر کا
میری تدبیروں کی مشکل اب تو یارب سہل کر کیا یہ ساری عمر منہ تکتی رہیں تقدیر کا
میرے دل سے پوچھتے ہیں آپ کیا وجہ خلش یاد ہے غم ہو گیا تھا کوئی پیکاں تیر کا
عشق کا بھی کیا تصرف ہے کہ دل اب دل نہیں آئینہ ہے غم کی جیتی جاگتی تصویر کا
آپ کی آرزو بے سبب بھی خوب ہے کیا مزے کا تقاضا عذر بے تقصیر کا
کس نظر سے اس نے دیکھااپنے دامن کی طرف کانپ اٹھا ہر ذرہ میری خاک دامنگیر کا
برق کو اب کیا غرض کیا رہ گیا کیا جل گیا جل گیا خرمن میں جو کچھ تھا مری تقدیر کا
فکر راحت چھوڑ بیٹھے ہم تو راحت مل گئی ہم نے قسمت میں لیا جو کام تھا تدبیر کا
نامرادی حدسے گزری حال فانی ؔکچھ نہ پوچھ ہر نفس ہے ایک جنازہ آہ ِ بے تاثیر کا
(5)
ناوک ناز ترا کوئی خطا کرتا ہے اڑ گیا ایک اشارے میں نشانا دل کا
حسرتیں جن کے نکلے کی نہیں کچھ امید ڈھونڈتی پھرتی ہیں سینہ میں ٹھکانا دل کا
ہائے وہ دھن تجھے مشق ستم بیجا کی ہائے وہ روز نئے ظلم اٹھانا دل کا
ہائے وہ جوش جنوں ہائے وہ وحشت فانی ؔ یاد آتا ہے ہمیں کوئی زمانا دل کا
(6)
ٹوٹا طلسم ہستی فانی کے راز کا احسان مند ہوں الم جاں گداز کا
تمہید صد ہزار قیامت ہے ہر نفس عنوان شوق ہوں گلہ ہائے دراز کا
عبرت سرائے دل میں ہوں آواز دور باش مارا ہوا ہوں خاطر حسرت نواز کا
اٹھتی نہیں ہے تہمت نظارہ جمال منھ دیکھتا ہوں جلوہ ٔ نظارہ ساز کا
نا آشنائے لطف ہو بیگانہ عتاب صورت شناس ہوں نگہ امتیاز کا
احساس غیر بادہ گوارا ہوا مجھے لا جام ساقیا مئے مینا گداز کا
فانی ؔدوائے درد جگر زہر تو نہیں کیوں ہاتھ کانپتا ہے مرے چارہ ساز کا
(7)
خلق کہتی ہے جسے دل تیرے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
کعبہ کو دل کی زیارت کے لئے جاتا ہوں آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا
مختصر قصہ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا
زندگی بھی توپشیماں ہے یہاں لاکے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ آئو دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا
اب اسے دار پہ لے جاکر سلا دے ساقی یوں بہکنا نہیں اچھا تیرے مستانے کا
دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا
ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں لئے جاتے ہیں جنازہ تیرے دیوانے کا
وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق دل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا
چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گلرنگ دل میرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا
لوح دل کو غم الفت کوقلم کہتے ہیں کن ہے انداز رقم حسن کے فسانے کا
ہم نے چھانی ہیں بہت دیر وحرم کی گلیاں کہیں پایا نہ ٹھکانا تیرے دیوانے کا
کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
کہتے ہیں کیا ہے مزے کاہے فسانہ فانی ؔ آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا
ہرنفس عمر گزشتہ کی میت فانیؔ زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا
(8)
تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا دل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا
شب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئی ترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا
نگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دے میرے منھ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا
کہاں تک کچھ نہ کہئے اب تو نوبت جان تک پہونچی تکلف برطرف اے ضبط نالہ دل سے نکلے گا
تصور کیا تیرا آیا قیامت آ گئی دل میں کہ اب ہر ولولہ باہر مزار دل سے نکلے گا
نہ آئیں گے وہ تب بھی دم نکل ہی جائے گا فانیؔ مگر مشکل سے نکلے گا بڑی مشکل سے نکلے گا
(9)
بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا دم تو نکلا مگر آزردہ احساں نکلا
آگئی ہے تیرے بیمار کے منھ پر رونق جان کیا جسم سے نکلی کوئی ارماں نکلا
دل آگاہ سے کیا کیا ہمیں امیدیں تھیں وہ بھی قسمت سے چراغ تہ داماں نکلا
دل بھی تھا منھ سے بس اک آہ نکل جانے تک آگ سینے میں لگا کر غم پنہاں نکلا
چارہ گر ناصح مشفق دل بے صبر وقرار جو ملا عشق میں غمخوار وہ ناداں نکلا
شکوہ منظور نہیں تذکرہ عشق نہ چھیڑ کہ در پردہ میرا حال پریشاں نکلا
بجلیاں شاخ نشیمن پہ بچھی جاتی ہیں کیا نشیمن سے کوئی سوختہ ساماں نکلا
اب جنوں سے بھی توقع نہیں آزادی کی چاک داماں بھی باندازہ ٔ داماں نکلا
ہائے وہ وعدہ فردا کی مدت وقتِ اخیر ہائے وہ مطلب دشوار کہ آساں نکلا
شوق بے تاب کا انجام تحیر پایا دل سمجھتے تھے جسے دیدہ ٔ حیراں نکلا
اس نے کیا سینہ ٔ صدچاک سے کھنیچا فانی ؔ دل میں کہتا ہوں وہ کہتا ہے کہ پیکاں نکلا
(10)
کسی کے ایک اشارہ میں کس کو کیا ملا بشر کو زیست ملی موت کا بہانہ نہ ملا
مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا
دبی زباں سے میرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پہ موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
دعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کر کہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار کوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
تلاش خضر میں ہوں روشناس خضر نہیں مجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا
نشانِ مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیں خدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا
خبر اپنی مغفرت کی تو نہیں یہ جانتا ہوں مری توبہ چاہتی ہے در توبہ باز ہوتا
مرے شوق نے سکھایا اسے شیوۂ تغافل نہ مجھے نیاز ہوتا نہ وہ بے نیاز ہوتا
(3)
یہ کس قیامت کی بے کسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یا ر میرا نہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشکبار میرا
نشان تربت عیاں نہیں ہے نہیں کہ باقی نشاں نہیں ہے مزار میرا کہاں نہیں ہے کہیں نہیں ہے مزار میرا
وصال تیرا خیال تیرا جو ہو تو کیوںکر نہ ہو تو کیوں کر نہ تجھ پہ کچھ اختیار دل کا نہ دل پہ کچھ اختیار میرا
نگاہ دل دوز کی دہائی جمال جاں سوز کی دہائی رہ محبت میں غم نے لوٹا شکیب و صبر قرار میرا
میں در د فرقت سے جاں بلب ہوں تمہیں یقیں وفانہیں ہے مجھے نہیں اعتبار اپنا تمہیں نہیں اعتبار میرا
قدم نکال اب توگھر سے باہر جو دم بھی سینے سے سہل نکلے دکھانہ اب انتظار اپنا لحد کو ہے انتظار میرا
سناہے اٹھاہے اک بگولہ جلومیںکچھ آندھیوں کو لیکر طواف دشت جنوں کو شاید گیاہے فانی ؔغبار میرا
(4)
ہل گیازنداں برُا ہوں نالہ شبگیر کا چونک اٹھا گھبرا کے ہر حلقہ میری زنجیر کا
میری تدبیروں کی مشکل اب تو یارب سہل کر کیا یہ ساری عمر منہ تکتی رہیں تقدیر کا
میرے دل سے پوچھتے ہیں آپ کیا وجہ خلش یاد ہے غم ہو گیا تھا کوئی پیکاں تیر کا
عشق کا بھی کیا تصرف ہے کہ دل اب دل نہیں آئینہ ہے غم کی جیتی جاگتی تصویر کا
آپ کی آرزو بے سبب بھی خوب ہے کیا مزے کا تقاضا عذر بے تقصیر کا
کس نظر سے اس نے دیکھااپنے دامن کی طرف کانپ اٹھا ہر ذرہ میری خاک دامنگیر کا
برق کو اب کیا غرض کیا رہ گیا کیا جل گیا جل گیا خرمن میں جو کچھ تھا مری تقدیر کا
فکر راحت چھوڑ بیٹھے ہم تو راحت مل گئی ہم نے قسمت میں لیا جو کام تھا تدبیر کا
نامرادی حدسے گزری حال فانی ؔکچھ نہ پوچھ ہر نفس ہے ایک جنازہ آہ ِ بے تاثیر کا
(5)
ناوک ناز ترا کوئی خطا کرتا ہے اڑ گیا ایک اشارے میں نشانا دل کا
حسرتیں جن کے نکلے کی نہیں کچھ امید ڈھونڈتی پھرتی ہیں سینہ میں ٹھکانا دل کا
ہائے وہ دھن تجھے مشق ستم بیجا کی ہائے وہ روز نئے ظلم اٹھانا دل کا
ہائے وہ جوش جنوں ہائے وہ وحشت فانی ؔ یاد آتا ہے ہمیں کوئی زمانا دل کا
(6)
ٹوٹا طلسم ہستی فانی کے راز کا احسان مند ہوں الم جاں گداز کا
تمہید صد ہزار قیامت ہے ہر نفس عنوان شوق ہوں گلہ ہائے دراز کا
عبرت سرائے دل میں ہوں آواز دور باش مارا ہوا ہوں خاطر حسرت نواز کا
اٹھتی نہیں ہے تہمت نظارہ جمال منھ دیکھتا ہوں جلوہ ٔ نظارہ ساز کا
نا آشنائے لطف ہو بیگانہ عتاب صورت شناس ہوں نگہ امتیاز کا
احساس غیر بادہ گوارا ہوا مجھے لا جام ساقیا مئے مینا گداز کا
فانی ؔدوائے درد جگر زہر تو نہیں کیوں ہاتھ کانپتا ہے مرے چارہ ساز کا
(7)
خلق کہتی ہے جسے دل تیرے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
کعبہ کو دل کی زیارت کے لئے جاتا ہوں آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا
مختصر قصہ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا
زندگی بھی توپشیماں ہے یہاں لاکے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ آئو دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا
اب اسے دار پہ لے جاکر سلا دے ساقی یوں بہکنا نہیں اچھا تیرے مستانے کا
دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا
ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں لئے جاتے ہیں جنازہ تیرے دیوانے کا
وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق دل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا
چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گلرنگ دل میرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا
لوح دل کو غم الفت کوقلم کہتے ہیں کن ہے انداز رقم حسن کے فسانے کا
ہم نے چھانی ہیں بہت دیر وحرم کی گلیاں کہیں پایا نہ ٹھکانا تیرے دیوانے کا
کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
کہتے ہیں کیا ہے مزے کاہے فسانہ فانی ؔ آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا
ہرنفس عمر گزشتہ کی میت فانیؔ زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا
(8)
تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا دل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا
شب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئی ترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا
نگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دے میرے منھ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا
کہاں تک کچھ نہ کہئے اب تو نوبت جان تک پہونچی تکلف برطرف اے ضبط نالہ دل سے نکلے گا
تصور کیا تیرا آیا قیامت آ گئی دل میں کہ اب ہر ولولہ باہر مزار دل سے نکلے گا
نہ آئیں گے وہ تب بھی دم نکل ہی جائے گا فانیؔ مگر مشکل سے نکلے گا بڑی مشکل سے نکلے گا
(9)
بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا دم تو نکلا مگر آزردہ احساں نکلا
آگئی ہے تیرے بیمار کے منھ پر رونق جان کیا جسم سے نکلی کوئی ارماں نکلا
دل آگاہ سے کیا کیا ہمیں امیدیں تھیں وہ بھی قسمت سے چراغ تہ داماں نکلا
دل بھی تھا منھ سے بس اک آہ نکل جانے تک آگ سینے میں لگا کر غم پنہاں نکلا
چارہ گر ناصح مشفق دل بے صبر وقرار جو ملا عشق میں غمخوار وہ ناداں نکلا
شکوہ منظور نہیں تذکرہ عشق نہ چھیڑ کہ در پردہ میرا حال پریشاں نکلا
بجلیاں شاخ نشیمن پہ بچھی جاتی ہیں کیا نشیمن سے کوئی سوختہ ساماں نکلا
اب جنوں سے بھی توقع نہیں آزادی کی چاک داماں بھی باندازہ ٔ داماں نکلا
ہائے وہ وعدہ فردا کی مدت وقتِ اخیر ہائے وہ مطلب دشوار کہ آساں نکلا
شوق بے تاب کا انجام تحیر پایا دل سمجھتے تھے جسے دیدہ ٔ حیراں نکلا
اس نے کیا سینہ ٔ صدچاک سے کھنیچا فانی ؔ دل میں کہتا ہوں وہ کہتا ہے کہ پیکاں نکلا
(10)
کسی کے ایک اشارہ میں کس کو کیا ملا بشر کو زیست ملی موت کا بہانہ نہ ملا
مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا
دبی زباں سے میرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پہ موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
دعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کر کہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار کوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
تلاش خضر میں ہوں روشناس خضر نہیں مجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا
نشانِ مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیں خدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا
میری تدبیروں کی مشکل اب تو یارب سہل کر کیا یہ ساری عمر منہ تکتی رہیں تقدیر کا
میرے دل سے پوچھتے ہیں آپ کیا وجہ خلش یاد ہے غم ہو گیا تھا کوئی پیکاں تیر کا
عشق کا بھی کیا تصرف ہے کہ دل اب دل نہیں آئینہ ہے غم کی جیتی جاگتی تصویر کا
آپ کی آرزو بے سبب بھی خوب ہے کیا مزے کا تقاضا عذر بے تقصیر کا
کس نظر سے اس نے دیکھااپنے دامن کی طرف کانپ اٹھا ہر ذرہ میری خاک دامنگیر کا
برق کو اب کیا غرض کیا رہ گیا کیا جل گیا جل گیا خرمن میں جو کچھ تھا مری تقدیر کا
فکر راحت چھوڑ بیٹھے ہم تو راحت مل گئی ہم نے قسمت میں لیا جو کام تھا تدبیر کا
نامرادی حدسے گزری حال فانی ؔکچھ نہ پوچھ ہر نفس ہے ایک جنازہ آہ ِ بے تاثیر کا
(5)
ناوک ناز ترا کوئی خطا کرتا ہے اڑ گیا ایک اشارے میں نشانا دل کا
حسرتیں جن کے نکلے کی نہیں کچھ امید ڈھونڈتی پھرتی ہیں سینہ میں ٹھکانا دل کا
ہائے وہ دھن تجھے مشق ستم بیجا کی ہائے وہ روز نئے ظلم اٹھانا دل کا
ہائے وہ جوش جنوں ہائے وہ وحشت فانی ؔ یاد آتا ہے ہمیں کوئی زمانا دل کا
(6)
ٹوٹا طلسم ہستی فانی کے راز کا احسان مند ہوں الم جاں گداز کا
تمہید صد ہزار قیامت ہے ہر نفس عنوان شوق ہوں گلہ ہائے دراز کا
عبرت سرائے دل میں ہوں آواز دور باش مارا ہوا ہوں خاطر حسرت نواز کا
اٹھتی نہیں ہے تہمت نظارہ جمال منھ دیکھتا ہوں جلوہ ٔ نظارہ ساز کا
نا آشنائے لطف ہو بیگانہ عتاب صورت شناس ہوں نگہ امتیاز کا
احساس غیر بادہ گوارا ہوا مجھے لا جام ساقیا مئے مینا گداز کا
فانی ؔدوائے درد جگر زہر تو نہیں کیوں ہاتھ کانپتا ہے مرے چارہ ساز کا
(7)
خلق کہتی ہے جسے دل تیرے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
کعبہ کو دل کی زیارت کے لئے جاتا ہوں آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا
مختصر قصہ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا
زندگی بھی توپشیماں ہے یہاں لاکے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ آئو دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا
اب اسے دار پہ لے جاکر سلا دے ساقی یوں بہکنا نہیں اچھا تیرے مستانے کا
دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا
ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں لئے جاتے ہیں جنازہ تیرے دیوانے کا
وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق دل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا
چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گلرنگ دل میرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا
لوح دل کو غم الفت کوقلم کہتے ہیں کن ہے انداز رقم حسن کے فسانے کا
ہم نے چھانی ہیں بہت دیر وحرم کی گلیاں کہیں پایا نہ ٹھکانا تیرے دیوانے کا
کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
کہتے ہیں کیا ہے مزے کاہے فسانہ فانی ؔ آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا
ہرنفس عمر گزشتہ کی میت فانیؔ زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا
(8)
تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا دل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا
شب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئی ترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا
نگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دے میرے منھ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا
کہاں تک کچھ نہ کہئے اب تو نوبت جان تک پہونچی تکلف برطرف اے ضبط نالہ دل سے نکلے گا
تصور کیا تیرا آیا قیامت آ گئی دل میں کہ اب ہر ولولہ باہر مزار دل سے نکلے گا
نہ آئیں گے وہ تب بھی دم نکل ہی جائے گا فانیؔ مگر مشکل سے نکلے گا بڑی مشکل سے نکلے گا
(9)
بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا دم تو نکلا مگر آزردہ احساں نکلا
آگئی ہے تیرے بیمار کے منھ پر رونق جان کیا جسم سے نکلی کوئی ارماں نکلا
دل آگاہ سے کیا کیا ہمیں امیدیں تھیں وہ بھی قسمت سے چراغ تہ داماں نکلا
دل بھی تھا منھ سے بس اک آہ نکل جانے تک آگ سینے میں لگا کر غم پنہاں نکلا
چارہ گر ناصح مشفق دل بے صبر وقرار جو ملا عشق میں غمخوار وہ ناداں نکلا
شکوہ منظور نہیں تذکرہ عشق نہ چھیڑ کہ در پردہ میرا حال پریشاں نکلا
بجلیاں شاخ نشیمن پہ بچھی جاتی ہیں کیا نشیمن سے کوئی سوختہ ساماں نکلا
اب جنوں سے بھی توقع نہیں آزادی کی چاک داماں بھی باندازہ ٔ داماں نکلا
ہائے وہ وعدہ فردا کی مدت وقتِ اخیر ہائے وہ مطلب دشوار کہ آساں نکلا
شوق بے تاب کا انجام تحیر پایا دل سمجھتے تھے جسے دیدہ ٔ حیراں نکلا
اس نے کیا سینہ ٔ صدچاک سے کھنیچا فانی ؔ دل میں کہتا ہوں وہ کہتا ہے کہ پیکاں نکلا
(10)
کسی کے ایک اشارہ میں کس کو کیا ملا بشر کو زیست ملی موت کا بہانہ نہ ملا
مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا
دبی زباں سے میرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پہ موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
دعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کر کہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار کوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
تلاش خضر میں ہوں روشناس خضر نہیں مجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا
نشانِ مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیں خدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا
تمہید صد ہزار قیامت ہے ہر نفس عنوان شوق ہوں گلہ ہائے دراز کا
عبرت سرائے دل میں ہوں آواز دور باش مارا ہوا ہوں خاطر حسرت نواز کا
اٹھتی نہیں ہے تہمت نظارہ جمال منھ دیکھتا ہوں جلوہ ٔ نظارہ ساز کا
نا آشنائے لطف ہو بیگانہ عتاب صورت شناس ہوں نگہ امتیاز کا
احساس غیر بادہ گوارا ہوا مجھے لا جام ساقیا مئے مینا گداز کا
فانی ؔدوائے درد جگر زہر تو نہیں کیوں ہاتھ کانپتا ہے مرے چارہ ساز کا
(7)
خلق کہتی ہے جسے دل تیرے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
کعبہ کو دل کی زیارت کے لئے جاتا ہوں آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا
مختصر قصہ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا
زندگی بھی توپشیماں ہے یہاں لاکے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ آئو دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا
اب اسے دار پہ لے جاکر سلا دے ساقی یوں بہکنا نہیں اچھا تیرے مستانے کا
دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا
ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں لئے جاتے ہیں جنازہ تیرے دیوانے کا
وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق دل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا
چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گلرنگ دل میرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا
لوح دل کو غم الفت کوقلم کہتے ہیں کن ہے انداز رقم حسن کے فسانے کا
ہم نے چھانی ہیں بہت دیر وحرم کی گلیاں کہیں پایا نہ ٹھکانا تیرے دیوانے کا
کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا
کہتے ہیں کیا ہے مزے کاہے فسانہ فانی ؔ آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا
ہرنفس عمر گزشتہ کی میت فانیؔ زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا
(8)
تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گا دل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گا
شب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئی ترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا
نگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دے میرے منھ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا
کہاں تک کچھ نہ کہئے اب تو نوبت جان تک پہونچی تکلف برطرف اے ضبط نالہ دل سے نکلے گا
تصور کیا تیرا آیا قیامت آ گئی دل میں کہ اب ہر ولولہ باہر مزار دل سے نکلے گا
نہ آئیں گے وہ تب بھی دم نکل ہی جائے گا فانیؔ مگر مشکل سے نکلے گا بڑی مشکل سے نکلے گا
(9)
بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا دم تو نکلا مگر آزردہ احساں نکلا
آگئی ہے تیرے بیمار کے منھ پر رونق جان کیا جسم سے نکلی کوئی ارماں نکلا
دل آگاہ سے کیا کیا ہمیں امیدیں تھیں وہ بھی قسمت سے چراغ تہ داماں نکلا
دل بھی تھا منھ سے بس اک آہ نکل جانے تک آگ سینے میں لگا کر غم پنہاں نکلا
چارہ گر ناصح مشفق دل بے صبر وقرار جو ملا عشق میں غمخوار وہ ناداں نکلا
شکوہ منظور نہیں تذکرہ عشق نہ چھیڑ کہ در پردہ میرا حال پریشاں نکلا
بجلیاں شاخ نشیمن پہ بچھی جاتی ہیں کیا نشیمن سے کوئی سوختہ ساماں نکلا
اب جنوں سے بھی توقع نہیں آزادی کی چاک داماں بھی باندازہ ٔ داماں نکلا
ہائے وہ وعدہ فردا کی مدت وقتِ اخیر ہائے وہ مطلب دشوار کہ آساں نکلا
شوق بے تاب کا انجام تحیر پایا دل سمجھتے تھے جسے دیدہ ٔ حیراں نکلا
اس نے کیا سینہ ٔ صدچاک سے کھنیچا فانی ؔ دل میں کہتا ہوں وہ کہتا ہے کہ پیکاں نکلا
(10)
کسی کے ایک اشارہ میں کس کو کیا ملا بشر کو زیست ملی موت کا بہانہ نہ ملا
مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا
دبی زباں سے میرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پہ موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
دعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کر کہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار کوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
تلاش خضر میں ہوں روشناس خضر نہیں مجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا
نشانِ مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیں خدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا
شب غم میں بھی میری سخت جانی کو نہ موت آئی ترا کام اے اجل اب خنجر قاتل سے نکلے گا
نگاہ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھا دے میرے منھ سے تو حرف آرزو مشکل سے نکلے گا
