Complete Urdu Notes

Click on the Heading panel to open and close it.
اسے کھولنے اور بند کرنے کے لیے ہیڈنگ پینل پر کلک کریں۔

فونیمیات کسی مخصوص زبان کے صوتی نظام کے مطالعہ کا نام ہے۔ کسی زبان کا رسم الخط وضع کرنے یا حروف تہجی کو ترتیب دینے کے لئے فونیمایت کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔ تکلم میں قطعاتی اصوات یعنی مصوتوں اور مصمتوں کے علاوہ فوق قطع اصوات مثلاً سّر ، تاکید ، اِتصّال وغیرہ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مصوتوں میں تخفیف اور طوالت بھی پائی جاتی ہے۔ تکلم کی ان تمام خصوصیات کو بیان کرنے کے لئے فونیمیاتی تکنیک اور اصولوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
فونیمیات کا مقصد کسی زبان کے صوتی نظام کی نشان دہی کرتا ہے یعنی کسی زبان میں استعمال ہونے والی اصواتکی ساخت کا تعین ہی فونیمیات کا مقصد ہے۔ امتیازی اصوات سے مراد ان اصوات سے ہے جن کا فرق لفظ کے معنی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً اردو میں ’’ک‘‘ اور ’’ق‘‘ امتیازی اصوات ہیں۔ ان امتیازی اصوات کو صوتیہ کہا جاتا ہے۔ فونیمیاتی تحریر میں ہر فونیم یا صوتیہ کو ترچھی لکیروں / / میں لکھا جاتا ہے ۔
فونیمیات کی بنیاد صوتی اکائی کے تصور پر رکھی گئی ہے جسے صوتیہ یا فونیم کہتے ہیں۔ ہم جب بولتے ہیں تو ہمارے منھ سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ مختلف آوازوں کے سلسلے ہوتے ہیں جن میں ایک آواز اپنے آگے پیچھے آنے والی آوازوں سے متاثر ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر ذیل کے فقروں کو بول کر دیکھیے۔
   سات دن      آج شام      ایک گھر      کب تک
ان میں پہلے فقرے میں’’ت‘‘ دوسرے میں’’ج‘‘ تیسرے میں’’ک‘‘ اور چوتھے میں’’ب‘‘ اپنے بعد آنے والی آوازوں سے علی الترتیب متاثر ہو ’’د‘‘،’’ش‘‘،’’گ‘‘ اور’’ت‘‘ سنائی دیں گی۔ رسم الخط کے دھوکے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اسی طرح بول رہے ہیں جیسے یہ اوپر لکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح ہر ایک زبان میں سیاق و سباق کی آوازوں کے اثر سے آوازوں کی تعداد بے شمار ہو جاتی ہے لیکن ہر زبان ان بے شمار آوازوں میں سے صرف ایسی آوازوں کو اپنا لیتی ہے جو ممیز) ( Distinct ہوتی ہیں اور جنہیں اصطلاح میں صوتیے یا فونیم کہتے ہیں۔ ان کے مطالعہ و تجزیے کے علم کو علم الصوتیہ یا فونیمیات کہتے ہیں۔ صوتیے ایسی اکائیاں ہہیں جن سے الفاظ کے معنی کے فرق کی وضاحت ہوتی ہے۔ جیسے پال، بال، تال، چال، کال، گال، لال، مال وغیرہ الفاظ میں’’ال‘‘ آوازیں مشترکہ ہیں مگر ہر ایک میں ابتدائی آواز بدلنے سے لفظ کے معنی میں فرق آ گیا۔ چنانچہ پ ب ت چ ج ک گ ل م ممیز آوازیں یعنی صوتیے ہیں۔ ایسی آوازیں جو صوتی اعتبار سے (Phonetically) تو مختلف ہوں مگر فونیمیاتی اعتبار سے (Phonemically) مختلف نہ ہوں یعنی ایک کی جگہ دوسری لانے سے معنی میں کوئی فرق نہ پڑتا ہو تو وہ ذیلی صوتیے یا ذیلی فانیح (Allophone) کہلاتی ہیں۔ اردو میں اس کی مثال گڈھا اور گڑھا الفاظ سے دی جا سکتی ہے۔ ذیلی صوتیوں کے الگ الگ محل وقوع کو اصطلاح میں تکملی بٹوارہ کہتے ہیں جس میں’’ڈ‘‘ اور’’ڑ‘‘ صوتی اعتبار سے الگ الگ آوازیں ہیں۔ مگر فونیمیاتی اعتبار سے ہم گڈھا کہیں یا گڑھا، معنی ایک ہی ہیں۔ کسی زبان میں کتنے صوتیے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے کتنے ذیلی صوتیے ہیں اور مختلف صوتیے زبان کے صوتیاتی نظام میں کس طرح سے اپنا کام Function) ( انجام دیتے ہیں، کن کن صوتیوں میں تقابل (Contrast) ہوتا ہے، کن کن میں آزادانہ تغیر (Free Variation) ہوتا ہے اور کون کون سے صوتیے ایک دوسرے کے تسلسل میں آ سکتے ہیں، ان سب کا مطالعہ و تجزیہ فونیمیات کی حدود میں آتا ہے۔ صوتیات اور فونیمیات دونوں شاخوں کو ملا کر اہم مجموعی اصطلاح فونولوجی Phonology) ( بنائی گئی ہے جس کے تحت زبان کے صوتی اور فونیمیاتی دونوں پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ صوتیات میں انسان کے منھ سے نکلنے والی تمام آوازوں کا عمومی مطالعہ کیا جاتا ہے اور فونیمیات میں کسی مخصوص زبان کی ممیز آوازوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اردو فونیمیات کسی بھی زبان کے رسم خط میں زیادہ تر حروف فونیم کی ہی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی فونیم کے لئے ایک سے زائد حروف بھی استعمال ہوتے ہیں ، جیسا کہ اردو میں ہم آواز حروف ہوتے ہیں جو ایک ہی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں جیسے ز، ض، ظ وغیرہ، فونیمیات میں ہم انہیں ’’ہم صوت حروف‘‘ کہتے ہیں۔ اردو کے مصوتی فونیم : مصوتہ دراصل ان آوازوں کو کہتے ہیں جن کی ادائیگی کے وقت دہن میں گزرتی ہوئی ہوا کے درمیان کوئی رکاوٹ درپیش نہیں آتی ہے۔ اردو میں ایسی آواز کی تعداد دس ہے۔یہ دس کی دس آوازیں اردو اور ہندی میں فونیم کا درجہ رکھتی ہیں۔ لیکن اردو اور ہندی میں ان دس بنیادی مصوتوں کے علاوہ ’’ذیلی مصوتے‘‘ بھی ملتے ہیں۔یہ ذیلی مصوتیں تین ہیں۔
علامت
ڈاکٹر گیان چند، ڈاکٹر سہیل بخاری اور ڈاکٹر سبزواری نے ایک اور ذیلی مصوتے کا ذکر بھی کیا ہے۔
مُحَبت اصل میں تو مَحَبت ("م" پر زبر) ہے لیکن اس کے ایسے روپ کا بھی تلفظ کیا جاتا ہے۔۔۔ مُحَبت ("م" پر پیش)۔
دو مصمتے : مصمتی آوازیں یا مصمتہ جن کا اردو میں روایتی نام ’’ حروفِ صحیح‘‘ بھی ہے۔یہ وہ آوازیں ہیں جن کی ادائیگی میں پھیپھڑوں سے آنے والی ہوا منہ میں مختلف مقامات پر یا تورُک جاتی ہے یا رگڑ کے ساتھ خارج ہوتی ہے مثلاً پ،ب،ج، د، گ،ر وغیرہ۔
ہر زبان کی طرح اردو کا بھی اپنا صوتی نظام ہے اردو اگرچہ ہند آریائی زبان ہے لیکن عربی وفارسی سے گہر ا اثر لینے کے باعث اس کا صوتی نظام دیگر ہند آریائی زبانوں سے مختلف ہے اس میں خالص ہند آریائی آوازیں بھی ہیں اور خالص عربی اور فارسی آوازیں بھی۔اردو کے تمام مصوتے پراکرت اور اس کے توسط سے سنسکرت سے ماخوذ ہیں جبکہ مصمتوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہند آریائی ماخذسے داخل ہوئی ہے خالص عربی وفارسی مصمتے اردو میں صرف6 ہیں۔ (ق۔ف۔ز۔ژ۔خ۔غ۔)۔ ان میں سے خالص فارسی(ژ) اور خالص عربی(ق) ہے اور باقی عربی فارسی مشترک ہیں۔اردو میں مصمتی فونیم کی کل تعداد 38 ہے۔ ان کی درجہ بندی میں چار بنیادی باتوں کو ملحوظ رکھا جاتاہے ۔
مقام تلفظ : الفاظ کی ادائیگی کے دوران وہ مقامات جہاں ’’تلفظ کار‘‘ باہر آتی ہوئی ہوا میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے اسے’ مقام تلفظ‘‘ کہا جاتا ہے۔لہٰذا مقام تلفظ ان جگہوں کی نشان دہی کرتے ہیں جہاں یہ رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔اردو مصمتوں کی ادائیگی میں کل 9 مقامات پر یہ رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں ۔ ان مقام تلفظ کی بنیاد پر ہی مصمتوں کو مندرجہ ذیل خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
ان کی تفصیل پچھلے صفحات پر گزر چکی ہے اور مزید وضاحت کے لئے آگے دی گئی ٹیبل کا مطالعہ کریں۔
طریقہ تلفظ : طریقہ تلفظ دراصل کسی مصمتے کی ادائیگی کے انداز کی نشاندہی کرتا ہے۔ مصمتوں کی طریقہ ادائیگی کو عام طور پر سات قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے
بندشی مصمتے : یہ وہ مصمتے ہیںجن کی ادائیگی میں باہر آتی ہوئی ہوا کسی مقام تلفظ پر لمحے بھر کوروکی جاتی ہے۔ اردو میں بندشی مصمتوں کی تعداد ہے ۲۱ ہے۔
ب،بھ،پ،پھ،ت،تھ،ٹ،ٹھ،ج، جھ، چ، چھ، د،، دھ، ڈ،ڈھ، ک،کھ،گ،گھ اور ق
انفی مصمتے : جن مصمتوں کی ادائیگی میں ہوا انفی جوف سے باہر نکلتی ہے انہیں انفی مصمتہ کہتے ہیں ۔ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ نرم تالو نیچے آ جانے کی وجہ سے منہ کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور ہوا ناک کے راستے باہر نکلتی ہے۔ ان کی تعداد 2 ہے۔ (ن۔م)
’م‘ کی ادائیگی میں دونوں ہونٹ آپس میں مل جاتے ہیں لہٰذا اسے ’دو لبی انفی مصمتہ‘ کہتے ہیں۔ ’ن‘ کی ادائیگی کے دوران زبان کی نوک مسوڑھے کے قریب ہو جاتی ہے اس لئے اسے ’لثائی انفی مصمتہ‘ کہتے ہیں۔
صفیری مصمتے اس طریقہ تلفظ میں ’تلفظ کار‘ ، ’مقام تلفظ‘ کے نہایت قریب آ جاتا ہے جس کی وجہ سے دہانہ تنگ ہو جاتا ہے اور مصمتوں کی ادائیگی کے دوران ہوا رگڑ کھاتی ہوئی نکلتی ہے۔ انہیں صفیری مصمتے کہتے ہیں ۔ ان کی تعداد 9 ہے۔ ف۔س۔و۔ز۔ش۔ژ۔خ۔غ۔ہ
پہلوئی مصمتہ : جب مصمتے کی ادائیگی میں زبان کی نوک کو اوپری مسوڑھے سے لگا کر ہوا نکالی جائے تو اسے پہلوئی مصمتہ کہتے ہیں۔اس کی مثال ’ل‘ ہے۔یہ مسموع ہوتا ہے۔
ارتعاشی مصمتے : اس طرح کے طریقہ تلفظ میں زبان کی نوک مسوڑھے کے قریب آ کر کپکپاتی ہے ۔ اس کی مثال ’ر‘ ہے یہ مسموع ہے۔
تھپک دار مصمتے : اگر کسی مصمتے کی ادائیگی میں ’تلفظ کار‘ مقام تلفظ پر ’دستک یا تھپکی‘ دے کر ہٹ جائے تو انھیں تھپک دار مصمتے کہا جاتاہے۔ان کی تعداد دو ہے ۔ (ر۔ڑ) یہ مسموع ہوتے ہیں۔

نیم مصوتہ : اگر کسی مصمتے کی ادائیگی کے دوران ’تلفظ کار‘ مقام تلفظ تک اس طرح جائے کہ باہر آتی ہوئی ہوا میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ پڑے تو اس آواز میں مصوتے جیسی کچھ خصوصیات آ جاتی ہیں۔ ان آوازوں میں مصوتوں اور مصمتوں دونوں کی خوبیاں پائی جاتی ہیں ۔ انہیں نیم مصمتے کہا جاتا ہے۔ اردو میں ’ی‘ اور ’و‘ اس کی مثال ہیں۔
ہکار یت : جن مصمتوں کی ادائیگی میں تنفس کی پھسپھساہٹ شامل ہوتی ہےوہ مصمتےہکارکہلاتے ہیں ۔انہیں روایتی قواعد میں (مخلوط بہا) کہا جاتا ہے، لیکن یہ مصمتے مخلوط نہیں بلکہ مفردہیں یعنی( بھ) ایک ہی آواز ہے۔ان میں (بھ۔پھ۔تھ۔دھ۔ڈھ۔ٹھ۔کھ۔گھ) ہکار بندشی مصمتے ہیں۔جبکہ ج۔جھ،چ۔چھ، نیم بندشی مصمتے ہیں۔ہکاری آوازیں مسموع اور غیر مسموع دونوں طرح کی ہوتی ہیں۔
رکن :ٓوازوں کے تجزیہ کےلئے رکن کو بطور اکائی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر ایک رکن کو مصوتوں اور مصمتوں میں بانٹ لیا جاتا ہے ۔ مصوتہ کسی بھی رکن کا مرکز ہوتا ہے۔ مصمتے منہ سے نکلنے والی ہوا کی یا تو ابتدا کرتے ہیں یا اختتام کرتے ہیں۔ مثلاً لفظ ’تال‘ کو لیجئے۔ یہ ایک رکن ہے۔ اس میں/ ’آ‘ /مصوتے کے ذریعہ ہوا باہر نکلتی ہے ، اس میں /ت/ مصمتہ پہلے ہوا کو روک کر چھوڑتا ہے ، اس لئے اسے ’نکاسی مصمتہ کہتے ہیں۔ اسی رکن کے آخر میں /ل/ مصوتہ ہے جو ہوا کو روکتا ہے اسے ضبطی مصمتہ کہتے ہیں۔ کسی رکن کے نکاسی مصمتے کو ’ابتدا‘ ضبطی مصمتے کو ’اختتامیہ‘ کہتے ہیں۔ یہاں /آ/’ منتہا‘ ہے۔
مسموع یا غیر مسموع : کسی آواز کی ادائیگی میں اگر صوت تانت میں ارتعاش ہوتا ہے تو وہ مصمتہ مسموع کہلاتا ہے۔ اس کے برخلاف جب کسی مصمتے کی ادائیگی کے دوران صوت تانت میں ارتعاش نہیں ہوتا ہے تو اسے غیر مسموع مصمتہ کہا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل چارٹ میں اس کی تمام تفصیل درج ہے۔
اردو مصمتے مقامِ ادائیگیPoints of Articulation) ( کے اعتبار سے
   م      :      مسموع،      غ م      :      غیر مسموع
   ہ      :      ہکاری،      غ ہ      :      غیر ہکاری

صرف(Morphology) اور (Syntax) نحولسانیات کی اہم شاخیں ہیں۔
صرف لفظ کی ساخت کا مطالعہ پیش کرتا ہے جبکہ نحو جملے کی ساخت کو موضوع بناتا ہے۔
علم صرف کی تعریف : ایسے اصول و ضوابط جن کے ذریعہ ایک کلمہ سے دوسرا کلمہ بنانے اور اس میں تبدیلی کرنے کاطریقہ معلوم کیا جاتا ہے علم صرف کہلاتا ہے۔علم صرف کوصرف کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا لغوی معنی پھیرناہے، اور اس علم میں چونکہ ایک کلمہ کو پھیر کر اس کی مختلف صورتیں بنانے کے طریقے بیان کیے جاتے ہیں اس لیے اس علم کو علم صرف کہتے ہیں۔علم صرف کا موضوع صیغہ(صیغہ : کلمہ کی اس شکل کو کہتے ہیں جو حروف اور حرکات و سکنات کی مخصوص ترتیب سے حاصل ہوتی ہے)کے اعتبارسےکلمہ ہے ۔اس علم کا مقصد صیغوں کوبنانے اوران میں تبدیلی کرنے میں ذہن کو غلطی سے بچاناہے۔
تصریف اور اشتقاق ،صرفی مطالعہ کے بنیادی اصول ہیں۔ یعنی الفاظ کا مارفیمی (Morphological Analysis) تجزیہ تصریفی (Inflectional) اور اشتقاقی (Derivational) اصولوں پر کیا جاتا ہے۔تصریفی عمل لفظوں کے اجزائے کلام (Parts of Speech) میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتا ہے۔ تصریفی عمل کے بعد بھی اسم، اسم ہی رہتا ہےاور صفت ، صفت ہی رہتی ہے۔ لیکن اسم میں تعداد، جنس اور حالات (Case) میں تبدیلی تصریفی عمل کی مثالیں ہیں۔ وضاحت کے لئے چند مثالیں ملاختہ ہوں۔

   مرغ      +      ا      -      مرغا      (اسم مذکر)
   مرغ      +      ی      -      مرغی      (اسم مونث)
   مرغ      +      یاں      -      مرغیاں      (اسم مونث جمع)
   مرغ      +      یوں      -      مرغیوں      (اسم مونث جمع حالات)

درج بالا امثال اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کسی لفظ کو (درج بالا مثال میں ’مرغ‘) لاحقوں کی مدد سے مذکر سے مونث یا واحد سے جمع بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ لاحقے لفظ کے اجزائے کلام میں کوئی تدبیلی پیدا نہیں کرتے ہیں اس لئے انہیں صرفی لاحقہ کہا جائے گا۔
اشتقاقی عمل ، تصریفی عمل کے برعکس ، الفاظ کے اجزائے کلام میںتبدیلی کر دیتے ہیں یعنی اسم کو صفت میں یا صفت کو اسم میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے عمل اشتقاق یا اشتقاقیات ہی لفظ سازی کا سب سے موثر ذریعہ ہیں۔نئے الفاظ وضع کرنے میں سابقوں اور لاحقوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ سابقے اور لاحقے بالعموم پابند روپ ہوتے ہیں لیکن بعض لاحقے آزادانہ بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ سابقوں، لاحقوں اور وسطیوں کی بنیاد پر اشتقاقی عمل کو مندرجہ ذیل قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

   اشتقاقی سابقے      اشتقاقی وسطیے      اشتقاقی لاحقے
   اشتقاقی مبادلہ      اشتقاقی تکرار      مقلوب اشتقاقی      مرکّب

اشتقاقی سابقے : ’سابقے ‘ الفاظ کے وہ روپ ہیں جو اصل لفظ کی ابتدا میں ملحق کر دئے جاتے ہیں۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
   لا      +      فانی      -      لافانی غیر      +      مطلوب      -      غیر مطلوب
   نا      +      مناسب      -      نامناسب

اشتقاقی لاحقے : /ی/، /ش/ اور /و/ ایسے لاحقے ہیں جن الفاظ کے اجزائے کلام میں تبدیلی ہو جاتی ہے مثلاً لفظ ’گول‘ ایک صفت ہے جس میں /ی/ لاحقہ جوڑ دینے سے ’گولی‘ بن جاتا ہے جو کہ اسم ہے۔ ایسی ہی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں۔
مندرجہ بالا لاحقے ، پابند اشتقاقی لاحقوں کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ارو زبان میں آزاد اشتقاقی لاحقوں کا استعمال بھی کثرت سے کیا جاتا ہے ۔ مثالیں ملاخطہ ہوں۔

   آزاد اشتقاقی لاحقہ      اصل لفظ      مشتق لفظ
   پسند             شدت       شدت پسند
   بازی             چاقو       چاقو بازی
   کن             برباد       برباد کن
   گرد             دہشت       دہشت گرد
   ساز             جعل       جعل ساز

اشتقاقی مبادلے : کسی لفظ میں مصوتوں کی تبدیلی کے ذریعہ بھی نئے الفاظ وضع کئے جاتے ہیں جیسے ۔

   لفظ        تبدیلی      مشتق لفظ
   مقام      ’آ ‘کی جگہ ’ای‘      مقیم
   خوف      ’او‘ کی جگہ ’آ‘      خائف
   مفید      ’ای‘ کی جگہ ’آ‘      مفاد

مقلوب اشتقاقی : جب کبھی الفاظ میں کسی جز کو حذف کر دیا جاتا ہے تواس عمل کو مقلوب اشتقاقی کہا جاتا ہے۔ اس امثال ہمیں اخبارات کی سرخیوں میں عام طور پر دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔اس کی وجوہات میں اختصار پسندی اور کلام میں تاثیر پیدا کرنے کی خواہش خصوصی ہیں۔ مثلاً

   صدر جمہوریہ ہند      صدر
   پانی کی بجلی      پن بجلی
   پانی کا گھاٹ      پن گھٹ

لفظی تکرار یا اشتقاقی تکرار : جب کسی لفظ کو مکرر استعمال کیا جائے اور اس استعمال کی وجہ سے کے معنی و مطلب میں کچھ تغیر آ جائے تو اسے لفظی تکرار کا اشتقاقی عمل کہتے ہیں۔ مثلاً پانی سے پانی پانی ہونا، تھکنا سے تھک تھکا جانا، تنہا تنہا، صف بہ صف، در در، در بہ در ، مر مر کر، کھل کھلا کر، وغیرہ
تراکیب لفظی : جب دو الفاظ کی ترکیب کے ذریعہ کوئی نیا مرکب لفظ تشکیل دیا جائے تو اسے تراکیب لفظی کہتے ہیں۔ اردو زبان میں یہ عمل بہت عام ہے۔ اردو میں ترکیب لفظی کی بہت سی صورتیں پائی جاتی ہیں جن کی تقسیم درج ذیل ہے۔
(الف) دو الفاظ جمع کرکے :یہ ترکیب لفظی کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ اس میں دو الفاظ کو باہم یکجا کرے ایک ترکیب وضع کر لی جاتی ہے۔ مثلاً زندہ دل اقوام، درد ناک حادثہ، اقوام متحدہ، عوامی بیداری وغیرہ
(ب) مرکب عطفی : دو الفاظ کے درمیان ’’وائو‘‘ عطفی کے استعمال سے وضع کردہ الفاظ مرکب عطفی کہلاتے ہیں۔ مثالیں ملاخطہ ہوں ۔
نرم و نازک، تیر و نشتر، خواب و خیال، روز و شب، لیل و نہار وغیرہ
(ج) مرکب اضافی : دو الفاظ کے دوران اضافت زیر کے ذریعہ انہیں یکجا کیا جاتا ہے مثلاً دردِ دل، اظہارِ خیال، دیدار ِ یار، تعمیر نو وغیرہ
(د) ترکیب بالہمزہ : مرکب الفاظ کا پہلا لفظ اگر ہائے مختفی پر ختم ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ہمزہ کا استعمال کرکے ترکیب وضع کی جاتی ہے مثلاً ملکہ ترنم، واقعہ کربلا، نغمہ شیریں وغیرہ
(ہ) یائے مہموز : مرکب الفاظ کا پہلا لفظ اگر’ا‘ یا ’و‘ پر ختم ہوتا ہے تو یائے مہموز کی مدد سے انہیں یکجا کیا جاتا ہے مثلاً بوئے گل، صدائے دل، سزائے موت، سوئے وطن وغیرہ
(و) مخلوط تراکیب : جب کسی ترکیب میں ایک لفظ اردو زبان کا اور دوسرا لفظ کسی دوسری زبان کا ہو تو اسے مخلوط اشتقاقی ترکیب کہتے ہیں۔ مثلاً عوامی کمپارٹمنٹ، خواتین رزرویشن، تولیدی تکنالوجی وغیرہ