کہاں تک کچھ نہ کہئے اب تو نوبت جان تک پہونچی تکلف برطرف اے ضبط نالہ دل سے نکلے گا
تصور کیا تیرا آیا قیامت آ گئی دل میں کہ اب ہر ولولہ باہر مزار دل سے نکلے گا
نہ آئیں گے وہ تب بھی دم نکل ہی جائے گا فانیؔ مگر مشکل سے نکلے گا بڑی مشکل سے نکلے گا
(9)
بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلا دم تو نکلا مگر آزردہ احساں نکلا
آگئی ہے تیرے بیمار کے منھ پر رونق جان کیا جسم سے نکلی کوئی ارماں نکلا
دل آگاہ سے کیا کیا ہمیں امیدیں تھیں وہ بھی قسمت سے چراغ تہ داماں نکلا
دل بھی تھا منھ سے بس اک آہ نکل جانے تک آگ سینے میں لگا کر غم پنہاں نکلا
چارہ گر ناصح مشفق دل بے صبر وقرار جو ملا عشق میں غمخوار وہ ناداں نکلا
شکوہ منظور نہیں تذکرہ عشق نہ چھیڑ کہ در پردہ میرا حال پریشاں نکلا
بجلیاں شاخ نشیمن پہ بچھی جاتی ہیں کیا نشیمن سے کوئی سوختہ ساماں نکلا
اب جنوں سے بھی توقع نہیں آزادی کی چاک داماں بھی باندازہ ٔ داماں نکلا
ہائے وہ وعدہ فردا کی مدت وقتِ اخیر ہائے وہ مطلب دشوار کہ آساں نکلا
شوق بے تاب کا انجام تحیر پایا دل سمجھتے تھے جسے دیدہ ٔ حیراں نکلا
اس نے کیا سینہ ٔ صدچاک سے کھنیچا فانی ؔ دل میں کہتا ہوں وہ کہتا ہے کہ پیکاں نکلا
(10)
کسی کے ایک اشارہ میں کس کو کیا ملا بشر کو زیست ملی موت کا بہانہ نہ ملا
مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا
دبی زباں سے میرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پہ موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
دعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کر کہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار کوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
تلاش خضر میں ہوں روشناس خضر نہیں مجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا
نشانِ مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیں خدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا
مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا
دبی زباں سے میرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا
خدا کی دین نہیں ظرف خلق پہ موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ملا
دعا گدائے اثر ہے گدا پہ تکیہ نہ کر کہ اعتماد اثر کیا ملا ملا نہ ملا
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار کوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
تلاش خضر میں ہوں روشناس خضر نہیں مجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا
نشانِ مہر ہے ہر ذرہ ظرف مہر نہیں خدا کہاں نہ ملا اور کہیں خدا نہ ملا
علی سکندر اور تخلص جگر مرادآبادی تھا۔ بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر مراداباد میں پیدا ہوئے۔ اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ آپ 6 اپریل 1898ء کو مرادآباد میں پیدا ہوئے۔ آپ بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کو سب سے زیادہ نظموں کو جمع کرنے پر ایوارڈ ملا۔ آپ کم عمر میں ہی اپنے والد سے محروم ہو گئے اور آپ کا بچپن آسان نہیں تھا۔ آپ نے مدرسے سے اردو اور فارسی سیکھی۔ شروع میں آپ کے شاعری کے استاد رسہ رامپوری تھے۔ آپ غزل لکھنے کے ایک اسکول سے تعلق رکھتے تھے۔ بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھا پے میں تا ئب ہو گئے تھے -آپ کا 9 ستمبر 1960ء کو انتقال ہو گیا ۔گوندا میں ایک رہائشی کالونی کا نام آپ کے نام پر 'جگر گنج ' رکھا گیا ہے۔ وہاں ایک اسکول کا نام بھی آپ کے نام پر جگر میموریل انٹر کالج رکھا گیا ہے۔
حالات زندگی : مشاعرے کا ذکر جب بھی آتا ہے تو جگر مراد آبادی کا نام آنا ضروری ہے۔ کیونکہ آج تک کسی شاعر کو مشاعروں میں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی جو جگر کو حاصل تھی۔ مرتضیٰ برلاس کا یہ لکھنا درست ہے کہ ’جگر جس شہر میں وارد ہوئے اس بستی کی راتیں جاگنے لگیں، اور لوگوں کے نظام الاوقات تبدیل ہو گئے۔‘یہ ان کی شاعری کو بہت بڑا خراج عقیدت ہے اور اس میں کسی قسم کا شبہ بھی نہیں ہے کیونکہ جگر جس مشاعرے میں جاتے تھے چھا جاتے تھے لیکن ان کی شاعری کو صرف مشاعرے کی شاعری کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسی لیے ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔
ان کی ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اردو اور فارسی کے علاوہ عربی کی بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ شاعری کا چسکا انہیں 12، 13سال کی عمر سے ہی لگ گیا تھا۔ لیکن ان کے اس جذبے کو سب سے زیادہ اصغر گونڈوی نے مہمیز دی تھی اور اس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں:”میں مختلف مذہبی عقائد سے گزرتا رہا ہوں۔ ایک زمانے میں دہریت مجھ پر حاوی رہی۔ میں شیعیت کی جانب بھی رحجان رکھتا تھا۔ ان دنوں میں لاہور میں چشمے کی ایک فرم میں ملازم تھا جس کے ڈائرکٹروں میں شیخ عبد القادر بھی تھے۔ یہ زمانہ میرا دکھ اور روحانی اذیتوں کا تھا۔ آخر ایک روز میں حضرت اصغر گونڈوی کے پاس ان سے ملنے کے لیے گیا جو ایک صاحب سے بحث کر رہے تھے۔ میری دلچسپی نے دور ہی سے مجھے اس بحث کو سننے کے لیے روک دیا۔ میں قریب کھڑا اس طرح، کہ وہ مجھے نہ دیکھ سکیں، تمام بحث سنتا رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ حضرت اصغر سمجھا رہے تھے اسے، اور میرے دل میں کانوں کے ذریعہ ہر ایک بات اترتی جا رہی تھی ایسا بھی وقت آیا کہ جوشبہات میرے دل میں تھے میں نے سوچے اور تھوڑی دیرکے بعد ہی وہاں سے جواب ملا۔ وہ وقت مجھے یاد ہے جب میں تھوڑی دیر میں راسخ العقیدہ حنفی ہو گیا۔“{ FR 9236 }حالانکہ جگر 15،16 سال کی عمر میں ہی مے نوش ہو گئے تھے۔لیکن اصغر کی باتوں کا ان پر اتنا اچھا اثر ہوا کہ انہوں نے شراب ترک کر دی اور حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔
جگر کی زندگی میں بہت سے انقلابات آئے۔ ان کی زندگی بہت سے نشیب و فراز سے گزری۔ لیکن اپنی شاعری کے لیے انہوں نے جو روش طے کر لی تھی یعنی محبت۔ اس سے وہ کبھی الگ نہیں ہوئے۔
دنیا کی جفا یادنہ اپنی ہی وفا یاد اب کچھ بھی نہیں مجھ کو محبت کے سوا یاد
جگر کی پوری شاعری غزل سے عبارت ہے۔ اگرانہوں نے کچھ نظمیں کہی بھی ہیں تو ان پر بھی تغزل کا رنگ حاوی ہے۔ لیکن ان کا اصل رنگ غزل ہی ہے جس کے بارے میں وہ خود ہی کہتے ہیں:” میری شاعری غزل تک ہی محدود ہے۔ اب چونکہ حسن و عشق ہی میری زندگی ہے اس لیے بعض مستزاد کو چھوڑ کر کبھی دوسرے میدان میں قدم رکھنے کی جرات نہ کر سکا۔“
جگر کے تین شعری مجموعے ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ سنہ 1922 میں ”داغِ جگر“ کے نام سے شائع ہوا جسے اعظم گڑھ کے احسان احمد وکیل نے مرتب کر کے شائع کیا تھا۔ اس پر مولانا عبد السلام ندوی نے تعارفی نوٹ لکھا تھا۔دوسرا شعری مجموعہ ”شعلہٴ طور“ کے عنوان سے 1932ء میں علی گڑھ سے شائع ہوا۔ اس کے نام کی شانِ نزول یہ تھی کہ مین پوری میں ایک طوائف شیرازن تھیں، جو بہت ہی مہذب اور باذوق خاتون تھیں۔ جگر کا قیام ان دنوں مین پوری میں تھا ان کی ملاقات شیزان سے ہوئی اور جلد ہی گہرے تعلقات ہو گئے۔ وہ جگر کی شاعری کی دلدادہ تھیں اور اپنی مخصوص محفلوں میں زیادہ تر جگر کا ہی کلام سناتی تھیں۔ جگر اکثر ان کے گھر پر ہی پڑے رہتے تھے۔ ان کے لیے بالائی حصے پر ایک کمرہ مخصوص کر دیا تھا، جسے جگر صاحب”طور“ کہا کرتے تھے۔ اسی لیے جب اس زمانے میں ان کا مجموعہ شائع ہونے لگا تو انہوں نے اس کا نام ”شعلہٴ طور“ رکھ دیااور سر ورق پر یہ شعر لکھا۔
ہجومِ تجلی سے معمور ہو کر نظر رہ گئی شعلہٴ طور ہو کر
ان کا تیسرا شعری مجموعہ ”آتشِ گل“ 1954ء میں ڈھاکہ سے شائع ہوا تھا۔ اس میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کا طویل مضمون ”جگر میری نظر میں“اور پروفیسر آل احمد سرور کا دیباچہ بھی شامل ہے۔ 1958ء میں دوبارہ اسے انجمن ترقی اردو ہند نے شائع کیا اور اس پر انہیں ساہتیہ اکاڈمی انعام بھی ملا۔
جگر مراد آبادی کسی کی تقلید کے قائل نہیں تھے، اسی لیے انہوں نے آغاز میں ہی اپنی روش طے کر لی تھی جو دوسرے شعرا سے الگ ہے۔ وہ خود ہی لکھتے ہیں:”ہو سکتا ہے میرے کلام میں کہیں کہیں مومن کا اثر غیر شعوری طور پر موجود ہے۔ لیکن واضح رہے کہ میں تقلید کا قائل نہیں۔ البتہ اس کا اعتراف ہے کہ میرے ابتدائی کلام پر داغ کا نمایاں اثر موجود ہے۔ غالب کی عظمت اور محبت میرے دل میں ہے لیکن مقلد ان کا بھی نہیں۔“
جگرمراد آبادی کا انتقال نو ستمبر 1960ء کو گونڈا میں ہوا تھا اور وہیں انہیں محمد علی پارک میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ لیکن جگر کی موت کی خبر دو دو بار اخبارات میں شائع ہوئی اور ریڈیو سے بھی نشر ہوئی۔ اس کے بعد ان کے عقیدت مندوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ پہلی بار چارمئی سنہ 1938ء کو جب ان کے موت کی خبر شائع ہوئی تو بعض اخبارات نے خاص نمبر تک شائع کر دیے۔ ہر جگہ تعزیتی جلسے ہوئے۔ دہلی کی جامع مسجد میں تو تعزیتی جلسے کے ساتھ ساتھ نمازِ غائبانہ بھی ادا کی گئی۔لیکن چند دنوں بعد لوگوں کو یہ جان کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ جگر بقید حیات ہیں۔ سنہ 1958ء میں جب جگر کو دل کا شدید دور پڑا تواس وقت بھی ان کے انتقال کی خبر ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ لاہور اور کراچی میں متعدد تعزیتی جلسے ہوئے۔ لاہور کے ایک جلسے کی صدارت احسان دانش نے کی تھی۔ اس خبر کی تردید ہونے کے بعد مشہور مزاح نگار شوکت تھانوی نے روزنامہ ”جنگ“ میں لکھا تھا کہ پہلی خبرکے بعد جگر صاحب کی عمر بیس سال بڑھ گئی تھی اوراب اس خبر کے بعد پھر کم از کم بیس برس کے اضافے کی توقع ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا نو ستمبر 1960ءکو ان کو دل کا دورہ پڑا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
جان کر من جملہٴ خاصانِ مے خانہ مجھے مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
جگر مرادابادی کی غزلیں (آتش گل)
(1)
ہرحقیقت کو بانداز تماشا دیکھا خوب دیکھا ترے جلوؤںکو مگر کیا دیکھا
جستجو میں تیری یہ حاصل سودا دیکھا ایک ایک ذرہ کا آغو ش طلب وا دیکھا
آئینہ خانہ عالم میں کہیں کیا دیکھا تیرے دھوکے میں خود اپنی ہی تماشا دیکھا
ہم نے ایسا نہ کوئی دیکھنے والا دیکھا جو یہ کہہ دے کہ تیر ا حسن سراپا دیکھا
دل آگاہ میں کیا کہئے جگر کیا دیکھا لہریں لیتا ہوا ایک قطرے میں دریا دیکھا
کوئی شائستہ شایاںِ غم دل نہ ملا ہم نے جس بزم میں دیکھا اسے تنہا دیکھا
(2)
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا شعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیا
جب عشق اپنے مرکزِ اصلی پہ آ گیا خود بن گیا حسین دو عالم پہ چھا گیا
جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا وہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا
ناصح فسانہ اپنا ہنسی میں اڑا گیا خوش فکر تھا کہ صاف یہ پہلو بچا گیا
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل ہم وہ نہیں ہیں جن کو زمانہ بنا گیا
دل بن گیا نگاہ، نگاہ بن گئی زباں آج اک سکوت شوق قیامت ہی ڈھا گیا
میرا کمالِ شعر بس اتنا ہے اے جگرؔ وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا
(3)
کوئی جیتا کوئی مرتا ہی رہا عشق اپنا کام کرتا ہی رہا
جمع خاطر کوئی کرتا ہی رہا دل کا شیرازہ بکھرتا ہی رہا
غم وہ میخانہ، کمی جس میں نہیں دل وہ پیمانہ کہ بھرتا ہی رہا
حسن تو تھک بھی گیا لیکن یہ عشق کار معشوقانہ کرتا ہی رہا
وہ مٹاتے ہی رہے لیکن یہ دل نقش بن بن کر ابھرتا ہی رہا
دھڑکنیں دل کی سبھی کچھ کہہ گئیں دل میں خاموش کرتا ہی رہا
تم نے نظریں پھیر لیں تو کیا ہوا دل میں اک نشتر اترتا ہی رہا
(4)
گداز عشق نہیں کم، جو میں جواں نہ رہا وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
نہیں‘ کہ دل مرا وقفِ غمِ نہاں نہ رہا مگر وہ شیوہ فرمودہ ٔ بیاں نہ رہا !
زہے وہ شوق جوپابند ایں و آں نہ رہا خوشا وہ سجدہ جو محدود آستاں نہ رہا
حجاب عشق کو اے دل بہت غنیمت جان رہے گا کیا جو یہ پردہ بھی درمیاں نہ رہا
چمن تو برق حوادث سے ہو گیا محفوظ میری بلا سے اگر میرا آشیاں نہ رہا
جنونِ سجدہ کی معراج ہے یہی شاید کہ تیرے در کے سوا کوئی آستاں نہ رہا
کمالِ قرب بھی شاید ہے عینِ بُعد جگر جہاں جہاں وہ ملے میں وہاں وہاں نہ رہا
(5)
دل سکون‘ روح کو آرام آگیا موت آگئی کہ دوست کاپیغام آگیا
جب کوئی ذکر گردش ایام آگیا بے اختیار لب پہ ترا نام آگیا
غم میں بھی وہ سرور‘ وہ ہنگام آگیا شاید کہ دور بادہ گلفام آگیا
دیوانگی ہو، عقل ہو، امید ہو کہ یاس اپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آگیا
دل کے معاملات میں ناصح شکست کیا سو بار حسن پر بھی یہ الزام آگیا
صیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لے میں آ گیا کہ سایہ تہہ دام آگیا
دل کونہ پوچھ معرکہ حسن وعشق میں کیا جانئے غریب کہاں کام آگیا
یہ کیا مقام عشق ہے ظالم کے ان دنوں اکثر تیرے بغیر بھی آرام آگیا
احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ اب آفتاب زیست لب بام آگیا!
(6)
شعر و نغمہ، رنگ و نگہت‘ جام و صبا ہو گیا زندگی سے حسن نکلا اور رسوا ہو گیا
اور بھی آج اور بھی ہر زخم گہرا ہو گیا بس کر اے چشم پشیماں کام اپنا ہو گیا
اس کو کیا کیجئے زبان شوق کو چپ لگ گئی جب یہ دل شائستہ عرض تمنا ہو گیا
اپنی اپنی وسعت فکر ویقیں کی بات ہے جس نے جو عالم بنا ڈالا وہ اس کا ہو گیا
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا مسکرا کر تم نے دیکھا، دل تمہارا ہو گیا
میںنے جس بت پر نظر ڈالی جنون شوق میں دیکھتا کیا ہوں وہ تیرا ہی سراپا ہو گیا
اٹھ سکا ہم سے نہ بارِ التفاتِ ناز بھی مرحبا وہ جس کو تیرا غم گوارا ہو گیا
وہ چمن میں جس روش سے ہوکے گزرے بے نقاب دفعتاً ہر ایک گل کا رنگ گہرا ہو گیا
شش جہت آئینہ حسن حقیقت ہے جگرؔ قیس دیوانہ نہ تھا محو روئے لیلیٰ ہو گیا
(7)
وہ بروئے دوست ہنگام سلام آہی گیا رخصت اے دیر وحرم ،دل کامقام آہی گیا
منتظر کچھ رند تھے جس کے وہ جام آہی گیا باش اے گردوں کہ وقت انتقام آہی گیا
ہرنفس خود بن کے میخانہ بہ جام آہی گیا توبہ جس سے کانپتی تھی وہ مقام آہی گیا
(8)
پرائے ہاتھ جینے کو ہوس کیا نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
مکاں و لامکاں سے بھی گزر جا فضائے شوق میں پرواز خس کیا
کرم صیاد کے صدہا ہیں پھر بھی فراغ خاطر اہل قفس کیا
محبت سرفروشی جاں سپاری محبت میں خیال پیش وپس کیا
اجل خود زندگی سے کانپتی ہے اجل کی زندگی پر دسترس کیا
زمانے پہ قیامت بن کے چھا جا بنا بیٹھا ہے طوفان در نفس کیا
قفس سے ہے اگر بیزار بلبل تو پھر یہ شغلِ تزئیں قفس کیا
لہو آتا نہیں کھنچ کر مژہ تک نہ آئے گی بہار اب کی برس کیا
(9)
یک لحظہ خوشی کاجب انجام نظر آیا شبنم کو ہنسی آئی، دل غنچوں کا بھر آیا
یہ کون تصور میں ہنگام سحر آیا محسوس ہوا جیسے خود عرش اتر آیا
خیر اس کو نظر آیا، شر اس کو نظر آیا آئینے میں خود عکسِ آئینہ نگر آیا
اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا
اس جان تغافل نے پھر یاد کیا شاید پھر عہد محبت کا ہر نقش اُبھر آیا
گلشن کی تباہی پرکیوں رنج کرے کوئی الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا
یہ محفل ہستی بھی کیا محفل ہستی ہے جب کوئی اٹھا پردہ میں خود ہی نظر آیا
(10)
تیرا تصور شب ہمہ شب خلوت غم بھی بزم طرب
دعوے شوق اور شکوہ ٔ بہ لب شرم دل! آرام طلب
باتیں ہیں دو‘ مقصود ہے ایک تیری طلب یا اپنی طلب
آہی گیا اک مست شباب شیشہ بدست و نغمہ بلب
حسنِ مکمل، جذب و گریز عشقِ مسلسل‘ ترک وطلب
بیت گئی جو دل پہ نہ پوچھ ہجر کی شب اور آخرِ شب
ترک طلب اور اطمینان دیکھ تو میرا حسن طلب
یائے وہ درد دل کہ جگرؔ کچھ نہیں کھلتا جس کا سبب
جستجو میں تیری یہ حاصل سودا دیکھا ایک ایک ذرہ کا آغو ش طلب وا دیکھا
آئینہ خانہ عالم میں کہیں کیا دیکھا تیرے دھوکے میں خود اپنی ہی تماشا دیکھا
ہم نے ایسا نہ کوئی دیکھنے والا دیکھا جو یہ کہہ دے کہ تیر ا حسن سراپا دیکھا
دل آگاہ میں کیا کہئے جگر کیا دیکھا لہریں لیتا ہوا ایک قطرے میں دریا دیکھا
کوئی شائستہ شایاںِ غم دل نہ ملا ہم نے جس بزم میں دیکھا اسے تنہا دیکھا
(2)
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا شعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیا
جب عشق اپنے مرکزِ اصلی پہ آ گیا خود بن گیا حسین دو عالم پہ چھا گیا
جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا وہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا
ناصح فسانہ اپنا ہنسی میں اڑا گیا خوش فکر تھا کہ صاف یہ پہلو بچا گیا
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل ہم وہ نہیں ہیں جن کو زمانہ بنا گیا
دل بن گیا نگاہ، نگاہ بن گئی زباں آج اک سکوت شوق قیامت ہی ڈھا گیا
میرا کمالِ شعر بس اتنا ہے اے جگرؔ وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا
(3)
کوئی جیتا کوئی مرتا ہی رہا عشق اپنا کام کرتا ہی رہا
جمع خاطر کوئی کرتا ہی رہا دل کا شیرازہ بکھرتا ہی رہا
غم وہ میخانہ، کمی جس میں نہیں دل وہ پیمانہ کہ بھرتا ہی رہا
حسن تو تھک بھی گیا لیکن یہ عشق کار معشوقانہ کرتا ہی رہا
وہ مٹاتے ہی رہے لیکن یہ دل نقش بن بن کر ابھرتا ہی رہا
دھڑکنیں دل کی سبھی کچھ کہہ گئیں دل میں خاموش کرتا ہی رہا
تم نے نظریں پھیر لیں تو کیا ہوا دل میں اک نشتر اترتا ہی رہا
(4)
گداز عشق نہیں کم، جو میں جواں نہ رہا وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
نہیں‘ کہ دل مرا وقفِ غمِ نہاں نہ رہا مگر وہ شیوہ فرمودہ ٔ بیاں نہ رہا !
زہے وہ شوق جوپابند ایں و آں نہ رہا خوشا وہ سجدہ جو محدود آستاں نہ رہا
حجاب عشق کو اے دل بہت غنیمت جان رہے گا کیا جو یہ پردہ بھی درمیاں نہ رہا
چمن تو برق حوادث سے ہو گیا محفوظ میری بلا سے اگر میرا آشیاں نہ رہا
جنونِ سجدہ کی معراج ہے یہی شاید کہ تیرے در کے سوا کوئی آستاں نہ رہا
کمالِ قرب بھی شاید ہے عینِ بُعد جگر جہاں جہاں وہ ملے میں وہاں وہاں نہ رہا
(5)
دل سکون‘ روح کو آرام آگیا موت آگئی کہ دوست کاپیغام آگیا
جب کوئی ذکر گردش ایام آگیا بے اختیار لب پہ ترا نام آگیا
غم میں بھی وہ سرور‘ وہ ہنگام آگیا شاید کہ دور بادہ گلفام آگیا
دیوانگی ہو، عقل ہو، امید ہو کہ یاس اپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آگیا
دل کے معاملات میں ناصح شکست کیا سو بار حسن پر بھی یہ الزام آگیا
صیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لے میں آ گیا کہ سایہ تہہ دام آگیا
دل کونہ پوچھ معرکہ حسن وعشق میں کیا جانئے غریب کہاں کام آگیا
یہ کیا مقام عشق ہے ظالم کے ان دنوں اکثر تیرے بغیر بھی آرام آگیا
احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ اب آفتاب زیست لب بام آگیا!
(6)
شعر و نغمہ، رنگ و نگہت‘ جام و صبا ہو گیا زندگی سے حسن نکلا اور رسوا ہو گیا
اور بھی آج اور بھی ہر زخم گہرا ہو گیا بس کر اے چشم پشیماں کام اپنا ہو گیا
اس کو کیا کیجئے زبان شوق کو چپ لگ گئی جب یہ دل شائستہ عرض تمنا ہو گیا
اپنی اپنی وسعت فکر ویقیں کی بات ہے جس نے جو عالم بنا ڈالا وہ اس کا ہو گیا
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا مسکرا کر تم نے دیکھا، دل تمہارا ہو گیا
میںنے جس بت پر نظر ڈالی جنون شوق میں دیکھتا کیا ہوں وہ تیرا ہی سراپا ہو گیا
اٹھ سکا ہم سے نہ بارِ التفاتِ ناز بھی مرحبا وہ جس کو تیرا غم گوارا ہو گیا
وہ چمن میں جس روش سے ہوکے گزرے بے نقاب دفعتاً ہر ایک گل کا رنگ گہرا ہو گیا
شش جہت آئینہ حسن حقیقت ہے جگرؔ قیس دیوانہ نہ تھا محو روئے لیلیٰ ہو گیا
(7)
وہ بروئے دوست ہنگام سلام آہی گیا رخصت اے دیر وحرم ،دل کامقام آہی گیا
منتظر کچھ رند تھے جس کے وہ جام آہی گیا باش اے گردوں کہ وقت انتقام آہی گیا
ہرنفس خود بن کے میخانہ بہ جام آہی گیا توبہ جس سے کانپتی تھی وہ مقام آہی گیا
(8)
پرائے ہاتھ جینے کو ہوس کیا نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
مکاں و لامکاں سے بھی گزر جا فضائے شوق میں پرواز خس کیا
کرم صیاد کے صدہا ہیں پھر بھی فراغ خاطر اہل قفس کیا
محبت سرفروشی جاں سپاری محبت میں خیال پیش وپس کیا
اجل خود زندگی سے کانپتی ہے اجل کی زندگی پر دسترس کیا
زمانے پہ قیامت بن کے چھا جا بنا بیٹھا ہے طوفان در نفس کیا
قفس سے ہے اگر بیزار بلبل تو پھر یہ شغلِ تزئیں قفس کیا
لہو آتا نہیں کھنچ کر مژہ تک نہ آئے گی بہار اب کی برس کیا
(9)
یک لحظہ خوشی کاجب انجام نظر آیا شبنم کو ہنسی آئی، دل غنچوں کا بھر آیا
یہ کون تصور میں ہنگام سحر آیا محسوس ہوا جیسے خود عرش اتر آیا
خیر اس کو نظر آیا، شر اس کو نظر آیا آئینے میں خود عکسِ آئینہ نگر آیا
اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا
اس جان تغافل نے پھر یاد کیا شاید پھر عہد محبت کا ہر نقش اُبھر آیا
گلشن کی تباہی پرکیوں رنج کرے کوئی الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا
یہ محفل ہستی بھی کیا محفل ہستی ہے جب کوئی اٹھا پردہ میں خود ہی نظر آیا
(10)
تیرا تصور شب ہمہ شب خلوت غم بھی بزم طرب
دعوے شوق اور شکوہ ٔ بہ لب شرم دل! آرام طلب
باتیں ہیں دو‘ مقصود ہے ایک تیری طلب یا اپنی طلب
آہی گیا اک مست شباب شیشہ بدست و نغمہ بلب
حسنِ مکمل، جذب و گریز عشقِ مسلسل‘ ترک وطلب
بیت گئی جو دل پہ نہ پوچھ ہجر کی شب اور آخرِ شب
ترک طلب اور اطمینان دیکھ تو میرا حسن طلب
یائے وہ درد دل کہ جگرؔ کچھ نہیں کھلتا جس کا سبب
جمع خاطر کوئی کرتا ہی رہا دل کا شیرازہ بکھرتا ہی رہا
غم وہ میخانہ، کمی جس میں نہیں دل وہ پیمانہ کہ بھرتا ہی رہا
حسن تو تھک بھی گیا لیکن یہ عشق کار معشوقانہ کرتا ہی رہا
وہ مٹاتے ہی رہے لیکن یہ دل نقش بن بن کر ابھرتا ہی رہا
دھڑکنیں دل کی سبھی کچھ کہہ گئیں دل میں خاموش کرتا ہی رہا
تم نے نظریں پھیر لیں تو کیا ہوا دل میں اک نشتر اترتا ہی رہا
(4)
گداز عشق نہیں کم، جو میں جواں نہ رہا وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
نہیں‘ کہ دل مرا وقفِ غمِ نہاں نہ رہا مگر وہ شیوہ فرمودہ ٔ بیاں نہ رہا !