تمام زبانوں کے کچھ اصول اور ضوابط ہوتے ہیں جنہیں قواعد کہا جاتا ہے۔ لسانیاتی نقطہ نظر سے قواعد کی دو شاخیں ہوتی ہیںجن میں ایک مارفیمیات یعنی صرف (Morphology) اور دوسری نحو (Syntax)کہلاتی ہے۔ صرف جہاں الفاظ کی ساخت کا مطالعہ پیش کرتا ہے وہیں نحو جملے میں الفاظ کی ترتیب کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔ نحوی مطالعے میں چوں کہ لفظوں کی ترتیب کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے لہٰذا نحو میں مشمول یا جملوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ کسی بھی جملے میں الفاظ کے اپنے موزوں مقام پر واقع ہونے کو ہی ترتیب کہا جاتا ہے۔ زبان لکھتے وقت جملے کی قواعدی صحت کے لئے ترتیب الفاظ کا موزوں ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اردو زبان کے جملوں کی کچھ خصوصیات درج ذیل ہیں۔
اردو نثر میں عموماً ہر جملہ فاعل سے شروع ہوتا ہے اور فعل پر ختم ہوتا ہے۔
اردو میں ضمائر پابند اور آزاد دونوں ہیتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ فاعلی حالت میں تقریباً ہر ضمیر اپنی آزاد ہیت میں استعمال ہوتا ہے نیز یہ کہ ضمیر کے بعد حرف جار آ جانے سے اس کی ہیت میں تبدیلی ہو جاتی ہے جسےضمیر کی تصریفی ہیت کہتے ہیں۔
کسی اسمی ترکیب میں ہندی صفت ہمیشہ اسم سے پہلے آتی ہے۔
عربی یا فارسی صفت اسم سے قبل یا اس کے بعد بھی آ سکتی ہے۔
حروف جار عموماً اسم کے بعد آتے ہیں۔
نحوی اعتبار سے اردو جملے میں عموماً مبتدا پہلے آتا ہے جس کی وجہ سے اس کی جانب توجہ قائم رہتی ہے۔
مشمول : مشمول دراصل وہ مارفیم، لفظ یا ترکیب ہے جو کسی بڑی ترکیب کا جزو ہوتا ہےجبکہ اس بڑی ترکیب کو شمول کار کہتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک جملہ ملاختہ ہو۔ جملہ - ’’میں نے کب کہا ؟ ‘‘ ایک شمول کار ہے جس میں ’’میں نے‘‘ اور ’’کب کہا ؟‘‘ دو مشمول ہیں۔

جملہ :لسانیات میں جملے کا تصور قواعدی جملے سے مختلف ہے۔ لسانیاتی نقطہ نظر سے جملہ وہ قواعدی روپ ہے جو کسی قواعدی ترکیب میں مشمول نہیں ہے۔ لسانیات میں ایک اصطلاح اور ہے جسے کلام کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک سلسلہ یا سُر میں جتنی بات بول دی جائے وہ ہے۔اکثر یہ ایک جملے پر ہی محیط ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی ایک سے زائد جملے بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں مثال کے طور پر - شام ہو گئی ہے اب تم آ جائو۔ روایتی قواعد کے اعتبار سے یہ دو جملے ہو سکتے ہیں یعنی شام ہو گئی ہے۔ اور اب تم آ جائو۔ مگر لسانیات کے مطابق یہ ایک ’’کلام‘‘ ہے۔

معنیات لسانیات کا ایک اہم شعبہ ہے۔ معنیات کے تحت سب سے چھوٹی ایکائی لفظ ہے۔ یعنی معنیات لفظ کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔ کسی بھی جملے میں لفظ ’خاص‘ اور ’امدادی‘ طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ خاص الفاظ لغوی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں جبکہ امدادی الفاظ نحوی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جملہ دیکھئے ۔ ’’سائیکل چھت پر ہے۔ ‘‘ اس جملے میں ’سائیکل‘ اور ’چھت ’ خاص الفاظ ہیں جبکہ ’پر‘ امدادی لفظ ہے۔ خاص الفاظ کے معنی کو کلام کے سیاق و سباق کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سیاق الفاظ کے مختلف معنی متعین کرتا ہے۔
کسی بھی لفظ کے دو رخ ہوتے ہیں ایک اس کا خارجی رخ جو لفظ کی صوتی شکل ہے جبکہ دوسرا رخ داخلی ہوتا ہے جسے ’’مرموز‘‘ کہتے ہیں۔ کسی بھی لفظ کی معنوی حدود قطعی نہیں ہوتی ہیں ۔ کوئی بھی لفظ اپنے روایتی معنی میں کچھ اور ہوتا ہے لیکن سیاق کی بنیاد پر اس کے بہت سارے مطالب پیدا کئے جا سکتے ہیں۔مثلاً لفظ ’’موت‘‘ کے روایتی معنی ہیں کسی کا انتقال ہونا مگرجملے میں اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں دیکھئے۔

   *- رک جانا موت کی علامت ہے۔
   *- یہ پارٹی کی سیاسی موت ہے۔

لفظ اور معنی کے اس رشتے کے مبہم ہونے کی ایک وجہ ترادف (Synonymy) بھی ہے۔
مترادفات :ہم معنی الفاظ کو مترادفات کہا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں کوئی بھی دو لفظ معنوی اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کے معنی کا انحصار سیاق پر ہوتا ہے۔ یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی لفظ کا مفہوم بالکل متعین اور قطعی نہیں ہوتا ہے اور اس میں ابہام کا دخل ہوتا ہے۔
مترادفات کو دو خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
حقیقی مترادفات
ذیلی مترادفات
حقیقی مترادفات معنوی اعتبار سے تقریباً یکساں ہوتے ہیں۔ جبکہ ذیلی مترادفات ذیلی مفہوم کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مثلاً قمر اور ہلال کی معنوی یکسانیت ذیلی مترادفات کے ضمرے میں آتی ہے۔ کیونکہ قمر کا مطلب جہاں چاند ہے وہیں ہلال نوزائد چاند کو کہتے ہیں۔ اسی لئے یہ دونوں حقیقی مترادف نہ ہوکر ذیلی مترادف کہے جائیں گے۔

کثیر معنویت : بقول ماہر لسانیات کسی لفظ کے معنی کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔
مرکزی معنی
اطلاقی معنی
جذباتی معنی
حقیقی تضاد : متضاد الفاظ کے ایسے جوڑے جو حتمی متضاد صورتوں کی عکاسی کرتے ہیں حقیقی متضاد کہلاتے ہیں۔ مثلاً
مرنا اور جینا
رات اور دن
درجاتی متضاد :ایسے متضاد الفاظ جو ایک دوسرے کے حتمی متضاد نہ ہو کر درجاتی فرق کو ظاہر کرتے ہیں جیسے سرد و گرم، لمبا اور ناٹا وغیرہ
پراگمیٹس : ماحول ، حوالے، محل وقوع کی تبدیلیاں الفاظ کے متعین معنی و مفہوم میں تغیرات پیدا کر دیتی ہیں۔ ان تغیرات کا مطالعہ پراگمیٹس کے تحت کیا جاتا ہے۔

ادب کسی بھی انسان کے لیے اپنے احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کی عکاسی کا نام ہے کوئی بھی انسان ہو وہ ہر وقت کسی نہ کسی چیز یعنی قدرت کی تخلیق کردہ اشیا کے مشاہدے میں یا اپنی ایجادات اور تخلیقات میں مصروف رہتا ہے اور سوچ میں گم رہتا ہے ہر انسان اپنے نظریے سے سوچتا ہے لیکن حساس لوگوںکا مشاہدہ بہت ہی گہرا ہوتا ہے ۔ادب کا تعلق بھی حساس لوگوں کے ساتھ زیادہ ہے لیکن اِن مشاہدات و خیالات اور تجربات کے اظہار کرنے کا طریقہ سب کا الگ الگ ہے۔ کچھ لوگ اس کو عام باتوں کی طرح سے یعنی گفتگو سے ظاہر کرتے ہیں، کچھ لوگ مختلف فنون جیسے مجسمہ سازی، سنگ تراشی، نقش نگاری اور فنِ مصوری کے ذریعے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہیں، کچھ لوگ اس کو لکھ کر یعنی نثر کی صورت میں بیان کرتے ہیں جن کو مضمون، ناول نگاری، افسانوں اور کہانیوں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور کچھ لوگوں کے خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری (نظم)ہوتا ہے۔
اردو ادب کی اصناف (نثر اور نظم) :دنیا کی تمام زبانوں کے ادب کو موٹے طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
نثر      نظم

نثر :غیر مقفیٰ(جس میں قافیہ نہ ہو) اور غیر مردف(جس میں ردیف نہ ہو) تحریر کو نثر کہا جاتا ہے۔ادبی اصطلاح میں کلام غیر موزوں کو نثر کہا جاتا ہے۔نثر کی مشہور اصناف داستان ، ناول ، افسانہ،مختصرافسانہ،کہانی،تمثیل،مضمون،انشائیہ،خاکہ،خط،درخواست وغیرہ ہیں۔
نظم/شاعری :مقفیٰ ،مردف اور اوزان کی پابندی والی تحریر کو نظم کہا جاتا ہے۔ادبی اصطلاح میں کلام موزوں کو نظم کہا جاتا ہے۔نظم کی اصناف میں خود نظم اور اس کی مختلف شکلیں، غزل،قصیدہ،مرثیہ ،مثنوی ،رباعی،گیت وغیرہ شامل ہیں۔

فن اور ارتقا : قصیدہ نگاری کی ابتداء عربی زبان میں ہوئی ۔ اہل عرب عکاظ کے میلہ میں جمع ہوتے اور اپنے لکھے ہوئے قصائد سناتے ۔ ان قصیدوں میں سے 7 قصائد کو چن کر کعبہ شریف کی دیوار پر چسپاں کیا جاتا تھا ۔ اقوام عالم کی زبانوں میں عربی کو فصیح اور بلیغ زبان تصور کیا جاتا ہے ۔ اسی لئے آخری صحیفۂ آسمانی بھی اسی زبان میں اتارا گیا ۔ عرب شعراء بڑے قادرالکلام ہوا کرتے تھے ۔ وہ گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر دس ، بیس میل کی مسافت طے کرتے اور اسی دوران قصیدہ کے اشعار مکمل کرلیتے تھے ۔ عرب خود کو بولنے والا اور دیگر تمام ممالک کو عجمی یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ جب عکاظ کے میدان میں لوگ قصیدے لکھ کے لاتے اور چیدہ قصیدوں کو کعبہ کی دیوار پر لٹکادیا جاتا تھا جس کا مقصد یہی تھاکہ اس سے بہتر کلام پیش کرنے کی صلاحیت والوں کو چیلنج کیا جائے ۔
عربی سے قصیدہ کی صنف فارسی میں اور فارسی سے اردو ادب میں مقبول ہوئی ۔ قصیدہ عربی کے لفظ قصد سے مشتق ہے ۔ قصد کے معنی ارادہ کے ہیں اور قصیدہ بالارادہ لکھی جانے والی شاعری ہے ۔ قصیدہ ایسی صنف سخن کو کہا جاتا ہے جو کسی کی تعریف میں بالارادہ لکھی جائے ۔ اگر تعریف میں قصیدہ لکھا جاتا ہے تو وہ مدحیہ قصیدہ کہلاتا ہے اور اگر مذمت میں لکھا جائے تو ہجویہ قصیدہ کہلاتا ہے ۔ قصیدہ میں پرشکوہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے اور عام طور پر الفاظ معرب اور مفرس استعمال کئے جاتے ہیں ۔ مبالغہ قصیدہ کا لازمی جزو قرار دیا جاتا ہے ۔ غالب نے بہادر شاہ ظفر کی مدح میں قصیدہ لکھا تھا جس سے مبالغہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔
اردو ادب میں قصیدہ فارسی سے داخل ہوئے۔ اردو میں میرزا رفیع سودا اور ابراہیم ذوق جیسے شعرا نے قصیدے کی صنف کو اعلی مقام تک پہنچایا۔ قصیدہ ہیئت کے اعتبار سے غزل سے ملتا ہے بحر شروع سے آخر تک ایک ہی ہوتی ہے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور باقی اشعار کے آخری مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ مگر قصیدے میں ردیف لازمی نہیں ہے۔ قصیدے کا آغاز مطلع سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات درمیان میں بھی مطلعے لائے جاتے ہیں ایک قصیدے میں اشعار کی تعداد کم سے کم پانچ ہے زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں۔ اُردو اور فارسی میں کئی کئی سو اشعار کے قصیدے بھی ملتے ہیں۔

قصیدے کے موضوعات :مدح و ستائش (تعریف)اور ہجو(برائی) قصیدے کے خاص موضوعات ہیں۔ مناظرِ قدرت، مذہبی خیالات، معاشی بدحالی، سیاسی انتشار، وغیرہ بھی قصیدہ میں نظم کئے جا سکتے ہیں۔قصیدہ میں جس کی تعریف کی جائے اسے ممدوح کہتے ہیں۔
قصیدے کے اجزائے ترکیبی ـ :قصیدے کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں۔
تشبیب :تشبیب لفظ شباب سے نکلا ہے عام طور پر قصائد میں بہاریہ تشبیب یا پھر چاند اور چاندنی رات کی تشبیب باندھی گئی ہے ۔قصیدے کا پہلا حصہ تشبیب کہلاتا ہے۔ اس میں شاعر عشق و عاشقی کی باتیں، شباب و جوانی کے قصے اور فضا کی رنگینی کا حال بیان کرتا ہے۔یہ تمہید کے طور پر لکھے گئے اشعار ہوتے ہیں ان کا مدح سے کوئی تعلّق نہیں ہوتا ہے۔اس میں مختلف موضوعات جیسے بہار، موسم، اپنے فن کی تعریف، حمد ، نعت یا اپنے عہد کے کسی شاعر کا مذاق وغیرہ نظم کئے جاتے ہیں۔
گریز : تشبیب کے بعد قصیدے میں گریز کی منزل آتی ہے گریز کی یہ خوبی قرار دی گئی ہے کہ تشبیب کے بعد ممدوح کا ذکر نہایت ہی فطری اور موزوں طریقے سے کیا جائے یعنی بیان میں ایک فطری مناسبت، تسلسل اور ربط قائم رہے۔تشبیب اور مدح میں تعلّق پیدا کرنے کے لئے گریز میںایک یا ایک سے زائد اشعار کہے جاتے ہیں۔ان اشعار میں بے ساختگی اور برجستگی ہوتی ہے تاکہ یہ لگے کہ باتوں باتوں میں ممدوح کا ذکر آ گیا ہے۔سودا نے حکیم میر محمد کاظم کے قصیدہ میں تشبیب میں فنِ طبابت کا ذکر کرکے گریز میں یوں کہا۔
قاعدہ یوں ہے پھر آگے ہے شفا اس کے ہاتھ      جس کے ہے قبضۂ قدرت میں علاجِ عالم
سو تو ان باتوں میں ہے، خوش طبیبوں میں ہے      ا س ز مانے میں بجز میر محمد کاظم
اس کے بعدمدح شروع کرتے ہیں۔ مدح : قصیدے کا سب سے ضروری جز مدح سرائی ہے۔ اور اسی پر قصیدے کی بنیا د ہوتی ہے۔ عربی قصائد میں مدح حقیقت اور واقعیت سے بھر پور ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک عرب شاعر کو کسی نے اپنی مدح پر مجبور کیا تو اس نے جواب دیا کہ ” تم کچھ کرکے دکھائو تو میں تمہاری مدح کروں۔“ مگر فارسی اور اردو میں مدح کا معیار خیال آفرینی اور مبالغہ ہوتا ہے۔ یہاں ممدوح کی ذات میں مثالی خصوصیات فرض کرکے بیان کی جاتی ہیں۔ قصیدوں میں مدح کا حصہ اکثر تکرار مضامین کی وجہ سے بے لطف ہو جاتا ہے۔
دعا یا حسنِ طلب : قصیدے کا آخری حصہ دُعائیہ ہوتا ہے اس میں ممدوح کو بلند اقبال اور درازی عمر کی دعا دی جاتی ہے۔ بعض اوقات شاعر اپنی اچھی یا بری حالت ظاہر کرتا ہے۔ دعا کے ذریعے قصیدہ گو اپنا صلا بھی طلب کرتا ہے۔ دعا قصیدے میں نازک مقام ہے اور قصیدے کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر دعا پر ہی ہوتا ہے اور قصیدے کے مقطع میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے۔ ذوقؔ کے سارے قصایٔد اکبر شاہ ثانی اوربہادر شاہ ظفر کی مدح میں لکھے گئےہیں۔
قصیدہ کی اقسام(ہیت کے اعتبار سے) :قصیدے کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
تمہیدیہ      خطابیہ
تمہیدیہ :ایسا قصیدہ جس میں ممدوح کی تعریف سے پہلے تمہید کے طور پر تشبیب اور گریز ہو وہ تمہیدیہ قصیدہ کہلاتا ہے ۔
خطابیہ :ایسے قصیدے جن میں تشبیب اور گریز نہیں ہوتے بلکہ قصیدہ کا آغاز ہی ممدوح کی تعریف سے شروع ہوتا ہے وہ خطابیہ قصیدہ کہلاتا ہے ۔
قصیدہ کی اقسام(مضامین کے اعتبار سے) :قصیدوں کو مضمون کے اعتبار سے چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔
مدحیہ      ہجویہ      وعظیہ      بیانیہ
مدحیہ قصیدہ :ایسا قصیدہ جس میں کسی کی مدح یا تعریف بیان کی گئی ہو مدحیہ قصیدہ کہلاتا ہے۔
ہجویہ قصیدہ : ایسا قصیدہ جس میں کسی شخص یا مصائب زمانہ کی برائی بیان کی گئی ہو ۔
وعظیہ قصیدہ :جس قصیدے میں پندو نصیحت کے مضامین بیان کئے جائیں اسے وعظیہ قصیدہ کہتے ہیں۔
بیانیہ قصیدہ : جس قصیدے میں مختلف النوع کیفیات کے مضامین پیش کیے جائیں وہ بیانیہ قصیدہ کہلاتا ہے۔
قصیدہ کی اقسام(ردیف کے اعتبار سے) :قصیدوں کو ان کی ردیف کے مطابق بھی نام دئے جاتے ہیںمثلاً قصیدہ ۔ اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستاں سے عمل (قصیدہ لامیہ) اسے قصیدہ لامیہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں لام (ل) کی ردیف ہے اسی طرح سے قصیدہ میمیہ،قصیدہ کافیہ وغیرہ بھی نام دئے جاتے ہیں۔
اردو شاعری میں سوداؔؔ کو قصیدہ گوئی میں اولیت کا شرف حاصل ہے ۔ قصیدہ میں ان کے مدحیہ قصائد اور ہجویہ قصائد اہمیت کے حامل ہیں۔ مصحفیؔ نے سوداؔ کو ’’قصیدہ کا نقاش اول، زبان کا حاکم اور ہجو کا بادشاہ‘‘ بتایا ہے اور محمد حسین آزاد نے ان کی قصیدہ گوئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے ’’اول قصائد کا کہنا پھر اس دھوم دھام سے اعلی درجے اور فصاحت پر پہونچانا ان کا پہلا فخر ہے ۔ وہ اس میدان میں فارسی کے نامی شہہ سواروں کے ساتھ عنان در عنان ہی نہیں بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے ہیں ۔ ان کے کلام کا زور و شور انوری و خاقانی کو دباتا ہے اور نزاکت مضمون میں عرفی و ظہوری کو شرماتا ہے‘‘ ۔سودا نے قصیدہ کو اجزائے ترکیبی سے وابستہ کیا ۔ اگر شاعری میں کسی کی شخصیت پر لعن طعن کی بات ہو تو ایسے قصیدہ کو ہجویہ قصیدہ کہتے ہیں ۔ ہجویہ قصیدہ کے ساتھ ہی سودا کے ملازم خاص غنچہ کا تصور ذہن میں آجاتا ہے جو ہمیشہ سودا کے ساتھ قلم دان لئے پھرتا تھا ۔ اگر سودا کسی سے خفا ہوجاتے چاہے وہ کتنا ہی صاحب ثروت و ذی اثر آدمی کیوں نہ ہو ۔ کچھ ہی دیر میں سودا اس کے تعلق سے ہجو لکھ دیتے تھے اور چند ہی گھنٹوں میں اس ہجو کی سارے شہر میں گشت ہونے لگتی تھی ۔
جاگیردارانہ نظام میں بادشاہ کی حیثیت ایک درخت جیسی تھی اور اس کے نواب ، جاگیردار وغیرہ اس کی شاخیں تھیں ۔ جب یہ درخت ہی اکھڑ گیا تو سارا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ جب ممدوح نہ رہے تو مدح کس کی کی جائے گی ۔ اس طرح صنف قصیدہ روبہ زوال ہوئی لیکن ہمارے ادب کا یہ قیمتی اثاثہ ہے ۔قصیدہ گوئی میں سودا کے بعد جو اہم نام سامنے آتے ہیں ان میں غالب اور ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ دور حاضر میں ہجویہ قصائد میں صدق جائسی نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے ۔

مرزا محمد رفیع سودا میر کے عہد کے دوسرے بڑے شاعر سودا (۱۷۱۲ء ۔ ۱۷۸۱ء)ہیں۔ پورا نام مرزا محمد رفیع تھا اور والد محمد شفیع ، دہلی کے ایک سوداگر تھے۔ بے فکر ی مزاج میں تھی اس لئے والد کے انتقال کے بعد پہلے تو جو اساسہ وہ چھوڑ کر گئے تھے اسے برابر کیا پھر فوج میں ملازم ہوگئے کیونکہ سوداگری مزاج میں نہ تھی۔ مگر اسے بھی مزاج کے خلاف پایا تو ترک کرکے مصاحبت کو ہیشہ بنایا ۔ کہا جاتا ہے کہ والد کے سوداگری کے پیشے کی نسبت سے ہی تخلص سوداؔ اختیار کیا۔
سودا پہلے محمد شاہ کے خواجہ سرا بسنت علی خاں کے ملازم ہوئے، پھر صیف الدولہ احمد علی خاں ،پھر نواب غازی الدین خاں عماد الملک سے وابستہ ہوئے۔ دہلی کی بربادی کے دور میں انہی کے ساتھ فرح آباد پہونچے وہاں مہربان خاں رندؔ نے ان کو عماد الملک سے مانگ لیا ۔ کچھ عرصہ بعد وہاں سے فیض آباد پہنچ کر شجاع الدولہ کے دربار میں ملازم ہو گئے، اس کے انتقال کے بعد آصف الدولہ نے لکھنٔو کو دار السلطنت بنایا تو یہ بھی لکھنٔو آ گئے اور ۱۷۸۱ ء میں یہیں وفات پائی۔
سودا پہلے صرف فارسی میں شعر کہتے تھے اور آرزوؔ سے اصلاح لیتے تھے مگر پھر ان کے کہنے پر ریختہ گوئی کی طرف متوجہ ہوئے اور شاہ حاتم ؔ سے اصلاح لینے لگے۔ سوداؔ ذرا سی بات پر خفا ہو کر کسی کی بھی ہجو لکھ ڈالتے تھے۔ انہوں نے ایک گھوڑے کی ہجو بھی کہی تھی جو اس دور کی بدحالی کو بیاں کرتی ہے۔ سوداؔ دراصل قصیدے کے شاعر ہیں۔ قصیدہ نگاری کو انہوں نے معراجِ کمال تک پہنچایا کہ اس صنف میں ان کا کوئی سانی آج تک نہیں ہو سکا۔ زورِ بیان، پُر شکوہ لہجہ، بلند آہنگ الفاظ کا استعمال، مضمون آفرینی ، شگفتہ مزاجی وغیرہ ان کے کلام کی اہم خصوصیات ہیں۔سودا کی غزلیں بھی بلند مرتبہ کی ہیں مگر میر سے ان کا مزاج بالکل متضاد ہے میر داخلیت کے شاعر ہیں سودا خارجیت کے، میر تکلیفوں سے غمگین ہو جاتے ہیں سودا انہیں مذاق میں اڑاتے ہیں، ان کی غزل میں نشاطیہ عنصر پایا جاتا ہے ، لفظوں اور ترکیبوں کی رعنائی پر ان کی توجہ زیادہ ہے ۔

مرزا محمد رفیع سودا کی قصیدہ نگاری

مرزا محمد رفیع سودا کو اردو قصیدہ نگاری میں وہی مقام حاصل ہے جو غزل میں میر اور غالب کو حاصل ہے۔اردو میں قصیدہ نگاری کا آغاز دکن سے ہوتا ہے۔دکن اردو زبان و ادب کا پہلا بڑا مرکز تھا جہاں تمام اصنافِ سخن کو پروان چڑھنے کا بھرپور موقع ملا۔قطب شاہی، عادل شاہی وغیرہ شاہی ریاستوں میں متعدد شعراء نے قابل ذکر قصائد تصنیف کیے ہیں۔نصرتی دکن کا ایک بڑا قصیدہ نگار ہو گزرا ہے جس نے دکن میں قصیدہ کو بام عروج بخشا۔بعد میں ولی دکنی نے بھی اس صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اردو قصیدہ کو صحیح معنوں میں جس شاعر نے اعتبار بخشا اور اسے فارسی قصیدہ نگاری کے برابر لاکھڑا کیا، وہ مرزا محمد رفیع سودا ہیں۔
سودا 1712ء میں پیدا ہوا اور 1781ء میں لکھنؤ میں انتقال کیا۔شیخ چاند کی تحقیق کے مطابق سودا کے قصائد کی تعداد 55 ہے جبکہ عتیق احمد صدیقی نے اپنی کتاب”قصائد سودا” میں 58 قصائد کی نشاندہی کی ہے جن میں مذہبی اور غیر مذہبی تمام قسم کے قصائد شامل ہیں۔مذہبی قصائد کی تعداد 22 ہے اور ان میں جن مذہبی شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے ان میں پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہﷺ کے علاوہ اور بھی کئی شخصیات شامل ہیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
قصیدہ در نعت سید المرسلین خاتم النبین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم (دو قصائد)
قصیدہ در منقبت علی بن ابو طالب (سات قصائد)
قصیدہ در مدح جناب فاطمہ الزہرا
قصیدہ در مدح امام حسن
قصیدہ در مدح امام حسین
قصیدہ در منقبت امام زین العابدین
قصیدہ در منقبت امام محمد باقر
قصیدہ در منقبت جعفر صادق
قصیدہ در منقبت حضرات امام کاظمین
قصیدہ در مدح ابوالحسن علی رضا ابن موسی (دو قصائد)
قصیدہ در مدح امام تقی
قصیدہ در مدح امام نقی
قصیدہ در مدح امام حسن العسکری
قصیدہ در مدح امام مہدی (دو قصائد)
ان مذکورہ قصائد کے علاوہ بقیہ قصائد میں 23 قصائد بادشاہوں، نوابوں اور امرا کی شان میں تحریر کیے ہیں۔جن شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے وہ یوں ہیں۔
قصیدہ در مدح محمد شاہ عالم بہادر شاہ غازی
قصیدہ در مدح عزیز الدین محمد عالمگیر ثانی بادشاہ غازی (دو قصائد)
گر مداح بسنت خان محمد شاہی (دو قصائد)
قصیدہ در مدح نواب سیف الدولہ (تین قصائد)
قصیدہ در مدح غازی الدین خان بہادر عمادالملک (دو قصائد)
قصیدہ در مدح نواب عماد الملک آصف جاہ
قصیدہ در مدح نواب شجاع الدولہ (سات قصائد)
قصیدہ در مدح حکیم میر محمد کاظم
قصیدہ در مدح آصف الدولہ (چھ قصائد)
قصیدہ در مدح نواب سر فراز الدولہ (دو قصائد)
در مدح نواب ممتاز الدولہ
ان کے علاوہ دس ہجویات بھی سودا کے کارناموں میں شامل ہیں۔ جن میں چند قابل ذکر ہیں، ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
قصیدہ در ہجو اسپ مسمیٰ بہ تضحیک روزگار
قصیدہ شہر آشوب
قصیدہ در ہجو مولوی ساجد
قصیدہ در ہجو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
قصیدہ در ہجو شیخ بریلی وغیرہ
سودا کے قصائد کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو سودا ہی شمالی ہند میں باقاعدہ طور پر قصیدہ کا بنیاد گزار ہے۔بقول ڈاکٹر سلام سندھلوی”اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی ہند میں سودا سے قبل حاتم اور فغاں نے قصیدے کہے ہیں مگر ان کی صرف تاریخی اہمیت ہوسکتی ہے،ان کی ادبی حیثیت میں شک ہے۔سودا نے پہلی بار فارسی کی طرز پر قصیدے کہے ہیں اور فارسی قصیدہ گو شعراء سے اس میدان میں ٹکر بھی لی ہے اور اگر آزاد کے بیان پر اعتبار کیا جائے تو وہ اس میدان میں فارسی کے نامور شہسواروں کے ساتھ عنان در عنان ہی گئے بلکہ اکثر میدانوں میں آگے بھی نکل گئے ہیں۔”اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں موازنہ درکار نہیں مگر یہ ضرور ہوا کہ اردو قصیدہ میں سودا نے اس صنف سخن کو فنی خصوصیات سے مالا مال کیا ہے۔وہ کون سی خصوصیات اور فنی خوبیاں ہیں جو سودا کے قصائد میں نہیں ہیں۔
جزائے ترکیبی کے حوالے سے بھی انہوں نے تشبیب، گریز، مدح، اور حسن طلب وغیرہ میں اپنی بے پناہ فنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔سودا نے تشبیب میں متنوع موضوعات کو برتا ہے اور اتنا تنوع شاعر صرف سودا کے قصیدوں میں ہی ملتا ہے۔موسم بہار کی منظرکشی، عاشقانہ و رندانہ جذبات،دنیا کی بے ثباتی،صوفیانہ اور حکیمانہ مضامین،شکایت زمانہ،تاریخی واقعات وغیرہ موضوعات ان کے قصیدوں کی تشبیب کا حصہ ہیں۔سودا کا تشبیب کا حصہ نہایت ہی دلکش اور پر زور ہوتا ہے۔کیونکہ شاعر کا بنیادی مقصد اپنے ممدوح کو متاثر کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ ہمہ تن گوش ہو کر قصیدہ نگار کی جانب متوجہ ہوکر اس کی شایان شان داد دے۔یہی وجہ ہے کہ سودا کے تشبیب کے اشعار نہایت ہی زوردار و مبالغہ آمیز ہوتے ہیں۔شاید اسی لیے سودا کے تشبیب میں بہاریہ اور نشاطیہ مضامین اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سودہ کو فطری طور پر علوی تخیل، جودت طبع اور فکر رسا کا ملکہ حاصل ہے۔اس لیے انہوں نے پرزور اور پرشکوہ نیز قوت متخیلہ پر مبنی تشبیب کے اشعار پیش کئے ہیں۔مثلا۔

ہوا جب کفر ثابت، ہے وہ تمغائہ مسلمانی      نو ٹوٹی شیخ سے زنار تسبیح سلیمانی
منکر خدا سے کیوں نہ حکیموں کی ہو زبان      جب شہرہ سے مرے ملا ہو اس قدر جہاں
آٹھ گیا بہمن ودے کا چمنستان سے عمل      تیغ اردی نے کیا ملک خراسان مستاصل

قصیدہ میں سودا کے فنی کمالات اور فنکارانہ ہنرمندی کے جوہر مدح میں ہی کھلتے ہیں۔سودا کا کمال یہ ہے کہ وہ ممدوح کی شخصیت کے عین مطابق ہی زبان وضع کرتے ہیں۔اس میں شاعر ممدوح کے جاہ و جلال،شوکت و حشمت،عظمت و بزرگی،بہادری و شجاعت،عدل و انصاف،جہانگیری وجہاں بانی اور مخلوق پروری کی تعریف کرتا ہے۔اگر ممدوح کوئی مذہبی شخصیت ہے تو اسکا علم و حلم، تقوی و پرہیزگاری،عفودرگزر،زہد و تقوی،عبادت و ریاضت وغیرہ کی بھی تعریف وتوصیف کرتا ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ (سودا)ممدوح کی تلوار، فوج، ہاتھی، گھوڑے اور دیگر جنگی سازوسامان کی بھی تعریف کرتا ہے اور مبالغہ سے بھی کام لیتا ہے۔اس سلسلے میں وہ عمدہ الفاظ و محاورات، بھاری پر کم القاب و آداب،تشبیہات و استعارات نیز تراکیب کا بھی تانابانا تیار کرتا ہے۔اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

دید تیرا، بدوئی حق سے، نگہ کا ہے خلل      ایک سے دو نظر آتے ہیں بچشم احوال
تیری قدرت بہ جہاں، قدرت حق کی خاطر      خلق کے وہم غلط کار میں ٹھہرے ہے مثل
علم تیرا نہیں ہے، علم خدا سے باہر      ہی عمل بھی وہی تیرا جو خدا کا ہے عمل

حسن طلب میں بھی سودا نے بے پناہ فنکاری کا ثبوت دیا ہے اور ممدوح کو اس قدر متاثر کیا ہے کے ممدوح کو شاعر کا دامن موتیوں اور جواہر سے بھرتے ہی بنتی ہے۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وہ بات سے بات پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

کرے ہے عرض یہ سودا جناب اقدس میں      زمانہ چاہے تھا مجھ کو رکھے بہ حال تباہ
تجھ آستان پر ولے اب مدد طالع کے      ہوا ہے آن کے حاضر یہ بندۂ درگاہ
بس اب جہاں میں کوئی خوش نصیب ہے مجھ سا      امید جس کی بر آئی ہو اتنی خاطر خواہ
کیا میں فرض کہ آنے سے زیر بال ہما      جنہیں حصول ہو جمشید کی سی شوکت و جاہ
سودا کے ہجویہ قصائد میں در ہجواسپ (تضہیک روزگار) و شہرآشوب بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔یہ قصائد سودا کے دور کے معاشی اور اقتصادی نیز سیاسی صورتحال کے مرثیہ ہیں۔مسلسل زوال پذیر اور دگرگوں ہوتی ہوئی مغلیہ سلطنت کو ایک گھوڑے کی نہ توانائی اور لاغر پن کے حوالے سے واضح کیا ہے۔
ناطاقتی کو اسکی کہاں تک کروں بیان      فاقوں کا اس کے اب میں کہاں تک کروں شمار
مانند نقش نعل زمین سے بجز فنا      ہر گز نہ اٹھ سکے وہ اگر بیٹھے ایک بار
ان کے علاوہ سودا نے شخصی ہجویات بھی لکھی ہیں لیکن ان ہجویہ قصائد میں اس کے عقائد و نظریات کے حوالے سے ذاتی بغض وعناد بلکہ خبث باطنی کا پتہ چلتا ہے۔حالا‌نکہ یہ ضرور ہے کہ وہ اچھے خاصے دنیا دار آدمی تھے۔اس لئے اس طرح کے شخص سے اس طرح کے ہجویہ قصائد لکھنا کوئی بعید نہیں۔ایک قصیدہ جو کے ایک مولوی ساجد کی ہجو میں لکھا گیا ہے بقول ام ہانی اشرف”رکاکت اور ابتذال سے مملو ہے یقین نہیں آتا سودا جیسا پڑھا لکھا آدمی اس قدر فحش نگاری پر اتر آئے گا۔ایک ایک شعر سے کراہت ٹپکتی ہے اور ہر شعر کسی سڑی ہوئی ذہنیت کا غماز ہے۔”لیکن مجموعی طور پر سودا کے قصائد معیار کا اعلیٰ نمونہ ہیں اور یہ معیار صرف سودہ کا ہی حصہ ہیں۔
بقول ڈاکٹر عتیق احمد صدیقی”اگر یہ پوچھا جائے کہ اٹھارھویں صدی کی اردو شاعری کو کس نے سب سے زیادہ متاثر کیا،سرمایۂ شاعری میں کس نے سب سے زیادہ اضافہ کیا،زبان و بیان کے سب سے زیادہ تجربہ کس نے کیے،مسلماں رویشۃ سے سب سے زیادہ انحراف کس نے کیا اور کس نے سب سے زیادہ ادبی اختراعات کیے تو بلا تامل مرزا محمد رفیع سودا کا نام لیا جا سکتا ہے۔جس نے اردو شاعری کے مزاج کو شگفتگی اور زندہ دلی عطا کی،جس نے جملہ اصناف سخن کو ایک ہمہمہ کے ساتھ برتا،جس نے غزل کو قصیدہ کا شکوہ عطا کیا،جس نے مروجہ مرثیہ گوئی پر لے دے کر کے مرثیے کو ادبی ڈگر کی راہ پر ڈالا،جس نے زبان اردو کو پاک صاف کرنے میں اولیت کا شرف حاصل کیا،جس میں فارسی قصیدوں کے مقابلہ پر قصیدے لکھے اور جس نے ادبی معرکوں میں خود بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور معاصرین وا متقدمین کے کلام پر تنقید کرکے آئندہ کے لیے راہ ہموار کی،وہ سودا ہیں۔

ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائےمسلمانی      نہ ٹوٹی شیخ سے زنار تسبیح سلیمانی
ہنر پیدا کر اول ترک کیجیو تب لباس اپنا      نہ ہو جوں تیغ بے جوہر وگرنہ ننگ عریانی
فراہم زر کا کرنا باعث اندوہ دل ہووے      نہیں کچھ جمع سے غنچے کو حاصل جز پریشانی
خوشامد کب کریں عالی طبیعت اہل دولت کی      نہ جھاڑے آستین کہکشاں شاہوں کی پیشانی
عروج دست ہمت کو نہیں ہے قدر بیش و کم      سدا خورشید کی جگ پر مساوی ہے زر افشانی
کرے ہے کلفت ایام ضائع قدر مردوں کی      ہوئی جب تیغ زنگ آلود کم جاتی ہے پہچانی
اکیلا ہو کے رہ دنیا میں گر چاہے بہت جینا      ہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانی
اذیت وصل میں دونی جدائی سے ہو عاشق کو      بہت رہتا ہے نالاں فصل گل میں مرغ بستانی
موقر جان ارباب ہنر کو بے لباسی میں      کہ ہو جو تیغ باجوہر اسے عزت ہے عریانی
برنگ کوہ رہ خاموش حرف نا سزا سن کر      کہ تابد گو صدائے غیب سے کھینچے پشیمانی
یہ روشن ہے برنگ شمع ربط باد و آتش سے      موافق گر نہ ہووے دوست ہے وہ دشمن جانی
نہیں غیر از ہوا کوئی ترقی بخش آتش کا      نفس جب تک ہے داغ دل سے فرصت کیونکہ ہے پانی
کرے ہے دہر زینت ظالموں پر تیرہ روزی کو      کے زیب ترک چشم یار سرمہ ہے صفاہانی
طلوع مہر ہو پامال حسرت آسماں اوپر      لکھوں گا پھر غزل کر اس زمیں میں مطلع ثانی
مطلع

عجب نادان ہیں وہ جن کو ہے عجب تاج سلطانی      فلک بال ہما کو پل میں سونپے ہے مگس رانی
نہیں معلوم ان نے خاک میں کیا کیا ملا دیکھا      کے چشم نقش پا سے تاعدم نکلی نہ حیرانی
ہماری آہ دل تیرا نہ نرماوے تو یا قسمت      وگرنہ دیکھ آئینہ، کہ پتھر ہوگئے پانی
یری زلفوں سے اپنی روسیاہی کہہ نہیں سکتا      کہ ہے جمعیت خاطر مجھے ان کی پریشانی
زمانے میں نہیں کھلتا ہے کاربستہ حیراں ہوں      گرہ غنچے کی کھولے ہے صبا کیوں کر باآسانی
جنوں کے ہاتھ سے سر تا قدم کاہیدہ اتنا ہوں      کے اعضاء دیدۂ زنجیر کی کرتے ہیں مژگانی
نہ رکھا جگ میں رسم دوستی اندوہ روزی نے      مگر زانو سے اب باقی رہا ہے ربط پیشانی
سیاہ بختی میں اے سودا نہیں طول امل لازم      نمط خامے کے سر کٹوائے گی ایسی زبان دانی
سمجھ آئے نہ قباحت فہم کب تک یہ بیاں ہو گا      ادائے چین پیشانی و لطف زلف طولانی
خدا کے واسطے باز آ تو اب ملنے سے خوباں کے      نہیں ہے ان سے ہرگز فائدہ غیر از پشیمانی
نظر رکھنے سے حاصل ان کی چشم و زلف کے اوپر      مگر بیمار ہووے صعب یا کھینچے پریشانی
نکال اس کفر کو دل سے کہ اب وہ وقت آیا ہے      برہمن کو صنم کرتا ہے تکلیف مسلمانی
زہے دین محمد پیروی میں اس کی جو ہوویں      رہے خاک قدم سے ان کی چشم عرش نورانی
ملک سجدہ نہ کرتے آدم خاکی کو گراس کی      امانت دار نور احمدی ہوتی نہ پیشانی
اسی کو آدم و حوا کی خلقت سے پیدا کیا      مراد الفاظ سے معنی ہیں تا آیات قرآنی
خیال خلق اس کا گر شفیع کافراں ہووے      رکھی بخشش کے سر منت یہودی اور نصرانی
زبان پر اسکی گزرے حرف جس جاگہ شفاعت کا      کرے واں ناز آمرزش پہ پہ ہراک فاسق وزانی
رکھا جب سے قدم مسند پر آ ان نے شریعت کی      کرے ہے موج بحر معدلت تب سے یہ طغیانی

شیخ ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی شیخ محمد رمضان کے بیٹے تھے۔1789ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے لئے والد نے حافظ غلام رسول کے ہاتھ دے دیا۔حافظ صاحب شاعر بھی تھے اور ان کے یہاں ہر وقت شعر و سخن کی محفل گرم رہتی تھی۔ اس ماحول نے طبیعت پر اثر کیا اور کم عمری ہی سے شعر کہنے لگے۔ پہلے اپنا کلام حافظ صاحب کو دکھاتے تھے پھر شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے اور انہیں کا رنگ اختیار کیا۔ شاہ نذیر کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاگرد کہیں استاد سے بڑھ نہ جائے اس لیے حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ آخر کار ذوق نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔
ذوق نے شعر گوئی میں ایسی مشک بہم پہنچائی کہ جلد ہی استاد فن کا رتبہ حاصل کرلیا۔ ظفر نے ان کی شاگردی اختیار کی اور چار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ اس وقت تک ظفر تخت شاہی پر نہ بیٹھے تھے ولی عہد تھے۔ذوق کی عمر اس وقت بیس سال تھی نوجوانی ہی میں ایک قصیدہ لکھ کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا تو خاقانی ہند کا خطاب عطا ہوا۔ ظفر جب بہادر شاہ ظفر کے لقب سے تخت نشین ہوگئے تو استاد کی بھی عزت افزائی کی اور ذوق کو سلطنت کا ملک الشعراء مقرر کیا اور تنخواہ چار روپے سے بڑھا کر سو روپے کردی۔ذوق نے 1854ء میں وفات پائی۔
ذوق کے دیوان میں غزلوں کے علاوہ زیادہ تر قصیدے ملتے ہیں جو بادشاہوں کی مدح میں کہے گئے ہیں۔سودا کے بعد ذوق اردو زبان کے سب سے بڑے قصیدہ نگار ہیں۔ انھوں نے اپنی قصیدہ گوئی کے لئے فارسی شعراء کے شاہکار قصائد کو اپنا معیار بنانے کے بجائے سودا کی ہی پیروی کی لیکن اس سے ذوق کی ادبی شان میں کوئی کمی نہیں آئی۔کلیم الدین احمد لکھتے ہیں: ذوق نے بھی قصائد نہایت اہتمام کاوش سے لکھے، ہر قصیدے کا رنگ جدا ہے، ہر قصیدے میں ایک نئی بات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تنوع میں بھی سودا کی پیروی کرتے ہیں لیکن وہ جوش، وہ گرمی، وہ اصلیت میسر نہیں”
ذوق نے کئی قصائد لکھے لیکن کہا جاتا ہے 1857ء کے ہنگامے میں آگ ذوق کے گھر میں کچھ اس طرح لگی کہ جو کچھ تھا سب جل گیا۔جو قصائد بچ گئے محقیقین و ناقدین نے ان کی تعداد 25 کے قریب بتائی ہے۔ بعض جگہ یہ تعداد 27 بھی ملتی ہے۔ ذوق کی قادر الکلامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بادشاہ اکبر ثانی کی شان میں ایک قصیدہ لکھا جس کے کل 18 اشعار مختلف 18 زبانوں میں تھے۔ اسی کے عوض میں اکبر شاہ ثانی نے انہیں ‘خاقانی ہند’ کا خطاب عطا کیا تھا۔اور بعض جگہ یہ ملتا ہے کہ انھیں ایک گاؤں بھی انعام میں دیا گیا۔ ذوق کی قصیدہ نگاری کی فنی خصوصیات اس طرح سے ہے۔
تشبیب :فنی اعتبار سے ذوق کی قصیدہ نگاری کا جائزہ لیا جائے تو وہ علمی اصطلاحوں کے بادشاہ ہیں۔ تشبیب میں وہ عام طور پر فلسفہ، منطق، نجوم، تصوف اور موسیقی وغیرہ سے متعلق اصطلاحوں اور صنعتوں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ان کی تشبیں بڑی متوازن، پسندیدہ اور نئے پہلو سے پر ہوتی ہیں ض۔سنبل نگار کے مطابق "ذوق کی تشبیب سے بلعموم ایک فرضی تصویر ابھرتی ہے، لفظوں کا زیرو بم اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، فنکارانہ صورت گری کی داد دینی پڑتی ہے۔ وقت پسندی اور نزاکت آفرینی کا قائل ہونا پڑتا ہے لیکن دل پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا”
گریز :قصیدہ کا یہ مقام خون جگر کا تقاضا کرتا ہے۔ سودا کی طرح نہ سہی پھر بھی ذوق گریز کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے قصائد کے اس مقام پر اس قدر بات کا پہلو بدلتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خوبخود بات سے بات پیدا ہو گئی ہے اور ممدوح کا ذکر چھڑ گیا ہے۔ ایک قصیدے میں بطور تشبیب اپنی روش طبیعت اور خاطر نازک کا ذکر کرتے ہیں اور پھر فطری انداز میں زمانے کی مہربانیوں کو بیان کرتے ہیں تو یہیں سے مدد کے لئے فضا ہموار ہو جاتی ہے۔
لے آیا آج مقدر اس آستاں پہ مجھے      کہ سجدہ کرتے ہیں جھک جھک کے جس پہ لیل و نہار

مدح :ذوق ایک دربار شاعر تھے اس لئے ان کے ممدوح کا دائرہ بھی محدود ہے۔انہوں نے ایک قصیدہ مرزا مغل کی مدح میں کہا اور باقی سب کے سب اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی مدح میں لکھے ہیں۔ اس بات پر سنبل نگار نے حیرت جتائی ہے کہ” مذہب سے گہرا شغف ہونے کے باوجود بھی ذوق نے بزرگان دین کی شان میں کوئی قصیدہ نہیں کہا” اصل میں ذوق کے ممدوحین اپنا جاہ و جلال کھو چکے تھے اس لئے مدح گوئی میں مبالغہ آرائی کا سہارا لے کر سودا سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ذوق ممدوح کی خدا ترسی، عدل و انصاف، عقل و حکمت، شان و شوکت اور شجاعت کی تعریف پرزور انداز میں کرتے ہیں۔
آگے جلوے کے ترے پرتو خورشید ہے گرد      آگے رتبے کے ترے خاک ہے بزم کیواں

مدعا و دعا :ذوق کے قصائد کا خاتمہ حسن طلب پر نہیں بلکہ دعا پر ہوتا ہے۔ وہ ایک قناعت پسند انسان تھے اس لئے انہوں نے کبھی بھی اپنے قصائد میں ممدوح کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا۔ اس سے ان کے قصیدوں میں اور بھی نکھار پیدا ہوگیا ہے۔ ایک قصیدے کا خاتمہ اس دعا پر کرتے ہیں:
ختم کرتا ہے سخن ذوق دعا پر اس طرح      تا ہو دریا میں گہر، کان میں پیدا الماس

مجموعی طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ذوق کے قصائد میں جہاں علمیت پسندی، تخیل پرستی، مضمون آفرینی، مبالغہ آرائی، علوم و فنون، تشبیہات و استعارات اور صنائع بدائع کی بھرمار ہے وہیں ان کے قصائد پرکاری و فنکاری، اثریت و شعریت اور سادگی و صفائی سے بھی محروم نہیں ہیں۔ذوق قصیدہ نگاری میں سودا کے مد مقابل نہ سہی لیکن سودا کے بعد وہ اردو قصیدے کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔یہاں فراق گورکھپوری کی اس رائے سے ہمیں اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ "سودا اگر آسمان قصیدہ کے نصف النہار ہیں تو ذوق اسی آسمان کے ماہ کامل ہیں”اگلے صفحات پر ان کا ایک قصیدہ درج ہے۔