زہے وہ شوق جوپابند ایں و آں نہ رہا خوشا وہ سجدہ جو محدود آستاں نہ رہا
حجاب عشق کو اے دل بہت غنیمت جان رہے گا کیا جو یہ پردہ بھی درمیاں نہ رہا
چمن تو برق حوادث سے ہو گیا محفوظ میری بلا سے اگر میرا آشیاں نہ رہا
جنونِ سجدہ کی معراج ہے یہی شاید کہ تیرے در کے سوا کوئی آستاں نہ رہا
کمالِ قرب بھی شاید ہے عینِ بُعد جگر جہاں جہاں وہ ملے میں وہاں وہاں نہ رہا
(5)
دل سکون‘ روح کو آرام آگیا موت آگئی کہ دوست کاپیغام آگیا
جب کوئی ذکر گردش ایام آگیا بے اختیار لب پہ ترا نام آگیا
غم میں بھی وہ سرور‘ وہ ہنگام آگیا شاید کہ دور بادہ گلفام آگیا
دیوانگی ہو، عقل ہو، امید ہو کہ یاس اپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آگیا
دل کے معاملات میں ناصح شکست کیا سو بار حسن پر بھی یہ الزام آگیا
صیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لے میں آ گیا کہ سایہ تہہ دام آگیا
دل کونہ پوچھ معرکہ حسن وعشق میں کیا جانئے غریب کہاں کام آگیا
یہ کیا مقام عشق ہے ظالم کے ان دنوں اکثر تیرے بغیر بھی آرام آگیا
احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ اب آفتاب زیست لب بام آگیا!
(6)
شعر و نغمہ، رنگ و نگہت‘ جام و صبا ہو گیا زندگی سے حسن نکلا اور رسوا ہو گیا
اور بھی آج اور بھی ہر زخم گہرا ہو گیا بس کر اے چشم پشیماں کام اپنا ہو گیا
اس کو کیا کیجئے زبان شوق کو چپ لگ گئی جب یہ دل شائستہ عرض تمنا ہو گیا
اپنی اپنی وسعت فکر ویقیں کی بات ہے جس نے جو عالم بنا ڈالا وہ اس کا ہو گیا
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا مسکرا کر تم نے دیکھا، دل تمہارا ہو گیا
میںنے جس بت پر نظر ڈالی جنون شوق میں دیکھتا کیا ہوں وہ تیرا ہی سراپا ہو گیا
اٹھ سکا ہم سے نہ بارِ التفاتِ ناز بھی مرحبا وہ جس کو تیرا غم گوارا ہو گیا
وہ چمن میں جس روش سے ہوکے گزرے بے نقاب دفعتاً ہر ایک گل کا رنگ گہرا ہو گیا
شش جہت آئینہ حسن حقیقت ہے جگرؔ قیس دیوانہ نہ تھا محو روئے لیلیٰ ہو گیا
(7)
وہ بروئے دوست ہنگام سلام آہی گیا رخصت اے دیر وحرم ،دل کامقام آہی گیا
منتظر کچھ رند تھے جس کے وہ جام آہی گیا باش اے گردوں کہ وقت انتقام آہی گیا
ہرنفس خود بن کے میخانہ بہ جام آہی گیا توبہ جس سے کانپتی تھی وہ مقام آہی گیا
(8)
پرائے ہاتھ جینے کو ہوس کیا نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
مکاں و لامکاں سے بھی گزر جا فضائے شوق میں پرواز خس کیا
کرم صیاد کے صدہا ہیں پھر بھی فراغ خاطر اہل قفس کیا
محبت سرفروشی جاں سپاری محبت میں خیال پیش وپس کیا
اجل خود زندگی سے کانپتی ہے اجل کی زندگی پر دسترس کیا
زمانے پہ قیامت بن کے چھا جا بنا بیٹھا ہے طوفان در نفس کیا
قفس سے ہے اگر بیزار بلبل تو پھر یہ شغلِ تزئیں قفس کیا
لہو آتا نہیں کھنچ کر مژہ تک نہ آئے گی بہار اب کی برس کیا
(9)
یک لحظہ خوشی کاجب انجام نظر آیا شبنم کو ہنسی آئی، دل غنچوں کا بھر آیا
یہ کون تصور میں ہنگام سحر آیا محسوس ہوا جیسے خود عرش اتر آیا
خیر اس کو نظر آیا، شر اس کو نظر آیا آئینے میں خود عکسِ آئینہ نگر آیا
اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا
اس جان تغافل نے پھر یاد کیا شاید پھر عہد محبت کا ہر نقش اُبھر آیا
گلشن کی تباہی پرکیوں رنج کرے کوئی الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا
یہ محفل ہستی بھی کیا محفل ہستی ہے جب کوئی اٹھا پردہ میں خود ہی نظر آیا
(10)
تیرا تصور شب ہمہ شب خلوت غم بھی بزم طرب
دعوے شوق اور شکوہ ٔ بہ لب شرم دل! آرام طلب
باتیں ہیں دو‘ مقصود ہے ایک تیری طلب یا اپنی طلب
آہی گیا اک مست شباب شیشہ بدست و نغمہ بلب
حسنِ مکمل، جذب و گریز عشقِ مسلسل‘ ترک وطلب
بیت گئی جو دل پہ نہ پوچھ ہجر کی شب اور آخرِ شب
ترک طلب اور اطمینان دیکھ تو میرا حسن طلب
یائے وہ درد دل کہ جگرؔ کچھ نہیں کھلتا جس کا سبب
جب کوئی ذکر گردش ایام آگیا بے اختیار لب پہ ترا نام آگیا
غم میں بھی وہ سرور‘ وہ ہنگام آگیا شاید کہ دور بادہ گلفام آگیا
دیوانگی ہو، عقل ہو، امید ہو کہ یاس اپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آگیا
دل کے معاملات میں ناصح شکست کیا سو بار حسن پر بھی یہ الزام آگیا
صیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لے میں آ گیا کہ سایہ تہہ دام آگیا
دل کونہ پوچھ معرکہ حسن وعشق میں کیا جانئے غریب کہاں کام آگیا
یہ کیا مقام عشق ہے ظالم کے ان دنوں اکثر تیرے بغیر بھی آرام آگیا
احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ اب آفتاب زیست لب بام آگیا!
(6)
شعر و نغمہ، رنگ و نگہت‘ جام و صبا ہو گیا زندگی سے حسن نکلا اور رسوا ہو گیا
اور بھی آج اور بھی ہر زخم گہرا ہو گیا بس کر اے چشم پشیماں کام اپنا ہو گیا
اس کو کیا کیجئے زبان شوق کو چپ لگ گئی جب یہ دل شائستہ عرض تمنا ہو گیا
اپنی اپنی وسعت فکر ویقیں کی بات ہے جس نے جو عالم بنا ڈالا وہ اس کا ہو گیا
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا مسکرا کر تم نے دیکھا، دل تمہارا ہو گیا
میںنے جس بت پر نظر ڈالی جنون شوق میں دیکھتا کیا ہوں وہ تیرا ہی سراپا ہو گیا
اٹھ سکا ہم سے نہ بارِ التفاتِ ناز بھی مرحبا وہ جس کو تیرا غم گوارا ہو گیا
وہ چمن میں جس روش سے ہوکے گزرے بے نقاب دفعتاً ہر ایک گل کا رنگ گہرا ہو گیا
شش جہت آئینہ حسن حقیقت ہے جگرؔ قیس دیوانہ نہ تھا محو روئے لیلیٰ ہو گیا
(7)
وہ بروئے دوست ہنگام سلام آہی گیا رخصت اے دیر وحرم ،دل کامقام آہی گیا
منتظر کچھ رند تھے جس کے وہ جام آہی گیا باش اے گردوں کہ وقت انتقام آہی گیا
ہرنفس خود بن کے میخانہ بہ جام آہی گیا توبہ جس سے کانپتی تھی وہ مقام آہی گیا
(8)
پرائے ہاتھ جینے کو ہوس کیا نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
مکاں و لامکاں سے بھی گزر جا فضائے شوق میں پرواز خس کیا
کرم صیاد کے صدہا ہیں پھر بھی فراغ خاطر اہل قفس کیا
محبت سرفروشی جاں سپاری محبت میں خیال پیش وپس کیا
اجل خود زندگی سے کانپتی ہے اجل کی زندگی پر دسترس کیا
زمانے پہ قیامت بن کے چھا جا بنا بیٹھا ہے طوفان در نفس کیا
قفس سے ہے اگر بیزار بلبل تو پھر یہ شغلِ تزئیں قفس کیا
لہو آتا نہیں کھنچ کر مژہ تک نہ آئے گی بہار اب کی برس کیا
(9)
یک لحظہ خوشی کاجب انجام نظر آیا شبنم کو ہنسی آئی، دل غنچوں کا بھر آیا
یہ کون تصور میں ہنگام سحر آیا محسوس ہوا جیسے خود عرش اتر آیا
خیر اس کو نظر آیا، شر اس کو نظر آیا آئینے میں خود عکسِ آئینہ نگر آیا
اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا
اس جان تغافل نے پھر یاد کیا شاید پھر عہد محبت کا ہر نقش اُبھر آیا
گلشن کی تباہی پرکیوں رنج کرے کوئی الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا
یہ محفل ہستی بھی کیا محفل ہستی ہے جب کوئی اٹھا پردہ میں خود ہی نظر آیا
(10)
تیرا تصور شب ہمہ شب خلوت غم بھی بزم طرب
دعوے شوق اور شکوہ ٔ بہ لب شرم دل! آرام طلب
باتیں ہیں دو‘ مقصود ہے ایک تیری طلب یا اپنی طلب
آہی گیا اک مست شباب شیشہ بدست و نغمہ بلب
حسنِ مکمل، جذب و گریز عشقِ مسلسل‘ ترک وطلب
بیت گئی جو دل پہ نہ پوچھ ہجر کی شب اور آخرِ شب
ترک طلب اور اطمینان دیکھ تو میرا حسن طلب
یائے وہ درد دل کہ جگرؔ کچھ نہیں کھلتا جس کا سبب
منتظر کچھ رند تھے جس کے وہ جام آہی گیا باش اے گردوں کہ وقت انتقام آہی گیا
ہرنفس خود بن کے میخانہ بہ جام آہی گیا توبہ جس سے کانپتی تھی وہ مقام آہی گیا
(8)
پرائے ہاتھ جینے کو ہوس کیا نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
مکاں و لامکاں سے بھی گزر جا فضائے شوق میں پرواز خس کیا
کرم صیاد کے صدہا ہیں پھر بھی فراغ خاطر اہل قفس کیا
محبت سرفروشی جاں سپاری محبت میں خیال پیش وپس کیا
اجل خود زندگی سے کانپتی ہے اجل کی زندگی پر دسترس کیا
زمانے پہ قیامت بن کے چھا جا بنا بیٹھا ہے طوفان در نفس کیا
قفس سے ہے اگر بیزار بلبل تو پھر یہ شغلِ تزئیں قفس کیا
لہو آتا نہیں کھنچ کر مژہ تک نہ آئے گی بہار اب کی برس کیا
(9)
یک لحظہ خوشی کاجب انجام نظر آیا شبنم کو ہنسی آئی، دل غنچوں کا بھر آیا
یہ کون تصور میں ہنگام سحر آیا محسوس ہوا جیسے خود عرش اتر آیا
خیر اس کو نظر آیا، شر اس کو نظر آیا آئینے میں خود عکسِ آئینہ نگر آیا
اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا
اس جان تغافل نے پھر یاد کیا شاید پھر عہد محبت کا ہر نقش اُبھر آیا
گلشن کی تباہی پرکیوں رنج کرے کوئی الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا
یہ محفل ہستی بھی کیا محفل ہستی ہے جب کوئی اٹھا پردہ میں خود ہی نظر آیا
(10)
تیرا تصور شب ہمہ شب خلوت غم بھی بزم طرب
دعوے شوق اور شکوہ ٔ بہ لب شرم دل! آرام طلب
باتیں ہیں دو‘ مقصود ہے ایک تیری طلب یا اپنی طلب
آہی گیا اک مست شباب شیشہ بدست و نغمہ بلب
حسنِ مکمل، جذب و گریز عشقِ مسلسل‘ ترک وطلب
بیت گئی جو دل پہ نہ پوچھ ہجر کی شب اور آخرِ شب
ترک طلب اور اطمینان دیکھ تو میرا حسن طلب
یائے وہ درد دل کہ جگرؔ کچھ نہیں کھلتا جس کا سبب
یہ کون تصور میں ہنگام سحر آیا محسوس ہوا جیسے خود عرش اتر آیا
خیر اس کو نظر آیا، شر اس کو نظر آیا آئینے میں خود عکسِ آئینہ نگر آیا
اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا
اس جان تغافل نے پھر یاد کیا شاید پھر عہد محبت کا ہر نقش اُبھر آیا
گلشن کی تباہی پرکیوں رنج کرے کوئی الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا
یہ محفل ہستی بھی کیا محفل ہستی ہے جب کوئی اٹھا پردہ میں خود ہی نظر آیا
(10)
تیرا تصور شب ہمہ شب خلوت غم بھی بزم طرب
دعوے شوق اور شکوہ ٔ بہ لب شرم دل! آرام طلب
باتیں ہیں دو‘ مقصود ہے ایک تیری طلب یا اپنی طلب
آہی گیا اک مست شباب شیشہ بدست و نغمہ بلب
حسنِ مکمل، جذب و گریز عشقِ مسلسل‘ ترک وطلب
بیت گئی جو دل پہ نہ پوچھ ہجر کی شب اور آخرِ شب
ترک طلب اور اطمینان دیکھ تو میرا حسن طلب
یائے وہ درد دل کہ جگرؔ کچھ نہیں کھلتا جس کا سبب
اصغر حسین نام اور اصغر تخلص کرتے تھے۔1 مارچ 1884ء کو اپنے آبائی وطن گورکھپور کے محلے الٰہی باغ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد مولوی تفضل حسین قانون گو تھے۔ لہٰذا جب ان کا تبادلہ گورکھپور سے گونڈہ ہوا تو ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ گونڈہ چلے آئے۔ اصغر کی ابتدائی تعلیم گونڈہ ہی میں ہوئی۔ انہوں نے1898میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور یہیں سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ اصغر نے اپنی تعلیم کسی طرح انٹرنس تک جاری رکھی مگر اس کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ذاتی مطالعے کی بنا پر اچھی خاصی قابلیت پیدا کرلی تھی۔
اصغر نے اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں منشی خلیل احمد وجد بلگرامی کو اپنا کلام دکھایا۔ بعد میں کچھ دنوں منشی امیر اللہ تسلیم سے بھی مشورۂ سخن کرتے رہے، اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی استادی و شاگردی بس ایک رسم کی ادائگی ہوتی ہے، کیوں کہ شاعرکا اصل رہبر اس کا ذوقِ صحیح، وجدان اور طبیعت کی موزونی ہوتا ہے، جو اسے دھیرے دھیرے صحیح راستے پر ڈال دیتا ہے۔
ریلوے کے محکمے میں ٹائم کیپر کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوگیا تو بیس روپے ماہوارتنخواہ پانے لگے۔ اس کے بعد کے چند برس ان کی زندگی کا ایسا دور تھا، جو ان کی شخصیت سے کہیں سے بھی میل نہیں کھاتا یعنی یہ وقت ان کی مے نوشی کا تھا۔ ’’چھٹن‘‘ سے اصغر گونڈوی کو قربت ہوئی اور انہوں نے ان سے نکاح کر لیا۔ آہستہ آہستہ اصغر کا مذہبی رجحان بڑھتا گیا اور بہت جلد ہی انہوں نے اپنی پرانی روش ترک کردی۔ عبادت اور تصوف کی طرف ان کا ذہن اب مائل ہوچکا تھا۔ اس تبدیلی نے آخر ایک دن انہیں عبدالغنی منگلوری سے شرف بیعت حاصل کروا دیا۔
1913 ءمیں جب سے انہوں نے بیعت کا شرف حاصل کیا تھا، اس کے بعد سے تصوف اور علم و عرفان، ان کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اسی سال انہوں نے کتاب کی دکان کرلی اور مستقل طور سے اس پر بیٹھنے لگے۔ چوں کہ طبیعت کچھ ایسی تھی کہ تجارت راس نہیں آئی اور نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ۱۹۱۶ میں اصغرگونڈوی کی ملاقات جگرمرادآبادی سے ہوئی۔ یہی ملاقات رفتہ رفتہ دوستی میں تبدیل ہوگئی اور جگر و اصغر ایک دوسرے کے دلدادہ ہوگئے۔ اصغر کی زندگی میں وہ دوربھی آیا، جب وہ چشمے کے کاروبار کے سلسلے میں جگر کے معاون ہوگئے۔ اس سے قبل وہ ’’قصرِ ہند‘‘ ہفتہ وار(1913) کے مدیر کی حیثیت سے کام کرچکے تھے، جس کا نام بعد میں بدل کر ’’پیغام‘‘ کردیا گیا تھا۔ 1926میں وہ عطر چند کپور کے ’’ادبی مرکز‘‘ سے وابستہ ہوگئے۔ جب ادارے کا کاروبار دم توڑنے لگا تو اصغر گونڈہ چلے گئے۔ 1930میں سرتیج بہادر سپرو نے ایک اکادمی ’’ہندوستانی اکیڈمی‘‘ کے نام سے قائم کی تو اصغراس میں کام کرنے لگے۔
اصغرمشاعروں میں بہت کم شرکت کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سامعین کے سامنے کلام پیش کرنے کے لیے ان کی آواز موزوں نہیں تھی۔ ان کے کلام کا پہلا مجموعہ ’’نشاطِ روح‘‘ دسمبر1925 میں اور دوسرا مجموعہ ’’سرودِ زندگی‘‘ 1935 میں شائع ہوا۔ اصغرقدرتی طور سے کم گو واقع ہوئے تھے، اتنا کم کہنے کے باوجود اہل نظر کو اپنی طرف متوجہ کرلینا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی شاعری میں ایسی قابل قدر خوبیاں موجود ہیں، جو ایک معیاری شاعری کے لیے ناگزیر ہیں۔ اردو ادب کا یہ مایہ نازشاعر1936 میں الہٰ آباد میں روپوش ہوا اور وہیں پر تدفین عمل میں آئی۔
اصغر دور حاضر کے صاحب طرز اور جدید اسلوب کے موجد ہیں۔اسلوب بیان کے لحاظ سے اصغر بیشتر غزل گو شاعروں میں منفرد ہیں۔ان کا اندازِ تغزل نرالہ ہے اور اردو میں کمیاب ہے۔ اردو شاعری کی فضا پر عام طور سے یاس و محرومی اور غم و اندوہ کی کہر چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔ نشاط و مسرت اور شاد مانی کے جذبات کا اظہار کمتر نظر آتا ہے۔بعض لکھنؤی شعراء نے اس عام روایت سے انحراف کی کوشش کی ہے مگر ان کی ہنسی مصنوعی اور انکا قہقہہ کھوکھلا اور زندگی سے محروم ہے۔پوری اردو شاعری میں اقبال اور ترقی پسند شعراء سے قطع نظر سودا اور مصحفی اور متاخرین میں جوش اور اصغر کے یہاں کیف و نشاط کی صحت مند فضا ملتی ہے۔
انبساط اور سرمستی : ان کے پورے کلام میں انبساط اور سرمستی کی ایک وجدانی کیفیت پائی جاتی ہے۔ بغیرآہ و فریاد کیے اصغرعشق کی منزلیں بآسانی طئے کرتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً
نشۂ عشق میں ہر چیز اڑی جاتی ہے کون ذرہ ہے کہ سرشار محبت میں نہیں
وہیں سے عشق نے بھی شورشیں اڑائی ہیں جہاں سے تو نے لیے خندہ ہائے زیر لبی
لب و لہجہ اور مضامین :اصغرگونڈوی کے منفرد رنگ و آہنگ کی ابتدا ’’نشاطِ روح‘‘ سے ہوتی ہے۔ ’’نشاطِ روح‘‘ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فرسودہ اور پامال مضامین باندھنے سے گریز کرتے ہیں۔ زبان و بیان اور خیالات دونوں اعتبار سے ان کا کلام کبھی بھی ابتذال کی سرحدوں میں داخل نہیں ہوتا۔ ان کے لب و لہجے میں ایک متانت آمیز رنگینی اور خیالات و محسوسات میں پاکیزگی و لطافت پائی جاتی ہے۔ تصوف اور معرفت کے مضامین کو کیف و سرور کے ساتھ اس طرح نظم کرتے ہیں کہ قاری سرمست ہو اٹھتا ہے۔ ان کی غزلوں کی تخلیق کچھ یوں ہوتی ہے کہ دل پر اثر کرتی ہے۔
تھیں نگاہِ شوق کی رنگنیاں چھائی ہوئی پردۂ محمل اٹھا تو صاحبِ محمل نہ تھا
بلندی اخلاق :غزلیات اصغر کی سب سے بڑی خصوصیت اخلاقیات کی بلندی ہے۔ ان کے کلام میں تلاش کرنے کے بعد بھی ایسا ایک شعر نہیں مل سکتا، جو معیارمیں کم تر ہو۔ حسن و عشق، وصل و ہجر، سوزو گداز، حسرت و یاس، جوش و وارفتگی اور مسرت و انبساط، غرض یہ کہ تمام طرح کے مضامین باندھے گئے ہیں لیکن کہیں بھی ابتذال یا عامیانہ پن کا نام نہیں ہے۔ اصغر کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال سہیل لکھتے ہیں:’’خدا کا شکرہے کہ جناب اصغر کی شاعری عام سطح سے بہت بلند ہے اور ان کے یہاں ڈوبی ہوئی نبضیں، پتھرائی ہوئی آنکھیں اور عالم نزع کی ہچکیاں غرض یہ کہ زندہ درگور شعرأ کی بدمذاقیاں کہیں بھی نہیں ہیں۔ ان کی شاعری رقصِ معانی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔
مستی سے ترا جلوہ خود عرض تماشا ہے آشفتہ نگاہوں کا یہ کیف نظر دیکھا
غزل کا نیا رنگ :بیسویں صدی میں غزل کوایک نئے رنگ و آہنگ سے روشناس کرانے میں اصغر سب سے پیش پیش تھے۔ سامنے کی باتیں ہوں یا عام وارداتِ قلبی، ان سب کو اصغر ایک نئے پیکر میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں، جس سے کلام میں ایک ندرت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کی پوری شاعری میں نشاط و سرمستی کی ایک وجدانی کیفیت پائی جاتی ہے، جس کے باعث وہ عشق کی منزلیں بغیرآہ و فغاں کے طئے کرتے چلے جاتے ہیں۔
غزل کیا اک شرارِ معنوی گردش میں ہے اصغر یہاں افسوسِ گنجائش نہیں فریاد و ماتم کی
ہے خستگیِ دم سے رعنائیِ تخیل میری بہار رنگیں پروردۂ خزاں ہے
یہ لب و لہجہ اور خزاں کا پروردہ، رنگین مزاج، اصغر ہی کے بس کی بات تھی۔ بیسویں صدی میں غزل کو نئی بلندیوں اور نئی منزلوں سے روشناس کرانے والوں میں فانی، حسرت، اقبال سہیل اور جگر بھی اصغر کے ہم قدم تھے لیکن اصل جوش و جذبہ اصغر ہی سے منسوب ہے۔ ہرایک کا اپنا رنگ ہے اور یہ سبھی اپنے اسی منفرد رنگ و آہنگ سے پہچانے جاتے ہیں۔
بلند نظری : شاعر جب اپنے کلام میں عالی حوصلہ، بلند خیال اور اپنے تخیل کی بدولت ایسے مضامین باندھتا ہے، جو عمومی سطح سے بہت اوپر ہوں تو اسے بلند نظری سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اصغرنے اپنے کلام میں اس طرح کے مضامین کو بارہا باندھنے کی کوشش کی ہے اور بڑی کامیابی سے اس کو پیش کیا ہے۔ مثلاً۔
یہ دین وہ دنیا ہے، یہ کعبہ وہ بت خانہ ایک اور قدم بڑھ کر اے ہمتِ مردانہ
کیا درد ہجر اور یہ کیا لذت وصال اس سے بھی کچھ بلند ملی ہے نظر مجھے
بہت لطیف اشارے تھے چشمِ ساقی کے نہ میں ہوا کبھی بے خود نہ ہوشیار ہوا
اک جہد و کشاکش ہے ہستی جسے کہتے ہیں کفار کا مٹ جانا خود مرگِ مسلماں ہے
تصوف کا بیان :اصغر کی شاعری کا بنیادی موضوع تصوف اور عشق الٰہی ہے۔ فلسفیانہ مضامین ہوں یا حسن و عشق کی سحر طرازیاں، کہیں بھی وہ اپنے اس بنیادی موضوع سے نہیں ہٹتے۔وہ معاملاتِ حسن وعشق کو تمام شعراء کی طرح بیان تو کرتے ہیں مگر ان کا مرکز نگاہ گوشت پوست رکھنے والا کوئی مجازی محبوب نہیں وہ ارضی ہونے کے بجائے ماورائی ہے اور ان کا عشق ہر طرح کی جسمانی و جذباتی کثافت سے پاک ہے۔اگر کہیں حسن مجازی کا ذکر ان کی شاعری میں ملتا ہے تو وہ بھی اس انداز میں کہ اس پر بھی حسن حقیقی کا گمان ہونے لگتا ہے دونوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔مولانا شاہ معین الدین ندوی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’سرود زندگی میں اگرچہ کہیں کہیں مجاز کا رنگین حجاب بھی نظر آتا ہے لیکن اتنا لطیف اور ہلکا ہے کہ اندر سے حسن حقیقت صاف جھلکتا دکھائی دیتا ہے‘‘
میرے مذاق شوق کا اس میں بھرا ہے رنگ میں خود کو دیکھتا ہوں کہ تصویر یار کو
اس میں وہی ہیں یا مرا حسنِ خیال ہے دیکھوں اٹھاکے پردۂ ایوانِ آرزو
دراصل ان کی شاعری میں رچے ہوئے رنگین تصوف نے دونوں کو اس طرح سے رنگ میں رنگ دیا ہے کہ ان میں امتیاز کرنا دشوار اور ایک دوسرے سے الگ کرکے دکھانا دشوار تر ہو گیا ہے۔وہ حسن حقیقی کو زیادہ تر حسن مجازی کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اس حسن کے جلوۂ رنگین کے بیان میں انہیں لفظیات کو استعمال کرتے ہیں جو حسن ظاہر کے لئے مخصوص ہیں۔
ایسا بھی ایک جلوہ تھا اس میں چھپا ہوا اس رخ پہ دیکھتا ہوں اپنی نظر کو میں
مجنوں کی نظر میں بھی شاید کوئی لیلیٰ ہے ایک ایک بگولے کو دیوانہ بنا آئی