زہے نشاط اگر کیجیے اسے تحریر

زہے نشاط اگر کیجیے اسے تحریر         ہو خامے سے تحریر نغمہ جاے صریر
زبان سے ذکر اگرچھیڑیے تو پیدا ہو      نفس کے تار سے آواز خوشتر از بم وزیر
ہوا یہ باغ جہاں میں شگفتگی کا جوش       کلید قفل دل تنگ و خاطر دلگیر
کرے ہے وا لب غنچہ در ہزار سخن       چمن میں موج تبسم کی کھول کر زنجیر
کچھ انبساط ہوائے چمن سے دور نہیں      جو وا ہو غنچۂ منقار بلبل تصویر
قفس میں بیضے کے بھی شوق نغمہ سجی سے      عجب نہیں کہ ہو مرغ چمن بنالہ صفیر
اثر سے باد بہاری کے لہلہانے میں      زمیں پہ ہم سر سنبل ہے موج نقش حصیر
نکل کے سنگ سے گر ہو شرارہ تخم فشاں      تو سبز فیض ہوا سے ہو وہ برنگ شعیر
زمین پر گرتے ہی لے آئے دانہ برگ و ثمر      جو ٹوٹے ہاتھ سے زاہد کے سبحۂ تزویر
ہوا پہ دوڑتا ہے اس طرح سے ابر سیاہ      کہ جیسے جائے کوئی پیل مست بے زنجیر
نہ خار دشت ہی نرمی میں خواب مخمل ہے      ہر ایک تار رگ سنگ بھی ہے تار حریر
ہوا میں ہے یہ طراوت کہ دود گلخن بھی      برستہ اٹھتا ہے آتش سے مثلِ ابر مطیر
یہ آیا جوش میں باران رحمت باری      کے سنگ سنگ میں سنگ یدہ کی ہے تاثیر
ہر ایک خار ہے گل ہر گل ایک ساغر عیش      ہر ایک دشت چمن ہر چمن بہشت نظیر
ہر ایک قطرۂ شبنم گہر کی طرح خوش آب      ہر اک گہر گہر شب چراغ پر تنویر
کرے ہے صبح شکر خندہ اس مزے کے ساتھ      کہ جس طرح بہم آمیختہ ہوں شکر وشیر
سنوارتی ہے جو شام اپنی زلف مشکیں کو      سواد مشک ختن پر ہے لاکھ آہو گیر
نہال شمع سے ہر شب چنے گل شبو      بہار عیش میں گلچیں کی طرح سے گلگیر
ہنسے چراغ تو ایسی ہنسی میں پھول جھڑیں      ہوا سے رنگ گل آفتاب ہو تغییر
بدل گئی ہے حلاوت سے تلخئی ہے دارو      شراب تلخ بھی ہے مےکشوں کو شکر و شیر
قوی ہے قوت تاثیر سے دوائے طبیب      غنی قبول کی دولت سے ہے دعائے فقیر
شکست دل کو تیرے یمن تندرستی سے      کرے درست اگر مومیائی تدبیر
‏تو موئے کاسئہ چینی کو چارہ ساز قضا      نکالا کاسۂ چینی سے مثل موئے خمیر
کھجائے سر جو کبھی مفسدان سرکش کا      علاج خارش سر ہو بہ ناخن شمشیر
بنا ہے نقش، شفاخانۂ ہزار شفا ہر      ایک خانۂ تعویذ صاحب تکسیر
ہر ایک اسم عزمیت میں اسم اعظم ہے      ہر ایک نسخہ شفا میں ہے نسخۂ اکسیر
رہا نہ کوئی گرفتار رنج و الم میں چھٹے      جو تیرے تصدق میں مجرمان اسیر
شہا! ہے دم سے تیرے زندگانی عالم      یہ تیرا دم ہے وہ اعجاز عیسوی تاثیر
مثال خضر تو اے رہنمائے ملت و دیں      جہاں میں پیر ہو پر ہو کرامتوں سے پیر
تو وہ ہیں حامی دنیا و دیں زمانے میں      کے تجھ سے زیب ہے دنیا کو دین کو توقیر
کیا شہان سلف نے مسخر ایک جہاں      کیے ہیں تو نے شہنشاہ، دو جہاں تسخیر
سحر سے شام تلک زرفشاں ہے پنجۂ مہر      نثار کرتا ہے ہر روز ایک گنج خطیر
فلک پہ کرتا ہے ہر شب ادا جو سجدۂ شکر      نشان سجدہ ھے زیب جبیں ماہ منیر
یہ روز بہ سے ترے ہے جواں جہان کہن      کہے نہ کوئی دو شنبے کو بھی جہاں میں پیر
حیات بخش جہاں تیرا مژدۂ صحت      جو بخشے خلق کو عمر طویل و عیش کثیر
ہزاروں سال ہر ہر صدی نکال کے دانت      ہنسیں اجل پہ جوانوں کی طرح مردم پیر
جہاں کو یوں تری صحت کے ساتھ ہے صحت      صحیح جیسے کہ قرآن ہو مع تفسیر
یہ وہ خوشی ہے کہ فربہ ہوں جس سے روزبروز      ہلال بست ونہم کی طرح بدن کے حقیر
پڑھوں ثند میں تری اب وہ مطلع روشن      کہ جس کا مطلع خورشید بھی نہ ہووبے نظیر

مطلع


شہنشا! وہ تیری روشنئی رائے منیر      عقول عشرہ کے انوار جس کے عشر عشیر
جو ہو نہ تابع امر تشاور في الامر      تو عقل کل کو کرے تو نہ ہر گز اپنا مشیر
کہ فیل کوہ کجک تیشہ فیل باں فرہاد      وہ دونوں دانت صفا ایک ایک جوئے شیر
چلے نہ اشرفی آفتاب عالم میں خط      شعاع سے اس پر جو یہ نہ ہو تحریر
ابو ظفر شہ والا گہر بہادر شاہ      سراج دین نبی سایۂ خدائے قدیر
شہ بلند نگہہ شہر یار والا جاہ      قدیم مہر کلا خسرو سپہر سریر
جہاں مسخر و عالم مطیع و خلق مطاع فلک      موید واختر معین و بخت نصیر
زمیں ہو سبز جو تیرے سحاب بخشش سے      تو بوٹی بوٹی سے ہر خاک کی بنے اکسیر
بچشم مہر اگر تیرا نیر اقبال      کرے نگاہ سر آبجو وآب غدیر
تو فلس فلس سے ہو ماہیوں کے وقت شکار      نگین دست سلیمان بدست ماہی گیر

نہ ہے ثنا کے لیے تیرے اختتام و تمام      نہ ہے دعا کے لئے تیری انتہا و اخیر
مگر یہ ذوق سنا سنج و مدح خواں تیرا      غلام پیر کہن سال اک فقیر حقیر
کرے ہے دل سے دعا یہ سدا فقیرانہ      سنا ہے جب سے کہ رحم خدا دعائے فقیر
الہی آپ پہ ہوتا زمیں زمیں کو ثبات      زمیں پہ تا ہو فلک اور فلک کو ہو تدویر
فلک پہ چھوڑے نہ تا دامن مسیح حیات      زمیں پہ خضر کی تا ہو فنا نہ دامن گیر
عطا کرے تجھے عالم میں قادر قیوم      بجاہ و دولت و اقبال و عزت و توقیر
ن قوی و مزاج صحیح و عمر طویل      سپاہ وافر و ملک وسیع و گنج خطیر

مثنوی اس طویل نظم کو کہتے ہیں جس میں کوئی قصّہ یا کوئی واقعہ تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہو۔ چونکہ مثنوی میں لمبی سے لمبی بات کو تفصیل سے بیان کرنے اور ہر طرح کا مضمون ادا کرنے کی گنجائش ہے اس لیے حالیؔ نے اس صنف کو سب سے زیادہ کار آمد بتایا ہے اور اس بات پر اظہارِ افسوس کیا ہے کہ اردو شاعری میں مثنوی کی طرف اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی توجہ کی یہ مستحق تھی۔ مثنوی ایک بیانیہ صنف ہے۔ اس میں خیال مربوط رہتا ہے۔ بات سے بات نکلتی ہے اور قصّہ بتدریج آگے بڑھتا ہے گویا مثنوی ایک ایسی صنف شاعری ہے جس میں ایک طویل ،مربوط اور مکمل شعری کارنامہ وجود میں آنے کے امکانات موجود ہیں۔ یہاں ایک بات کا واضح کر دینا ضروری ہے کہ غزل کا شعر کم فرصتی میں بھی کہا جا سکتا ہے لیکن مثنوی کا معاملہ مختلف ہے۔ اس کے لیے کئی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پہلی تو یہ کہ قلم اٹھانے سے پہلے مکمل مثنوی کا خاکہ ذہن میں تیار کر لیا جائے۔ اس کے بعد مستقل مزاجی کے ساتھ اسے تکمیل کو پہنچایا جائے۔ واقعات کی ترتیب و تعمیر ایسی ہو کہ قصّہ مربوط رہے۔ زبان ایسی ہو کہ پڑھنے والا اس میں الجھ کر نہ رہ جائے بلکہ اس کی توجہ واقعات پر مرکوز رہے۔ اگر مثنوی میں کچھ ایسے اشعار موجود ہوں جو قاری کو اپنی طرف متوجہ کر لیں تو اسے مثنوی کا عیب سمجھنا چاہیے۔ واقعہ نگاری مثنوی کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔ یہ واقعات فطری بھی ہو سکتے ہیں اور فوق فطری بھی۔ مثنوی میں رزم و بزم ، اخلاق و فلسفہ ..ہر موضوع کی گنجائش ہے۔ عشقیہ قصّے بھی مثنوی کا خاص موضوع رہے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مثنوی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ مثنوی کا فن توضیحی فن ہے۔ یہاں غزل کی طرح رمز و کنایے میں بات نہیں کی جا سکتی۔ واقعات کا بیان ہوتا ہے اس لیے بات کو صراحت کے ساتھ کہا جاتا ہے تا کہ واقعات آسانی کے ساتھ ذہن نشین ہوتے جائیں۔ مثنوی میں چوں کہ واقعات کا بیان ہوتا ہے اس لیے کردار نگاری بھی اسکا ایک لازمی جزو ہے اور کردار نگاری کے لیے ضروری ہے کہ فن کار انسانی نفسیات اور اس کی پیچیدگیوں سے پوری طرح واقف ہو۔ مختلف کرداروں کی زبان بھی الگ الگ ہوتی ہے اس لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کس موقع پر کس کردار کی زبان سے کس طرح کے الفاظ ادا ہونے چاہیے۔ گویا لازمی ہے کہ مثنوی نگار ایک اچھا مکالمہ نویس بھی ہو۔ مثنوی میں عموماً ایسے موقعے بھی آتے ہیں جہاں ڈرامائی عنصر ناگریز ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ مثنوی کا فن خاصا پیچیدہ فن ہے۔ اس کے لیے صرف محنت اور منصوبہ بندی ہی کافی نہیں بلکہ وسیع مطالعہ اور گہرا مشاہدہ بھی بے حد ضروری ہے۔مثنوی میں ردیف و قافیے کی پابندی اس طرح نہیں ہوتی جس طرح غزل اور قصیدے میں ہوتی ہے بلکہ مثنوی کے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ردیف کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں رزمیہ اور بزمیہ مثنوی کے لیے الگ الگ بحریں مقرر تھیں لیکن آگے چل کر یہ پابندی باقی نہ رہی اور مثنوی نگار کو واقعات کے بیان کے لیے آزادی حاصل ہو گئی اور یہ ضروری بھی تھا، کیوں کہ مثنوی میں واقعات ہی کو اہمیت حاصل ہے۔ تقریباً ہر زبان کے ابتدائی ادب کی ایک خصوصیت مشترک رہی ہے اور بولیاں بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہیں کہ اہم واقعات، قابل ذکر مہمات اور قومی بہادروں کے کارنامے سادہ زبان میں طویل نظموں کی شکل میں پیش کیے گے۔اس طرح صنف مثنوی کی داغ بیل پڑی۔ ہماری زبان کا معاملہ اس سے ذرا مختلف ہے۔ہمارے ابتدائی ادب کا بیشتر حصّہ مذہبی نوعیت کا ہے .ہمارے صوفیا اور بزرگان دیں کی زبان فارسی تھی لیکن اشاعت اسلام کے لیے انھیں عام بول چال کی زبان کا استعمال ضروری معلوم ہوا اور بزرگوں نے اس عوامی بولی کا سہارا لیا جو ترقی کر کے اردو زبان کہلائی۔ انہوں نے پندونصائح اور متصوفانہ خیالات کو مثنویوں کی شکل میں پیش کیا۔
مثنوی کا آغاز و ارتقاء
اردو مثنوی کے جو قدیم ترین نمونے دستیاب ہیں وہ حضرت بابا فرید گنج شکر اور دیگر صوفیا سے منسوب ہیں۔ کبیر داس کی ایک نظام بھی مثنوی کے پیراۓ میں ملتی ہے .اسی سلسلے میں قطبنؔ اور شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔جدید اردو مثنوی کی بنیاد دکن اور گجرات میں پڑی . وہاں اس صنف کو جن بزرگوں کی سرپرستی حاصل ہی وہ ہیں : شاہ علی محمد جیو گام دھنی، میاں خوب محمد چستی ،حضرت گیسو دراز ، شاہ میراں جی شمس العشاق اور شاہ برہان الدین جانمؔ۔ بیجا پور میں لکھی گئی مثنویوں میں مقیمی کی ”چندر بدن و مہیار “اہم ہے .یہ ایک عشقیہ قصّہ ہے جس میں فوق فطری باتیں بھی شامل ہیں .امینؔ مقیمیؔ کا ہم عصر تھا .اس نے ایک مثنوی ”بہرام و حسن بانو“ لکھی .ملک خشنود نے ”ہشت بہشت “ اور” یوسف زلیخا“ دو مثنویاں لکھیں۔ نصرتی اس عہد کا بلند پایا شاعر تھا .اس نے قصائد کے علاوہ مثنویاں بھی لکھیں۔ ان میں ”علی نامہ“بہت مشہور ہوئی .یہ ایک رزمیہم مثنوی ہے .ہاشمی نے ایک مثنوی ”یوسف زلیخا“ لکھی۔ گولکنڈہ میں اردو ادب کو بہت فروغ ہو رہا تھا۔ اور وہاں مثنویاں بھی لکھی جا رہی تھیں۔ ان مثنویوں میں وجہی کی قطب مشتری، ابن نشاطی کی پھول بن، غواصی کی سیف الملوک و بدیع الجمال و طوطی نامہ، طبعی کی بہرام و گل اندام .نے بہت شہرت پائی۔ سراج دکنی نے بھی کئی مختصر مثنویاں لکھیں۔ شعرائے دہلی نے بھی مثنوی کی طرف توجہ کی۔ یوں تو تقریباً سبھی شاعروں نے مثنویاں لکھیں۔ میر و مصحفی کی مثنویوں کو خصوصیت سے مقبولیت حاصل ہوئی لیکن میر حسن کی مثنوی سحر البیان کے رتبے کو کوئی مثنوی نہیں پہنچتی ۔یہ مثنوی فن کاری کا عمدہ نمونہ ہے . بے نظیر و بدر منیر کا عشقیہ قصّہ اس کا موضو اس کا موضوع ہے . اس کے بعد ایک اور لا فانی مثنوی وجود میں آئ . یہ پنڈت دیا شنکر نسیم کی گلزار نسیم اس کا موضوع بھی ایک عشقیہ داستان ہے .اس کا انداز بیان پرکشش ہے . اس کے بعد قلقؔ اور نواب واجد علی شاہ اخترؔ نے بھی مثنویاں لکھیں .پھر شوقؔ نے تین عشقیہ مثنویاں : بہار عشق. زہر عشق اور فریب عشق لکھیں .جنہیں کافی مقبولیت حاصل ہوئی . حالیؔ نے مقدمہ شعر و شاعری میں مثنوی کی اہمیت واضح کی .انگریزی حکومت کے قیام اور طرز معاشرت میں تبدیلیوں کے بعد ادب میں جو انقلاب رونما ہوا اس کو خوشآمدید کہنے والوں میں آزاد اور حالی بہت نماياں ہیں . ان دونوں بزرگوں نے مثنویں بھی لکھیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں کس قسم کی نظموں کی ضرورت تھی .ان کے زیر اثر بعض اور شعرا بھی اس طرف متوجہ ہوئے .اسمعیلؔ مراٹھی نے بچوں کے نام سے مثنویاں لکھیں .علامہ اقبال نے اپنے فلسفے کو پیش کرنے کے لیے مثنوی سے کام لیا . عصر حاضر میں حفیظ جالندہری نے ایک طویل مثنوی ۔شاہ نامہ اسلام . پیش کی .اس میں شک نہیں کہ اس صنف میں اب بھی بہت امکانات پوشیدہ ہیں لیکن اس کی طرف جتنی توجہ کی ضرورت ہے وہ ابھی نہیں کی گئی ۔
اب تک کی تحقیق کے مطابق دکنی اردو کی قدیم ترین مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ” ہے۔ یہ مثنوی بہمنی دور کے پہلے شاعر فخرالدین نظامی کی تخلیق ہے جن کا تخلص نظامی ہے۔فخر الدین نظامی کی زندگی کے حالات کسی تذکرہ یا تاریخ میں نہیں ملتے البتہ مثنوی کی داخلی شہادت کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ احمد شاہ ولی بہمنی کے زمانہ میں بیدر میں تھے۔یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ دربار سے وابستہ تھے یا نہیں البتہ وہ فارسی داں ضرور تھے اس لیے کہ مثنوی کے سارے عنوان فارسی میں لکھے گئے ہیں۔
مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ” کو اردو زبان کی پہلی طبع زاد مثنوی کہا جاتا ہے۔ اس کا زمانۂ تصنیف 825ھ (1421ء) اور 839ھ (1435ء) کا درمیانی حصہ ہے۔ اس مثنوی کا اصل نام کیا تھا یہ بھی اس وجہ سے معلوم نہیں ہے کہ اس مثنوی کے ابتدائی اور آخری صفحات غائب ہیں۔مثنوی کے دو کردار ہیں ایک ‘کدم راو’ راجہ ہے اور دوسرا ‘پدم راؤ’ وزیر ہے۔مولانا نصیر الدین ہاشمی نے انہی کرداروں کی مناسبت سے اس کا نام "مثنوی کدم راؤ پدم راؤ” رکھ دیا ہے۔
اس مثنوی میں اشعار کی تعداد 1032 ہے اور 1033واں شعر نامکمل ہے اور اس کے بعد کیا شعر ضائع ہوگئے ہیں۔ یہ مثنوی اپنی ہیئت کے اعتبار سے فارسی کی مقررہ ہئیت اور ‘فعولن فعولن فعولن فعل’ کے وزن میں لکھی گئی ہے۔حسب قاعدہ پہلے حمد آتی ہے پھر نعت رسول اور اس کے بعد بانی سلطنت کی مدح آتی ہے۔چونکہ مدح کے اشعار بھی مخطوطہ میں پورے نہیں ہیں اور مدح کے بعد کے بھی کئی صفحات کم ہیں اس لئے فوراً قصہ شروع ہوجاتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا سوال تھے جو کدم راؤ نے پدم راؤ سے پوچھے تھے۔ مخطوطہ کے صفحات بیچ بیچ میں غائب ہونے کی وجہ سے قصہ کا تسلسل بھی بار بار ٹوٹ جاتا ہے۔
قصہ یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ کدم راؤ اپنے وزیر پدم راؤ سے کہہ رہا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے بات کرنا اچھا نہیں ہے۔میں نے جو کچھ تجھ سے کہا ہے (وہ کیا کہا تھا اشعار کے بیچ میں سے ضائع ہو جانے کے باعث معلوم نہیں کیا جاسکتا) اس پر اچھی طرح غور کرکے مجھے جواب دے اگر تو اپنی خطا بخشوانا چاہتا ہے اور بعد میں پچھتانا نہیں چاہتا تو صحیح صحیح جواب دے۔ یہ بات کہہ کر راجہ محل میں چلا گیا۔ وہ اتنا غصہ میں تھا کہ اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ کس نے سلام کیا اور کس نے سلام نہیں کیا۔ غصے میں بھرا ہوا راجہ محل میں جاکر سنگھاسن پر بیٹھ گیا اس کی اس حالت کو دیکھ کر محل کی رانیاں اور کنیزیں گھبرا گئیں۔
پہر رات گئے تک اس کی یہی حالت رہی۔ کوئی عورت اسے خوش نہ کر سکی۔ جب رانی نے اسکا ہاتھ ڈرتے ڈرتے پکڑا تو راجہ کدم راؤ نے کہا کہ اور باتیں چھوڑ اور یہ بتا کے ناگن نے کیا چھند کیا تھا۔ کدم راؤ نے رانی سے یہ بھی کہا کہ کسی غیر عورت کے ساتھ برا کام کرنے سے زیادہ برا دنیا میں کوئی اور کام نہیں ہے۔ اسی کا نام دونوں جہان میں روشن ہوتا ہے جو پرائی عورت کو اپنی ماں بہن سمجھتا ہے۔
کدم راؤ نے رانی سے کہا۔۔۔ سنا تھا کہ عورت بہت فریب جانتی ہے۔ ایسا فریب آج میں نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا۔ میں اس وقت سے بہت حیران و پریشان ہوں۔ بھلا کہاں اچھے ذات کی ناگن اور کہاں ادنیٰ ذات کا سانپ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ ناگن کوڑیال سے میل کھا رہی ہے۔ خدا نے مجھے حاکم بنایا ہے میں اس بات کو برداشت نہ کر سکا اور تلوار لے کر اسی وقت سانپ کو مار ڈالا۔ لیکن ناگن جان بچا کر بھاگ گئی اور میری تلوار سے اس کی دم کٹ گئی۔
یہ واقعہ دیکھ کر مجھے عورت پر بھروسہ نہیں رہا اس واقعہ کے بعد سے اے رانی! مجھے تیرا اعتبار بھی نہیں رہا۔ سونے کی چھری بھی پیٹ میں نہیں ماری جاتی۔ سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے اور دودھ کا جلا چھاچ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔رانی نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ اگر راجہ سنے تو میں کچھ عرض کروں۔ جو کچھ تو نے کہا ہے وہ بالکل سچ ہے۔ اگر میرا کوئی قصور ہے تو میں جان دینے کو تیار ہوں۔ لیکن دوسرے کا قصور مجھ پر نہ ڈالا جائے۔ برائی بھلائی دنیا میں ساتھ ساتھ ہی چلتی ہے۔ چاند اتنا حسین ہے لیکن اس میں بھی داغ ہے۔ کونسا مرد ہے جس کا پاؤں نہیں ڈگمگاتا اور کون سا درخت ہے جو ہوا سے بچے رہتا ہے۔تمام پتھر ایک قیمت کے نہیں ہوتے۔ سب عورتوں کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر تو پواس رکھے گا تو رعایا بھی بھوکوں مرے گی اور محل بھی فاقہ کرے گا۔کیا تو نے نہیں سنا کہ جان خوش تو جہاں خوش۔نہ تیرا کوئی عقل مند بیٹا ہے اور نہ کوئی دوست ہے۔ آخر تیرا راج کون سنبھالے گا؟جو کچھ تو نے دیکھا وہ گزر چکا اور جو نقش و نام ہے وہ بھی نہیں رہیں گے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے جس کے بدلے میں بھلائی حاصل ہو۔
کدم راؤ نے کہا کہ اے رانی تو نے شوہر پرستی کی جو بات کہی وہ بالکل سچ ہے۔ لیکن ٹوٹے ہوئے دل کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ٹوٹے ہاتھ کو کانپ سے باندھا جا سکتا ہے لیکن ٹوٹے ہوئے دل کو کسی چیز سے بھی سہارا نہیں دیا جاسکتا۔ پاپ اگر میرا باپ بھی کرے تو مجھے پسند نہیں۔مجھے سکون اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کسی کو سچائی پر چلتا ہوا دیکھتا ہوں۔ عورت اسی وقت تک عقل مند رہتی ہے جب تک وہ کسی دوسرے مرد کو نہ دیکھے۔ مرد عورت کے فریب سے واقف نہیں ہے۔ وہ ظاہر میں محبت جتلاتی ہے مگر دل میں دشمنی رکھتی ہے۔ اس عورت کا مر جانا بہتر ہے جو اپنے شوہر کے سوا کسی دوسرے مرد کا تختۂ مشق بنے۔ رانی نے کدم راؤ کی بات سنی۔۔۔۔(یہاں تسلسل ٹوٹ جاتا ہے)
کدم راؤ نے پدم راؤ سے کہا کہ آج میرا تماشہ دیکھ۔ اس وقت وہاں کدم راؤ اور پدم راؤ کے سوا دوسرا کوئی نہیں تھا۔ کدم راؤ نے اپنے وزیر سے کہا کہ میں دوست اس شخص کو جانتا ہوں کہ جو لالچ کے بغیر دوستی نبھائے۔ تیرا ایک فقرہ بھی میرے لئے سوا لاکھ کے برابر ہے۔ تو سیانا اور عقلمند ہے اس لیے یہ بات اگر میں تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں گا۔گنوار آدمی سے بات کہنے کی وہی صورت ہے جیسے پنجرے میں ہوا اور چھلنی میں سے پانی نکل جاتا ہے۔
پدم راؤ کدم راؤ کی زبان سے یہ باتیں سن کر خوش ہوا اور کہا کہ اگر راجہ مجھ پر پورا بھروسہ اور اعتماد رکھتا ہے تو میرے ماتھے پر کستوری ملے تاکہ میں اپنے گھرانے میں عزت کے ساتھ واپس جاؤں اور دنیا میں میرا نام روشن ہو۔ کدم راؤ نے اس کی پیشانی پر کستوری ملی اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ پہلے ناگ کے سر پر پدم نہیں تھا یہ اسی وقت سے پیدا ہوا جب کدم راؤ نے اپنا ہاتھ پدم راؤ کے سر پر رکھا۔
پدم راؤ کھڑا ہوا اور راجہ سے عرض کی کہ سنا ہے کل سے آپ فاقہ کشی کرنے والے ہیں۔ اگر آپ ایک دن بھی کسی رنج سے بھوکے رہیں گے تو ملک خراب اور ہیرا نگر(کدم راؤ ہیرا نگر کا راجہ تھا) برباد ہو جائے گا۔اگر آپ بھوجن کریں گے تو مجھے سکھ ہو گا۔ آج برتھ رکھنا اچھا نہیں ہے اور جو اس بات کو اچھا کہتا ہے وہ آپ کا دشمن ہے۔ اگر آپ خوشی کے ساتھ کھانا نہیں کھائیں گے تو میں اپنے گھر نہیں جاؤں گا۔
کدم راؤ نے کہا کہ اے پدم راؤ! تو اگر سچ مانے تو کہوں کہ میں اب تک پردیسیوں کی خدمت سے محروم ہوں۔ حالانکہ ہمیشہ سے ہمارا یہی قاعدہ رہا ہے۔ساسان وجم بھی اسی ریت پر چلتے رہے ہیں۔ کسی پردیسی کو لے کر آؤ کہ میں اس کی خدمت کروں اور دان دوں۔
پدم راؤ نے عاجزی سے کہا کہ دنیا کے چلنے پھرنے والوں کو اپنے پاس مت بلاؤ کہ یہ آس دے کر ناراض کر جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی عادتیں خراب ہوتی ہیں۔ میں یہ بات ہمدردی کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ کدم راؤ یہ بات سن کر بگڑ گیا اور کہا کہ تو مسافروں اور پردیسیوں کو برا کیوں کہتا ہے۔ ان سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ میرے سامنے ان کی کیا حقیقت ہے؟ تو اس کی فکر نہ کر اور ایک مسافر کو بلا کر لا۔
پدم راؤ چھت تک اونچا ہوا اور پہر رات تک عاجزی کرتا رہا۔ اس نے بار بار یہی کہا کہ راجہ میری بات مان لے۔ یہ لوگ تیرے سامنے تجھے چاند سورج قرار دیتے ہیں لیکن دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ کسی سادھو کو اپنے پاس نہ بلا۔ جوگی لوگ بغیر شراب اور گوشت کے نہیں رہتے۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہ کہیں تجھے بھی اسی راہ پر نہ ڈال دیں۔اس میں گھڑی بھر کا سکھ ہے لیکن اس کے خمار کا دکھ زیادہ بھاری ہوتا ہے۔
پدم راؤ نے کہا کہ میں ایک عرض اور کرتا ہوں۔ کدم راؤ نے جواب دیا کہ تیری بات کو اسی طرح چھپاؤں گا جس طرح سمندر میں موتی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ پدم راؤ نے کہا ہمیں دنیا سے کیا غرض ہے، ہمیں تو صرف آپ سے کام ہے، آپ کے سوا ہمیں کون پال سکتا ہے۔ کدم راؤ اس بات سے بہت خوش ہوا اور اپنے وزیر کو بڑا قیمتی لباس عطا کیا۔کدم راؤ نے کہا کہ پورے خاندان کو بلا کر انہیں خلعت دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ کدم راؤ نے سارے خاندان شاہی کو بلا کر ہر ایک کو مرتبہ کے موافق سرفراز کیا۔
اس کے بعد قدم راؤ نے کہا کہ کسی پردیسی کو بلاکر مہمانداری بھی کرنی چاہیے۔ اہل دربار میں سے ایک نے کہا کہ باہر سے مچھندر کا بیٹا اگھور ناتھ آیا ہوا ہے۔ بہت بڑا جوگی ہے اور بہت سے علوم سے واقف ہے۔ وہ یقیناً آپ کے دربار کے لائق ہے۔راجہ نے یہ سن کر جواب دیا کہ اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ وہ آدمی اس کے پاس گیا اور کہا کہ جلدی چل تجھے راجہ نے طلب کیا ہے۔اگھور ناتھ راجہ کے دربار میں حاضر ہوا تو راجہ نے پوچھا کہ تو نے کون کون سے ملک دیکھے ہیں۔ اگھور ناتھ نے اس بات کے جواب میں بے حد لاف زنی کی اور راجہ کو ایسا محور کیا کہ وہ اس کا گرویدہ ہو گیا۔
چند ہی روز میں راجہ کا یہ حال ہوگیا کہ اسے جوگی کے بغیر چین نہ پڑھتا تھا۔ جب جوگی نے راجہ سے کہا کہ میں لوہے کو سونا بنا سکتا ہوں تو کدم راؤ نے لوہے کا ڈھیر جمع کر دیا جسے اس نے سونا بنا دیا۔ کدم راؤ اس کا اور بھی گرویدہ ہو گیا۔ اب وہ جوگی کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتا تھا۔ اگھور ناتھ نے اس کے بعد راجہ کو "دھنور بید” کی تعلیم دی۔ جسے کدم راؤ نے ایک مہینے میں سیکھ لیا۔ ادھر رعایا بھی حیران تھی کہ آخر راجہ نے ایک جوگی کی صحبت کیوں اختیار کر لی ہے۔
ایک دن اگھور ناتھ نے کہا کہ راجہ "دھنور بید” تو معمولی بات ہے میں تو آپ کو "امر بید” بھی سکھا سکتا ہوں مگر مجھے قول دینا ہوگا کہ یہ کسی دوسرے کو آپ نہیں بتائیں گے۔ یہ کہہ کر اگھور ناتھ نے راجہ سے کہا کہ اگر عجائبات دیکھنے ہیں تو ایک جانور لے کر آئیے۔ راجہ محل میں گیا اور وہاں سے ایک طوطا لے کر آیا جسے رانی نے بڑی محبت سے پالا تھا۔راجا اسے پھل کھلاتا اپنے ہاتھ میں لئے جوگی کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ راجہ اب اس کا گلا چبا ڈال میں ابھی کرامات کھاتا ہوں۔راجہ نے ایسا ہی کیا تو وہ مر گیا اور سادھو نے اپنی روح طوطے کے جسم میں داخل کر دی اور اڑ کر راجہ کے ہاتھ پر آبیٹھا۔ طوطے نے کہا کہ راجہ بتا میں کون ہوں۔ کچھ دیر کے بعد وہ پھر اپنے جسم میں واپس آ گیا اور طوطا بھی زندہ ہو گیا۔ یہ دیکھ کر راجہ حیران رہ گیا اور جوگی کا پہلے سے بھی زیادہ قائل اور گرویدہ ہو گیا۔ پھر کہا کہ یہ عمل مجھے بھی سکھاؤ۔
اگھور ناتھ نے پہلے راجہ سے قول لیا اور پھر اسے "امر بید” سکھا دیا۔ راجہ نے جیسے ہی اس کے منتر سیکھنے شروع کئے محل کا کلک ٹوٹ گیا۔ لوگوں نے راجہ کدم راؤ سے بہت کہا کہ یہ بد شگونی کی بات ہے۔ مگر راجہ نے پرواہ نہ کی اور علم سیکھتا رہا۔ جو لوگ غور و فکر کے بغیر کام کرتے ہیں وہ دھن، مال، راج پاٹ جس چیز کے بھی مالک ہوں گنوا دیتے ہیں۔جب راجہ نے "امر بید” بھی سیکھ لیا تو ایک دن جوگی نے کہا کہ اب اس کا تجربہ کرکے دیکھو۔ چنانچہ جیسے ہی راجہ نے اپنی روح کو طوطے کے جسم میں داخل کیا اگھور ناتھ جوگی نے اپنی روح کو راجہ کدم راؤ کے جسم میں داخل کردیا۔ اب راجہ طوطا بن گیا اور جو گی راجہ بن گیا۔
لیکن جوگی کدم راؤ کے روپ میں آکر بہت پچھتایا۔ کیوں کہ نہ وہ محلات کی تفصیلات سے واقف تھا اور نہ محل کے آدمیوں میں سے کسی کو جانتا پہچانتا تھا۔ آخر اسے ایک تدبیر سوجھی۔ اس نے دربار عام کیا اور اس طرح سب سے متعارف ہونا چاہا۔ ایک دن پدم راؤ نے راجہ (جو دراصل جوگی تھا) سے پوچھا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ جب تک اگھور ناتھ آپ کے دربار میں نہیں آیا تھا سب کام ٹھیک چل رہا تھا۔ اب یہ سب کام آپ نے چھوڑ رکھا ہے۔ راجہ نے کہا کہ جوگی نے میرے ساتھ بڑا دھوکہ کیا ہے اور میں نے اسے مار ڈالا ہے۔ دیکھ یہ اس کی لاش ہے۔ لاش کو دیکھ کر لوگ حیران ہوئے کہ آسمان میں تھگلی لگانے والا جوگی کیسے مر گیا؟جوگی نے سوچا ہوگا کہ اگر راجہ جو طوطے کے روپ میں زندہ رہا تو پھر اپنے روپ میں آ سکتا ہے۔ اس لیے اسے مروا دینا چاہیے۔ یہ سوچ کر ایک دن راجہ نے پدم راؤ سے کہا کہ طوطا مجھے برا بھلا کہہ کر گیا ہے۔ منادی کرو کہ جو اسے پکڑ کر لائے گا اسے انعام و اکرام سے سرفراز کیا جائے گا۔
پدم راؤ نے سمجھایا کہ اس طرح بدنامی ہوگی۔ کیونکہ کدم راؤ کے روپ میں جوگی نہ محلات کو جانتا تھا اور نہ کسی کنیز باندی کو پہچانتا تھا نہ اسے صحیح طریقہ سے بات کرنے کی تعمیر تھی۔ اس لیے جب وزیر نے بار بار اس سے اس کی وجہ دریافت کی تو وہ بہت ناراض ہوا اور تلوار لے کر اسے مارنے کے لئے دوڑا ض۔ لیکن پدم راؤ اس کی وار سے بچا اور اپنی گرفت میں لے کر اس کی نگرانی شروع کردی۔ وہ ابھی تک اسے کدم راؤ ہی سمجھے ہوئے تھا حالانکہ وہ کدم راؤ کے بھیس میں اگھور ناتھ تھا۔اب اصلی راجہ کدم راؤ کا حال سنی۔ وہ طوطا بنا ہوا اڑتا رہا اور اپنی جان بچاتا ادھر ادھر مارا مارا پھرتا رہا۔ کبھی شکاری پرندوں سے اپنی جان بچاتا، کبھی دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ پر جاتا۔ ایک دن وہ طوطوں کا ایک غول دیکھ کر ان کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نگاہ اپنے محل پر پڑی اور وہاں اس نے پدم راؤ کو بھی دیکھا۔ یہ دیکھ کر وہ نیچے اترا اور وہاں گیا جہاں اس کا وزیر پدم راؤ تھا۔کدم راؤ طوطے نے پدم راؤ سے بات کی اور کہا کہ اے پدم راؤ کیا تو نے مجھے پہچانا؟ پدم راؤ نے انکار کیا۔ بڑے لیت ولعل اور باہمی گفتگو کے بعد کدم راؤ نے جو طوطے کے روپ میں تھا پدم راؤ کو وہ واقعہ یاد دلایا جب وہاں کوئی تیسرا نہ تھا۔اس پر پدم راؤ نے پوچھا۔
کدم راؤ تو کیوں ہوا، کھول کہہ ۔اس کے بعد طوطے نے سارا واقعہ جوگی کے دھوکہ دینے اور اپنے طوطا بن جانے کا سنایا۔ یہ سن کر پدم راؤ نے کہا۔’’توئیں ساچ میرا گسائیں کدم۔پدم راؤ تجہ پاو کیرا پدم‘‘کہ تو سچ مچ میرا آقا کدم راؤ ہے اور میں پدم راؤ تیرے پیر کی خاک ہوں۔ اور کہا کہ اے پنکھ راؤ مجھے زبان دے کہ یہ بات جو میرے تیرے درمیان ہوئی ہے اسے تو ویسے ہی چھپا کر رکھے گا جیسے سیپی موتی کو چھپا کر رکھتی ہے۔ کدم راؤ نے زبان دی۔پھر پدم راو نے ساری باتیں بتائیں اس کے بعد رات کے وقت پدم راؤ چپکے سے سیدھا اس جگہ گیا جہاں جوگی کدم راؤ کے روپ میں سو رہا تھا’’چلیا ساندھرے ساندھرے ناگ راؤ۔کہ جیوں نیر سودھن چلے اپ بھاؤ‘‘اور سوتے میں اس کے پاؤں کی انگلی میں کاٹ لیا۔ کاٹتے ہی زہر اس کے جسم میں چڑھنے لگا اور اگھور ناتھ کی روح کدم راؤ کے جسم کو چھوڑ کر پرواز کر گئی۔اسکے بعد وہ دوڑ کر طوطے کے پاس آیا۔ طوطا اڑ کر وہاں آیا اور پھر "امر بید” کی مدد سے وہ دوبارہ اپنے جسم میں داخل ہو گیا۔پدم راؤ نے راجہ کو یہ بھی بتایا کہ جوگی ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھا۔ نہ محل میں گیا اور نہ رانی سے ملا۔ یہ بات سن کر کدم راؤ بہت خوش ہوا۔ خوش ہو کر اس نے پردھان پدم راؤ کی عزت افزائی کی اور حکم دیا کہ ساری دنیا کو دان اور خیرات دو۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔’’طبل ڈھول برغوں نفیراں اٹھے‘‘ جشن منانے کا یہ سلسلہ چھ مہینے تک جاری رہا۔ پھر راجہ اپنے محل میں گیا اور سنگھاسن پر بیٹھا۔ اس کے بعد کا حصہ مخطوطے میں نہیں ہے۔ ضائع ہو گیا۔
یہ خلاصہ مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ” کا ہے۔مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ” کی اولین اہمیت یہ ہے کہ یہ اردو زبان کا قدیم ترین ادبی و لسانی نمونہ ہے جسے 1431ء اور 1435ء کے درمیانی حصہ میں بہمنی دور حکومت میں فخرالدین نظامی نے تصنیف کیا۔اس مثنوی میں تقریباً بارہ ہزار الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان میں سے صرف سوا سو کے قریب الفاظ عربی و فارسی کے ہیں۔اس مثنوی کو جمیل جالبی نے ترتیب دے کر ایک طویل مقدمے کے ساتھ 1973ء میں انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی سے شائع کرایا تھا۔جمیل جالبی نے "کدم راؤ پدم راو” کی اولیت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے: "اس دور کی سب سے پہلی تصنیف جو اب تک دریافت ہوئی ہے فخرالدین نظامی کی "کدم راؤ پدم راؤ” ہے۔