اسرار، سِرّ کی جمع ہے، جس کے معنی راز اور بھید کے ہیں۔ شاعری میں جب شاعرکائنات کے مضامین سے نکل کر الوہیت اور فلسفہ و حکمت کے مضامین باندھتا ہے تو اسے اسرار و معارف کے مضامین کہتے ہیں۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اقبال سہیل لکھتے ہیں:’’اگر ایک شاعر عالمِ رنگ و بو سے گذر کر فلسفہ و حکمت کے نکتہ ہائے سربستہ، مذہب کے اسرار و رموز، اور مراحل سلوک و عرفاں کی کیفیات مجردہ اسی ترنم، اسی جدت بیان اور اسی حسن مصوری کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اس کی شاعری سحر سے گزر کر اعجاز بن جاتی ہے۔ اس طرح کے شاعر کے لیے بصیرت، تاثر اور قوتِ بیان، تینوں کا اجتماع ضروری ہے یعنی ایک طرف تو قوت مشاہدہ اتنی تیز ہونی چاہیے کہ نہایت دقیق نکتوں تک پہنچ سکے، دوسری جانب احساس اتنا لطیف ہونا چاہیے کہ وہ غیر مادی حقائق سے بھی لطف اندوز ہوسکتا ہو اور ان دونوں مراحل کے بعد قوت بیان ایسی ہونی چاہیے کہ عرفان و ذوق کی اس مجموعی کیفیت کی تصویر ایک نئے انداز کے ساتھ شعر کے نغمۂ موزوں میں کھنچ کر دوسروں کو بھی لذت اندوز کرسکے تو وہ ایک باکمال شاعر ہے۔‘‘{ FR 9300 } اصغر نے اسرار و معارف کے لطیف سے لطیف مضامین میں بھی ایک نئی کیفیت اور طرز سے اشعار کہنے کی کوشش کی ہے۔
پھر آج جوش سر حقیقت ہے موجزن کچھ پردہ ہائے ساغر و مینا لیے ہوئے
اب تک تمام فکر و نظر پر محیط ہے شکلِ صفات معنی اشیا کہیں جسے
نظارہ بھی اب گم ہے بے خود ہے تماشائی اب کون کہے اس کو جلوہ نظر آتا ہے
اہلِ بصیرت علم و عرفان اسے کہتے ہیں کہ انسان کے تمام ادراکات و احساسات پر جمالِ دوست کا قبضہ ہوجائے۔ ذات و صفات کا فرق مٹ جائے تو اس مقام کو اصطلاحِ سلوک میں فنا کہتے ہیں۔
تھیں خود نمود حسن میں شانیں حجاب کی مجھ کو خبر رہی نہ رخِ بے نقاب کی
جس طرح کمالِ بے خبری ہی اصل علم و عرفان ہے، اسی طرح کمالِ ظہور بھی عین حجاب ہے۔ اس حقیقت کی نہایت دلکش مصوری اس شعر میں کی گئی ہے۔ اس فلسفے سے متعلق اصغر کی ایک نظم ’’سرّفنا‘‘ ہے۔ چند مثالیں پیش ہیں۔
پردۂ حرماں میں آخر کون ہے اس کے سوا اے خوشا در دے کہ نزدیکی بھی ہے دوری بھی ہے
میں تو ان محجوبیوں پر بھی سراپا دید ہوں اس کے جلوہ کی ادا اک شان مستوری بھی ہے
ندرت بیان :کسی پرانے خیال کونئی طرز ادا سےبیان کرنا ندرتِ بیان کہلاتا ہے۔ اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ندرتِ بیان پرانی شراب کو نئے ساغر و مینا میں پیش کرنے کا نام ہے۔ اصغر اس میں ماہر ہیں۔
لو شمع حقیقت کی اپنی ہی جگہ پر ہے فانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے
حقیقت میں یہی ندرت بیان شاعری کی روح ہے ۔ نیا خیال ہر شعر میں پیش کرنا ناممکن سی بات ہے اور پرانے خیالات اور مضامین کو بغیر کسی نئے پن کے پیش کرنا بھی عبث ہے۔ اصغر گونڈوی کی شاعری کا ایک مخصوص لہجہ ہے۔ ان کے اس رنگ کو بعد کے شعرأ میں کوئی بھی اپنا نہ سکا۔ اصغر اپنے رنگ کے پہلے اور آخری شاعر ہیں۔ ندرت بیان کی مثالیںملاختہ کیجئے۔
سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں ہے
آہوں نے میری خرمنِ ہستی جلا دیا کیا منھ دکھاؤں گا تری برق نظر کو میں
تو برق حسن اور تجلی سے یہ گریز میں خاک اور ذوقِ تماشا لیے ہوئے
(1)
ادنیٰ سا یہ حیرت کا کرشمہ نظر آیا جو تھا پس پردہ، سر پردہ نظر آیا
پھر میں نظر آیا، نہ تماشا نظر آیا جب تو نظر آیا مجھے تنہا نظر آیا
اللہ رے دیوانگی شوق کا عالم اک رقص میں ہر ذرّہ صحرا نظر آیا
اٹھّے عجب انداز سے وہ جوش غضب میں چڑھتا ہوا اک حسن کا دریا نظر آیا
کس درجہ ترا حسن بھی آشوب جہاں ہے جس ذرّے کو دیکھا، وہ تڑپتا نظر آیا
اب خود ترا جلوہ جو دکھا دے، وہ دکھا دے یہ دیدۂ بینا تو تماشا نظر آیا
تھا لطف جنوں دیدۂ خوں نابہ فشاں سے پھولوں سے بھرا دامن صحرا نظر آیا
(2)
دل نثار مصطفے ٰ جاں پائمال مصطفے ٰ یہ اویس مصطفے ٰ ہے وہ بلال مصطفے ٰ
دونوں عالم تھے مرے حرف دعا میں غرق و محو میں خدا سے جب کر رہا تھا سوال مصطفے ٰ
سب سمجھتے ہیں اسے شمع شبستان حرا نور ہے کونین کا لیکن جمال مصطفے ٰ
عالم ناسوت میں اور عالم لاہوت میں کوندی ہے ہر طرف برق جمال مصطفے ٰ
عظمت تنزیہہ دیکھی، شوکت تشبیہہ بھی ایک حال مصطفے ٰ ہے ایک قال مصطفے ٰ
دیکھئے کیا حال کر ڈالے شب یلدائے غم ہاں نظر آئے ذرا صبح جمال مصطفے ٰ
ذرّہ ذرّہ عالم ہستی کا روشن ہو گیا اللہ اللہ شوکت و شان جمال مصطفے
(3)
خوب دن تھے ابتدائے عشق کے اب دماغ نالہ و شیون کہاں
اس رخ رنگیں سے آنکھیں سینکئے ڈھونڈھئے اب آتش ایمن کہاں
سارے عالم میں کیا تجھ کو تلاش تو ہی بتلا، ہے رگ گردن کہاں
خوب تھا صحرا، پر اے ذوق جنوں پھاڑنے کو نت نئے دامن کہاں
شوق سے ہے ہر رگ جاں جست میں لے اڑے گی بوئے پیراہن کہاں
(4)
حیران ہے زاہد مری مستانہ ادا سے سو راہ طریقت کھلیں، اک لغزش پا سے
اک صورت افتادگی نقش فنا ہوں اب راہ سے مطلب، نہ مجھے راہنما سے
میخانہ کی اک روح مجھے کھینچ کے دے دی کیا کر دیا ساقی! نگہ ہوش ربا سے
(5)
فتنہ سامانیوں کی خو نہ کرے مختصر یہ کہ، آرزو نہ کرے
پہلے ہستی کی ہے تلاش ضرور! پھر جو گم ہو، تو جستجو نہ کرے
ماروائے سخن بھی ہے کچھ بات بات یہ ہے، کہ گفتگو نہ کرے
(6)
وہ اک دل و دماغ کی شادابی نشاط گرنا چمک کے اف تری برق نگاہ کا
وہ لذّت الم کا جو خوگر سمجھ گئے اب ظلم مجھ پہ ہے ستم گاہ گاہ کا
شیشے میں موج مے کو یہ، کیا دیکھتے ہیں آپ اس میں ہے اسی برق نگاہ کا
(7)
عشق ہی سعی مری، عشق ہی حاصل میرا یہی منزل ہے، یہی جادۂ منزل میرا
یوں اڑائے لئے جاتا ہے مجھے دل میرا ساتھ دیتا نہیں اب جادۂ منزل میرا
اور آ جائے نہ زندانی وحشت کوئی! ہے جنوں خیز بہت شور سلاسل میرا
میں سراپا ہوں تمنّا ہمہ تن درد ہوں میں ہر بن مو میں تڑپتا ہے مرے، دل میرا
داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں، لیکن اس میں کچھ خون تمنّا بھی ہے شامل میرا
بے نیازی کو تری کچھ بھی پذیرا نہ ہوا شکر اخلاص مرا، شکوۂ باطل میرا
(8)
ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی آئینہ بھی حیران ہے و آئینہ نگر بھی
ہو نور پہ کچھ اور ہی اک نور کا عالم اس رخ پہ جو چھا جائے مرا کیف نظر بھی
تھا حاصل نظّارہ فقط ایک تحیّر جلوے کو کہے کون کہ اب گم ہے نظر بھی
اب تو یہ تمنّا ہے کسی کو بھی نہ دیکھوں صورت جو دکھا دی ہے تو لے جاؤ نظر بھی
(9)
مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا سنتے ہیں بہار آئی، گلستاں نہیں دیکھا
زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا
آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا
اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب فتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں دیکھا
ہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورت میں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا
کچھ دعوی تمکیں میں ہے معذور بھی زاہد! مستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا
روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں ! جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا
مجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہے ترستی کب سے تجھے اے سرو خراماں نہیں دیکھا
کیا کیا ہوا ہنگام جنوں، یہ نہیں معلوم ! کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا
شائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغر کافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا
(10)
رخ رنگیں پہ موجیں ہیں تبسّم ہائے پنہاں کی شعاعیں کیا پڑیں، رنگت نکھر آئی گلستاں کی
یہیں پہ ختم ہو جاتی ہیں بحثیں کفر و ایماں کی نقاب اس نے الٹ کر یہ حقیقت ہم پہ عریاں کی
روانی رنگ لائی دیدۂ خوں نا بہ افشاں کی اتر آئی ہے اک تصویر دامن پر گلستاں کی
حقیقت کھول دیتا میں جنوں کے راز پنہاں کی قسم دے دی ہے لیکن قیس نے چاک گریباں کی
مری اک بیخودی میں سینکڑوں ہوش و خرد گم ہیں یہاں کے ذرّہ ذرّہ میں ہے وسعت اک بیاباں کی
مجھی سے بگڑے رہتے ہیں مجھی پر ہے عتاب ان کا ادائیں چھپ نہیں سکتیں نوازشہائے پنہاں کی
اسیران بلا نے آہ، کچھ اس درد سے کھینچی نگہباں چیخ اٹّھے، ہل گئی دیوار زنداں کی
نگاہ یاس و آہ عاشقاں و نالۂ بلبل معاذاللہ کتنی صورتیں ہیں انکے پیکاں کی
اسیران بلا کی حسرتوں کو آہ کیا کہیئے ٹرپ کے ساتھ اونچی ہو گئی دیوار زنداں کی
مرزا واجد حسین نام،اور تخلص پہلے یاس اور پھر یگانہ اختیار کیا۔مرزا کے جدامجد ایران سے ہندوستان آئے اور مغلیہ سلطنت کے دامن سے بسلسلہ سپہ گری، وابستہ ہوگئے۔پر گنہ حوالی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔مرزا واجد حسین عظیم آباد ہی میں 17 اکتوبر 1884ء میں محلہ مغلپورہ میں پیدا ہوئے۔پانچ چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد عظیم آباد (پٹنہ) کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں نام لکھوایا گیا۔ اسکول میں ہمیشہ اول رہے۔ پڑھنے میں اچھے تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے ۔1903ء میں انٹرنس پاس کیا۔ 1904ء میں مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے صاحب زادوں شہزادہ محمود یعقوب علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کی انگریزی تعلیم کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے میں لکھنؤ آئے اور لکھنؤ کی فضا ایسی راس آئی کہ اچھے ہوکر بھی واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرکے اسی کو اپنا وطن بنالیا۔
لکھنؤ میں ان کا قیام ہنگامہ خیز ثابت ہوا جس کا اثر ان کی شاعری پر بھی پڑا۔یگانہ اپنے آپ کو عظیم آبادی کی جگہ لکھنؤی کہنے لگے۔یہاں مشہور شعراء سے ٹکر لینے لگے۔مخالفتیں اتنی بڑھیں کہ یاس، یگانہ چنگیزی بن گئے۔1927ء میں یاس تخلص بالکل ترک کر کے صرف یگانہ استعمال کرنے لگے۔شعرائے لکھنؤ چونکہ غالب کے مقلد تھے اس لئے یگانہ اپنے آپ کو’آتش کا مقلد‘ کہتے تھے۔یگانہ نے اپنے آپ کو غالب شکن اور غالب کا چچا بھی کہا ہے۔
تلاشِ معاش کے لئے یگانہ کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا،حیدرآباد چلے گئے وہاں سب رجسٹرار ی کے عہدے پر فائز ہوئے۔جب ملازمت سے سبکدوشی حاصل کی تو لکھنؤ واپس آ گئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔4 فروری 1956ء کو انتقال کیا اور لکھنو ہی میں ابدی آرام گاہ بنی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لکھنؤ کا قیام :یگانہؔ کا لکھنؤ کا قیام بڑا ہنگامہ خیز اور معرکہ آرا رہا، جس کا اثر ان کے فن پر بھی پڑا۔ معرکہ آرائیوں نے بھی ان کے فن کو جلا بخشی۔ شروع میں لکھنؤ کے شعرا سے ان کے تعلقات خوشگوار تھے۔ اتنا ہی نہیں وہ عزیزؔ، صفیؔ، ثاقبؔ و محشرؔ وغیرہ کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ جب عزیزؔ کی سرپرستی میں رسالہ ’’معیار‘‘ جاری ہوا اور معیار پارٹی وجود میں آئی تو یگانہؔ بھی اس پارٹی کے مشاعروں میں غالبؔ کی زمینوں میں غزلیں پڑھتے تھے۔ ان طرحی مشاعروں کی جو غزلیں’’معیار‘‘ میں چھپی ہیں، ان میں بھی یگانہؔ کی غزلیں شامل ہیں۔ لیکن یہ تعلق بہت دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور لکھنؤ کے اکثر شعرا سے یگانہؔ کی چشمک ہو گئی۔ اس سلسلے میں مالک رام بہ زبان یگانہؔ تحریر کرتے ہیں کہ ”اب اس میں میرا کیا قصور ! یہ خدا کی دین ہے، میرا کلام پسند کیاجانے لگا۔ باہر کے مشاعروں میں بھی اکثر جانا پڑتا۔ میری یہ ہر دل عزیزؔی اور مقبولیت ان تھڑدلوں سے دیکھی نہ گئی۔
یگانہؔ سے اہلِ لکھنؤ کی چشمک کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ "معیار" پارٹی کے مشاعروں میں ان کے کلام پر خندہ زنی کی جاتی تھی اور بے سروپا اعتراض کیے جاتے تھے مگر یہ سب کچھ زبانی ہوتا تھا۔ اصلی اور تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہؔ نے کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا سلسلہ چل پڑا، جس کی انتہا ’’شہرتِ کاذبہ‘‘ نامی یگانہؔ کی کتاب ہے۔ لکھنؤ کے شعرا غالبؔ کے بڑے قائل تھے، لہٰذا یگانہؔ کے لیے اب یہ بات بھی ناگزیر ہو گئی کہ وہ غالبؔ کی بھی مخالفت کریں۔ غالبؔ کی مخالفت کے سلسلے میں انہیں اندھا مخالف نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ ”یہ کس نے آپ کو بہکا دیا کہ میں غالب کا مخالف ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ صاحب ! غالبؔ کی صحیح قدر و منزلت مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں ۔ اور پھر قسم یہ ہے کہ یہ بھی وہ لوگ نہیں، جو اس کا صحیح مقام سمجھتے ہوں، بلکہ وہ جو تقلیداً اسے بڑا سمجھتے ہیں ۔ تو صاحب ! میں غالبؔ کے خلاف نہیں تھا، اور نہ ہوں لیکن میں اس کی جائز جگہ سے زیادہ اس کے حوالے کردینے پر تیار نہیں ۔
یگانہؔ نے اس مخالفت کے چلتے اپنے آپ کو ’’آتشؔ کا مقلد‘‘ کہنا شروع کر دیا اور اپنے مجموعۂ کلام ’’نشترِ یاس‘‘ کے سرورق پر اپنے نام سے پہلے ’’خاک پائے آتشؔ ‘‘ لکھا اورجب اس کے ایک سال بعد ’’چراغِ سخن‘‘ شائع ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو ’’آتشؔ پرست‘‘ کے درجے تک پہنچا دیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے آتشؔ اور غالبؔ کا تقابلی مطالعہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آتشؔ، غالبؔ سے بڑا شاعر ہے۔ یہ مضمون رسالہ ’’خیال ‘‘ میں نومبر 1915ء میں شائع ہوا اور یہ سلسلہ ایک لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس غالبؔ شکنی کی انتہا وہ رسالہ ہے، جو انہوں نے 1934ء میں ’’غالبؔ شکن‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ مزید اضافوں کے ساتھ 1935ء میں چھاپا۔ اس مخالفت کی وجہ سے یگانہؔ کا اچھا خاصا وقت ضائع ہو گیا کیوں کہ اس مخالفت سے نہ تو شعرائے لکھنؤ کا کچھ ہوا اور نہ ہی غالبؔ کو کچھ نقصان پہنچا بلکہ یگانہؔ ہی خسارے میں رہے کہ اپنی شاعری پر پوری طرح توجہ نہ دے سکے ۔ان سب مخالفتوں اور معرکہ آرائیوں کے باوجود یگانہؔ کا ایک گروپ تھا، جن سے ان کے اچھے مراسم تھے۔ 1919ء میں انہوں نے ’’انجمن خاصانِ ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی۔ اس انجمن کے صدر بیخودؔ موہانی، سکریٹری یگانہؔ اور جوائنٹ سکریٹری عبد الباری آسی تھے۔ اس انجمن کے اعزازی رکن اور سرپرستوں میں فصاحتؔ لکھنوی اور سید مسعود حسن رضوی ادیبؔ جیسے لکھنوی اہل قلم بھی شامل تھے ۔
قیام دکن : زندگی کے دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ یگانہؔ کی ملازمت کا سلسلہ بھی ناہمواری کا شکار رہا۔ ایک عرصے تک وہ ’’اودھ اخبار‘‘ سے وابستہ رہے۔ لیکن حتمی طور سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کب سے کب تک، البتہ ’’اودھ اخبار‘‘ کے مدیروں میں یگانہؔ کا نام شامل ہے ۔1924ء میں یگانہؔ اٹاوہ چلے گئے، جہاں انہیں اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت مل گئی۔ مارچ 1925ء کے آس پاس وہ اٹاوہ کو چھوڑ کر علی گڑھ چلے گئے، وہاں ایک پریس میں انہیں ملازمت مل گئی۔ 1926ء میں انہوں نے لاہور کا رخ کیا اور ’’اردو مرکز‘‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں کا ماحول انہیں راس آیا۔ یہاں کے ادیبوں سے ان کے بہتر مراسم رہے۔ کئی کتابوں اوررسالوں کے چھپنے کی سبیل پیدا ہوئی۔ اقبالؔ کے یہاں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ اقبالؔ بھی یگانہؔ کے بڑے قائل تھے۔ 1928ء میں یگانہؔ ’’اردو مرکز‘‘ سے علاحدہ ہو گئے لیکن قیام لاہور ہی میں رہا۔ لاہور کے بعد انہوں نے حیدرآباد دکن کا رخ غالباً 1928ء میں کیا۔ حیدرآباد میں ان کا قیام ان کے لیے کافی آسودگی لے کر آیا۔ جہاں ان کا تقرر نثار احمد مزاج کے توسط سے محکمہ رجسٹریشن میں ’’نقل نویس‘‘ کی حیثیت ہو گیا۔ یہاں ان کی آمدنی پچیس تیس روپے ماہوار تھی اور کبھی کبھی زیادہ بھی ہوجاتی تھی ۔1931ء میں یگانہؔ محکمۂ رجسٹریشن میں باقاعدہ ملازم ہو گئے۔ یہ جگہ سب رجسٹرار کی تھی۔ اس طرح وہ ’’عثمان آباد‘‘، ’’لاتور‘‘ اور ’’یادگیر‘‘ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور 1942ء میں 55 برس کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد ایک لمبے عرصے تک حیدرآباد ہی میں قیام رہا۔ 1946ء میں وہ بمبئی گئے اور وہاں اپنے بڑے بیٹے آغا جان کو ملازمت دلوائی۔ حیدرآباد میں نواب معظم جاہ نے انہیں اپنے دربار سے وابستہ کرناچاہا لیکن یگانہؔ راضی نہ ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد یگانہؔ بار بار حیدرآباد روزگار کی امید سے آتے رہے لیکن انہیں مایوسی ہی نصیب ہوئی۔
مجموعہ ہائے کلام :یگانہؔ کا پہلا مجموعۂ کلام ’’ نشترِ یاس‘‘ 1914ء میں شائع ہوا۔ اس کا بڑا حصہ ان کے ابتدائی اور روایتی کلام پر مشتمل ہے۔ ان کا دوسرا مجموعہ ’’ آیاتِ وجدانی‘‘ کے نام سے 1927ء میں منظر عام پر آیا۔ یگانہؔ کی قدر و منزلت کا دار و مدار بڑی حد تک اسی مجموعے پر ہے۔ ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کے بعد ان کا تیسرا مجموعہ ’’ترانہ‘‘ کے نام سے سات سال بعد 1933ء میں شائع ہوا۔ 1934ء میں ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کا دوسرا اڈیشن منظر عام پر آیا۔ 1945ء میں اس مجموعے کا تیسرا اڈیشن بھی آگیا۔ اس اشاعت کا کام پہلی اشاعتوں سے بہتر تھا۔ 1946ء میں جب یگانہؔ بمبئی گئے تو اس وقت ان کی ملاقات سید سجاد ظہیر سے ہوئی تھی۔ ان کے لیے یگانہؔ نے اپنے تمام مجموعوں میں شامل کلام کو ’’گنجینہ‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا۔ یہ مجموعہ کمیونسٹ پارٹی کے اشاعتی ادارے سے 1947ء میں شائع کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چند کتابچے بھی لکھے تھے۔ مثلاً ’’ شہرتِ کاذبہ‘‘ جسے خرافاتِ عزیزؔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ’’غالبؔ شکن‘‘ بھی شائع کیا، جس سے لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں بڑی اٹھا پٹک ہوئی ۔
شاعرانہ خصوصیات : یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔
زور کلام :یگانہؔ کی شاعری میں جو چیز سب سے پہلے دل پر اثر کرتی ہے، وہ ہے ان کا زورِکلام۔ بندش کی چستی کے علاوہ بلند بانگ مضامین کے لیے ایسے الفاظ لے آتے ہیں، جو پوری طرح مفہوم کو ذہن نشین کرانے کے ساتھ ساتھ خیالات کو بھی جلا دیتے ہیں۔ دوسری چیز جو ان کی شاعری میں دلکشی پیدا کرتی ہے وہ ہے ’’طنز‘‘ ،ان کی شاعری کا یہ عنصر کہیں کہیں اتنا تیز اور تیکھا ہوتا ہے کہ زور بیان کا لطف دوبالا کردیتا ہے ۔
انسان کا انسان فرشتے کا فرشتہ انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی
پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا خدا تھے کتنے مگر کوئی آڑے آنہ گیا
تخیل کی بلندی :یگانہؔ کے کلام میں تخیل کی بلند پروازی اور فکر کی بالیدگی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ وہ حقائق کو عالمِ بالا سے چن کر لاتے ہیں اور نہایت صفائی و سادگی کے ساتھ اشعار میں سمو دیتے ہیں۔ بندش ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ و تراکیب میں مطلب ومفہوم الجھنے نہیں پاتا۔ ان کے کلام میں زیادہ تر حوصلہ اور ہمت افزائی کی لہریں موجزن نظر آتی ہیں۔ مصیبتوں میں گِھرجانے کے باوجودبھی انسان کو ہمت کسی بھی صورت میں ہارنا نہیں چاہیے ۔
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا ہمیں سر مار کر تیشے سے مرجانا نہیں آتا
بزم دنیا میں یگانہؔ ایسی بیگانہ روی میں نے مانا عیب ہے لیکن ہنر میرے لیے
باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے بازآ ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے
خودی :یگانہؔ ایک خود دار،حق گو اور بے باک انسان تھے اور یہی خصوصیات ان کے کلام میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی خودداری کہیں کہیں ’’اناپرستی‘‘ سے جا ملتی ہے، جسے بعض ناقدین نے ان کی ’’کجروی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اپنے دور میں انہیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ،جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی زندگی کشمکش، آزمائش اور اتار چڑھاؤ سے عبارت تھی، اس کے باوجود ان کی شاعری میں زندگی سے فرار، مایوسی اور پست ہمتی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے کو طے کرنے کی ان میں بڑی جرأت تھی۔اسی وجہ سے ان کے کلام میں مایوسی، قنوطیت اور حرماں نصیبی نہیں پائی جاتی بلکہ جوش و جرآت نظر آتی ہے۔
ہنوز زندگی تلخ کا مزا نہ ملا کمال صبر ملا صبر آزمانہ ملا
بہار آئے گی پھر یاس ناامید نہ ہو ابھی تو گلشن ناپائدار باقی ہے
تشبیہات و استعارات : یگانہؔ کے کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں فارسی ترکیبوں کے استعمال سے کافی لگاؤ تھا۔ تشبیہات کی جدت سے وہ طرزِبیان میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مصرعے نہایت چست ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں الفاظ کی بندش سے اشعار میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاً۔
وحشت آباد عدم ہے وہ دیارِ خاموش کہ قدم رکھتے ہی ایک ایک سے بیگانہ بنے
حسن وہ حسن کبھی جس کی حقیقت نہ کھلے رنگ وہ رنگ جو ہر رنگ میں شامل ہو جائے
چشمِ نامحرم سے، غافل،روئے لیلیٰ ہے نہاں ورنہ اک دھوکا ہی دھوکا پردۂ محمل کا ہے
سیمابی کیفیت : یگانہؔ نے صرف اپنا تخلص ہی یاس سے یگانہؔ (1920-21 میں ) نہیں کیا بلکہ 1932ء تک پہنچتے پہنچتے، اس میں چنگیزی کا اضافہ بھی کر لیا۔ اس کے بارے میں خودلکھتے ہیں کہ”جس طرح چنگیز نے اپنی تلوار سے دنیا کا صفایا کر دیا تھا ،اسی طرح جب سے میں نے غالبؔ پرستوں کا صفایا کرنے کا تہیہ کیا ہے،یہ لقب اختیار کیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف تخلص تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریات و افکار میں بھی تبدیلی کی دلالت ہے۔ اہلِ لکھنؤ سے ان کے معرکہ نے انہیں اور خود سر اور پر اعتماد بنا دیا۔ انہیں معرکوں کے باعث ان کے لہجے میں تیزی آئی۔ یہاں یگانہؔ کے کلام سے کچھ ایسے شعر دیکھتے چلیں، جن سے ان کے لہجے کا انوکھا پن ہی نہیں بلکہ تیکھا پن بھی سامنے آجائے توشاید کوئی مضائقہ نہ ہو۔
کون دیتا ہے ساتھ مردوں کا حوصلہ ہے تو باندھ ٹانگ سے ٹانگ
موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی لے دعا کرچکے اب ترک دعا کرتے ہیں
مندرجہ بالا اشعار یگانہؔ کی یگانہ روی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے ان کا کلام ان کے کسی ہم عصر سے کم تر نہیں ہے۔ روزمرہ محاوروں کا استعمال، طرزِ ادا، کلام میں روانی اور بے ساختگی یگانہؔ کی خاص پہچان بن گئے تھے۔
رباعی :یگانہ ؔنے اپنی رباعیوں میں بھی ایک طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دیگر شعرا سے ان کا رنگ الگ رہے۔ اس فراق میں انہوں نے ایسی بندشیں اور محاورے استعمال کیے جو منجھے ہوئے نہیں تھے یا جن پر زبان کی صفائی نے ابھی تک جلا نہیں کی تھی۔ لیکن یہ بات طئے ہے کہ یگانہؔ کو رباعی کے فن پر کامل عبور تھا۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ رباعی کے چوتھے مصرعے میں خیال کی تان ٹوٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعیاں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ انہوں نے غالبؔ کے کلام پر بھی رباعی میں اظہار خیال کیا تھا۔ یگانہؔ کی رباعیوں کے مجموعے کا نام ’’ ترانہ ‘‘ ہے، جسے کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی رباعیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تمام تر رباعیوں کو عنوان دے کر رقم کیا ہے۔ مثلاً
دل کو پہلے ٹٹول لیتا ہوں پھر تحفۂ درد مول لیتا ہوں
آثارِ زلال و درد و مستی و خمار آنکھوں آنکھوں میں تول لیتا ہوں میں
حسن دو روزہ
سورج کو گہن میں نہیں دیکھا شاید کیوں، چاند کو گہن میں نہیں دیکھا شاید
اے حسن دو روزہ پہ اکڑنے والو یوسف کو کفن میں نہیں دیکھا شاید
غالب شکنی :یگانہؔ نے غالبؔ شکنی کے باعث بڑی بدنامی مول لی لیکن یہ بدنامی ایسے ہی نہیں تھی بلکہ انہوں نے بہت سی رباعیاں اس سلسلے میں کہی تھیں۔ ان کی اس رنگ کی بھی چند رباعیاں پیش ہیں تاکہ حقیقت کا اندازہ کیا جاسکے ۔
غالبؔ کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں
مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں
دونوں عالم تھے مرے حرف دعا میں غرق و محو میں خدا سے جب کر رہا تھا سوال مصطفے ٰ
سب سمجھتے ہیں اسے شمع شبستان حرا نور ہے کونین کا لیکن جمال مصطفے ٰ
عالم ناسوت میں اور عالم لاہوت میں کوندی ہے ہر طرف برق جمال مصطفے ٰ
عظمت تنزیہہ دیکھی، شوکت تشبیہہ بھی ایک حال مصطفے ٰ ہے ایک قال مصطفے ٰ
دیکھئے کیا حال کر ڈالے شب یلدائے غم ہاں نظر آئے ذرا صبح جمال مصطفے ٰ
ذرّہ ذرّہ عالم ہستی کا روشن ہو گیا اللہ اللہ شوکت و شان جمال مصطفے
(3)
خوب دن تھے ابتدائے عشق کے اب دماغ نالہ و شیون کہاں
اس رخ رنگیں سے آنکھیں سینکئے ڈھونڈھئے اب آتش ایمن کہاں
سارے عالم میں کیا تجھ کو تلاش تو ہی بتلا، ہے رگ گردن کہاں
خوب تھا صحرا، پر اے ذوق جنوں پھاڑنے کو نت نئے دامن کہاں
شوق سے ہے ہر رگ جاں جست میں لے اڑے گی بوئے پیراہن کہاں
(4)
حیران ہے زاہد مری مستانہ ادا سے سو راہ طریقت کھلیں، اک لغزش پا سے
اک صورت افتادگی نقش فنا ہوں اب راہ سے مطلب، نہ مجھے راہنما سے
میخانہ کی اک روح مجھے کھینچ کے دے دی کیا کر دیا ساقی! نگہ ہوش ربا سے
(5)
فتنہ سامانیوں کی خو نہ کرے مختصر یہ کہ، آرزو نہ کرے
پہلے ہستی کی ہے تلاش ضرور! پھر جو گم ہو، تو جستجو نہ کرے
ماروائے سخن بھی ہے کچھ بات بات یہ ہے، کہ گفتگو نہ کرے
(6)
وہ اک دل و دماغ کی شادابی نشاط گرنا چمک کے اف تری برق نگاہ کا
وہ لذّت الم کا جو خوگر سمجھ گئے اب ظلم مجھ پہ ہے ستم گاہ گاہ کا
شیشے میں موج مے کو یہ، کیا دیکھتے ہیں آپ اس میں ہے اسی برق نگاہ کا
(7)
عشق ہی سعی مری، عشق ہی حاصل میرا یہی منزل ہے، یہی جادۂ منزل میرا
یوں اڑائے لئے جاتا ہے مجھے دل میرا ساتھ دیتا نہیں اب جادۂ منزل میرا
اور آ جائے نہ زندانی وحشت کوئی! ہے جنوں خیز بہت شور سلاسل میرا
میں سراپا ہوں تمنّا ہمہ تن درد ہوں میں ہر بن مو میں تڑپتا ہے مرے، دل میرا
داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں، لیکن اس میں کچھ خون تمنّا بھی ہے شامل میرا
بے نیازی کو تری کچھ بھی پذیرا نہ ہوا شکر اخلاص مرا، شکوۂ باطل میرا
(8)
ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی آئینہ بھی حیران ہے و آئینہ نگر بھی
ہو نور پہ کچھ اور ہی اک نور کا عالم اس رخ پہ جو چھا جائے مرا کیف نظر بھی
تھا حاصل نظّارہ فقط ایک تحیّر جلوے کو کہے کون کہ اب گم ہے نظر بھی
اب تو یہ تمنّا ہے کسی کو بھی نہ دیکھوں صورت جو دکھا دی ہے تو لے جاؤ نظر بھی
(9)
مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا سنتے ہیں بہار آئی، گلستاں نہیں دیکھا
زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا
آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا
اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب فتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں دیکھا
ہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورت میں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا
کچھ دعوی تمکیں میں ہے معذور بھی زاہد! مستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا
روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں ! جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا
مجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہے ترستی کب سے تجھے اے سرو خراماں نہیں دیکھا
کیا کیا ہوا ہنگام جنوں، یہ نہیں معلوم ! کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا
شائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغر کافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا
(10)
رخ رنگیں پہ موجیں ہیں تبسّم ہائے پنہاں کی شعاعیں کیا پڑیں، رنگت نکھر آئی گلستاں کی
یہیں پہ ختم ہو جاتی ہیں بحثیں کفر و ایماں کی نقاب اس نے الٹ کر یہ حقیقت ہم پہ عریاں کی
روانی رنگ لائی دیدۂ خوں نا بہ افشاں کی اتر آئی ہے اک تصویر دامن پر گلستاں کی
حقیقت کھول دیتا میں جنوں کے راز پنہاں کی قسم دے دی ہے لیکن قیس نے چاک گریباں کی
مری اک بیخودی میں سینکڑوں ہوش و خرد گم ہیں یہاں کے ذرّہ ذرّہ میں ہے وسعت اک بیاباں کی
مجھی سے بگڑے رہتے ہیں مجھی پر ہے عتاب ان کا ادائیں چھپ نہیں سکتیں نوازشہائے پنہاں کی
اسیران بلا نے آہ، کچھ اس درد سے کھینچی نگہباں چیخ اٹّھے، ہل گئی دیوار زنداں کی
نگاہ یاس و آہ عاشقاں و نالۂ بلبل معاذاللہ کتنی صورتیں ہیں انکے پیکاں کی
اسیران بلا کی حسرتوں کو آہ کیا کہیئے ٹرپ کے ساتھ اونچی ہو گئی دیوار زنداں کی
مرزا واجد حسین نام،اور تخلص پہلے یاس اور پھر یگانہ اختیار کیا۔مرزا کے جدامجد ایران سے ہندوستان آئے اور مغلیہ سلطنت کے دامن سے بسلسلہ سپہ گری، وابستہ ہوگئے۔پر گنہ حوالی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔مرزا واجد حسین عظیم آباد ہی میں 17 اکتوبر 1884ء میں محلہ مغلپورہ میں پیدا ہوئے۔پانچ چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد عظیم آباد (پٹنہ) کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں نام لکھوایا گیا۔ اسکول میں ہمیشہ اول رہے۔ پڑھنے میں اچھے تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے ۔1903ء میں انٹرنس پاس کیا۔ 1904ء میں مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے صاحب زادوں شہزادہ محمود یعقوب علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کی انگریزی تعلیم کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے میں لکھنؤ آئے اور لکھنؤ کی فضا ایسی راس آئی کہ اچھے ہوکر بھی واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرکے اسی کو اپنا وطن بنالیا۔
لکھنؤ میں ان کا قیام ہنگامہ خیز ثابت ہوا جس کا اثر ان کی شاعری پر بھی پڑا۔یگانہ اپنے آپ کو عظیم آبادی کی جگہ لکھنؤی کہنے لگے۔یہاں مشہور شعراء سے ٹکر لینے لگے۔مخالفتیں اتنی بڑھیں کہ یاس، یگانہ چنگیزی بن گئے۔1927ء میں یاس تخلص بالکل ترک کر کے صرف یگانہ استعمال کرنے لگے۔شعرائے لکھنؤ چونکہ غالب کے مقلد تھے اس لئے یگانہ اپنے آپ کو’آتش کا مقلد‘ کہتے تھے۔یگانہ نے اپنے آپ کو غالب شکن اور غالب کا چچا بھی کہا ہے۔
تلاشِ معاش کے لئے یگانہ کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا،حیدرآباد چلے گئے وہاں سب رجسٹرار ی کے عہدے پر فائز ہوئے۔جب ملازمت سے سبکدوشی حاصل کی تو لکھنؤ واپس آ گئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔4 فروری 1956ء کو انتقال کیا اور لکھنو ہی میں ابدی آرام گاہ بنی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لکھنؤ کا قیام :یگانہؔ کا لکھنؤ کا قیام بڑا ہنگامہ خیز اور معرکہ آرا رہا، جس کا اثر ان کے فن پر بھی پڑا۔ معرکہ آرائیوں نے بھی ان کے فن کو جلا بخشی۔ شروع میں لکھنؤ کے شعرا سے ان کے تعلقات خوشگوار تھے۔ اتنا ہی نہیں وہ عزیزؔ، صفیؔ، ثاقبؔ و محشرؔ وغیرہ کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ جب عزیزؔ کی سرپرستی میں رسالہ ’’معیار‘‘ جاری ہوا اور معیار پارٹی وجود میں آئی تو یگانہؔ بھی اس پارٹی کے مشاعروں میں غالبؔ کی زمینوں میں غزلیں پڑھتے تھے۔ ان طرحی مشاعروں کی جو غزلیں’’معیار‘‘ میں چھپی ہیں، ان میں بھی یگانہؔ کی غزلیں شامل ہیں۔ لیکن یہ تعلق بہت دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور لکھنؤ کے اکثر شعرا سے یگانہؔ کی چشمک ہو گئی۔ اس سلسلے میں مالک رام بہ زبان یگانہؔ تحریر کرتے ہیں کہ ”اب اس میں میرا کیا قصور ! یہ خدا کی دین ہے، میرا کلام پسند کیاجانے لگا۔ باہر کے مشاعروں میں بھی اکثر جانا پڑتا۔ میری یہ ہر دل عزیزؔی اور مقبولیت ان تھڑدلوں سے دیکھی نہ گئی۔
یگانہؔ سے اہلِ لکھنؤ کی چشمک کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ "معیار" پارٹی کے مشاعروں میں ان کے کلام پر خندہ زنی کی جاتی تھی اور بے سروپا اعتراض کیے جاتے تھے مگر یہ سب کچھ زبانی ہوتا تھا۔ اصلی اور تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہؔ نے کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا سلسلہ چل پڑا، جس کی انتہا ’’شہرتِ کاذبہ‘‘ نامی یگانہؔ کی کتاب ہے۔ لکھنؤ کے شعرا غالبؔ کے بڑے قائل تھے، لہٰذا یگانہؔ کے لیے اب یہ بات بھی ناگزیر ہو گئی کہ وہ غالبؔ کی بھی مخالفت کریں۔ غالبؔ کی مخالفت کے سلسلے میں انہیں اندھا مخالف نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ ”یہ کس نے آپ کو بہکا دیا کہ میں غالب کا مخالف ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ صاحب ! غالبؔ کی صحیح قدر و منزلت مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں ۔ اور پھر قسم یہ ہے کہ یہ بھی وہ لوگ نہیں، جو اس کا صحیح مقام سمجھتے ہوں، بلکہ وہ جو تقلیداً اسے بڑا سمجھتے ہیں ۔ تو صاحب ! میں غالبؔ کے خلاف نہیں تھا، اور نہ ہوں لیکن میں اس کی جائز جگہ سے زیادہ اس کے حوالے کردینے پر تیار نہیں ۔
یگانہؔ نے اس مخالفت کے چلتے اپنے آپ کو ’’آتشؔ کا مقلد‘‘ کہنا شروع کر دیا اور اپنے مجموعۂ کلام ’’نشترِ یاس‘‘ کے سرورق پر اپنے نام سے پہلے ’’خاک پائے آتشؔ ‘‘ لکھا اورجب اس کے ایک سال بعد ’’چراغِ سخن‘‘ شائع ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو ’’آتشؔ پرست‘‘ کے درجے تک پہنچا دیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے آتشؔ اور غالبؔ کا تقابلی مطالعہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آتشؔ، غالبؔ سے بڑا شاعر ہے۔ یہ مضمون رسالہ ’’خیال ‘‘ میں نومبر 1915ء میں شائع ہوا اور یہ سلسلہ ایک لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس غالبؔ شکنی کی انتہا وہ رسالہ ہے، جو انہوں نے 1934ء میں ’’غالبؔ شکن‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ مزید اضافوں کے ساتھ 1935ء میں چھاپا۔ اس مخالفت کی وجہ سے یگانہؔ کا اچھا خاصا وقت ضائع ہو گیا کیوں کہ اس مخالفت سے نہ تو شعرائے لکھنؤ کا کچھ ہوا اور نہ ہی غالبؔ کو کچھ نقصان پہنچا بلکہ یگانہؔ ہی خسارے میں رہے کہ اپنی شاعری پر پوری طرح توجہ نہ دے سکے ۔ان سب مخالفتوں اور معرکہ آرائیوں کے باوجود یگانہؔ کا ایک گروپ تھا، جن سے ان کے اچھے مراسم تھے۔ 1919ء میں انہوں نے ’’انجمن خاصانِ ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی۔ اس انجمن کے صدر بیخودؔ موہانی، سکریٹری یگانہؔ اور جوائنٹ سکریٹری عبد الباری آسی تھے۔ اس انجمن کے اعزازی رکن اور سرپرستوں میں فصاحتؔ لکھنوی اور سید مسعود حسن رضوی ادیبؔ جیسے لکھنوی اہل قلم بھی شامل تھے ۔
قیام دکن : زندگی کے دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ یگانہؔ کی ملازمت کا سلسلہ بھی ناہمواری کا شکار رہا۔ ایک عرصے تک وہ ’’اودھ اخبار‘‘ سے وابستہ رہے۔ لیکن حتمی طور سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کب سے کب تک، البتہ ’’اودھ اخبار‘‘ کے مدیروں میں یگانہؔ کا نام شامل ہے ۔1924ء میں یگانہؔ اٹاوہ چلے گئے، جہاں انہیں اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت مل گئی۔ مارچ 1925ء کے آس پاس وہ اٹاوہ کو چھوڑ کر علی گڑھ چلے گئے، وہاں ایک پریس میں انہیں ملازمت مل گئی۔ 1926ء میں انہوں نے لاہور کا رخ کیا اور ’’اردو مرکز‘‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں کا ماحول انہیں راس آیا۔ یہاں کے ادیبوں سے ان کے بہتر مراسم رہے۔ کئی کتابوں اوررسالوں کے چھپنے کی سبیل پیدا ہوئی۔ اقبالؔ کے یہاں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ اقبالؔ بھی یگانہؔ کے بڑے قائل تھے۔ 1928ء میں یگانہؔ ’’اردو مرکز‘‘ سے علاحدہ ہو گئے لیکن قیام لاہور ہی میں رہا۔ لاہور کے بعد انہوں نے حیدرآباد دکن کا رخ غالباً 1928ء میں کیا۔ حیدرآباد میں ان کا قیام ان کے لیے کافی آسودگی لے کر آیا۔ جہاں ان کا تقرر نثار احمد مزاج کے توسط سے محکمہ رجسٹریشن میں ’’نقل نویس‘‘ کی حیثیت ہو گیا۔ یہاں ان کی آمدنی پچیس تیس روپے ماہوار تھی اور کبھی کبھی زیادہ بھی ہوجاتی تھی ۔1931ء میں یگانہؔ محکمۂ رجسٹریشن میں باقاعدہ ملازم ہو گئے۔ یہ جگہ سب رجسٹرار کی تھی۔ اس طرح وہ ’’عثمان آباد‘‘، ’’لاتور‘‘ اور ’’یادگیر‘‘ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور 1942ء میں 55 برس کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد ایک لمبے عرصے تک حیدرآباد ہی میں قیام رہا۔ 1946ء میں وہ بمبئی گئے اور وہاں اپنے بڑے بیٹے آغا جان کو ملازمت دلوائی۔ حیدرآباد میں نواب معظم جاہ نے انہیں اپنے دربار سے وابستہ کرناچاہا لیکن یگانہؔ راضی نہ ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد یگانہؔ بار بار حیدرآباد روزگار کی امید سے آتے رہے لیکن انہیں مایوسی ہی نصیب ہوئی۔
مجموعہ ہائے کلام :یگانہؔ کا پہلا مجموعۂ کلام ’’ نشترِ یاس‘‘ 1914ء میں شائع ہوا۔ اس کا بڑا حصہ ان کے ابتدائی اور روایتی کلام پر مشتمل ہے۔ ان کا دوسرا مجموعہ ’’ آیاتِ وجدانی‘‘ کے نام سے 1927ء میں منظر عام پر آیا۔ یگانہؔ کی قدر و منزلت کا دار و مدار بڑی حد تک اسی مجموعے پر ہے۔ ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کے بعد ان کا تیسرا مجموعہ ’’ترانہ‘‘ کے نام سے سات سال بعد 1933ء میں شائع ہوا۔ 1934ء میں ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کا دوسرا اڈیشن منظر عام پر آیا۔ 1945ء میں اس مجموعے کا تیسرا اڈیشن بھی آگیا۔ اس اشاعت کا کام پہلی اشاعتوں سے بہتر تھا۔ 1946ء میں جب یگانہؔ بمبئی گئے تو اس وقت ان کی ملاقات سید سجاد ظہیر سے ہوئی تھی۔ ان کے لیے یگانہؔ نے اپنے تمام مجموعوں میں شامل کلام کو ’’گنجینہ‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا۔ یہ مجموعہ کمیونسٹ پارٹی کے اشاعتی ادارے سے 1947ء میں شائع کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چند کتابچے بھی لکھے تھے۔ مثلاً ’’ شہرتِ کاذبہ‘‘ جسے خرافاتِ عزیزؔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ’’غالبؔ شکن‘‘ بھی شائع کیا، جس سے لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں بڑی اٹھا پٹک ہوئی ۔
شاعرانہ خصوصیات : یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔
زور کلام :یگانہؔ کی شاعری میں جو چیز سب سے پہلے دل پر اثر کرتی ہے، وہ ہے ان کا زورِکلام۔ بندش کی چستی کے علاوہ بلند بانگ مضامین کے لیے ایسے الفاظ لے آتے ہیں، جو پوری طرح مفہوم کو ذہن نشین کرانے کے ساتھ ساتھ خیالات کو بھی جلا دیتے ہیں۔ دوسری چیز جو ان کی شاعری میں دلکشی پیدا کرتی ہے وہ ہے ’’طنز‘‘ ،ان کی شاعری کا یہ عنصر کہیں کہیں اتنا تیز اور تیکھا ہوتا ہے کہ زور بیان کا لطف دوبالا کردیتا ہے ۔
انسان کا انسان فرشتے کا فرشتہ انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی
پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا خدا تھے کتنے مگر کوئی آڑے آنہ گیا
تخیل کی بلندی :یگانہؔ کے کلام میں تخیل کی بلند پروازی اور فکر کی بالیدگی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ وہ حقائق کو عالمِ بالا سے چن کر لاتے ہیں اور نہایت صفائی و سادگی کے ساتھ اشعار میں سمو دیتے ہیں۔ بندش ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ و تراکیب میں مطلب ومفہوم الجھنے نہیں پاتا۔ ان کے کلام میں زیادہ تر حوصلہ اور ہمت افزائی کی لہریں موجزن نظر آتی ہیں۔ مصیبتوں میں گِھرجانے کے باوجودبھی انسان کو ہمت کسی بھی صورت میں ہارنا نہیں چاہیے ۔
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا ہمیں سر مار کر تیشے سے مرجانا نہیں آتا
بزم دنیا میں یگانہؔ ایسی بیگانہ روی میں نے مانا عیب ہے لیکن ہنر میرے لیے
باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے بازآ ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے
خودی :یگانہؔ ایک خود دار،حق گو اور بے باک انسان تھے اور یہی خصوصیات ان کے کلام میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی خودداری کہیں کہیں ’’اناپرستی‘‘ سے جا ملتی ہے، جسے بعض ناقدین نے ان کی ’’کجروی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اپنے دور میں انہیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ،جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی زندگی کشمکش، آزمائش اور اتار چڑھاؤ سے عبارت تھی، اس کے باوجود ان کی شاعری میں زندگی سے فرار، مایوسی اور پست ہمتی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے کو طے کرنے کی ان میں بڑی جرأت تھی۔اسی وجہ سے ان کے کلام میں مایوسی، قنوطیت اور حرماں نصیبی نہیں پائی جاتی بلکہ جوش و جرآت نظر آتی ہے۔
ہنوز زندگی تلخ کا مزا نہ ملا کمال صبر ملا صبر آزمانہ ملا
بہار آئے گی پھر یاس ناامید نہ ہو ابھی تو گلشن ناپائدار باقی ہے
تشبیہات و استعارات : یگانہؔ کے کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں فارسی ترکیبوں کے استعمال سے کافی لگاؤ تھا۔ تشبیہات کی جدت سے وہ طرزِبیان میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مصرعے نہایت چست ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں الفاظ کی بندش سے اشعار میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاً۔