قطب مشتری 12 دنوں میں لکھی گئی ملاوجہی کی طبع زاد مثنوی ہے۔ اسے گولکنڈہ کی بھی پہلی طبع زاد مثنوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ "قطب مشتری” کا شمار اردو کی قدیم ترین مثنویوں میں ہوتا ہے۔ یہ مثنوی 1609ء میں اس وقت لکھی گئی جب ملا وجہی محمد قلی قطب شاہ کے ملک الشعراء تھے۔ ملا وجہی کا شمار قطب شاہی عہد کے بڑے شاعروں اور نثر نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی پیدائش ابراہیم قطب شاہ کے عہد حکومت میں گولکنڈہ میں ہوئی۔ ملاوجھی کو شاعری اور نثر نگاری دونوں پر قدرت حاصل تھی۔نثر میں "سب رس” جیسی مشہور داستان تصنیف کی جسے اردو کے نثری ادب کی پہلی تصنیف اور پہلی تمثیلی داستان ہونے کا شرف حاصل ہے۔
قطب قطب مشتری ملاوجہی نے قلی قطب شاہ کی فرمائش پر لکھی۔ اس میں قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان بیان ہوئی ہے اس لیے اس کا نام "قطب مشتری” رکھا گیا۔ اردو ادب کے تاریخ نویسوں کی رائے میں یہ وہی حسینہ ہے جو ‘بھاگمتی’ کے نام سے مشہور ہے۔ بھاگمتی حسین ہونے کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی میں بھی کمال رکھتی تھی۔ قلی قطب شاہ زمانۂ شہزادگی میں ہی اس پر فریفتہ ہو گیا تھا اور چھپ چھپ کر اس سے ملاقاتیں کرتا تھا۔ بادشاہ نے پہلے تو اسے باز رکھنے کی کوشش کی مگر ایک بار جب اپنی محبوبہ سے ملاقات کے لئے شہزادے نے طوفانی دریا میں گھوڑا ڈال دیا تو باپ کی محبت جو شکر آئی۔ اس نے دریائے موسیٰ پر پل بنوا دیا کہ شہزادہ اس پار جا کر بھاگمتی سے ملاقات کر سکے۔ تخت شاہی پر بیٹھنے کے بعد محمد قلی قطب شاہ نے بھاگمتی کو حرم میں داخل کرکے ‘قطب مشتری’ کا خطاب دیا اور اس کے نام پر ایک شہر بھاگ نگر بسایا۔ بعد کو اس کا خطاب حیدر محل اور اس شہر کا نام ‘حیدر آباد’ ہو گیا۔ وجہی نے مثنوی میں اصل قصہ کو ذرا بدل کر بیان کیا ہے۔ خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں خود بادشاہ کی فرمائش پر ہی کی گئی ہیں۔ مثنوی "قطب مشتری” نے شاعری کے میدان میں قابل رشک مقام حاصل کیا ہے اور کلاسیکی ادب میں بھی اس مثنوی کا شمار ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مولوی عبدالحق نے اسے مرتب کیا۔ فنی اعتبار سے یہ مثنوی بلند درجہ رکھتی ہے۔ واقعات زنجیر کی کڑیوں کی طرح مربوط ہیں۔ زبان بھی بہت رواں ہے، فارسی الفاظ کا استعمال اس سلیقے سے ہوا ہے کہ وہ مقامی لفظوں میں گھل مل گئے ہیں۔ جذبات نگاری، منظر نگاری، معاشرت کی عکاسی اس مثنوی کی اہم خصوصیات ہیں۔ تشبیہات و استعارات کے برمحل استعمال نے اسے اعلیٰ درجے کا کارنامہ بنا دیا ہے۔ مثنوی کے قصے کے درمیان بہت سی غزلیں اور رباعیاں بھی پیش کی گئی ہے جو قطب شاہ اور مشتری کے لیے لکھی گئی ہیں۔
اس مثنوی میں کل 12 کرداروں سے کام لیا گیا ہے۔ یہ سبھی کردار کسی نہ کسی سیارے کے نام ہیں۔مثنوی "قطب مشتری” میں شہزادے کا نام قطب ہے اور اسی مناسبت سے مشتری، زہرہ، عطارد، مریخ، مہتاب اور بہت سے نام ہیں جو کہ سیاروں کے نام ہیں۔اب اس مثنوی کا خلاصہ دیکھیے۔

قطب مشتری کا خلاصہ : ابراہیم قطب شاہ کے ہاں کوئی بیٹا نہیں تھا۔ دعاؤں کے بعد ایک چاند سا بیٹا پیدا ہوا۔ جوان ہوا تو اس کے حسن اور بہادری کی دھوم مچ گئی۔ ایک رات خواب میں اس نے ایک پری رو شہزادی کو دیکھا اور ہزار جان سے خوابوں کی شہزادی پر عاشق ہو گیا۔ اب جو آنکھ کھلی تو عجب عالم تھا، سوائے رونے کے اسے کوئی چیز نہیں بھاتی تھی۔ بادشاہ کو معلوم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوا۔ شہزادے کے لئے کرناٹک، گجرات، چین اور ایران کی دوشیزاؤں کو جمع کیا اور کہا کہ جو شہزادی اس شہزادے کا دل جیت لے اسے بہت سے انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔لیکن شہزادہ پر کسی کا جادو نہ چلا۔ بادشاہ نے شہزادہ سے کرید کرید کر پوچھا تو اس نے خواب کا واقعہ سنایا۔ اب تو بادشاہ کو اور فکر دامن گیر ہوئی۔ اس نے مشورہ کے لئے ‘عطارد’ کو طلب کیا۔ عطارد اپنے زمانے کا لاثانی مصور اور ساری دنیا کا سفر کئے ہوئے تھا۔ بادشاہ کی بات سن کر اس نے کہا کہ اس وقت دنیا کی حسین ترین دوشیزہ بنگالی کی ایک شہزادی "مشتری” ہے۔ اس کی ایک بہن ‘زہرہ’ بھی ہے۔ جو حضرت داؤد علیہ السلام سے زیادہ خوش الحان ہے۔اس نے کہا کہ مشتری کی ایک تصویر بھی اس کے پاس ہے۔ تصویر لا کر بادشاہ کو دکھائی گئی۔ بادشاہ نے شہزادہ کو دکھائی، شہزادہ تصویر دیکھ کر پہچان گیا کہ یہی وہ خوابوں کی پری ہے جسے وہ خواب میں دیکھ کر ہزار جان سے قربان ہو رہا تھا۔
اب شہزادہ اور عطارد سوداگر بن کر سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔ کہیں پہاڑ جیسے اژدہوں سے مقابلہ ہوتا ہے کہیں عامل و عابد سے ملاقات ہوتی ہے اور کہیں بادشاہ مغرب کی بیٹی سے۔چلتے چلتے ایک ایسے مقام سے بھی گزرتے ہیں جہاں ایک ‘راکشس’ رہتا تھا۔شہزادہ اس کے قلعے کی طرف جاتا ہے تو وہاں اسے ایک آدم ذات ملتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہ راکشس جہاں بھی آدم زاد کو دیکھتا ہے پکڑ لیتا ہے۔اسے بھی اسی نے قید کر رکھا ہے اور وہ حلب کے بادشاہ ‘سلطان خان’ کے وزیراعظم ‘اسد خان’ کا بیٹا ہے۔ ‘مریخ خان’ اس کا نام ہے، خواب میں ایک پری رو کو دیکھ کر عاشق و دیوانہ ہو گیا ہے اور اسی پری رو کی تلاش میں، جس کا نام زہرہ ہے اور جو بنگالے کی شہزادی ہے، نکلا ہے۔ جو لوگ ساتھ تھے وہ دغا دے گے۔ اب میں اکیلا اس خرابے میں قید ہوں۔پوچھنے پر محمد قلی نے بھی اپنا حال بیان کیا اور کہا کہ اب ہم دونوں دوست ہیں اور ان دو مچھلیوں کی طرح ہے جو ایک ہی جال میں پھنس گئی ہوں۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سامنے سے راکشس آتا دکھائی دیتا ہے۔ شہزادہ آیت الکرسی کا حصار باندھتا ہے اور جنگ کرکے راکشس کو قتل کردیتا ہے۔
اب پھر یہ سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور ‘قلعہ گلستان’ میں پہنچتے ہیں، جو پریوں کا علاقہ ہے۔ یہاں ‘مہتاب پری’ شہزادہ پر عاشق ہو جاتی ہے اور شہزادے کو محل میں ملاتی ہے۔ شہزادہ دوران ملاقات راکشس کو ہلاک کرنے کا واقعہ بیان کرتا ہے۔یہ سن کر مہتاب پری خوش ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ بھی آزاد ہو گئی ہے۔ اس پر محفل عیش کا حکم دیا جاتا ہے اور شراب کا دور چلتا ہے۔شہزادہ مہتاب پری کے ساتھ عیش و عشرت میں مشہور ہو جاتا ہے تو عطارد قطب شاہ سے بنگالے جانے کی اجازت طلب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ جلد شہزادہ کو وہاں بلوائے۔عطارد بنگالے پہنچتا ہے اور شہزادی کے محل کے قریب ایک جگہ پر مصوری شروع کر دیتا ہے۔ اس کے کمال فن کی شہرت سارے ملک میں پھیل جاتی ہے اور مشتری اسے بلوا کر محل کو آراستہ کرنے کا حکم دیتی ہے۔عطارد دن رات لگ کر محل کو آراستہ کرتا ہے۔ مشتری دیکھتی ہے تو دنگ رہ جاتی ہے۔اتنے میں اس کی نظر ایک تصویر پر پڑتی ہے جسے دیکھ کر مشتری دیوانی سی ہو جاتی ہے اور پوچھتی ہے کہ یہ کس کی تصویر ہے؟ عطارد بتاتا ہے کہ یہ ‘قطب شاہ’ کی تصویر ہے لیکن ایک پری اس پر عاشق ہو گئی ہے۔ مشتری یہ بات سن کر رونے لگتی ہے، عطارد دیکھ کر کہتا ہے کہ وہ جلد اسے بلوا دے گا۔ اور شہزادے کو بلوانے کے لیے ایک آدمی بھیجتا ہے۔ جیسے ہی شہزادے کو اطلاع ملتی ہے وہ ‘مہتاب پری’ سے اجازت لے کر روانہ ہوجاتاہے اور مہتاب پری اسے بطور نشانی "ترنگ بادپا” گھوڑا دیتی ہے۔ شہزادہ بنگالہ پہنچ کر مشتری سے ملاقات کرتا ہے۔ شراب کا دور چلتا ہے اور دونوں اتنے مست ہو جاتے ہیں کہ عطارد کو کہنا پڑتا ہے کہ "شہزادے تیرا مال ہے تو اتادل نہ کر”
شہزادہ قطب شاہ ‘مریخ خان’ کا حال بھی بیان کرتا ہے اور طے ہوتا ہے کہ زہرہ سے شادی کرکے بنگالہ کی بادشاہی مریخ خان کو دے دی جائے۔ اس کے بعد قطب شاہ مشتری کے ہمراہ دکن روانہ ہوتا ہے اور وہاں دونوں کی شادی دھوم دھام سے ہوتی ہے اور باپ قطب شاہ کو اپنی سلطنت دے دیتا ہے۔اور باقی کی زندگی عیش وعشرت سے گزارتے ہیں۔اس طرح یہ مثنوی ایک خوشگوار انجام کو پہنچ کر اختتام پذیر ہوتی ہے۔
اس مثنوی کے کرداروں کے نام درج ذیل ہیں:
محمد قلی قطب شاہ      مشتری      زہرہ      مریخ خان      عطارد     
اسد خان      شاہ سلطان      میروان      مہتاب پری      سلکھن پری وغیرہ     

مثنوی پھول بن1744 اشعار پر مشتمل گولکنڈہ کے عظیم شاعر وانشاپرداز ‘ابن نشاطی’ کی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ابن نشاطی کاپورانام شیخ محمد مظہر الدین شیخ فخر الدین ابن نشاطی ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک انشاپرداز تھے لیکن ان کی انشا پردازی کا کوئی نمونہ منظر عام پر نہیں آیا۔
مثنوی "پھول بن” سلطان عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1066ھ میں صرف تین مہینوں میں لکھی گئی۔ابن نشاطی فارسی اور دکنی اردو کا ایک عالم اور ماہر عروض و بلاغت بھی تھا۔ اسے فن شاعری میں بڑی مہارت حاصل تھی خصوصاً صنائع بدائع کے استعمال میں وہ ید طولی رکھتا تھا۔اس مثنوی کے مطالعے سے شاعر کی قادر الکلامی اور کمال فن کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ مثنوی اگرچہ فارسی تصنیف "بساتین الانس” کے قصے پر مبنی ہے لیکن ابن نشاطی نے اصل قصے میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں اور اسے متعدد ابواب میں تقسیم کرکے ہر باب کا آغاز ایک ایسے شعر سے کیا ہے جس میں اس باب کا خلاصہ آجاتا ہے اور اگر تمام ابواب کے عنوانی ابواب کو یکجا کردیا جائے تو پوری مثنوی لب لباب پیش نظر ہو جاتی ہے۔
پھول بن کی کہانی قصہ در قصہ آگے بڑھتی ہے اور اس میں تین قصے اور چند ذیلی کہانیاں شامل ہیں۔ مثنوی پھول بن میں ابن نشاطی نے جذبات نگاری، منظر نگاری اور کردار نگاری کا کمال دکھایا ہے۔اردو ادب کی یہ واحد مثنوی ہے جس میں 39 صنعتیں استعمال کی گئی ہیں.مثنوی "پھول بن” میں کل چھ قصے بیان ہوئے ہیں جن میں تین مرکزی ہیں اور باقی تین ضمنی ہیں جو دوسرے قصوں کو آپس میں جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔اس مثنوی کے مطالعے سے دکنی ادب کے لسانی و دیگر خصوصیات کا اندازہ ہوتا ہے۔اردو کے کلاسیکی ادب میں اس مثنوی کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔
خلاصہ پھول بن :چنانچہ مشرق میں کنچن پٹن نام کا ایک شہر آباد تھا جس شہر کی ہر چیز سونے کی تھی۔ اس شہر کے تمام لوگ خوشحال تھے، کوئی بھی فقیر بھیک مانگتا نظر نہ آتا تھا۔ اس شہر کا بادشاہ نہایت ہی خوش رہتا تھا، رعایا بھی خوش تھی۔ یہ سچ ہے کہ اس شہر پر عجیب آسمانی فیض نازل تھا کہ شہر میں پہنچ کر بوڑھے بھی جوانی پاتے تھے۔ وہاں ہمیشہ خوشی کی بارش ہوتی تھی۔
ایک رات بادشاہ خواب میں ایک درویش کو نہایت ہی اداس حالت میں دیکھتا ہے۔ وہ درویش بادشاہ کے دربار میں آنا چاہتا ہے مگر انہیں سکتا۔ اگلے دن جب بادشاہ کی نیند کھلی تو بادشاہ کو خواب کی یاد آئی۔ خادم کو بلایا کہ اس قسم کے فقیر کو بلاؤ۔ کافی تلاش اور کوشش کے بعد اس درویش کو لایا جاتا ہے۔ درویش بادشاہ کو روزانہ ایک حکایت سناتا اور ہر شب کو ایک نیا سوز دیتا۔ اس پر بادشاہ بہت خوش ہوتا اور خوشی سے مست رہتا تھا۔ ایک دن بادشاہ درویش سے اپنے مست ہونے کا سبب پوچھتا ہے تو درویش اسے ایک مجازی حکایت سناتا ہے۔
ملک خراسان جو سب سے بڑا ملک تھا۔ اس کا باپ وہاں کا پردھان تھا وہ اتنا روشن ضمیر اور صاف باطن شخص تھا کہ ہونے والی بات کو پہلے ہی بتا دیتا تھا۔اس نے ایک دفعہ ایک حکایت سنی تھی کہ کشمیر میں ایک نہایت ہی عقلمند اور عادل بادشاہ تھا۔ بادشاہ کی حکومت میں ہر چیز موجود تھی حتیٰ کے ہوا بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ جلتی تھی۔ ایک دن بادشاہ اپنی مجلس جماتا ہے تو ایک باغبان ایک پھول لے کر حاضر ہوتا ہے۔ بادشاہ پھول کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے اور مالی کو ایسا ہی پھول لگانے کے لیے کہتا ہے۔ مالی ہر روز بادشاہ کے دربار میں پھول لے کر جایا کرتا تھا جس پر بادشاہ بہت خوش رہتا تھا۔ایک دن بادشاہ نے پھول کو سوکھا ہوا دیکھ کر مالی سے اس کا سبب پوچھا تو مالی نے کہا کہ ایک کالا بلبل ہے جو اس پھول پر بڑا عاشق ہے۔ ہر روز پھول پر بیٹھ کر چہچہاتا ہے اسی لئے پھول مرجھا گیا ہے۔ یہ سب سن کر بادشاہ نے بلبل کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ بلبل کو گرفتار کر لیا گیا اور اس سے پریشان ہونے کا سبب پوچھا گیا۔ اس پر بلبل بادشاہ کو اپنا حال اس طرح سناتا ہے۔
اس کا باپ ختن کا ایک بڑا ہی مال ودولت والا سوداگر تھا اور ہر ملک میں چکر کاٹتا تھا۔ ایک دن اس نے بھی اس کے ساتھ تجارت کے لیے گجرات کا سفر کیا۔ راستہ میں ایک جگہ رکے جہاں وہ ایک زاہد کی لڑکی پر عاشق ہو جاتا ہے۔ آخر زاہد کی بیٹی سے ملاقات ہوتی ہے۔ عیش و عشرت سے رہنے لگتے ہیں۔ زاہد کو کوئی خبر کردیتا ہے، اس نے اپنی آبرو جاتی دیکھ کر ایک منتر پڑھ کر ہماری صورت تبدیل کر دی۔ اس طرح وہ بلبل بن گیا اور زاہد کی بیٹی گل بن گئی۔ اسی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔یہ سن کر بادشاہ کو اپنے خزانے میں رکھی ہوئی انگوٹھی کی یادآتی ہے جس کو پھیرنے سے اصلی صورت تبدیل ہوجاتی ہے۔ بادشاہ ان دونوں پر انگوٹھی تھیرتا ہے تو ان دونوں کی صورت تبدیل ہوکر اصلی صورت بن جاتی ہے۔ اور دونوں سوداگر کے لڑکے اور زاہد کی بیٹی کو ایک محل میں رکھ دیتے ہیں۔اور ان دونوں کی شادی کر دیتے ہیں۔
بادشاہ سوداگر کے بیٹے کو دربار میں رکھ لیتا ہے۔ وہ ہر روز بادشاہ کا دل بہلانے کے لئے قصے سناتا ہے۔ ایک دن بادشاہ کی فرمائش پر اس نے ایک عشقیہ قصہ سنانا شروع کیا۔ملک پیشن کا بادشاہ ایک روز دربار میں ہی تھا کہ چین سے نقاش کے آنے کی خبر سن کر بڑا اداس ہو جاتا ہے اور ہم غلط کرنے کے لیے ندیم ایک حکایت بیان کرتا ہے کہ ایک بادشاہ کو جوگیوں سے بڑا پیار تھا۔ دور دراز سے جوگی اس کے پاس آتے تھے۔ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک ایسے جوگی سے ہوتی ہے جو نقل روح کا منتر جانتا ہے۔ بادشاہ نے یہ منتر جوگی سے سیکھ لیا جس سے وہ کسی اور کے جسم میں جاسکتا تھا اور واپس اپنے جسم میں بھی آ سکتا تھا۔
ایک روز بادشاہ نے کسی بات پر مجبور ہو کر یہ منتر اپنے وزیر کو سکھلا دیا جس پر بادشاہ کو بہت پریشان ہونا پڑا۔ایک دن بادشاہ نے کسی مردہ ہرن کو دیکھ کر اپنی روح کو اس میں ڈال دی اور جنگل میں پھرنے لگا۔ وزیر نے فوراً اپنی روح بادشاہ کے جسم میں ڈال کر اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ وزیر بادشاہ بن گیا اور بادشاہ بن کر رانی ستونتی کے پاس چلا گیا۔ بادشاہ کے رانی ستونتی نے جب اس کے چال چلن نئے دیکھے تو اس کو شک ہو گیا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ جب کبھی وہ رانی سے محبت کا اظہار کرتا تو وہ اسے ٹال دیتی۔بادشاہ جب وہاں آیا تو اپنے جسم کی جگہ خالی دیکھ کر بڑا اداس ہو جاتا ہے اور ایک مردہ طوطے کو دیکھ کر اس کے جسم میں اپنی روح ڈال دیتا ہے اور شکاری کے پاس چلا جاتا ہے۔ شکاری طوطے کو بادشاہ کے حوالے کرتا ہے۔
ایک روز طوطے کی ملاقات رانی ستونتی سے ہوتی ہے۔ طوطا رانی کو سارا ماجرہ سناتا ہے۔ رانی نے طوطے کے کہنے کے مطابق کیا۔ رانی نقلی بادشاہ کو مجبور کرکے جب مری ہوئی قمری اس کے پاس رکھی اور اس میں اس کی روح ڈالنے کے لیے کہا تو طوطے نے فوراً اصلی بادشاہ کا جسم خالی دیکھ کر اپنی روح اس میں داخل کر دی اور قمری کی ٹانگیں چیر کر اسے پھینک دیا اور سلیمان کی طرح پھر تخت پر بیٹھ گیا۔دنیا کو خوشی نصیب ہوئی۔اتنے میں ایک وزیر آتا ہے اور بادشاہ کو یوں قصہ سناتا ہے۔
قدیم زمانے میں ملک عجم کے بادشاہ کی بیٹی بڑی قبول صورت تھی۔ اس کا نام سمن بر تھا۔ مصر کا شہزادہ ہمایوں اس کے حسن کی تعریف سن کر اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور جب عشق کا سوز دل میں ضبط نہ ہو سکا تو وہ ایک روز سمن بر کے محل کے پاس جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بے قرار ہو جاتے ہیں۔ پہلے تو شہزادی اس پر یقین نہ کرتی تھی لیکن جب شہزادی نے اس میں عشق کے پالے دیکھے تو اس کو اپنا سچا عشق مانگی۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا اور گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔گنگا کے کنارے ایک محل میں قیام پذیر ہوئے۔ اس محل میں ایک مالن رہتی تھی وہ بادشاہ کے پاس پھول لے کر جاتی تھی اور ہر روز سمن بر کے پاس بھی پھول لے کر آیا کرتی تھی۔ایک دن مالن سمن بر کے ہاتھوں کا گوندھا ہوا ہار لے کر بادشاہ کے پاس لے گئی۔ بادشاہ وہ ہار دیکھ کر بہت حیران ہوا اور مالن سے پوچھا کہ یہ ہار کس نے گوندا ہے۔بادشاہ کو غصے میں دیکھ کر مالن نے ہمایوں اور سمن بر کے حسن کی تعریف کا سب حال بادشاہ کو بیان کردیا۔ بادشاہ یہ سن کر سمن بر پر عاشق ہو گیا اور اپنی بادشاہی کی پرواہ بھی نہ کرتے ہوئے سمن بر کو پانا چاہا۔ایک دن بادشاہ اور اس کے وزیر ہمایوں کو اپنے پاس بلاتے ہیں اسے خوب شراب پلاتے ہیں۔ ہمایوں کو مجبوراً دریا میں کودنا پڑتا ہے۔ وہ ایک مچھلی کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ بادشاہ نے اپنے وزیر کو سمن بر کے پاس بھیجا مگر وہ ناکام رہا۔ اس نے بہت سمجھایا کہ دنیا میں نام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔جو چیز دنیا میں موجود ہے وہ آخر ختم ہو جائے گی اور کہا کہ بادشاہ تیری محبت میں صادق ہے۔ وہ تیرے عشق میں دیوانہ ہے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ ہمایوں کو انہوں نے ہی مروایا ہے۔ادھر مصر کا بادشاہ اپنے بیٹے کی جدائی میں تڑپ رہا ہے۔ اس کے مرنے کی خبر سن کر غمزدہ ہوگیا ہے اور سندھ پر حملہ کرنے کی تیاری کرتا ہے۔ بڑی گھمسان کی جنگ ہوئی۔ آخر مصر کے بادشاہ کی فتح ہوئی اور سندھ کے بادشاہ کو گرفتار کرلیا اور شہزادے کے بارے میں پوچھا۔سندھ کا بادشاہ دریا میں مچھلی چھوڑتا ہے جس پر طلسم لکھے ہوئے تھے۔ اس کو مچھلی سے یہ پتہ چلا کہ شہزادہ ابھی زندہ ہے اور پریوں کی قید میں ہے۔ ہمایوں کا باپ جو مصر کا بادشاہ تھا جب اسے شہزادے کے زندہ رہنے کا حال معلوم ہوا تو وہ اپنے ملک کو روانہ ہو گیا۔
اب سمن بر نے شہزادہ کے زندہ رہنے کی خبر سن کر مصر کا ارادہ کیا۔ راستے میں طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کرنے کے بعد وہ ایک جزیرے میں پہنچتی ہے جو کہ جنت کا باغ ہوتا ہے۔ وہ یہاں ایک محل میں رہتی ہے۔وہاں ایک بادشاہ تھا جس کے حکم سے جن اور پریاں کام کرتی تھیں۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام ملک آرا تھا۔ ملک آرا ایک دن سیر کو نکلتی ہے اور اس محل میں سمن بر کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہے۔ سمن بر نے اس سے اپنے دل کا حال سنایا۔ملک آرا نے جب اس کی درد بھری کہانی سنی تو وہ اسے اپنے ساتھ لے آئی۔ وہاں اسے ایک محل میں رکھا۔ شہزادہ ہمایوں جو پریوں کی قید میں تھا ملک آرا نے اس کی کھوج کے لئے پریوں کے بادشاہ کے پاس ایک خط بھیج۔ا اس پر شہزادے کی کھوج ہوئی۔ بادشاہ نے شہزادے کو بڑی محبت سے اپنے پاس بٹھایا اور حال پوچھا۔ شہزادے نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بادشاہ اس پر بہت خوش ہوا اور اسے دلاسہ دے کر پریوں کے ساتھ ملک آرا کو روانہ کیا۔ملک آرا کو شہزادی کی خبر ہوئی۔ وہ سن کر خود اسے لینے گئی۔ ایک دن اچھی سی گھڑی دیکھ کر دونوں کو بلایا اور حفاظت کے ساتھ دونوں کو اپنے ملک مصر کو روانہ کیا۔ شہر میں پہنچتے ہی لوگوں نے بڑی خوشیاں منائیں۔ وزیروں نے خدمت بجا لائی۔ شہزادہ کو بٹھا کر اس کی دہائی کرائی گئی۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے اور شہزادہ بے فکری سے راج کرنے لگا۔ اسی پر یہ مثنوی ختم ہوتی ہے۔

بکٹ کہانی سے پہلےہم ذکر افضل پانی پتی کا کرتے ہیں جنھوں نے خالص ہندوستان کی ایک صنف شاعری یعنی بارہ ماسے کی تخلیق کی۔ بارہ ماسہ کا تعلق ہندوستان کی تہذیب و معاشرت سے ہے۔ اس صنف میں بہت کم شعراء نے طبع آزمائی کی ہے۔ یہ صنف اپنے موضوع کے اعتبار سے دیگر اصناف سے مختلف ہے۔ اس کے متعلق مشہور محقق و ناقد ڈاکٹر خلیق انجم لکھتے ہیں :’’بارہ ماسہ میں موسمی کیفیات کی مصوری کے علاوہ جذبات نگاری اور تہذیبی ماحول کی عکس کشی کے بھی بہت دلکش نمونے ملتے ہیں۔ اس میں ایک غم فراق کی ستائی ہوئی عورت کی طرف سے شاعری کی جاتی ہے۔ جو ہندوی گیتوں کی صدیوں سے چلی آتی ہوئی ریت ہے۔
افضل کا تعلق سترہویں صدی عیسوی کے نصف اوّل سے ہے۔ شمالی ہند میں افضل کو نہ صرف ریختہ کا باقاعدہ پہلا شاعر کہا گیا ہے بلکہ اردو میں بارہ ماسہ کی روایت افضل ہی سےشروع ہوتی ہے۔ سترہویں صدی کی اردو پر مقامی بولیوں کے اثرات زیادہ تھے۔ اس صدی میں اردو خواص کے ادب کی زبان اس لیے نہیں بن سکی، کیونکہ فارسی دربار کی زبان تھی اور دربار سے رسوخ کے لیے فارسی کو اختیار کرنا لازمی تھا، یہی وجہ ہے کہ سولہویں یا سترہویں صدی میں اردو کے نام پر ’بکٹ کہانی‘ جیسی مثنویاں تو لکھی گئیں، لیکن سحر البیان یا گلزار نسیم جیسی تخلیقات سامنے نہیں آئیں۔
افضل نے بارہ ماسہ جیسی ایک صنف کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا، جس کا تعلق صرف اور صرف عوام سے تھا، جس میں ایران یا وسط ایشیا کی تہذیب کی نہیں بلکہ صرف ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا عکس نظر آتا ہے۔ بارہ ماسہ میں شاعر ایک ایسی عورت کی دکھ بھری داستان بیان کرتا ہے جس کا شوہر پردیس چلا گیا ہو اور ہندی کے بارہ مہینوں کے موسم کی کیفیت کے ساتھ اُسے یاد کرتی ہو۔ اس میں شوہر کی یاد، انتظار اور جدائی کے غم کو عورت کی زبانی بیان کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے لکھا ہے کہ ’’خواجہ مسعود سعد سلمان کے فارسی دیوان اور گروگرنتھ صاحب میں بھی بارہ ماسے کی مثالیں موجود ہیں۔ ‘‘ لیکن اردو کے حوالے سے افضل پانی پتی کی ’بکٹ کہانی‘ کو ہی شمالی ہند کی اوّلین شاعری کی کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ افضل کا مختلف تذکروں میں ذکر ملتا ہے، لیکن اس کی حیات کے بارے میں اختلافی بیانات نظر آتے ہیں، بلکہ اس کی زندگی سے بڑی دلچسپ کہانیاں جڑی ہوئی ہیں۔
اوّل تو افضل کے وطن ہی کے بارے میں صحیح رائے قائم نہیں ہوسکی ہے۔ کچھ تذکرہ نگاروں نے بشمول قائمؔ چاندپوری نے افضل کا تعلق میرٹھ کے پاس ایک قصبہ جھنجھانہ سے بتایا ہے۔ اسی روایت کو اشپرنگر اور بعد میں حافظ محمود شیرانی نے دہرایا ہے۔ بقول ڈاکٹر تنویر احمد علوی ’’بکٹ کہانی کی اپنی داخلی (لسانی) شہادت بھی اس کے حق میں جاتی ہے کہ افضل پانی پت سے نہیں جھنجھانہ (ضلع مظفرنگر) کے لسانی منطقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ماہر لسانیات اور مرتب بکٹ کہانی پروفیسر مسعود حسین خاں بھی اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’افضل کی زبان ہریانوی کے لسانی اثرات نہیں رکھتی۔‘‘ لسانی شواہد کی بنیاد پر ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے یہ قیاس پیش کیا ہے کہ محمد افضل کا تعلق جھنجھانہ ضلع مظفرنگر سے تھا، لیکن ملازمت کے لیے پانی پت میں قیام کیا، جس کی وجہ سے پانی پتی کہلائے۔
افضل کی ’’بکٹ کہانی‘‘ کے علاوہ کوئی دوسری تصنیف دستیاب نہیں ہے، لیکن تذکروں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ افضل فارسی کے بھی اچھے شاعر اور نثرنگار تھے۔ ’’بکٹ کہانی‘‘ میں اردو کے ساتھ ساتھ فارسی اشعار بھی موجود ہیں۔ قائمؔ نے اپنے تذکرہ ’’مخزن نکات‘‘ میں افضل کا شمار سعدی، امیر خسرو اور ملانوری کے ساتھ کیا ہے۔ میرحسن نے بھی اپنے ’’تذکرئہ شعرائے اردو‘‘ میں افضلؔ کا ذکر کیا ہے۔ بعد کے تذکرہ نگاروں کے یہاں بھی افضل کی شعری خدمات کا اعتراف ملتا ہے، بلکہ اشپرنگر، گلکرسٹ اور گارساں دتاسی کے یہاں بھی افضل کا ذکر موجود ہے۔ افضل کی حالات زندگی کے بارے میں اہم تفصیلات فارسی شعرا کے تذکرے ’’ریاض الشعراء‘‘ میں علی قلی خاں نے پیش کی ہیں، جس کا سن تصنیف 1747ء ہے۔ اسی تذکرے میں انھیں پانی پت کا بتایا گیا ہے۔ ان کے بارے میں علی قلی خاں نے لکھا ہے کہ وہ ایک مقبول ترین معلم تھے، ان سے درس حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے، لیکن عشق میں گرفتار ہوکر سب زہد و تقویٰ جاتا رہا اور مجنونانہ کیفیت ہوگئی۔
افضل کی شعری تصنیف کو شمالی ہند میں اوّلیت حاصل ہے۔ اگرچہ اس میں نصف اردو اور نصف فارسی ہے، لیکن اس کی زبان ناقابل فہم نہیں۔ افضل کا انتقال 1625ء میں ہوا گویا یہ اس سے قبل یعنی اکبر اور جہانگیر کے عہد کی تصنیف ہے۔ ’’بکٹ کہانی‘‘ میں ہندی الفاظ کا استعمال اس صنف کی ضرورت ہے۔ بارہ ماسوں میں ہندی مہینوں کا ذکر ہوتا ہے۔ بارہ ماسے کے سلسلے میں ڈاکٹر تنویر احمد علوی لکھتے ہیں :’’مارہ ماسے ہندی مہینوں کی رعایت سے لکھے جاتے ہیں اور ان کا سلسلہ موسموں سے جڑا ہوا ہے، علاقائی رسم و رواج، تیج تہوار، رہن سہن اور گھر آنگن کی فضائوں کا گہرا تعلق ہے، ایسے بھی بارہ ماسے جو مذہبی جذبات کی نقش گری اور ایک گونہ تبلیغی مقاصد کے تحت لکھے گیے ہیں۔ عشق و عقیدت کے جذبات و احساسات سے بارہ ماسے کو الگ کرکے دیکھنا مشکل ہے۔‘‘
بکٹ کہانی : افضل نے بارہ ماسہ لکھتے وقت اس کے فنی اور موضوعاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھا ہے۔ ایک عورت کے ہجر و فراق کی داستان ہندی کے بارہ مہینوں کا لحاظ رکھتے ہوئے بیان کی ہے۔ شوہر کی جدائی میں بے قرار عورت اپنی آپ بیتی اس طرح بیان کرتی ہے ؎
سنو سکھیو! بکٹ میری کہانی      بھئی ہوں عشق کے غم سوں دوانی
نہ مجھ کوں بھوک دن، نا نیند راتا برہ      کے درد سوں سینہ پِراتا
وہ کہتی ہے کہ ہجر کا یہ دیو جس کو لگ جاتا ہے، جھاڑ پھونک کرنے والا بھی اس سے دور بھاگتا ہے۔ جدائی کا ناگ جسے ڈس لیتا ہے اس کا زہر سپیرا بھی نہیں اُتار پاتا ؎
ارے جس شخص کو یہ دیو لاگا      سیانا دیکھ اُس کوں دور بھاگا
ارے یہ ناگ جس کے ڈنک لاوے      نہ پاوے گا ڈرو جیوڑا گنوادے
بارہ ماسہ میں بدلتے موسموں کا جذباتی اظہار ہوتا ہے۔ افضل نے ’’بکٹ کہانی‘‘ میں عورت کے ہجر و فراق کے درد کو انتہائی پُرسوز انداز میں بیان کیا ہے۔ اس درد میں اس وقت اور اضافہ ہوجاتا ہے جب وہ عورت دوسری عورتوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رنگ رلیاں کرتے ہوئے دیکھتی ہے، اُسے اپنے شوہر کی کمی کا احساس ناگ بن کر ڈستا ہے۔ بارہ ماسہ میں ہندی مہینوں کے استعمال کا لحاظ رکھتے ہوئے ہندوستانی تہذیب اور ہندوانہ تہواروں کو شامل کیا جاتا ہے۔ آغاز ساون کے مہینے سے ہوتا ہے اور اساڑھ کے مہینے پر یہ بیان ختم ہوتا ہے۔ افضل ساون کا بیان اس طرح کرتے ہیں ؎
چڑھا ساون، بجا مارو نقارا      سجن بن کون ہے، ساتھی ہمارا
گھٹا کاری چہاروں اور چھائی      برہ کی فوج نے کینی چڑھائی
پپیہا پیو پیو نِس دن پکارے      پکارے دادُر جھینگر جھنگارے
ارے جب کوک کوئل نے سنائی      تمامی تن بدن میں آگ لائی
چلا ساون مگر ساجن نہ آئے      اری کِن رُتیوں نے ٹونے چلائے
بھادوں کا بیان یوں کرتی ہے؎