وحشت آباد عدم ہے وہ دیارِ خاموش کہ قدم رکھتے ہی ایک ایک سے بیگانہ بنے
حسن وہ حسن کبھی جس کی حقیقت نہ کھلے رنگ وہ رنگ جو ہر رنگ میں شامل ہو جائے
چشمِ نامحرم سے، غافل،روئے لیلیٰ ہے نہاں ورنہ اک دھوکا ہی دھوکا پردۂ محمل کا ہے
سیمابی کیفیت : یگانہؔ نے صرف اپنا تخلص ہی یاس سے یگانہؔ (1920-21 میں ) نہیں کیا بلکہ 1932ء تک پہنچتے پہنچتے، اس میں چنگیزی کا اضافہ بھی کر لیا۔ اس کے بارے میں خودلکھتے ہیں کہ”جس طرح چنگیز نے اپنی تلوار سے دنیا کا صفایا کر دیا تھا ،اسی طرح جب سے میں نے غالبؔ پرستوں کا صفایا کرنے کا تہیہ کیا ہے،یہ لقب اختیار کیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف تخلص تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریات و افکار میں بھی تبدیلی کی دلالت ہے۔ اہلِ لکھنؤ سے ان کے معرکہ نے انہیں اور خود سر اور پر اعتماد بنا دیا۔ انہیں معرکوں کے باعث ان کے لہجے میں تیزی آئی۔ یہاں یگانہؔ کے کلام سے کچھ ایسے شعر دیکھتے چلیں، جن سے ان کے لہجے کا انوکھا پن ہی نہیں بلکہ تیکھا پن بھی سامنے آجائے توشاید کوئی مضائقہ نہ ہو۔
کون دیتا ہے ساتھ مردوں کا حوصلہ ہے تو باندھ ٹانگ سے ٹانگ
موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی لے دعا کرچکے اب ترک دعا کرتے ہیں
مندرجہ بالا اشعار یگانہؔ کی یگانہ روی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے ان کا کلام ان کے کسی ہم عصر سے کم تر نہیں ہے۔ روزمرہ محاوروں کا استعمال، طرزِ ادا، کلام میں روانی اور بے ساختگی یگانہؔ کی خاص پہچان بن گئے تھے۔
رباعی :یگانہ ؔنے اپنی رباعیوں میں بھی ایک طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دیگر شعرا سے ان کا رنگ الگ رہے۔ اس فراق میں انہوں نے ایسی بندشیں اور محاورے استعمال کیے جو منجھے ہوئے نہیں تھے یا جن پر زبان کی صفائی نے ابھی تک جلا نہیں کی تھی۔ لیکن یہ بات طئے ہے کہ یگانہؔ کو رباعی کے فن پر کامل عبور تھا۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ رباعی کے چوتھے مصرعے میں خیال کی تان ٹوٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعیاں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ انہوں نے غالبؔ کے کلام پر بھی رباعی میں اظہار خیال کیا تھا۔ یگانہؔ کی رباعیوں کے مجموعے کا نام ’’ ترانہ ‘‘ ہے، جسے کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی رباعیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تمام تر رباعیوں کو عنوان دے کر رقم کیا ہے۔ مثلاً
دل کو پہلے ٹٹول لیتا ہوں پھر تحفۂ درد مول لیتا ہوں
آثارِ زلال و درد و مستی و خمار آنکھوں آنکھوں میں تول لیتا ہوں میں
حسن دو روزہ
سورج کو گہن میں نہیں دیکھا شاید کیوں، چاند کو گہن میں نہیں دیکھا شاید
اے حسن دو روزہ پہ اکڑنے والو یوسف کو کفن میں نہیں دیکھا شاید
غالب شکنی :یگانہؔ نے غالبؔ شکنی کے باعث بڑی بدنامی مول لی لیکن یہ بدنامی ایسے ہی نہیں تھی بلکہ انہوں نے بہت سی رباعیاں اس سلسلے میں کہی تھیں۔ ان کی اس رنگ کی بھی چند رباعیاں پیش ہیں تاکہ حقیقت کا اندازہ کیا جاسکے ۔
غالبؔ کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں
مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں
اک صورت افتادگی نقش فنا ہوں اب راہ سے مطلب، نہ مجھے راہنما سے
میخانہ کی اک روح مجھے کھینچ کے دے دی کیا کر دیا ساقی! نگہ ہوش ربا سے
(5)
فتنہ سامانیوں کی خو نہ کرے مختصر یہ کہ، آرزو نہ کرے
پہلے ہستی کی ہے تلاش ضرور! پھر جو گم ہو، تو جستجو نہ کرے
ماروائے سخن بھی ہے کچھ بات بات یہ ہے، کہ گفتگو نہ کرے
(6)
وہ اک دل و دماغ کی شادابی نشاط گرنا چمک کے اف تری برق نگاہ کا
وہ لذّت الم کا جو خوگر سمجھ گئے اب ظلم مجھ پہ ہے ستم گاہ گاہ کا
شیشے میں موج مے کو یہ، کیا دیکھتے ہیں آپ اس میں ہے اسی برق نگاہ کا
(7)
عشق ہی سعی مری، عشق ہی حاصل میرا یہی منزل ہے، یہی جادۂ منزل میرا
یوں اڑائے لئے جاتا ہے مجھے دل میرا ساتھ دیتا نہیں اب جادۂ منزل میرا
اور آ جائے نہ زندانی وحشت کوئی! ہے جنوں خیز بہت شور سلاسل میرا
میں سراپا ہوں تمنّا ہمہ تن درد ہوں میں ہر بن مو میں تڑپتا ہے مرے، دل میرا
داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں، لیکن اس میں کچھ خون تمنّا بھی ہے شامل میرا
بے نیازی کو تری کچھ بھی پذیرا نہ ہوا شکر اخلاص مرا، شکوۂ باطل میرا
(8)
ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی آئینہ بھی حیران ہے و آئینہ نگر بھی
ہو نور پہ کچھ اور ہی اک نور کا عالم اس رخ پہ جو چھا جائے مرا کیف نظر بھی
تھا حاصل نظّارہ فقط ایک تحیّر جلوے کو کہے کون کہ اب گم ہے نظر بھی
اب تو یہ تمنّا ہے کسی کو بھی نہ دیکھوں صورت جو دکھا دی ہے تو لے جاؤ نظر بھی
(9)
مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا سنتے ہیں بہار آئی، گلستاں نہیں دیکھا
زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا
آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا
اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب فتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں دیکھا
ہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورت میں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا
کچھ دعوی تمکیں میں ہے معذور بھی زاہد! مستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا
روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں ! جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا
مجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہے ترستی کب سے تجھے اے سرو خراماں نہیں دیکھا
کیا کیا ہوا ہنگام جنوں، یہ نہیں معلوم ! کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا
شائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغر کافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا
(10)
رخ رنگیں پہ موجیں ہیں تبسّم ہائے پنہاں کی شعاعیں کیا پڑیں، رنگت نکھر آئی گلستاں کی
یہیں پہ ختم ہو جاتی ہیں بحثیں کفر و ایماں کی نقاب اس نے الٹ کر یہ حقیقت ہم پہ عریاں کی
روانی رنگ لائی دیدۂ خوں نا بہ افشاں کی اتر آئی ہے اک تصویر دامن پر گلستاں کی
حقیقت کھول دیتا میں جنوں کے راز پنہاں کی قسم دے دی ہے لیکن قیس نے چاک گریباں کی
مری اک بیخودی میں سینکڑوں ہوش و خرد گم ہیں یہاں کے ذرّہ ذرّہ میں ہے وسعت اک بیاباں کی
مجھی سے بگڑے رہتے ہیں مجھی پر ہے عتاب ان کا ادائیں چھپ نہیں سکتیں نوازشہائے پنہاں کی
اسیران بلا نے آہ، کچھ اس درد سے کھینچی نگہباں چیخ اٹّھے، ہل گئی دیوار زنداں کی
نگاہ یاس و آہ عاشقاں و نالۂ بلبل معاذاللہ کتنی صورتیں ہیں انکے پیکاں کی
اسیران بلا کی حسرتوں کو آہ کیا کہیئے ٹرپ کے ساتھ اونچی ہو گئی دیوار زنداں کی
مرزا واجد حسین نام،اور تخلص پہلے یاس اور پھر یگانہ اختیار کیا۔مرزا کے جدامجد ایران سے ہندوستان آئے اور مغلیہ سلطنت کے دامن سے بسلسلہ سپہ گری، وابستہ ہوگئے۔پر گنہ حوالی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔مرزا واجد حسین عظیم آباد ہی میں 17 اکتوبر 1884ء میں محلہ مغلپورہ میں پیدا ہوئے۔پانچ چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد عظیم آباد (پٹنہ) کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں نام لکھوایا گیا۔ اسکول میں ہمیشہ اول رہے۔ پڑھنے میں اچھے تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے ۔1903ء میں انٹرنس پاس کیا۔ 1904ء میں مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے صاحب زادوں شہزادہ محمود یعقوب علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کی انگریزی تعلیم کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے میں لکھنؤ آئے اور لکھنؤ کی فضا ایسی راس آئی کہ اچھے ہوکر بھی واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرکے اسی کو اپنا وطن بنالیا۔
لکھنؤ میں ان کا قیام ہنگامہ خیز ثابت ہوا جس کا اثر ان کی شاعری پر بھی پڑا۔یگانہ اپنے آپ کو عظیم آبادی کی جگہ لکھنؤی کہنے لگے۔یہاں مشہور شعراء سے ٹکر لینے لگے۔مخالفتیں اتنی بڑھیں کہ یاس، یگانہ چنگیزی بن گئے۔1927ء میں یاس تخلص بالکل ترک کر کے صرف یگانہ استعمال کرنے لگے۔شعرائے لکھنؤ چونکہ غالب کے مقلد تھے اس لئے یگانہ اپنے آپ کو’آتش کا مقلد‘ کہتے تھے۔یگانہ نے اپنے آپ کو غالب شکن اور غالب کا چچا بھی کہا ہے۔
تلاشِ معاش کے لئے یگانہ کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا،حیدرآباد چلے گئے وہاں سب رجسٹرار ی کے عہدے پر فائز ہوئے۔جب ملازمت سے سبکدوشی حاصل کی تو لکھنؤ واپس آ گئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔4 فروری 1956ء کو انتقال کیا اور لکھنو ہی میں ابدی آرام گاہ بنی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لکھنؤ کا قیام :یگانہؔ کا لکھنؤ کا قیام بڑا ہنگامہ خیز اور معرکہ آرا رہا، جس کا اثر ان کے فن پر بھی پڑا۔ معرکہ آرائیوں نے بھی ان کے فن کو جلا بخشی۔ شروع میں لکھنؤ کے شعرا سے ان کے تعلقات خوشگوار تھے۔ اتنا ہی نہیں وہ عزیزؔ، صفیؔ، ثاقبؔ و محشرؔ وغیرہ کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ جب عزیزؔ کی سرپرستی میں رسالہ ’’معیار‘‘ جاری ہوا اور معیار پارٹی وجود میں آئی تو یگانہؔ بھی اس پارٹی کے مشاعروں میں غالبؔ کی زمینوں میں غزلیں پڑھتے تھے۔ ان طرحی مشاعروں کی جو غزلیں’’معیار‘‘ میں چھپی ہیں، ان میں بھی یگانہؔ کی غزلیں شامل ہیں۔ لیکن یہ تعلق بہت دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور لکھنؤ کے اکثر شعرا سے یگانہؔ کی چشمک ہو گئی۔ اس سلسلے میں مالک رام بہ زبان یگانہؔ تحریر کرتے ہیں کہ ”اب اس میں میرا کیا قصور ! یہ خدا کی دین ہے، میرا کلام پسند کیاجانے لگا۔ باہر کے مشاعروں میں بھی اکثر جانا پڑتا۔ میری یہ ہر دل عزیزؔی اور مقبولیت ان تھڑدلوں سے دیکھی نہ گئی۔
یگانہؔ سے اہلِ لکھنؤ کی چشمک کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ "معیار" پارٹی کے مشاعروں میں ان کے کلام پر خندہ زنی کی جاتی تھی اور بے سروپا اعتراض کیے جاتے تھے مگر یہ سب کچھ زبانی ہوتا تھا۔ اصلی اور تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہؔ نے کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا سلسلہ چل پڑا، جس کی انتہا ’’شہرتِ کاذبہ‘‘ نامی یگانہؔ کی کتاب ہے۔ لکھنؤ کے شعرا غالبؔ کے بڑے قائل تھے، لہٰذا یگانہؔ کے لیے اب یہ بات بھی ناگزیر ہو گئی کہ وہ غالبؔ کی بھی مخالفت کریں۔ غالبؔ کی مخالفت کے سلسلے میں انہیں اندھا مخالف نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ ”یہ کس نے آپ کو بہکا دیا کہ میں غالب کا مخالف ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ صاحب ! غالبؔ کی صحیح قدر و منزلت مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں ۔ اور پھر قسم یہ ہے کہ یہ بھی وہ لوگ نہیں، جو اس کا صحیح مقام سمجھتے ہوں، بلکہ وہ جو تقلیداً اسے بڑا سمجھتے ہیں ۔ تو صاحب ! میں غالبؔ کے خلاف نہیں تھا، اور نہ ہوں لیکن میں اس کی جائز جگہ سے زیادہ اس کے حوالے کردینے پر تیار نہیں ۔
یگانہؔ نے اس مخالفت کے چلتے اپنے آپ کو ’’آتشؔ کا مقلد‘‘ کہنا شروع کر دیا اور اپنے مجموعۂ کلام ’’نشترِ یاس‘‘ کے سرورق پر اپنے نام سے پہلے ’’خاک پائے آتشؔ ‘‘ لکھا اورجب اس کے ایک سال بعد ’’چراغِ سخن‘‘ شائع ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو ’’آتشؔ پرست‘‘ کے درجے تک پہنچا دیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے آتشؔ اور غالبؔ کا تقابلی مطالعہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آتشؔ، غالبؔ سے بڑا شاعر ہے۔ یہ مضمون رسالہ ’’خیال ‘‘ میں نومبر 1915ء میں شائع ہوا اور یہ سلسلہ ایک لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس غالبؔ شکنی کی انتہا وہ رسالہ ہے، جو انہوں نے 1934ء میں ’’غالبؔ شکن‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ مزید اضافوں کے ساتھ 1935ء میں چھاپا۔ اس مخالفت کی وجہ سے یگانہؔ کا اچھا خاصا وقت ضائع ہو گیا کیوں کہ اس مخالفت سے نہ تو شعرائے لکھنؤ کا کچھ ہوا اور نہ ہی غالبؔ کو کچھ نقصان پہنچا بلکہ یگانہؔ ہی خسارے میں رہے کہ اپنی شاعری پر پوری طرح توجہ نہ دے سکے ۔ان سب مخالفتوں اور معرکہ آرائیوں کے باوجود یگانہؔ کا ایک گروپ تھا، جن سے ان کے اچھے مراسم تھے۔ 1919ء میں انہوں نے ’’انجمن خاصانِ ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی۔ اس انجمن کے صدر بیخودؔ موہانی، سکریٹری یگانہؔ اور جوائنٹ سکریٹری عبد الباری آسی تھے۔ اس انجمن کے اعزازی رکن اور سرپرستوں میں فصاحتؔ لکھنوی اور سید مسعود حسن رضوی ادیبؔ جیسے لکھنوی اہل قلم بھی شامل تھے ۔
قیام دکن : زندگی کے دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ یگانہؔ کی ملازمت کا سلسلہ بھی ناہمواری کا شکار رہا۔ ایک عرصے تک وہ ’’اودھ اخبار‘‘ سے وابستہ رہے۔ لیکن حتمی طور سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کب سے کب تک، البتہ ’’اودھ اخبار‘‘ کے مدیروں میں یگانہؔ کا نام شامل ہے ۔1924ء میں یگانہؔ اٹاوہ چلے گئے، جہاں انہیں اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت مل گئی۔ مارچ 1925ء کے آس پاس وہ اٹاوہ کو چھوڑ کر علی گڑھ چلے گئے، وہاں ایک پریس میں انہیں ملازمت مل گئی۔ 1926ء میں انہوں نے لاہور کا رخ کیا اور ’’اردو مرکز‘‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں کا ماحول انہیں راس آیا۔ یہاں کے ادیبوں سے ان کے بہتر مراسم رہے۔ کئی کتابوں اوررسالوں کے چھپنے کی سبیل پیدا ہوئی۔ اقبالؔ کے یہاں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ اقبالؔ بھی یگانہؔ کے بڑے قائل تھے۔ 1928ء میں یگانہؔ ’’اردو مرکز‘‘ سے علاحدہ ہو گئے لیکن قیام لاہور ہی میں رہا۔ لاہور کے بعد انہوں نے حیدرآباد دکن کا رخ غالباً 1928ء میں کیا۔ حیدرآباد میں ان کا قیام ان کے لیے کافی آسودگی لے کر آیا۔ جہاں ان کا تقرر نثار احمد مزاج کے توسط سے محکمہ رجسٹریشن میں ’’نقل نویس‘‘ کی حیثیت ہو گیا۔ یہاں ان کی آمدنی پچیس تیس روپے ماہوار تھی اور کبھی کبھی زیادہ بھی ہوجاتی تھی ۔1931ء میں یگانہؔ محکمۂ رجسٹریشن میں باقاعدہ ملازم ہو گئے۔ یہ جگہ سب رجسٹرار کی تھی۔ اس طرح وہ ’’عثمان آباد‘‘، ’’لاتور‘‘ اور ’’یادگیر‘‘ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور 1942ء میں 55 برس کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد ایک لمبے عرصے تک حیدرآباد ہی میں قیام رہا۔ 1946ء میں وہ بمبئی گئے اور وہاں اپنے بڑے بیٹے آغا جان کو ملازمت دلوائی۔ حیدرآباد میں نواب معظم جاہ نے انہیں اپنے دربار سے وابستہ کرناچاہا لیکن یگانہؔ راضی نہ ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد یگانہؔ بار بار حیدرآباد روزگار کی امید سے آتے رہے لیکن انہیں مایوسی ہی نصیب ہوئی۔
مجموعہ ہائے کلام :یگانہؔ کا پہلا مجموعۂ کلام ’’ نشترِ یاس‘‘ 1914ء میں شائع ہوا۔ اس کا بڑا حصہ ان کے ابتدائی اور روایتی کلام پر مشتمل ہے۔ ان کا دوسرا مجموعہ ’’ آیاتِ وجدانی‘‘ کے نام سے 1927ء میں منظر عام پر آیا۔ یگانہؔ کی قدر و منزلت کا دار و مدار بڑی حد تک اسی مجموعے پر ہے۔ ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کے بعد ان کا تیسرا مجموعہ ’’ترانہ‘‘ کے نام سے سات سال بعد 1933ء میں شائع ہوا۔ 1934ء میں ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کا دوسرا اڈیشن منظر عام پر آیا۔ 1945ء میں اس مجموعے کا تیسرا اڈیشن بھی آگیا۔ اس اشاعت کا کام پہلی اشاعتوں سے بہتر تھا۔ 1946ء میں جب یگانہؔ بمبئی گئے تو اس وقت ان کی ملاقات سید سجاد ظہیر سے ہوئی تھی۔ ان کے لیے یگانہؔ نے اپنے تمام مجموعوں میں شامل کلام کو ’’گنجینہ‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا۔ یہ مجموعہ کمیونسٹ پارٹی کے اشاعتی ادارے سے 1947ء میں شائع کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چند کتابچے بھی لکھے تھے۔ مثلاً ’’ شہرتِ کاذبہ‘‘ جسے خرافاتِ عزیزؔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ’’غالبؔ شکن‘‘ بھی شائع کیا، جس سے لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں بڑی اٹھا پٹک ہوئی ۔
شاعرانہ خصوصیات : یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔
زور کلام :یگانہؔ کی شاعری میں جو چیز سب سے پہلے دل پر اثر کرتی ہے، وہ ہے ان کا زورِکلام۔ بندش کی چستی کے علاوہ بلند بانگ مضامین کے لیے ایسے الفاظ لے آتے ہیں، جو پوری طرح مفہوم کو ذہن نشین کرانے کے ساتھ ساتھ خیالات کو بھی جلا دیتے ہیں۔ دوسری چیز جو ان کی شاعری میں دلکشی پیدا کرتی ہے وہ ہے ’’طنز‘‘ ،ان کی شاعری کا یہ عنصر کہیں کہیں اتنا تیز اور تیکھا ہوتا ہے کہ زور بیان کا لطف دوبالا کردیتا ہے ۔
انسان کا انسان فرشتے کا فرشتہ انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی
پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا خدا تھے کتنے مگر کوئی آڑے آنہ گیا
تخیل کی بلندی :یگانہؔ کے کلام میں تخیل کی بلند پروازی اور فکر کی بالیدگی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ وہ حقائق کو عالمِ بالا سے چن کر لاتے ہیں اور نہایت صفائی و سادگی کے ساتھ اشعار میں سمو دیتے ہیں۔ بندش ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ و تراکیب میں مطلب ومفہوم الجھنے نہیں پاتا۔ ان کے کلام میں زیادہ تر حوصلہ اور ہمت افزائی کی لہریں موجزن نظر آتی ہیں۔ مصیبتوں میں گِھرجانے کے باوجودبھی انسان کو ہمت کسی بھی صورت میں ہارنا نہیں چاہیے ۔
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا ہمیں سر مار کر تیشے سے مرجانا نہیں آتا
بزم دنیا میں یگانہؔ ایسی بیگانہ روی میں نے مانا عیب ہے لیکن ہنر میرے لیے
باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے بازآ ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے
خودی :یگانہؔ ایک خود دار،حق گو اور بے باک انسان تھے اور یہی خصوصیات ان کے کلام میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی خودداری کہیں کہیں ’’اناپرستی‘‘ سے جا ملتی ہے، جسے بعض ناقدین نے ان کی ’’کجروی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اپنے دور میں انہیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ،جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی زندگی کشمکش، آزمائش اور اتار چڑھاؤ سے عبارت تھی، اس کے باوجود ان کی شاعری میں زندگی سے فرار، مایوسی اور پست ہمتی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے کو طے کرنے کی ان میں بڑی جرأت تھی۔اسی وجہ سے ان کے کلام میں مایوسی، قنوطیت اور حرماں نصیبی نہیں پائی جاتی بلکہ جوش و جرآت نظر آتی ہے۔
ہنوز زندگی تلخ کا مزا نہ ملا کمال صبر ملا صبر آزمانہ ملا
بہار آئے گی پھر یاس ناامید نہ ہو ابھی تو گلشن ناپائدار باقی ہے
تشبیہات و استعارات : یگانہؔ کے کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں فارسی ترکیبوں کے استعمال سے کافی لگاؤ تھا۔ تشبیہات کی جدت سے وہ طرزِبیان میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مصرعے نہایت چست ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں الفاظ کی بندش سے اشعار میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاً۔
وحشت آباد عدم ہے وہ دیارِ خاموش کہ قدم رکھتے ہی ایک ایک سے بیگانہ بنے
حسن وہ حسن کبھی جس کی حقیقت نہ کھلے رنگ وہ رنگ جو ہر رنگ میں شامل ہو جائے
چشمِ نامحرم سے، غافل،روئے لیلیٰ ہے نہاں ورنہ اک دھوکا ہی دھوکا پردۂ محمل کا ہے
سیمابی کیفیت : یگانہؔ نے صرف اپنا تخلص ہی یاس سے یگانہؔ (1920-21 میں ) نہیں کیا بلکہ 1932ء تک پہنچتے پہنچتے، اس میں چنگیزی کا اضافہ بھی کر لیا۔ اس کے بارے میں خودلکھتے ہیں کہ”جس طرح چنگیز نے اپنی تلوار سے دنیا کا صفایا کر دیا تھا ،اسی طرح جب سے میں نے غالبؔ پرستوں کا صفایا کرنے کا تہیہ کیا ہے،یہ لقب اختیار کیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف تخلص تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریات و افکار میں بھی تبدیلی کی دلالت ہے۔ اہلِ لکھنؤ سے ان کے معرکہ نے انہیں اور خود سر اور پر اعتماد بنا دیا۔ انہیں معرکوں کے باعث ان کے لہجے میں تیزی آئی۔ یہاں یگانہؔ کے کلام سے کچھ ایسے شعر دیکھتے چلیں، جن سے ان کے لہجے کا انوکھا پن ہی نہیں بلکہ تیکھا پن بھی سامنے آجائے توشاید کوئی مضائقہ نہ ہو۔
کون دیتا ہے ساتھ مردوں کا حوصلہ ہے تو باندھ ٹانگ سے ٹانگ
موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی لے دعا کرچکے اب ترک دعا کرتے ہیں
مندرجہ بالا اشعار یگانہؔ کی یگانہ روی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے ان کا کلام ان کے کسی ہم عصر سے کم تر نہیں ہے۔ روزمرہ محاوروں کا استعمال، طرزِ ادا، کلام میں روانی اور بے ساختگی یگانہؔ کی خاص پہچان بن گئے تھے۔
رباعی :یگانہ ؔنے اپنی رباعیوں میں بھی ایک طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دیگر شعرا سے ان کا رنگ الگ رہے۔ اس فراق میں انہوں نے ایسی بندشیں اور محاورے استعمال کیے جو منجھے ہوئے نہیں تھے یا جن پر زبان کی صفائی نے ابھی تک جلا نہیں کی تھی۔ لیکن یہ بات طئے ہے کہ یگانہؔ کو رباعی کے فن پر کامل عبور تھا۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ رباعی کے چوتھے مصرعے میں خیال کی تان ٹوٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعیاں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ انہوں نے غالبؔ کے کلام پر بھی رباعی میں اظہار خیال کیا تھا۔ یگانہؔ کی رباعیوں کے مجموعے کا نام ’’ ترانہ ‘‘ ہے، جسے کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی رباعیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تمام تر رباعیوں کو عنوان دے کر رقم کیا ہے۔ مثلاً
دل کو پہلے ٹٹول لیتا ہوں پھر تحفۂ درد مول لیتا ہوں
آثارِ زلال و درد و مستی و خمار آنکھوں آنکھوں میں تول لیتا ہوں میں
حسن دو روزہ
سورج کو گہن میں نہیں دیکھا شاید کیوں، چاند کو گہن میں نہیں دیکھا شاید
اے حسن دو روزہ پہ اکڑنے والو یوسف کو کفن میں نہیں دیکھا شاید
غالب شکنی :یگانہؔ نے غالبؔ شکنی کے باعث بڑی بدنامی مول لی لیکن یہ بدنامی ایسے ہی نہیں تھی بلکہ انہوں نے بہت سی رباعیاں اس سلسلے میں کہی تھیں۔ ان کی اس رنگ کی بھی چند رباعیاں پیش ہیں تاکہ حقیقت کا اندازہ کیا جاسکے ۔
غالبؔ کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں
مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں
وہ لذّت الم کا جو خوگر سمجھ گئے اب ظلم مجھ پہ ہے ستم گاہ گاہ کا
شیشے میں موج مے کو یہ، کیا دیکھتے ہیں آپ اس میں ہے اسی برق نگاہ کا
(7)
عشق ہی سعی مری، عشق ہی حاصل میرا یہی منزل ہے، یہی جادۂ منزل میرا
یوں اڑائے لئے جاتا ہے مجھے دل میرا ساتھ دیتا نہیں اب جادۂ منزل میرا
اور آ جائے نہ زندانی وحشت کوئی! ہے جنوں خیز بہت شور سلاسل میرا
میں سراپا ہوں تمنّا ہمہ تن درد ہوں میں ہر بن مو میں تڑپتا ہے مرے، دل میرا
داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں، لیکن اس میں کچھ خون تمنّا بھی ہے شامل میرا
بے نیازی کو تری کچھ بھی پذیرا نہ ہوا شکر اخلاص مرا، شکوۂ باطل میرا
(8)
ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی آئینہ بھی حیران ہے و آئینہ نگر بھی
ہو نور پہ کچھ اور ہی اک نور کا عالم اس رخ پہ جو چھا جائے مرا کیف نظر بھی
تھا حاصل نظّارہ فقط ایک تحیّر جلوے کو کہے کون کہ اب گم ہے نظر بھی
اب تو یہ تمنّا ہے کسی کو بھی نہ دیکھوں صورت جو دکھا دی ہے تو لے جاؤ نظر بھی
(9)
مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا سنتے ہیں بہار آئی، گلستاں نہیں دیکھا
زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا
آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا
اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب فتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں دیکھا
ہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورت میں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا
کچھ دعوی تمکیں میں ہے معذور بھی زاہد! مستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا
روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں ! جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا
مجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہے ترستی کب سے تجھے اے سرو خراماں نہیں دیکھا
کیا کیا ہوا ہنگام جنوں، یہ نہیں معلوم ! کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا
شائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغر کافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا
(10)
رخ رنگیں پہ موجیں ہیں تبسّم ہائے پنہاں کی شعاعیں کیا پڑیں، رنگت نکھر آئی گلستاں کی
یہیں پہ ختم ہو جاتی ہیں بحثیں کفر و ایماں کی نقاب اس نے الٹ کر یہ حقیقت ہم پہ عریاں کی
روانی رنگ لائی دیدۂ خوں نا بہ افشاں کی اتر آئی ہے اک تصویر دامن پر گلستاں کی
حقیقت کھول دیتا میں جنوں کے راز پنہاں کی قسم دے دی ہے لیکن قیس نے چاک گریباں کی
مری اک بیخودی میں سینکڑوں ہوش و خرد گم ہیں یہاں کے ذرّہ ذرّہ میں ہے وسعت اک بیاباں کی
مجھی سے بگڑے رہتے ہیں مجھی پر ہے عتاب ان کا ادائیں چھپ نہیں سکتیں نوازشہائے پنہاں کی
اسیران بلا نے آہ، کچھ اس درد سے کھینچی نگہباں چیخ اٹّھے، ہل گئی دیوار زنداں کی
نگاہ یاس و آہ عاشقاں و نالۂ بلبل معاذاللہ کتنی صورتیں ہیں انکے پیکاں کی
اسیران بلا کی حسرتوں کو آہ کیا کہیئے ٹرپ کے ساتھ اونچی ہو گئی دیوار زنداں کی
مرزا واجد حسین نام،اور تخلص پہلے یاس اور پھر یگانہ اختیار کیا۔مرزا کے جدامجد ایران سے ہندوستان آئے اور مغلیہ سلطنت کے دامن سے بسلسلہ سپہ گری، وابستہ ہوگئے۔پر گنہ حوالی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔مرزا واجد حسین عظیم آباد ہی میں 17 اکتوبر 1884ء میں محلہ مغلپورہ میں پیدا ہوئے۔پانچ چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد عظیم آباد (پٹنہ) کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں نام لکھوایا گیا۔ اسکول میں ہمیشہ اول رہے۔ پڑھنے میں اچھے تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے ۔1903ء میں انٹرنس پاس کیا۔ 1904ء میں مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے صاحب زادوں شہزادہ محمود یعقوب علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کی انگریزی تعلیم کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے میں لکھنؤ آئے اور لکھنؤ کی فضا ایسی راس آئی کہ اچھے ہوکر بھی واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرکے اسی کو اپنا وطن بنالیا۔
لکھنؤ میں ان کا قیام ہنگامہ خیز ثابت ہوا جس کا اثر ان کی شاعری پر بھی پڑا۔یگانہ اپنے آپ کو عظیم آبادی کی جگہ لکھنؤی کہنے لگے۔یہاں مشہور شعراء سے ٹکر لینے لگے۔مخالفتیں اتنی بڑھیں کہ یاس، یگانہ چنگیزی بن گئے۔1927ء میں یاس تخلص بالکل ترک کر کے صرف یگانہ استعمال کرنے لگے۔شعرائے لکھنؤ چونکہ غالب کے مقلد تھے اس لئے یگانہ اپنے آپ کو’آتش کا مقلد‘ کہتے تھے۔یگانہ نے اپنے آپ کو غالب شکن اور غالب کا چچا بھی کہا ہے۔
تلاشِ معاش کے لئے یگانہ کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا،حیدرآباد چلے گئے وہاں سب رجسٹرار ی کے عہدے پر فائز ہوئے۔جب ملازمت سے سبکدوشی حاصل کی تو لکھنؤ واپس آ گئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔4 فروری 1956ء کو انتقال کیا اور لکھنو ہی میں ابدی آرام گاہ بنی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لکھنؤ کا قیام :یگانہؔ کا لکھنؤ کا قیام بڑا ہنگامہ خیز اور معرکہ آرا رہا، جس کا اثر ان کے فن پر بھی پڑا۔ معرکہ آرائیوں نے بھی ان کے فن کو جلا بخشی۔ شروع میں لکھنؤ کے شعرا سے ان کے تعلقات خوشگوار تھے۔ اتنا ہی نہیں وہ عزیزؔ، صفیؔ، ثاقبؔ و محشرؔ وغیرہ کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ جب عزیزؔ کی سرپرستی میں رسالہ ’’معیار‘‘ جاری ہوا اور معیار پارٹی وجود میں آئی تو یگانہؔ بھی اس پارٹی کے مشاعروں میں غالبؔ کی زمینوں میں غزلیں پڑھتے تھے۔ ان طرحی مشاعروں کی جو غزلیں’’معیار‘‘ میں چھپی ہیں، ان میں بھی یگانہؔ کی غزلیں شامل ہیں۔ لیکن یہ تعلق بہت دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور لکھنؤ کے اکثر شعرا سے یگانہؔ کی چشمک ہو گئی۔ اس سلسلے میں مالک رام بہ زبان یگانہؔ تحریر کرتے ہیں کہ ”اب اس میں میرا کیا قصور ! یہ خدا کی دین ہے، میرا کلام پسند کیاجانے لگا۔ باہر کے مشاعروں میں بھی اکثر جانا پڑتا۔ میری یہ ہر دل عزیزؔی اور مقبولیت ان تھڑدلوں سے دیکھی نہ گئی۔
یگانہؔ سے اہلِ لکھنؤ کی چشمک کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ "معیار" پارٹی کے مشاعروں میں ان کے کلام پر خندہ زنی کی جاتی تھی اور بے سروپا اعتراض کیے جاتے تھے مگر یہ سب کچھ زبانی ہوتا تھا۔ اصلی اور تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہؔ نے کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا سلسلہ چل پڑا، جس کی انتہا ’’شہرتِ کاذبہ‘‘ نامی یگانہؔ کی کتاب ہے۔ لکھنؤ کے شعرا غالبؔ کے بڑے قائل تھے، لہٰذا یگانہؔ کے لیے اب یہ بات بھی ناگزیر ہو گئی کہ وہ غالبؔ کی بھی مخالفت کریں۔ غالبؔ کی مخالفت کے سلسلے میں انہیں اندھا مخالف نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ ”یہ کس نے آپ کو بہکا دیا کہ میں غالب کا مخالف ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ صاحب ! غالبؔ کی صحیح قدر و منزلت مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں ۔ اور پھر قسم یہ ہے کہ یہ بھی وہ لوگ نہیں، جو اس کا صحیح مقام سمجھتے ہوں، بلکہ وہ جو تقلیداً اسے بڑا سمجھتے ہیں ۔ تو صاحب ! میں غالبؔ کے خلاف نہیں تھا، اور نہ ہوں لیکن میں اس کی جائز جگہ سے زیادہ اس کے حوالے کردینے پر تیار نہیں ۔
یگانہؔ نے اس مخالفت کے چلتے اپنے آپ کو ’’آتشؔ کا مقلد‘‘ کہنا شروع کر دیا اور اپنے مجموعۂ کلام ’’نشترِ یاس‘‘ کے سرورق پر اپنے نام سے پہلے ’’خاک پائے آتشؔ ‘‘ لکھا اورجب اس کے ایک سال بعد ’’چراغِ سخن‘‘ شائع ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو ’’آتشؔ پرست‘‘ کے درجے تک پہنچا دیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے آتشؔ اور غالبؔ کا تقابلی مطالعہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آتشؔ، غالبؔ سے بڑا شاعر ہے۔ یہ مضمون رسالہ ’’خیال ‘‘ میں نومبر 1915ء میں شائع ہوا اور یہ سلسلہ ایک لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس غالبؔ شکنی کی انتہا وہ رسالہ ہے، جو انہوں نے 1934ء میں ’’غالبؔ شکن‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ مزید اضافوں کے ساتھ 1935ء میں چھاپا۔ اس مخالفت کی وجہ سے یگانہؔ کا اچھا خاصا وقت ضائع ہو گیا کیوں کہ اس مخالفت سے نہ تو شعرائے لکھنؤ کا کچھ ہوا اور نہ ہی غالبؔ کو کچھ نقصان پہنچا بلکہ یگانہؔ ہی خسارے میں رہے کہ اپنی شاعری پر پوری طرح توجہ نہ دے سکے ۔ان سب مخالفتوں اور معرکہ آرائیوں کے باوجود یگانہؔ کا ایک گروپ تھا، جن سے ان کے اچھے مراسم تھے۔ 1919ء میں انہوں نے ’’انجمن خاصانِ ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی۔ اس انجمن کے صدر بیخودؔ موہانی، سکریٹری یگانہؔ اور جوائنٹ سکریٹری عبد الباری آسی تھے۔ اس انجمن کے اعزازی رکن اور سرپرستوں میں فصاحتؔ لکھنوی اور سید مسعود حسن رضوی ادیبؔ جیسے لکھنوی اہل قلم بھی شامل تھے ۔
قیام دکن : زندگی کے دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ یگانہؔ کی ملازمت کا سلسلہ بھی ناہمواری کا شکار رہا۔ ایک عرصے تک وہ ’’اودھ اخبار‘‘ سے وابستہ رہے۔ لیکن حتمی طور سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کب سے کب تک، البتہ ’’اودھ اخبار‘‘ کے مدیروں میں یگانہؔ کا نام شامل ہے ۔1924ء میں یگانہؔ اٹاوہ چلے گئے، جہاں انہیں اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت مل گئی۔ مارچ 1925ء کے آس پاس وہ اٹاوہ کو چھوڑ کر علی گڑھ چلے گئے، وہاں ایک پریس میں انہیں ملازمت مل گئی۔ 1926ء میں انہوں نے لاہور کا رخ کیا اور ’’اردو مرکز‘‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں کا ماحول انہیں راس آیا۔ یہاں کے ادیبوں سے ان کے بہتر مراسم رہے۔ کئی کتابوں اوررسالوں کے چھپنے کی سبیل پیدا ہوئی۔ اقبالؔ کے یہاں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ اقبالؔ بھی یگانہؔ کے بڑے قائل تھے۔ 1928ء میں یگانہؔ ’’اردو مرکز‘‘ سے علاحدہ ہو گئے لیکن قیام لاہور ہی میں رہا۔ لاہور کے بعد انہوں نے حیدرآباد دکن کا رخ غالباً 1928ء میں کیا۔ حیدرآباد میں ان کا قیام ان کے لیے کافی آسودگی لے کر آیا۔ جہاں ان کا تقرر نثار احمد مزاج کے توسط سے محکمہ رجسٹریشن میں ’’نقل نویس‘‘ کی حیثیت ہو گیا۔ یہاں ان کی آمدنی پچیس تیس روپے ماہوار تھی اور کبھی کبھی زیادہ بھی ہوجاتی تھی ۔1931ء میں یگانہؔ محکمۂ رجسٹریشن میں باقاعدہ ملازم ہو گئے۔ یہ جگہ سب رجسٹرار کی تھی۔ اس طرح وہ ’’عثمان آباد‘‘، ’’لاتور‘‘ اور ’’یادگیر‘‘ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور 1942ء میں 55 برس کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد ایک لمبے عرصے تک حیدرآباد ہی میں قیام رہا۔ 1946ء میں وہ بمبئی گئے اور وہاں اپنے بڑے بیٹے آغا جان کو ملازمت دلوائی۔ حیدرآباد میں نواب معظم جاہ نے انہیں اپنے دربار سے وابستہ کرناچاہا لیکن یگانہؔ راضی نہ ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد یگانہؔ بار بار حیدرآباد روزگار کی امید سے آتے رہے لیکن انہیں مایوسی ہی نصیب ہوئی۔
مجموعہ ہائے کلام :یگانہؔ کا پہلا مجموعۂ کلام ’’ نشترِ یاس‘‘ 1914ء میں شائع ہوا۔ اس کا بڑا حصہ ان کے ابتدائی اور روایتی کلام پر مشتمل ہے۔ ان کا دوسرا مجموعہ ’’ آیاتِ وجدانی‘‘ کے نام سے 1927ء میں منظر عام پر آیا۔ یگانہؔ کی قدر و منزلت کا دار و مدار بڑی حد تک اسی مجموعے پر ہے۔ ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کے بعد ان کا تیسرا مجموعہ ’’ترانہ‘‘ کے نام سے سات سال بعد 1933ء میں شائع ہوا۔ 1934ء میں ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کا دوسرا اڈیشن منظر عام پر آیا۔ 1945ء میں اس مجموعے کا تیسرا اڈیشن بھی آگیا۔ اس اشاعت کا کام پہلی اشاعتوں سے بہتر تھا۔ 1946ء میں جب یگانہؔ بمبئی گئے تو اس وقت ان کی ملاقات سید سجاد ظہیر سے ہوئی تھی۔ ان کے لیے یگانہؔ نے اپنے تمام مجموعوں میں شامل کلام کو ’’گنجینہ‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا۔ یہ مجموعہ کمیونسٹ پارٹی کے اشاعتی ادارے سے 1947ء میں شائع کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چند کتابچے بھی لکھے تھے۔ مثلاً ’’ شہرتِ کاذبہ‘‘ جسے خرافاتِ عزیزؔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ’’غالبؔ شکن‘‘ بھی شائع کیا، جس سے لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں بڑی اٹھا پٹک ہوئی ۔
شاعرانہ خصوصیات : یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔
زور کلام :یگانہؔ کی شاعری میں جو چیز سب سے پہلے دل پر اثر کرتی ہے، وہ ہے ان کا زورِکلام۔ بندش کی چستی کے علاوہ بلند بانگ مضامین کے لیے ایسے الفاظ لے آتے ہیں، جو پوری طرح مفہوم کو ذہن نشین کرانے کے ساتھ ساتھ خیالات کو بھی جلا دیتے ہیں۔ دوسری چیز جو ان کی شاعری میں دلکشی پیدا کرتی ہے وہ ہے ’’طنز‘‘ ،ان کی شاعری کا یہ عنصر کہیں کہیں اتنا تیز اور تیکھا ہوتا ہے کہ زور بیان کا لطف دوبالا کردیتا ہے ۔
انسان کا انسان فرشتے کا فرشتہ انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی
پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا خدا تھے کتنے مگر کوئی آڑے آنہ گیا
تخیل کی بلندی :یگانہؔ کے کلام میں تخیل کی بلند پروازی اور فکر کی بالیدگی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ وہ حقائق کو عالمِ بالا سے چن کر لاتے ہیں اور نہایت صفائی و سادگی کے ساتھ اشعار میں سمو دیتے ہیں۔ بندش ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ و تراکیب میں مطلب ومفہوم الجھنے نہیں پاتا۔ ان کے کلام میں زیادہ تر حوصلہ اور ہمت افزائی کی لہریں موجزن نظر آتی ہیں۔ مصیبتوں میں گِھرجانے کے باوجودبھی انسان کو ہمت کسی بھی صورت میں ہارنا نہیں چاہیے ۔
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا ہمیں سر مار کر تیشے سے مرجانا نہیں آتا
بزم دنیا میں یگانہؔ ایسی بیگانہ روی میں نے مانا عیب ہے لیکن ہنر میرے لیے
باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے بازآ ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے
خودی :یگانہؔ ایک خود دار،حق گو اور بے باک انسان تھے اور یہی خصوصیات ان کے کلام میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی خودداری کہیں کہیں ’’اناپرستی‘‘ سے جا ملتی ہے، جسے بعض ناقدین نے ان کی ’’کجروی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اپنے دور میں انہیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ،جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی زندگی کشمکش، آزمائش اور اتار چڑھاؤ سے عبارت تھی، اس کے باوجود ان کی شاعری میں زندگی سے فرار، مایوسی اور پست ہمتی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے کو طے کرنے کی ان میں بڑی جرأت تھی۔اسی وجہ سے ان کے کلام میں مایوسی، قنوطیت اور حرماں نصیبی نہیں پائی جاتی بلکہ جوش و جرآت نظر آتی ہے۔
ہنوز زندگی تلخ کا مزا نہ ملا کمال صبر ملا صبر آزمانہ ملا
بہار آئے گی پھر یاس ناامید نہ ہو ابھی تو گلشن ناپائدار باقی ہے
تشبیہات و استعارات : یگانہؔ کے کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں فارسی ترکیبوں کے استعمال سے کافی لگاؤ تھا۔ تشبیہات کی جدت سے وہ طرزِبیان میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مصرعے نہایت چست ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں الفاظ کی بندش سے اشعار میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاً۔
وحشت آباد عدم ہے وہ دیارِ خاموش کہ قدم رکھتے ہی ایک ایک سے بیگانہ بنے
حسن وہ حسن کبھی جس کی حقیقت نہ کھلے رنگ وہ رنگ جو ہر رنگ میں شامل ہو جائے
چشمِ نامحرم سے، غافل،روئے لیلیٰ ہے نہاں ورنہ اک دھوکا ہی دھوکا پردۂ محمل کا ہے
سیمابی کیفیت : یگانہؔ نے صرف اپنا تخلص ہی یاس سے یگانہؔ (1920-21 میں ) نہیں کیا بلکہ 1932ء تک پہنچتے پہنچتے، اس میں چنگیزی کا اضافہ بھی کر لیا۔ اس کے بارے میں خودلکھتے ہیں کہ”جس طرح چنگیز نے اپنی تلوار سے دنیا کا صفایا کر دیا تھا ،اسی طرح جب سے میں نے غالبؔ پرستوں کا صفایا کرنے کا تہیہ کیا ہے،یہ لقب اختیار کیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف تخلص تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریات و افکار میں بھی تبدیلی کی دلالت ہے۔ اہلِ لکھنؤ سے ان کے معرکہ نے انہیں اور خود سر اور پر اعتماد بنا دیا۔ انہیں معرکوں کے باعث ان کے لہجے میں تیزی آئی۔ یہاں یگانہؔ کے کلام سے کچھ ایسے شعر دیکھتے چلیں، جن سے ان کے لہجے کا انوکھا پن ہی نہیں بلکہ تیکھا پن بھی سامنے آجائے توشاید کوئی مضائقہ نہ ہو۔
کون دیتا ہے ساتھ مردوں کا حوصلہ ہے تو باندھ ٹانگ سے ٹانگ
موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی لے دعا کرچکے اب ترک دعا کرتے ہیں
مندرجہ بالا اشعار یگانہؔ کی یگانہ روی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے ان کا کلام ان کے کسی ہم عصر سے کم تر نہیں ہے۔ روزمرہ محاوروں کا استعمال، طرزِ ادا، کلام میں روانی اور بے ساختگی یگانہؔ کی خاص پہچان بن گئے تھے۔