سکھی! بھادوں نپٹ تپتی پڑے ری      تمامی تن بدن میرا جرے ری
سبھی سکھیاں پیا سنگ سکھ کرت ہیں      ہمن سی پاپیاں نت دکھ بھرت ہیں
پیا پردیس جا ہم کوں بسارا نہ      جانوں کیا گنہ دیکھا ہمارا
اسی طرح کنوار، کاتک، اگہن، پوس، ماگھ، پھاگن، چیت، بیساکھ، جیٹھ اور اَساڑھ میں گزرنے والی کیفیات کو افضل نے پُردرد انداز میں پیش کیا ہے۔
پوس کا مہینہ جو جاڑوں کا سرد ترین مہینہ ہوتا ہے، ہجر سے ماری عورت کو تنہائی کا بہت احساس دلاتا ہے۔ افضل کہتے ہیں :
اگہن دکھ دے گیا، اب پوس آیا      پیا کی چاہ نے غلبہ اُٹھایا
پڑے پالا کرے تھرتھر مری دیہہ      سکھی! کس بد گھڑی لاگا مرانیہہ
کریں عشرت پیا سنگ ناریاں سب      میں ہی کانپوں اکیلی، ہائے یارب
پوس کے مہینے میں اس عورت کو شوہر کی کمی اس قدر محسوس ہوتی ہے کہ تمام تراکیب کو استعمال کرکے پیا کے واپس بلانے کا جتن کرتی ہے، ملّا، پنڈت، سیانے سب سے رابطہ کرتی ہے:
اجی ملّاں ! مرا ٹک حال دیکھو      پیارے کے ملن کی فال دیکھو
لکھو تعویذ پی آوے ہمارا      وگرنہ جائے یہ جیوڑا بچارا
تمہارا مجھ اُپر احسان ہوگا      گویا مردے کے تئیں جیودان ہوگا
ارے سیانو! تمھیں ٹونا کر ورے      پیا کے وصل کی دعوت پڑھو رے
غرضیکہ ’’بکٹ کہانی‘‘ میں بارہ مہینوں میں ہجر کی جو کیفیات بیان کی گئی ہیں وہ سوز و گداز سے پُر ہیں۔ افضل کا بیان دل کو چھولیتا ہے۔ انھوں نے ایک ہجرزدہ عورت کے جذبات کی عکاسی میں حقیقت کے رنگ بھردیے ہیں۔
افضل پانی پتی کا عہد میر اور مرزا سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل کا ہے، لیکن اُن کی شاعری دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ افضل کے عہد کی اردو بھی عام بول چال کی صاف ستھری زبان تھی، جسے سمجھنے میں دقت پیش نہیں آتی۔ اگر ’’بکٹ کہانی‘‘ میں مقامی بولیوں یا ہندی کا استعمال کیا گیا ہے تو فارسی کے الفاظ اور تراکیب کو بھی بڑی روانی سے استعمال کیا ہے، مثلاً:
کوئی اُمید میری بَر نہ لایا      دیا مجھ کوں سبھوں نے دُکھ سوایا
براہش منتظر باشم شب و روز      بہر کس گویم ایں افسانہ دل سوز
نصیحت کر مجھے کا ہے جلائو      کرو کچھ فکر پیارے سوں ملائو
اگر باشد خطایم بخش دیجو      خبر میری سویرے آئے لیجو
زبان کی صفائی اور سادگی دیکھ کر یہ علم ہوتا ہے کہ ولیؔ دکنی کے دہلی آنے سے سو سال پہلے بھی شمالی ہند میں صاف شفاف اردو میں شاعری کی جاتی تھی، لیکن فارسی کے غلبہ نے اُسے ریختہ ہی کا مقام دیا۔ کچھ مثالیں ملاحظہ کیجئے:
تری باندی کی باندی ہو رہوں گی      جو کچھ مجھ کو کہے گا سو کروں گی
ہمارے پائوں ننگے، دھوپ سر پر      پھروں ہوں دوڑتی پیوباج گھر گھر
دغابازی مسافر سوں نہ کیجئے      ایتاد کھڑا غریبوں کو نہ دیجے
ارے یہ عشق کا پھندا بِکٹ ہے      نپٹ مشکل، نپٹ مشکل، نپٹ ہے
افضل پانی پتی کی زبان کا کوئی مخصوص لہجہ نہیں ہے اُس میں مختلف علاقوں کی بولیوں کے ساتھ ساتھ، اُن کی فارسی دانی کا بھی اثر نمایاں ہے۔ بہت ممکن ہے کہ افضل نے اردو میں غزلیں بھی کہی ہوں یا ان کے عہد میں اردو غزل کے دیگر شعراء میں بھی موجود ہوں جن کا کلام دستیاب نہیں ہے۔ بہرکیف افضل پانی پتی ’’بکٹ کہانی‘‘ کی وجہ سے اردو زبان و ادب کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔

میر حسن دہلوی (1736/37 - 1786) ان کا اصلی نام غلام حسن تھا۔ میر حسن دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر غلام حسین ضاحک اپنے زمانے کے معروف مرثیہ گو تھے۔ان کے اجداد ہرات کے مشہور خانوادہ سادات سے تھے۔ جد اعلٰی ہندوستان آئے۔ یہیں سکونت اختیار کی۔ انھیں کے ساتھ 12 برس کی عمر میں فیض آباد چلے گئے۔ یہاں نواب سالار جنگ بہادر کی ملازمت اختیار کی اور ان کے بیٹے نوازش علی خاں کے مصاحب بن گئے۔ کچھ عرصہ بعد آصف الدولہ کے عہد میں لکھنؤ آ بسے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔
شعر و سخن کا ذوق موروثی تھا۔ بچپن سے شاعری کی طرف میلان تھا۔ لکھنؤ میں اسے اٹھان ملی۔ میر ضیاء الدین کے شاگرد ہوئے۔ دلی میں تھے تو خواجہ میر درد کو اپنا کلام دکھایا تھا۔ خواجہ صاحب ہی کی روحانی تعلیم اور فیض صحبت کے اثر سے مثنوی "رموز العارفین" لکھی۔ لکھنؤ میں وفات پائی۔ وہیں دفن ہوئے۔ میر حسن فطرتاً نہایت خوش مزاج و بدلہ سنج تھے۔ ان کا شاہکار ان کی مثنوی ’’سحر البیان‘‘ ہے۔ ان کا کلام تقریباً تمام اصناف سخن، مثنوی، غزلیات، ہجویات، قصائد، مرثیے، رباعیات، قطعات، ترکیب بند اور ترجیع بند وغیرہ پر مشتمل ہے۔ وہ قصیدے اور مرثیے کے مرد میدان نہیں البتہ ان کی غزلیں ادبی شان رکھتی ہیں۔ انھوں نے گیارہ مثنویاں لکھیں۔ مثنوی’’سحر البیان‘‘ (قصہ بے نظیر و بدر منیر) نے اردو زبان میں جو شہرت حاصل کی ہے وہ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آج تک کسی مثنوی کو نصیب ہوئی۔ زبان و بیان، جزیات نگاری اور منظر نگاری میں یہ مثنوی اپنا جواب نہیں رکھتی۔ جامعیت، تاثیر اور بیان کی صفائی اور مناسبت یہ ایسی خوبیاں ہیں جو اس مثنوی کے برابر اردو کی کسی اور مثنوی میں نظر نہیں آتیں۔ محاورہ کا لطف، مضمون کی شوخی اور طرز ادا کی نزاکت اس مثنوی کی خصوصیات ہیں۔ زبان کی سادگی اور الفاظ کی بندش کا یہ حال ہے کہ سحر البیان کو لکھے دو سو برس سے زائد گزر چکے لیکن وہ آج کی بولی جانے والی زبان لگتی ہے۔ اسلوب میں پرکاری ہے۔ تکلف و تصنع کا شائبہ تک نہیں۔ یہ مثنوی کہنے کو تو ایک منظوم عشقیہ کہانی ہے لیکن اس میں اس دور کی زندگی، معاشرت، رسوم و رواج، شادی بیاہ کی رسمیں، زنانہ لباس، زیورات، ناچ رنگ وغیرہ کی دلچسپ تفصیلات و جزئیات موجود ہیں۔اس اعتبارسے سحر البیان‘‘ اپنے دور کی ثقافتی تاریخ کا معتبر ماخذ بھی ہے۔ دوسری قابل ذکر مثنوی’’ گلزار ارم‘‘ ہے جس میں میر حسن نے لکھنؤ کی ہجو اور فیض آباد کی تعریف جی کھول کر کی ہے۔ "تذکرہ شعرائے اردو" بھی میر حسن کی اہم تصنیف ہے۔ یہ تذکرہ فارسی میں ہے۔ اس کی اہمیت کا سبب یہ ہے کہ اس میں میر حسن نے قدیم شاعروں اور اپنے ہمعصر شاعروں کا حال معتبر حوالوں کے ساتھ لکھا ہے۔ میر حسن کے بیٹے میر مستحسن خلیق بھی اپنے زمانے کے نامی شاعر تھے۔ میر خلیق کے بیٹے یعنی میر حسن کے پوتے میر انیس اپنی مرثیہ نگاری کے باعث اردو شاعری کے آسمان پر آفتاب بن کر چمکے۔
تصنیف: ہدایت القلوب، ملفوظات حضرت زین الدین شیرازی
سحرالبیان کا خلاصہ :کسی شہر میں ایک بہت بڑا بادشاہ تھا جس کو ہر قسم کی عیش و عشرت میسر تھی۔ مگر اس کے ہاں کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اس لئے وہ مایوس اور پریشان تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیروں کو بلایا اور کہا کہ میرے تاج و تخت کا وارث پیدا نہیں ہوا ہے یعنی میرے ہاں کوئی بیٹا نہیں ہوا اس لیے میں یہ تاج و تخت چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کر رہا ہوں۔ وزیروں نے جواب دیا کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے نجومیوں اور براہمنوں کو بلایا اور انہیں بادشاہ کے مقدر بنانے کے بارے میں کہا۔ سب نے اپنی اپنی کتابیں دیکھیں، حساب و کتاب جوڑا اور عرض کیا کہ خدا پر بھروسہ رکھیّے آپ کا مقدر چمکنے والا ہے۔ آپ کے ہاں چاند جیسا ایک خوبصورت بیٹا ہوگا۔ مگر اپنی عمر کے ابتدائی 12 سال وہ چھت پر نہ جائے۔ محل کے اندر سے باہر نہ نکلے۔ ورنہ کچھ عرصہ کے لیے سے مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ مسافر ہوگا، اس پر جن و پری عاشق ہوں گے اور ایک عورت اس کی معشوقہ ہوگی۔ مگر دکھ اٹھانے کے بعد اسے پھر خوشی نصیب ہوگی۔
بادشاہ کے ہاں 9 ماہ گزرنے کے بعد ایک نہایت خوب صورت بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام"بے نظیر” رکھا۔ بادشاہ نے خیرات کی، خدا کے نام پر دولت لٹائی، فقیروں کو روپے دیے، محتاجوں کی حاجتیں پوری کی، خوشیاں منائیں۔ شہزادہ نہایت حسین و جمیل اور ذہین تھا۔ حسب دستور اسے ابتدا میں قرآن پاک پڑھایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم پڑھائے اور فن سکھائے۔ جب شہزادہ کی عمر 12 سال ہونے کو آئی تو ایک دن شہزادے کو نہلا کر نئے کپڑے پہنائے گھوڑے پر سوار کیا۔ بادشاہ، امیر، وزیر اور ہزاروں لوگ ساتھ چلے۔ شہر سے باہر بادشاہ نے ایک باغ بنوایا تھا اس تک سب گئے۔شہزادے نے اس باغ کی سیر کی اور شام کو شہر میں اپنے محل میں واپس آگیا۔ اتفاق سے وہ رات چاند کی چودھویں رات تھی۔ چاندنی سے ہر طرف روشنی تھی۔موسم خوشگوار تھا ہر طرف خدا کا نور برس رہا تھا۔ یہ عالم دیکھ کر شہزادے کا دل چھت پر جانے کے لئے بے قرار ہوا۔ اس نے اصرار کیا۔خواصوں نے بادشاہ سے عرض کی۔ بادشاہ نے اجازت دے دی مگر خبردار رہنے اور پہرا کرنے کی ہدایات بھی دیں۔ چھت پر پلنگ بچایا گیا، شہزادہ آ کر اس پر سو گیا۔ پہرے دار باری باری پہرہ دے رہے تھے۔ رات کو ایسی ہوا چلی جس سے چاند کے سوا تمام پہرے دار سو گے۔بدقسمتی سے یہ دن بارہویں سال کا آخری دن اور یہ رات آخری رات تھی۔ اسی رات جب سب سو گئے تو اس محل پر سے ایک پری کا گزر ہوا۔ اس کی نظر شہزادہ پر پڑھی۔ اس کے حسن و جمال کو دیکھ کر پری نیچے اتری اور شہزادے کو پلنگ سمیت اڑا کر پرستان میں لے گئی۔ جب پہرے دار جاگے تو دیکھا کہ شہزادہ غائب ہے۔ خواصیں انتہائی پریشان ہوئیں۔ آخر کار انہوں نے بادشاہ اور ملکہ کو خبر دی۔ وہ رونے پیٹنے لگے۔ رات اسی حالت میں گزری۔ صبح سارے شہر میں شور مچ گیا۔ بادشاہ اور ملکہ کی حالت بگڑگئی۔ آخر وزیروں نے سمجھایا اور صبر اور خدا کا شکر کرنے کے لئے کہا۔ رو پیٹ کر تلاش کرکے اور تھک ہار کر سب بیٹھ گئے۔
جب پری نے شہزادے کو اڑایا تو سیدھا لے کر پرستان میں اتارا۔ وہاں ایک نہایت خوبصورت باغ میں رکھا جہاں نہ سردی تھی، نہ گرمی تھی، نہ آگ کا خطرہ تھا نہ بارش کا ڈر تھا۔ طرح طرح کے پھول تھے۔ اتفاق سے جب شہزادہ جاگا تو اس نے اپنے آپ کو ایک اجنبی مقام پر اور اجنبی لوگوں میں پایا۔ شہزادے کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا۔ اس نے دیکھا تو سرہانے ایک نہایت حسین و جمیل پری کو کھڑے پایا۔ شہزادے نے پوچھا تو کون ہے اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟ پری نے جواب دیا کہ تیرے عشق نے مجھے بے قرار کیا ہے اس لیے میں تجھے اٹھا کر یہاں لے آئی ہوں۔ اب یہ گھر میرا نہیں تیرا ہے۔ میں پری ہوں اور یہ پرستان ہے۔ شہزاد نے مجبور ہوکر ہاں میں ہاں ملائی۔ اس طرح شہزادہ پرستان میں رہنے لگا۔ اصل میں وہ ہروقت پریشان اور مایوس رہتا تھا۔ پری کا نام "ماہ رخ” تھا اور باپ سے یہ کام اس نے پوشیدہ طور پر کیا تھا۔ایک دن پری نے کہا کہ میں شام کے وقت اپنے باپ کے پاس جاتی ہوں اس لئے تجھے یہ گھوڑا دیتی ہوں۔ تو اس گھوڑے پر سوار ہو کر سیر کو جایا کر اور رات کا ایک پہر سیر کر کے واپس آ جایا کر۔ مگر شہر میں کسی سے ہرگز دل نہ لگانا ورنہ تمہاری خیر نہ ہوگی۔پری نے شہزادے کو یہ مصنوعی گھوڑا چلانے کا ڈھنگ بھی سکھا دیا۔ اس کے بعد رات کے ایک پہر کے لئے شہزادے نے سیر کرنا شروع کی۔ایک پہر سیر کرکے وہ اپنے مقام پر واپس آ جاتا تھا۔ ایک رات بے نظیر سیر کے لیے گیا۔ اچانک اسے ایک جگہ خوبصورت باغ دکھائی دیا۔ اس میں ایک خوبصورت محل نظر آیا۔شہزادہ نیچے اترا، محل کے اندر گیا اور وہاں پندرہ سال کی ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی کو دیکھا جس کے اردگرد خواصیں کھڑی تھیں۔ اچانک خواصوں میں سے کسی کی نظر شہزادے پر پڑی۔ وہ آپس میں طرح طرح کی باتیں کرنے لگیں۔جب شہزادی نے یہ باتیں سنیں تو اس کے دل میں تڑپ پیدا ہوئی۔ اس کا نام "بدرمنیر” تھا۔ خواصوں کے ساتھ وہ شہزادے کو دیکھنے کے لیے گئی۔ جب اس نے بے نظیر کو دیکھا تو دونوں ایک دوسرے پر عاشق ہو گئے اور ایک دوسرے کا حسن دیکھ کر دونوں بے ہوش ہو گے۔خواصوں میں سے ایک کا نام "نجم النساء”تھا اس نے گلاب چھڑک کر انہیں ہوش میں لایا۔ دونوں نے آپس میں باتیں کیں اور ایک دوسرے کا تعارف کرایا۔ شہزادے کی باتیں سن کر بدرمنیر ناراض ہوئی مگر بے نظیر نے حقیقت اور بے بسی کا اظہار کیا اور روزانہ آنے کا وعدہ کیا۔اس دن شہزادہ واپس چلا گیا اور اس کے بعد حسب معمول روزانہ وہاں آنا جانا شروع ہو گیا۔ یہاں دونوں آپس میں ہنستے کھیلتے تھے اور حسن و عشق کی باتیں کرتے تھے۔
ایک دن شہزادے کو اس حالت میں کسی دیو نے دیکھا اور جاکر پری کو بتا دیا۔یہ سن کر پری کو بہت غصہ آیا۔ اس نے دیوؤں کو حکم دیا اور دیوؤں نے شہزادے کو ایک صحرا میں لے جا کر ایک کنویں میں ڈال دیا اور اوپر ایک بہت بڑا پتھر رکھ دیا اور دیوؤں کو پہرے پر کھڑا کردیا۔ ادھر جب بے نظیر بدرمنیر کے پاس کئی دن تک نہ آیا تو وہ سخت غمگین اور بے قرار ہو گی۔ رو رو کر اس کا برا حال ہو گیا۔ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ اس کو کھانے، پینے، پہننے اور ہار سنگھار کرنے کا ہوش نہ رہا۔بدرمنیر کا یہ حال دیکھ کر وزیر زادی نجم النساء نے کہا کہ پردیسیوں سے اس طرح دل لگانا اچھا نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے شہزادہ آپ کو دھوکہ دے گیا ہو۔ بدر منیر نے کہا کہ خدا ہی جانتا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ شہزادہ دھوکے باز نہیں ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ پری کو اس بات کا علم ہو گیا ہو اور اس نے شہزادے کو کہیں قید کر دیا ہو۔بدرمنیر کی بیتابی دیکھ کر نجم النساء نے اپنا لباس تبدیل کیا، وہ جوگی بنی اور شہزادے کی تلاش میں نکل گئی۔ میدانوں، جنگلوں، پہاڑوں اور آبادیوں میں وہ شہزادے کو تلاش کرتی تھی۔ایک دن وہ ایک جنگل میں پہنچی وہاں اسے رات ہو گئی۔ اس دن چاند کی چودھویں رات تھی۔ ہر طرف چاندنی کا نور پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک جگہ بیٹھ کر بین بجانے لگی۔ اتفاق سے اس رات وہاں سے جنوں کے بادشاہ کے بیٹے فیروز شاہ کا وہاں سے گزر ہوا جس کی عمر بیس سال تھی۔ اس نے بین کی آواز سنی تو نیچے اتر آیا۔ جوگی یعنی نجم النساء کا حسن و جمال اور بین بجانے کے فن کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گیا۔ نجم النساء صبح ہونے تک بین بجاتی رہی اور وہ سامنے بیٹھ کر روتا رہا۔ جب صبح وہ بین بجانا بند کرکے اٹھ کر جانے لگی تو فیروز شاہ نے اسے اپنے تخت پر بٹھایا اور پرستان میں لے گیا۔ وہاں اسے رہنے کے لئے الگ مقام دیا۔ کسی نہ کسی کام کے بہانے وہ ہر روز جوگی نجم النساء کے پاس رہتا تھا اور اس سے بین سن سن کر روتا تھا۔ آخر عاجز ہو کر اس نے پری سے اپنے عشق کا حال بیان کیا۔ نجم النساء نے جواب میں کہا کہ میری کہانی سن کر پہلے تم میری مراد پوری کرو تو پھر تمہاری مراد بھی پوری ہو گی۔
فیروز شاہ نے کہانی پوچھی۔ نجم النساء نے جواب دیا کہ شہر سراندیپ کا بادشاہ "مسعود شاہ” ہے اس کی ایک بیٹی ہے جو نہایت خوبصورت ہے۔ اور جس کا نام بدرمنیر ہے۔ وہ شہزادہ بے نظیر پر عاشق ہے لیکن ماہ رخ پری بھی اس پر عاشق ہے۔ پری کو جب علم ہوا تو اس نے شہزادے کو کہیں پھینک دیا ہے۔میں اسی کی تلاش میں ہوں۔ اس کو تلاش کرنے میں میری مدد کریں پھر آپ کی مراد پوری کروں گی۔یہ سن کر فیروز شاہ نے تمام دیوؤں کو بلایا اور شہزادے کو ڈھونڈنے کے لیے حکم دیا۔یہ حکم پا کر تمام دیو تلاش کے لیے نکل گئے۔ اچانک ایک دیو کا ایک جگہ سے گزر ہوا۔ اسے ایک کنویں سے رونے کی آواز آئی۔ ایک طاقت ور دیو نے کنویں سے پتھر اٹھایا اور شہزادے کو نکال کر فیروز شاہ کے پاس پہنچا دیا۔ نجم النساء اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی اور فیروز شاہ نے شہزادے کو تخت پر بٹھایا اور بدر منیر کے پاس پہنچایا۔ اسے تمام سرگذشت سنائی۔ دونوں خوب روئے۔ اس کے بعد کھانا کھایا اور دونوں الگ الگ خواب گاہوں میں چلے گئے۔اس طرح وہ چاروں بہت دیر تک عیش و عشرت کرتے رہے۔ آخر فیصلہ کیا کہ اس طرح چھپ کر رہنا اچھا نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے والدین سے اپنے اپنے مقصد کا اظہار کریں۔ ہوسکتا ہے خدا ہماری مدد کرے اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔ یہ مشورہ کرکے بدرمنیر اور نجم النساء اپنے اپنے والدین کے پاس چلی گئیں۔
بےنظیر اور فیروز شاہ نے مال و اسباب جمع کیا، فوج تیار کی اور سلطنت کے سامان مہیا کئے۔ پھر اسی جگہ آئے اور وہاں کے بادشاہ مسعود شاہ کو خط لکھا کہ میں ایک شہزادہ ہوں اور میرے مقدر مجھے یہاں لے آئے ہیں آپ مجھے اپنی غلامی میں رکھ لیں۔ بادشاہ خط پڑھ کر متاثر ہوا اور رشتہ منظور کرلیا۔ شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ ساز و سامان تیار کیا اور بڑی دھوم دھام سے بدرمنیر اور بے نظیر کی شادی ہوگئی۔ دونوں خوشی سے رہنے لگے۔ اس کے بعد بے نظیر۔ نجم النساء کے باپ کے پاس گیا اور فیروزشاہ کو اپنا بھائی جتا کر اس کے لیے رشتہ مانگا،وہ رضا مند ہوگیا۔ شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ مال واسباب جمع کیا اور نجم النساء فیروز شاہ کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہو گئی۔ اس کے بعد اخراجات لے کر دونوں پرستان میں چلے گئے۔بے نظیر اور بدر منیر بھی اجازت لے کر اپنے وطن چلے گئے۔ اپنے شہر کے پاس پہنچ کر خیمے لگائے اور وہاں رہنے لگے۔ لوگوں نے ان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ جو شہزادہ غائب ہوا تھا وہ آ گیا ہے۔ یہ سن کر ماں باپ ننگے پاؤں آئے، بیٹے کو گلے سے لگایا اور خوب روئے۔ پھر بے نظیر اور بدر منیر کو اپنے محل میں لے گئے، خدا کا شکر ادا کیا اور خوشیاں منائیں۔ گھر میں رونق ہو گئی۔ ماں باپ کی خواہش تھی کے بے نظیر کی شادی اپنے ہاتھوں سے کریں اس لیے انہوں نے بے نظیر اور بدر منیر کی شادی دوبارہ کرائی اور خوشیاں منائیں۔ خدا کا شکر ادا کیا اس طرح بچھڑے ہوئے ملے اور اجڑا ہوا باغ خدا کے فضل سے پھر سے ہرا بھرا ہو گیا۔