رباعی :یگانہ ؔنے اپنی رباعیوں میں بھی ایک طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دیگر شعرا سے ان کا رنگ الگ رہے۔ اس فراق میں انہوں نے ایسی بندشیں اور محاورے استعمال کیے جو منجھے ہوئے نہیں تھے یا جن پر زبان کی صفائی نے ابھی تک جلا نہیں کی تھی۔ لیکن یہ بات طئے ہے کہ یگانہؔ کو رباعی کے فن پر کامل عبور تھا۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ رباعی کے چوتھے مصرعے میں خیال کی تان ٹوٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعیاں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ انہوں نے غالبؔ کے کلام پر بھی رباعی میں اظہار خیال کیا تھا۔ یگانہؔ کی رباعیوں کے مجموعے کا نام ’’ ترانہ ‘‘ ہے، جسے کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی رباعیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تمام تر رباعیوں کو عنوان دے کر رقم کیا ہے۔ مثلاً
دل کو پہلے ٹٹول لیتا ہوں پھر تحفۂ درد مول لیتا ہوں
آثارِ زلال و درد و مستی و خمار آنکھوں آنکھوں میں تول لیتا ہوں میں
حسن دو روزہ
سورج کو گہن میں نہیں دیکھا شاید کیوں، چاند کو گہن میں نہیں دیکھا شاید
اے حسن دو روزہ پہ اکڑنے والو یوسف کو کفن میں نہیں دیکھا شاید
غالب شکنی :یگانہؔ نے غالبؔ شکنی کے باعث بڑی بدنامی مول لی لیکن یہ بدنامی ایسے ہی نہیں تھی بلکہ انہوں نے بہت سی رباعیاں اس سلسلے میں کہی تھیں۔ ان کی اس رنگ کی بھی چند رباعیاں پیش ہیں تاکہ حقیقت کا اندازہ کیا جاسکے ۔
غالبؔ کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں
مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں
ہو نور پہ کچھ اور ہی اک نور کا عالم اس رخ پہ جو چھا جائے مرا کیف نظر بھی
تھا حاصل نظّارہ فقط ایک تحیّر جلوے کو کہے کون کہ اب گم ہے نظر بھی
اب تو یہ تمنّا ہے کسی کو بھی نہ دیکھوں صورت جو دکھا دی ہے تو لے جاؤ نظر بھی
(9)
مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھا سنتے ہیں بہار آئی، گلستاں نہیں دیکھا
زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا
آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مرے آگے میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا
اس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب فتنوں نے ترا گوشۂ داماں نہیں دیکھا
ہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورت میں نے کبھی روئے شب ہجراں نہیں دیکھا
کچھ دعوی تمکیں میں ہے معذور بھی زاہد! مستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا
روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں ! جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا
مجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہے ترستی کب سے تجھے اے سرو خراماں نہیں دیکھا
کیا کیا ہوا ہنگام جنوں، یہ نہیں معلوم ! کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا
شائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغر کافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا
(10)
رخ رنگیں پہ موجیں ہیں تبسّم ہائے پنہاں کی شعاعیں کیا پڑیں، رنگت نکھر آئی گلستاں کی
یہیں پہ ختم ہو جاتی ہیں بحثیں کفر و ایماں کی نقاب اس نے الٹ کر یہ حقیقت ہم پہ عریاں کی
روانی رنگ لائی دیدۂ خوں نا بہ افشاں کی اتر آئی ہے اک تصویر دامن پر گلستاں کی
حقیقت کھول دیتا میں جنوں کے راز پنہاں کی قسم دے دی ہے لیکن قیس نے چاک گریباں کی
مری اک بیخودی میں سینکڑوں ہوش و خرد گم ہیں یہاں کے ذرّہ ذرّہ میں ہے وسعت اک بیاباں کی
مجھی سے بگڑے رہتے ہیں مجھی پر ہے عتاب ان کا ادائیں چھپ نہیں سکتیں نوازشہائے پنہاں کی
اسیران بلا نے آہ، کچھ اس درد سے کھینچی نگہباں چیخ اٹّھے، ہل گئی دیوار زنداں کی
نگاہ یاس و آہ عاشقاں و نالۂ بلبل معاذاللہ کتنی صورتیں ہیں انکے پیکاں کی
اسیران بلا کی حسرتوں کو آہ کیا کہیئے ٹرپ کے ساتھ اونچی ہو گئی دیوار زنداں کی
مرزا واجد حسین نام،اور تخلص پہلے یاس اور پھر یگانہ اختیار کیا۔مرزا کے جدامجد ایران سے ہندوستان آئے اور مغلیہ سلطنت کے دامن سے بسلسلہ سپہ گری، وابستہ ہوگئے۔پر گنہ حوالی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔مرزا واجد حسین عظیم آباد ہی میں 17 اکتوبر 1884ء میں محلہ مغلپورہ میں پیدا ہوئے۔پانچ چھ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد عظیم آباد (پٹنہ) کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں نام لکھوایا گیا۔ اسکول میں ہمیشہ اول رہے۔ پڑھنے میں اچھے تھے، اس لیے ہر سال وظیفہ اور انعام پاتے رہے ۔1903ء میں انٹرنس پاس کیا۔ 1904ء میں مٹیا برج، کلکتہ گئے، جہاں شہزادہ مرزا مقیم بہادر کے صاحب زادوں شہزادہ محمود یعقوب علی مرزا اور شہزادہ محمد یوسف علی مرزا کی انگریزی تعلیم کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن کلکتہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور کچھ دنوں بعد وطن واپس چلے آئے۔ علاج کے سلسلے میں لکھنؤ آئے اور لکھنؤ کی فضا ایسی راس آئی کہ اچھے ہوکر بھی واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ لکھنؤ ہی میں 1913ء میں شادی کرکے اسی کو اپنا وطن بنالیا۔
لکھنؤ میں ان کا قیام ہنگامہ خیز ثابت ہوا جس کا اثر ان کی شاعری پر بھی پڑا۔یگانہ اپنے آپ کو عظیم آبادی کی جگہ لکھنؤی کہنے لگے۔یہاں مشہور شعراء سے ٹکر لینے لگے۔مخالفتیں اتنی بڑھیں کہ یاس، یگانہ چنگیزی بن گئے۔1927ء میں یاس تخلص بالکل ترک کر کے صرف یگانہ استعمال کرنے لگے۔شعرائے لکھنؤ چونکہ غالب کے مقلد تھے اس لئے یگانہ اپنے آپ کو’آتش کا مقلد‘ کہتے تھے۔یگانہ نے اپنے آپ کو غالب شکن اور غالب کا چچا بھی کہا ہے۔
تلاشِ معاش کے لئے یگانہ کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا،حیدرآباد چلے گئے وہاں سب رجسٹرار ی کے عہدے پر فائز ہوئے۔جب ملازمت سے سبکدوشی حاصل کی تو لکھنؤ واپس آ گئے اور آخر عمر تک یہیں رہے۔4 فروری 1956ء کو انتقال کیا اور لکھنو ہی میں ابدی آرام گاہ بنی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لکھنؤ کا قیام :یگانہؔ کا لکھنؤ کا قیام بڑا ہنگامہ خیز اور معرکہ آرا رہا، جس کا اثر ان کے فن پر بھی پڑا۔ معرکہ آرائیوں نے بھی ان کے فن کو جلا بخشی۔ شروع میں لکھنؤ کے شعرا سے ان کے تعلقات خوشگوار تھے۔ اتنا ہی نہیں وہ عزیزؔ، صفیؔ، ثاقبؔ و محشرؔ وغیرہ کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ جب عزیزؔ کی سرپرستی میں رسالہ ’’معیار‘‘ جاری ہوا اور معیار پارٹی وجود میں آئی تو یگانہؔ بھی اس پارٹی کے مشاعروں میں غالبؔ کی زمینوں میں غزلیں پڑھتے تھے۔ ان طرحی مشاعروں کی جو غزلیں’’معیار‘‘ میں چھپی ہیں، ان میں بھی یگانہؔ کی غزلیں شامل ہیں۔ لیکن یہ تعلق بہت دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور لکھنؤ کے اکثر شعرا سے یگانہؔ کی چشمک ہو گئی۔ اس سلسلے میں مالک رام بہ زبان یگانہؔ تحریر کرتے ہیں کہ ”اب اس میں میرا کیا قصور ! یہ خدا کی دین ہے، میرا کلام پسند کیاجانے لگا۔ باہر کے مشاعروں میں بھی اکثر جانا پڑتا۔ میری یہ ہر دل عزیزؔی اور مقبولیت ان تھڑدلوں سے دیکھی نہ گئی۔
یگانہؔ سے اہلِ لکھنؤ کی چشمک کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ "معیار" پارٹی کے مشاعروں میں ان کے کلام پر خندہ زنی کی جاتی تھی اور بے سروپا اعتراض کیے جاتے تھے مگر یہ سب کچھ زبانی ہوتا تھا۔ اصلی اور تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہؔ نے کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا سلسلہ چل پڑا، جس کی انتہا ’’شہرتِ کاذبہ‘‘ نامی یگانہؔ کی کتاب ہے۔ لکھنؤ کے شعرا غالبؔ کے بڑے قائل تھے، لہٰذا یگانہؔ کے لیے اب یہ بات بھی ناگزیر ہو گئی کہ وہ غالبؔ کی بھی مخالفت کریں۔ غالبؔ کی مخالفت کے سلسلے میں انہیں اندھا مخالف نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ ”یہ کس نے آپ کو بہکا دیا کہ میں غالب کا مخالف ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ صاحب ! غالبؔ کی صحیح قدر و منزلت مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں ۔ اور پھر قسم یہ ہے کہ یہ بھی وہ لوگ نہیں، جو اس کا صحیح مقام سمجھتے ہوں، بلکہ وہ جو تقلیداً اسے بڑا سمجھتے ہیں ۔ تو صاحب ! میں غالبؔ کے خلاف نہیں تھا، اور نہ ہوں لیکن میں اس کی جائز جگہ سے زیادہ اس کے حوالے کردینے پر تیار نہیں ۔
یگانہؔ نے اس مخالفت کے چلتے اپنے آپ کو ’’آتشؔ کا مقلد‘‘ کہنا شروع کر دیا اور اپنے مجموعۂ کلام ’’نشترِ یاس‘‘ کے سرورق پر اپنے نام سے پہلے ’’خاک پائے آتشؔ ‘‘ لکھا اورجب اس کے ایک سال بعد ’’چراغِ سخن‘‘ شائع ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو ’’آتشؔ پرست‘‘ کے درجے تک پہنچا دیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے آتشؔ اور غالبؔ کا تقابلی مطالعہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آتشؔ، غالبؔ سے بڑا شاعر ہے۔ یہ مضمون رسالہ ’’خیال ‘‘ میں نومبر 1915ء میں شائع ہوا اور یہ سلسلہ ایک لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس غالبؔ شکنی کی انتہا وہ رسالہ ہے، جو انہوں نے 1934ء میں ’’غالبؔ شکن‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ مزید اضافوں کے ساتھ 1935ء میں چھاپا۔ اس مخالفت کی وجہ سے یگانہؔ کا اچھا خاصا وقت ضائع ہو گیا کیوں کہ اس مخالفت سے نہ تو شعرائے لکھنؤ کا کچھ ہوا اور نہ ہی غالبؔ کو کچھ نقصان پہنچا بلکہ یگانہؔ ہی خسارے میں رہے کہ اپنی شاعری پر پوری طرح توجہ نہ دے سکے ۔ان سب مخالفتوں اور معرکہ آرائیوں کے باوجود یگانہؔ کا ایک گروپ تھا، جن سے ان کے اچھے مراسم تھے۔ 1919ء میں انہوں نے ’’انجمن خاصانِ ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی۔ اس انجمن کے صدر بیخودؔ موہانی، سکریٹری یگانہؔ اور جوائنٹ سکریٹری عبد الباری آسی تھے۔ اس انجمن کے اعزازی رکن اور سرپرستوں میں فصاحتؔ لکھنوی اور سید مسعود حسن رضوی ادیبؔ جیسے لکھنوی اہل قلم بھی شامل تھے ۔
قیام دکن : زندگی کے دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ یگانہؔ کی ملازمت کا سلسلہ بھی ناہمواری کا شکار رہا۔ ایک عرصے تک وہ ’’اودھ اخبار‘‘ سے وابستہ رہے۔ لیکن حتمی طور سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کب سے کب تک، البتہ ’’اودھ اخبار‘‘ کے مدیروں میں یگانہؔ کا نام شامل ہے ۔1924ء میں یگانہؔ اٹاوہ چلے گئے، جہاں انہیں اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت مل گئی۔ مارچ 1925ء کے آس پاس وہ اٹاوہ کو چھوڑ کر علی گڑھ چلے گئے، وہاں ایک پریس میں انہیں ملازمت مل گئی۔ 1926ء میں انہوں نے لاہور کا رخ کیا اور ’’اردو مرکز‘‘ سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں کا ماحول انہیں راس آیا۔ یہاں کے ادیبوں سے ان کے بہتر مراسم رہے۔ کئی کتابوں اوررسالوں کے چھپنے کی سبیل پیدا ہوئی۔ اقبالؔ کے یہاں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ اقبالؔ بھی یگانہؔ کے بڑے قائل تھے۔ 1928ء میں یگانہؔ ’’اردو مرکز‘‘ سے علاحدہ ہو گئے لیکن قیام لاہور ہی میں رہا۔ لاہور کے بعد انہوں نے حیدرآباد دکن کا رخ غالباً 1928ء میں کیا۔ حیدرآباد میں ان کا قیام ان کے لیے کافی آسودگی لے کر آیا۔ جہاں ان کا تقرر نثار احمد مزاج کے توسط سے محکمہ رجسٹریشن میں ’’نقل نویس‘‘ کی حیثیت ہو گیا۔ یہاں ان کی آمدنی پچیس تیس روپے ماہوار تھی اور کبھی کبھی زیادہ بھی ہوجاتی تھی ۔1931ء میں یگانہؔ محکمۂ رجسٹریشن میں باقاعدہ ملازم ہو گئے۔ یہ جگہ سب رجسٹرار کی تھی۔ اس طرح وہ ’’عثمان آباد‘‘، ’’لاتور‘‘ اور ’’یادگیر‘‘ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور 1942ء میں 55 برس کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد ایک لمبے عرصے تک حیدرآباد ہی میں قیام رہا۔ 1946ء میں وہ بمبئی گئے اور وہاں اپنے بڑے بیٹے آغا جان کو ملازمت دلوائی۔ حیدرآباد میں نواب معظم جاہ نے انہیں اپنے دربار سے وابستہ کرناچاہا لیکن یگانہؔ راضی نہ ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد یگانہؔ بار بار حیدرآباد روزگار کی امید سے آتے رہے لیکن انہیں مایوسی ہی نصیب ہوئی۔
مجموعہ ہائے کلام :یگانہؔ کا پہلا مجموعۂ کلام ’’ نشترِ یاس‘‘ 1914ء میں شائع ہوا۔ اس کا بڑا حصہ ان کے ابتدائی اور روایتی کلام پر مشتمل ہے۔ ان کا دوسرا مجموعہ ’’ آیاتِ وجدانی‘‘ کے نام سے 1927ء میں منظر عام پر آیا۔ یگانہؔ کی قدر و منزلت کا دار و مدار بڑی حد تک اسی مجموعے پر ہے۔ ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کے بعد ان کا تیسرا مجموعہ ’’ترانہ‘‘ کے نام سے سات سال بعد 1933ء میں شائع ہوا۔ 1934ء میں ’’آیاتِ وجدانی‘‘ کا دوسرا اڈیشن منظر عام پر آیا۔ 1945ء میں اس مجموعے کا تیسرا اڈیشن بھی آگیا۔ اس اشاعت کا کام پہلی اشاعتوں سے بہتر تھا۔ 1946ء میں جب یگانہؔ بمبئی گئے تو اس وقت ان کی ملاقات سید سجاد ظہیر سے ہوئی تھی۔ ان کے لیے یگانہؔ نے اپنے تمام مجموعوں میں شامل کلام کو ’’گنجینہ‘‘ کے نام سے مرتب کر دیا۔ یہ مجموعہ کمیونسٹ پارٹی کے اشاعتی ادارے سے 1947ء میں شائع کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چند کتابچے بھی لکھے تھے۔ مثلاً ’’ شہرتِ کاذبہ‘‘ جسے خرافاتِ عزیزؔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ’’غالبؔ شکن‘‘ بھی شائع کیا، جس سے لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں بڑی اٹھا پٹک ہوئی ۔
شاعرانہ خصوصیات : یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔
زور کلام :یگانہؔ کی شاعری میں جو چیز سب سے پہلے دل پر اثر کرتی ہے، وہ ہے ان کا زورِکلام۔ بندش کی چستی کے علاوہ بلند بانگ مضامین کے لیے ایسے الفاظ لے آتے ہیں، جو پوری طرح مفہوم کو ذہن نشین کرانے کے ساتھ ساتھ خیالات کو بھی جلا دیتے ہیں۔ دوسری چیز جو ان کی شاعری میں دلکشی پیدا کرتی ہے وہ ہے ’’طنز‘‘ ،ان کی شاعری کا یہ عنصر کہیں کہیں اتنا تیز اور تیکھا ہوتا ہے کہ زور بیان کا لطف دوبالا کردیتا ہے ۔
انسان کا انسان فرشتے کا فرشتہ انسان کی یہ بوالعجبی یاد رہے گی
پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا خدا تھے کتنے مگر کوئی آڑے آنہ گیا
تخیل کی بلندی :یگانہؔ کے کلام میں تخیل کی بلند پروازی اور فکر کی بالیدگی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ وہ حقائق کو عالمِ بالا سے چن کر لاتے ہیں اور نہایت صفائی و سادگی کے ساتھ اشعار میں سمو دیتے ہیں۔ بندش ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ و تراکیب میں مطلب ومفہوم الجھنے نہیں پاتا۔ ان کے کلام میں زیادہ تر حوصلہ اور ہمت افزائی کی لہریں موجزن نظر آتی ہیں۔ مصیبتوں میں گِھرجانے کے باوجودبھی انسان کو ہمت کسی بھی صورت میں ہارنا نہیں چاہیے ۔
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا ہمیں سر مار کر تیشے سے مرجانا نہیں آتا
بزم دنیا میں یگانہؔ ایسی بیگانہ روی میں نے مانا عیب ہے لیکن ہنر میرے لیے
باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے بازآ ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے
خودی :یگانہؔ ایک خود دار،حق گو اور بے باک انسان تھے اور یہی خصوصیات ان کے کلام میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی خودداری کہیں کہیں ’’اناپرستی‘‘ سے جا ملتی ہے، جسے بعض ناقدین نے ان کی ’’کجروی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اپنے دور میں انہیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ،جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی زندگی کشمکش، آزمائش اور اتار چڑھاؤ سے عبارت تھی، اس کے باوجود ان کی شاعری میں زندگی سے فرار، مایوسی اور پست ہمتی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے کو طے کرنے کی ان میں بڑی جرأت تھی۔اسی وجہ سے ان کے کلام میں مایوسی، قنوطیت اور حرماں نصیبی نہیں پائی جاتی بلکہ جوش و جرآت نظر آتی ہے۔
ہنوز زندگی تلخ کا مزا نہ ملا کمال صبر ملا صبر آزمانہ ملا
بہار آئے گی پھر یاس ناامید نہ ہو ابھی تو گلشن ناپائدار باقی ہے
تشبیہات و استعارات : یگانہؔ کے کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں فارسی ترکیبوں کے استعمال سے کافی لگاؤ تھا۔ تشبیہات کی جدت سے وہ طرزِبیان میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مصرعے نہایت چست ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں الفاظ کی بندش سے اشعار میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاً۔
وحشت آباد عدم ہے وہ دیارِ خاموش کہ قدم رکھتے ہی ایک ایک سے بیگانہ بنے
حسن وہ حسن کبھی جس کی حقیقت نہ کھلے رنگ وہ رنگ جو ہر رنگ میں شامل ہو جائے
چشمِ نامحرم سے، غافل،روئے لیلیٰ ہے نہاں ورنہ اک دھوکا ہی دھوکا پردۂ محمل کا ہے
سیمابی کیفیت : یگانہؔ نے صرف اپنا تخلص ہی یاس سے یگانہؔ (1920-21 میں ) نہیں کیا بلکہ 1932ء تک پہنچتے پہنچتے، اس میں چنگیزی کا اضافہ بھی کر لیا۔ اس کے بارے میں خودلکھتے ہیں کہ”جس طرح چنگیز نے اپنی تلوار سے دنیا کا صفایا کر دیا تھا ،اسی طرح جب سے میں نے غالبؔ پرستوں کا صفایا کرنے کا تہیہ کیا ہے،یہ لقب اختیار کیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف تخلص تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریات و افکار میں بھی تبدیلی کی دلالت ہے۔ اہلِ لکھنؤ سے ان کے معرکہ نے انہیں اور خود سر اور پر اعتماد بنا دیا۔ انہیں معرکوں کے باعث ان کے لہجے میں تیزی آئی۔ یہاں یگانہؔ کے کلام سے کچھ ایسے شعر دیکھتے چلیں، جن سے ان کے لہجے کا انوکھا پن ہی نہیں بلکہ تیکھا پن بھی سامنے آجائے توشاید کوئی مضائقہ نہ ہو۔
کون دیتا ہے ساتھ مردوں کا حوصلہ ہے تو باندھ ٹانگ سے ٹانگ
موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی لے دعا کرچکے اب ترک دعا کرتے ہیں
مندرجہ بالا اشعار یگانہؔ کی یگانہ روی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ زبان و بیان کے اعتبار سے ان کا کلام ان کے کسی ہم عصر سے کم تر نہیں ہے۔ روزمرہ محاوروں کا استعمال، طرزِ ادا، کلام میں روانی اور بے ساختگی یگانہؔ کی خاص پہچان بن گئے تھے۔
رباعی :یگانہ ؔنے اپنی رباعیوں میں بھی ایک طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دیگر شعرا سے ان کا رنگ الگ رہے۔ اس فراق میں انہوں نے ایسی بندشیں اور محاورے استعمال کیے جو منجھے ہوئے نہیں تھے یا جن پر زبان کی صفائی نے ابھی تک جلا نہیں کی تھی۔ لیکن یہ بات طئے ہے کہ یگانہؔ کو رباعی کے فن پر کامل عبور تھا۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ رباعی کے چوتھے مصرعے میں خیال کی تان ٹوٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعیاں ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ انہوں نے غالبؔ کے کلام پر بھی رباعی میں اظہار خیال کیا تھا۔ یگانہؔ کی رباعیوں کے مجموعے کا نام ’’ ترانہ ‘‘ ہے، جسے کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی رباعیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تمام تر رباعیوں کو عنوان دے کر رقم کیا ہے۔ مثلاً
دل کو پہلے ٹٹول لیتا ہوں پھر تحفۂ درد مول لیتا ہوں
آثارِ زلال و درد و مستی و خمار آنکھوں آنکھوں میں تول لیتا ہوں میں
حسن دو روزہ
سورج کو گہن میں نہیں دیکھا شاید کیوں، چاند کو گہن میں نہیں دیکھا شاید
اے حسن دو روزہ پہ اکڑنے والو یوسف کو کفن میں نہیں دیکھا شاید
غالب شکنی :یگانہؔ نے غالبؔ شکنی کے باعث بڑی بدنامی مول لی لیکن یہ بدنامی ایسے ہی نہیں تھی بلکہ انہوں نے بہت سی رباعیاں اس سلسلے میں کہی تھیں۔ ان کی اس رنگ کی بھی چند رباعیاں پیش ہیں تاکہ حقیقت کا اندازہ کیا جاسکے ۔
غالبؔ کے سوا کوئی بشر ہے کہ نہیں اوروں کے بھی حصے میں ہنر ہے کہ نہیں
مردہ بھیڑوں کو پوجتا ہے ناداں زندہ شیروں کی کچھ خبر ہے کہ نہیں
یہیں پہ ختم ہو جاتی ہیں بحثیں کفر و ایماں کی نقاب اس نے الٹ کر یہ حقیقت ہم پہ عریاں کی
روانی رنگ لائی دیدۂ خوں نا بہ افشاں کی اتر آئی ہے اک تصویر دامن پر گلستاں کی
حقیقت کھول دیتا میں جنوں کے راز پنہاں کی قسم دے دی ہے لیکن قیس نے چاک گریباں کی
مری اک بیخودی میں سینکڑوں ہوش و خرد گم ہیں یہاں کے ذرّہ ذرّہ میں ہے وسعت اک بیاباں کی
مجھی سے بگڑے رہتے ہیں مجھی پر ہے عتاب ان کا ادائیں چھپ نہیں سکتیں نوازشہائے پنہاں کی
اسیران بلا نے آہ، کچھ اس درد سے کھینچی نگہباں چیخ اٹّھے، ہل گئی دیوار زنداں کی
نگاہ یاس و آہ عاشقاں و نالۂ بلبل معاذاللہ کتنی صورتیں ہیں انکے پیکاں کی
اسیران بلا کی حسرتوں کو آہ کیا کہیئے ٹرپ کے ساتھ اونچی ہو گئی دیوار زنداں کی