تعارف : نڈت دیا شنکر کول نام ،نسیم تخلص۔ ۱۸۱۱ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ایک معزز کشمیری خاندان سے تعلق تھا۔ فارسی میں اچھی دستگاہ رکھتے تھے۔ خواجہ حیدر علی آتش کے شاگرد تھے۔ امجد علی شاہ، بادشاہ اودھ کی فوج میں بخشی گری کے عہدے پر فائز تھے۔’’مثنوی گلزار نسیم‘‘ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ہے۔ دوسری ان کی تصنیف ’’دیوان نسیم‘‘ ہے۔ عین جوانی میں ہیضے کے مرض میں ۱۸۴۵ء میں لکھنؤ میں انتقال ہوا۔’’گلزارنسیم‘‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کا اختصار ہے ۔
مثنوی’’سحر البیان‘‘ کے بعد مثنوی’’گلزار نسیم‘‘ سب سے بہتر مثنوی تسلیم کی گئی ہے۔
مثنوی "گلزار نسیم” دبستان لکھنو کا ایک اہم کارنامہ ہے اور میر حسن کی مثنوی "سحرالبیان” سے اکثر اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ حالی نے اس پر اظہار افسوس کیا ہے کہ مثنوی جو ایک نہایت کار آمد صنف ہے اردو میں اس کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں کی گئی۔ سحرالبیان اور گلزار نسیم سے یہ کمی کسی حد تک ضرور پوری ہوئی ہے۔
مثنوی "گلزار نسیم” پنڈت دیا شنکر نسیم کی لکھی ہوئی ایک عشقیہ مثنوی ہے جو "قصۂ گل بکاؤلی” کے نام سے مشہور ہے۔ اس مثنوی کا اصل قصہ عزت اللہ بنگالی نے 1722ء میں "قصۂ گل بکاؤلی” کے نام سے فارسی زبان میں تخلیق کیا تھا۔جس کو 1803ء میں منشی نہال چند لاہوری نے گلگرسٹ کی فرمائش پر "مذہب عشق” کے نام سے اردو نثر میں منتقل کیا اور پھر تیسری مرتبہ اس قصے کو پنڈت دیاشنکر نسیم نے اردو نظم کا لباس پہنا کر مثنوی "گلزار نسیم” کے روپ میں 1839ء میں پیش کیا۔ اس مثنوی کو پہلی بار رشید حسن خان نے مرتب کیا۔کہا جاتا ہے کہ نسیم نے جب یہ مثنوی پہلی بار لکھی تو بہت طویل تھی۔ اصلاح کے لیے استاد کی خدمت میں پیش کی تو انہوں نے کہا کہ اسے صرف تم اور میں ہی پڑھیں گے۔ تم اس لیے کہ اس کے مصنف ہو اور میں اس لئے کہ تمہارا استاد ہوں۔ لیکن باقی لوگوں کے پاس اتنی طویل مثنوی پڑھنے کا وقت کہاں۔ استاد کی یہ بات نسیم کے دل میں اتر گئی اور انہوں نے بڑی محنت سے اسے مختصر کر دیا۔ مختصر کرتے وقت بہت سی باتوں کو رمز و کنائے میں بیان کرنا پڑا جس نے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا۔
اس مثنوی کی سب سے اہم خصوصیت رعایت لفظی کا کثرت سے استعمال ہے اور اس میں اختصار پایا جاتا ہے۔ مثنوی میں آوارد کا انداز پایا جاتا ہے لیکن زبان کی برجستگی نے اسے آمد کے قریب کردیا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے اس مثنوی کے بارے میں لکھا ہے کہ "شعر و شاعری کے جن پہلوؤں کے اعتبار سے لکھنؤ بد نام ہے گلزار نسیم نے انہیں پہلو سے لکھنؤ کا نام اونچا کیا ہے زبان کو شاعری اور شاعری کو زبان بنا دینا کوئی آسان کام نہیں” پروفیسر احتشام حسین نے مثنوی گلزار نسیم کو شاعرانہ اور فنکارانہ تخلیق کا معجزہ کہا ہے۔
مثنوی گلزار نسیم کا خلاصہ : مشرق میں ایک بہت بڑا بلند مرتبہ بادشاہ رہتا تھا جس کا نام زین الملوک تھا۔ اس کے ہاں چار بیٹے تھے اس کے ہاں پانچواں بیٹا پیدا ہوا جو نہایت خوبصورت اور ذہین تھا۔ نجومیوں نے بتایا کہ اس کو دیکھنے سے بادشاہ کی آنکھوں سے روشنی چلی جائے گی اس لئے اسے پوشیدہ اور بادشاہ سے الگ رکھ کر دائیوں نے پالا اور اس کا نام تاج الملوک رکھا۔ایک دن بادشاہ شکار سے واپس آ رہا تھا اچانک اس کی نظر تاج ملوک کے چہرے پر پڑی تو بادشاہ کی آنکھوں سے روشنی چلی گئی۔ بادشاہ نے اسے گھر سے نکال دیا، بے شمار علاج کیے لیکن بادشاہ کی آنکھوں میں روشنی نہیں آئی۔ آخرکار آنکھوں کا بہت پرانا اور تجربہ کار معالج بلایا اس نے بادشاہ کی آنکھیں دیکھ کر بتایا کہ باغ بکاؤلی میں ایک پھول ہے اس کا زیرہ لگانے سے بادشاہ کی آنکھوں میں روشنی آ سکتی ہے۔چنانچہ گل بکاولی کی تلاش میں چاروں شہزادے نکل پڑے۔ ان کا لشکر ایک میدان سے گزرا جہاں تاج الملوک بھی تھا۔ اس نے پوچھا کہ یہ لشکر کدھر جا رہا ہے؟ ایک سپاہی نے جواب دیا کہ زین الملوک بادشاہ اپنے بیٹے کو دیکھنے سے اندھا ہو گیا ہے اس کے علاج کے لیے ارم سے گل بکاولی لانے کے لیے لشکر جارہا ہے۔ ایک سپاہی کے ساتھ یہ شہزادہ بھی چل پڑا۔ راستے میں فردوس نام کا ایک مقام تھا جہاں دلبر نام کی ایک طوائف رہتی تھی وہ جس کو مالدار دیکھتی تھی اسے اپنے اندر بلاتی تھی اس کے ساتھ شطرنج کھیلتی تھی اور اپنی خوشی سے سب کچھ لوٹ کر اسے قیدی بنا لیتی تھی۔ یہ چاروں شہزادے بھی اس کے پاس پھنسے اور سب کچھ ہار کر اس کے قیدی بن گئے۔ تاج الملوک خبر لینے کے لئے پھرتا ہوا وہاں پہنچا ایک دایہ اندر سے باہر آئی جس کا لڑکا گم ہو چکا تھا شہزادے کو اس کا ہمشکل پا کر وہ اسے اندر لے گئی۔ اس سے شہزادے نے اپنے بھائیوں کا حال سنا تو اس نے دایہ سے دریافت کیا کہ وہ کون ہے جو سب کو جوئے میں شکست دے دیتی ہے؟ دایہ نے بتایا کہ دلبر نام کی ایک طائف ہے جو جوا کھیلنے میں ماہر ہے وہ ہر ایک کو شکست دے دیتی ہے مال و اسباب لے لیتی ہے اور اپنا قیدی بنا لیتی ہے۔ یہ سن کر شہزادے کو غیرت آئی اس نے کچھ دن ادھر ادھر گھوم پھر کر ماہرین سے شطرنج کھیلنے میں مہارت حاصل کی پھر دلبر کے ساتھ شطرنج کا کھیل کھیلا اسے شکست دے کر قیدی آزاد کرائے۔ اس سے مال و اسباب لے لیا اور اسے اپنا غلام بنا لیا تب شہزادے نے کہا کہ میں ارم کو جا رہا ہوں واپسی پر تمہارے پاس آؤں گا تب تک تم سب یہاں ہی رہو۔ دلبر نے کہا ارم پریوں کا دیس ہے وہاں انسانوں کا جانا ممکن نہیں۔ انسان اور پری کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ شہزادے نے ہنس کر جواب دیا کہ کوشش سے ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے۔
شہزادہ تاج الملوک وہاں سے چل پڑا ایک ایسے صحرا میں پہنچا جہاں ارم ارم کی سرحدیں آکر ملتی تھیں۔ وہاں بادشاہ ارم کا ایک بہت بڑا پہرے دار تھا وہ کہیں دن سے بھوکا تھا شہزادے کو دیکھ کر وہ خوش ہوا کہ خوراک حاصل ہو گئی۔ اتنے میں وہاں سے کئی اونٹ آئے گئی اور شکر سے لدے ہوئے گزرے۔ دیو لپک کر وہاں سے سب کچھ لے آیا۔ شہزادے نے حلوے کی ایک کڑھائی پکا کر دیو کو کھلائی۔ وہ بہت خوش ہوا اور بولا کہ بتاؤ میں تمہیں اس کے بدلے میں کیا دوں؟ شہزادے نے پہلے دیو سے وعدہ لیا اور پھر بتایا کہ میں ارم میں جانا چاہتا ہوں۔ دیو نے کہا وہاں جانا مشکل ہے۔ اب تو نے وعدہ لے لیا ہے اور وعدہ خلافی کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ تب دیو نے اپنے ایک بھائی کو بلایا اور شہزادے کی خواہش بتائی اس نے اپنی بہن ہمالہ دیونی کے نام خط دیا اور کہا کہ یہ آدمی میرا خاص ہے اپنے اندھے باپ کی آنکھوں کے علاج کے لیے اسے بکاؤلی کا پھول درکار ہے۔ اس کے لانے میں اس کی مدد کریں۔ شہزادہ خط لے کر اس کے پاس گیا اس نے بڑی خاطر تواضع کی ترکیب بتائی اور مدد بھی کی۔ زمین کے اندر سے بکاؤلی کے باغ کا سرنگ نکالی۔ بکاؤلی کے باغ میں پہنچ کر اس نے بکاؤلی کا پھول توڑا اسے بڑی حفاظت کے ساتھ اپنے پاس رکھا۔ اس نے دیکھا تو بکاولی بالادری میں سوئی ہوئی تھی پہلے تو اس نے بکاؤلی کو جگانا چاہا مگر پھر مصلحت سمجھ کر چھوڑ دیا اور اپنی انگوٹھی اتار کر بکاؤلی کو پہنا دی اور اس کی انگوٹھی اتار کر خود پہن لی اور اسی سرنگ کے راستے سے حمالہ کے پاس واپس آ گیا۔ اس سے واپس جانے کی اجازت مانگی اس نے اسے دو بال دیے اور کہا کہ جب میری ضرورت پڑے گی ان کو جلانا میں مدد کے لیے آ جاؤں گی۔‌ حمالہ نے دیوؤں سے کہا وہ تخت لائے انہوں نے تخت پر بیٹھا کر شہزادے کو دلبر کے باغ میں پہنچا دیا وہاں پہنچ کر شہزادے نے تمام لوگوں کو دلبر سے آزاد کرایا اور خود وہاں سے اپنے وطن کے لئے روانہ ہو گیا۔ وطن کے قریب پہنچ کر اس نے ایک اندھے فقیر کی آنکھوں پر پھول آزمایا اس کی آنکھوں میں روشنی آ گئی۔ چاروں شہزادے جب ناکام ہو گئے انھوں نے دھوکہ دینے کے لیے نقلی پھول لیا اور شیخیاں مارنے لگے۔ اس فقیر نے کہا اصلی پھول اس آدمی کے پاس ھے جس نے میری آنکھوں کو اچھا کیا۔ چاروں شہزادے اس کے پاس گئے اور پھول دکھا کر کہنے لگے کہ ہم اصلی پھول لائے ہیں۔ تاج ملوک نے انہیں جیب سے نکال کر اصلی پھول دکھایا انہوں نے موقع پاکر پھول چھین لیا اور گھر چلے گئے بادشاہ زین الملوک کی آنکھوں میں پھول کا زیرا لگایا اس کی آنکھوں میں روشنی آ گئی۔ تمام لوگوں نے خوشیاں منائیں۔
ادھر بکاولی پری جب صبح نیند سے جاگی منہ دھونے کے لئے حوض پر گئی تو دیکھا کہ پھول غائب ہے۔ اس نے تمام خواصوں سے پوچھا مگر کوئی پتہ نہ چلا۔ بکاؤلی پھول کی تلاش میں ہر باغ ہر جنگل اور ہر شہر میں گھومنے لگی مگر کہیں پھول کا سراغ نہ ملا۔ آخر کار وہ اس شہر میں پہنچی جہاں پھول سے بادشاہ کی آنکھوں میں روشنی آ نے پر ہر طرف چہل پہل تھی اور خوشیاں منائی جارہی تھیں۔ جادو سے وہ آدمی بنی اور اس طرف گئی جدھر سے بادشاہ کی سواری آرہی تھی۔ خوبصورتی کو دیکھ کر بادشاہ نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ کدھر سے آیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا نام فرح ہے میں فیروز کا بیٹا ہوں اور مسافر ہوں۔ اس کی خوبصورتی اور ذہانت کو دیکھ کر اسے بادشاہ اپنے ساتھ لے گیا اور اسے اپنا وزیر بنا لیا۔ ایک دن باتوں ہی باتوں میں تاج الملوک کا ذکر آیا تو اس نے سمجھ لیا کہ بس وہی ہے۔جب چاروں بھائیوں نے تاج الملوک سے پھول چھین لیا تو وہ نہایت پریشان ہوا اس نے حمالہ دیونی کے دیے ہوئے بال آگ پر جلائے تو وہ فوراً حاضر ہو گئی۔ شہزادے نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ اس جنگل میں "گلشن نگاریں” آباد ہونا چاہیے اور محلات تعمیر ہونے چاہیے اور باغ لگنے چاہیے۔ حمالہ نے دیوؤں کو کہا کہ اس جنگل میں محلات تعمیر کرو باغ لگاؤ اور اسے آباد کرو۔ دیوؤں نے آدمی بن کر محلات تعمیر کئے باغات لگائے اسے آباد کیا انہیں آتے جاتے جو کوئی بھی ملا اسے بھی لا کر یہاں آباد کیا۔ جو خبر سن کر اس مقام پر گیا وہاں اسے جنت سمجھ کر واپس نہیں آیا۔ جب بادشاہ نے اس مقام کی تعریف سنی تو اس نے اپنے چاروں بیٹوں، فرح وزیر اور امیروں کو ساتھ لیا اور "گلشن نگارین” میں آیا۔تاج الملوک نے ان کی بہت خدمت اور خاطر توازہ کی اس نے زین الملوک بادشاہ سے پوچھا کہ آپ کے کتنے فرزند ہیں بادشاہ نے جواب دیا کہ چار یہ ہے ایک اور پیدا ہوا تھا لیکن اس کو دیکھنے سے میں اندھا ہو گیا۔ یہ چاروں بیٹے جاکر بکاؤلی کا پھول لائے تو میری آنکھوں میں نور آگیا۔ تاج الملوک نے بادشاہ سے پوچھا۔ کیا آپ میں سے کوئی اسے پہچانتا ہے؟ ان میں سے ایک اس کا دودھ شریک بھائی تھا اور چلاک بھی تھا وہ بولا کہ بادشاہ سلامت یہ وہی تاج الملوک ہے۔ یہ سن کر تاج الملوک نے باپ کے قدموں میں سر رکھ دیا۔ بادشاہ نے پاؤں سے سر اٹھایا اور بیٹے کو چھاتی سے لگا لیا۔
تاج ملوک نے بادشاہ سے کہا کہ آپ کو دو آدمی تنہائی میں ملنا چاہتے ہیں۔ بادشاہ نے کہا انہیں بلا لیجیے اور یہاں جو غیر ہیں وہ اٹھ جائیں۔ سب وہاں سے اٹھ گے مگر یہ چاروں شہزادے بیٹھے رہے۔ تاج الملوک نے جاکر دلبر کو ساری باتیں پڑھائی اور اسے بلا کر لے آیا۔ دروازے پر آکر دلبر نے کہا کہ یہ چاروں قصوروار ہیں، جھوٹے ہیں، غلامی سے آزاد ہوئے ہیں۔ یہ سن کر چاروں شرمندہ ہوئے۔ دلبر نے وہ تمام داستان سنائی جو شہزادے پر گزری تھی جو کچھ پوشیدہ تھا ظاہر کیا اور ثبوت کے طور پر پری کی انگوٹھی دکھائی۔ وہ چاروں جھوٹے شرمندہ ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ تب دلبر اور محمودہ دونوں بادشاہ کے پاس حاضر ہوئیں اور اس کے قدم چومے بادشاہ نے ان کو انعام و اکرام دیا۔ فرح وزیر (یعنی بکاؤلی) نے چاہا کہ کچھ کہے مگر مصلحت سمجھ کر وہ خاموش رہی اس نے سارا حال سنا۔فرح وزیر جادو سے بکاؤلی پری بن کر اڑ کر اپنے باغ میں آ گئی۔ اسے دیکھ کر خواصوں میں جان پڑی۔ بکاؤلی نے خط لکھا کہ تو باغ ارم سے پھول لے گیا تھا اور مجھے دھوکہ دے گیا تھا تیری وجہ سے مجھے فرح بننا پڑا میں نے تجھے تیرے باپ سے ملایا اور میں نے تجھے بھی پا لیا۔ اب تو جلدی سے میرے پاس آ جا۔ ورنہ میں طوفان برپا کروں گی۔بکاولی نے خط سمن پری کو دیا شہزادے کا پتہ بتایا۔ سمن پری نے وہ خط تاج الملوک تک پہنچایا۔ اس نے پڑھ کر جواب دیا کہ حمالہ دیونی کو بھیج تاکہ مجھے لے چلے ورنہ میں تیرے فراق میں جان دے دوں گا۔ سمن پری نے خط بکاؤلی تک پہنچایا۔ وہ خط پڑھ ہی رہی تھی کہ حمالہ دیونی حاضر ہو گئی۔ وہ فوراً آگئی اور تاج الملوک کو اٹھا کر لے آئی۔ دونوں ارم میں رہنے لگے اور خوشی منانے لگے۔ کسی چغل خور نے بکاؤلی کی ماں جمیلہ کو راز بتایا اس نے اٹھا کر تاج ملوک کو دریائے طلسم میں ڈال دیا اور پری کو قید کر دیا۔ اس کی پریوں نے بکاؤلی کو بہت سمجھایا مگر وہ اپنے ارادے کو بدل نہ سکی۔
شہزادہ تاج الملوک جب دریائے طلسم سے باہر نکل کر آ گیا تو اسے ایک جزیرہ نظر آیا وہاں ایک اژدہا نظر آیا۔ اس نے اپنے منہ سے ایک کالا سانپ نکالا۔ کالے سانپ نے اپنے منہ سے ایک من نکال کر زمین پر رکھی اور اسے چاٹنے لگا۔رات انہوں نے اسی طرح گزاری جب صبح ہوئی تو کالے سانپ نے من اپنے منہ میں ڈالی اور اژدہے نے سانپ کو نگل لیا اور غائب ہو گیا۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا شہزادے نے سوچا کہ ان سے من کیسے حاصل کیا جائے۔ وہاں کچھ گائیں چر رہی تھیں۔ شہزادے نے گوبر اٹھا کر من پر پھینکا من دب گیا اور دونوں سانپ اندھے ہوگئے۔ شہزادے نے من اٹھا لیا جب صبح ہوئی تو شہزادہ وہاں سے چل پڑا۔ راستے میں ایک حوض پر ایک پری کو روتے ہوئے پایا۔ شہزادے نے اسے پوچھا کہ تمہارے رونے کی کیا وجہ ہے اس نے جواب دیا کہ میں پری ہوں میرا نام روح افزا ہے میرے باپ کا نام مظفر ہے۔ وہ فردوس کا بادشاہ ہے اور ارم کا بادشاہ میرا چچا ہے۔ بکاولی بیمار تھی ایک دن میں اس کی خبر گیری کے لئے جا رہی تھی تو مجھے ایک دیو زبردستی اٹھا کر یہاں لے آیا۔ بکاولی کا نام سن کر تاج الملوک رونے لگا۔ پری نے کہا اگر میں یہاں سے چھوٹ جاتی ہوں تو آپ کی ضرور مدد کرتی، مگر مجبور ہوں۔
شہزادے نے اس پری کو ساتھ لیا اور فردوس میں اپنے ماں باپ کے پاس پہنچا دیا۔اسپری کی ماں حسن آرا اور باپ مظفر نے شہزادے کا شکریہ ادا کیا شہزادہ جانے لگا تو انہوں نے روک لیا۔ بکاولی اور اس کی ماں جمیلہ روح افزا کی خبر گیری کے لئے اس کے گھر آئیں۔ خبر گیری کے بعد جمیلہ واپس چلی گئی اور بکاولی کو روح افزا کے اصرار پر ایک ہفتہ کے لئے وہیں چھوڑ دیا۔ اس کے بعد روح افزا نے بکاولی اور تاج ملوک کی ملاقات کرائی۔ سات دن گزرنے کے بعد جمیلہ آئی اور بکاولی کو لے گئی۔اس کے بعد روح افزا نے اپنی ماں سے کہا کہ شہزادے کے احسان کا بدلہ چکایا جائے اور بکاولی اور تاج الملوک کی شادی کرائی جائے۔ حسن آرا نے بات مان لی وہ جمیلہ کے پاس گئی اس کو منایا۔ پھر بکاولی کے باپ فیروز شاہ سے بات کرکے اسے بھی منایا۔ تاریخ طے ہوئی سامان مہیا کیا اور بکاولی اور تاج الملوک کی شادی ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد اجازت لیکر شہزادہ اپنے وطن واپس چلا گیا۔ جب "گلشن نگارین” میں پہنچے تو محمودہ اور دلبر بہت خوش ہوئیں۔ کچھ عرصہ کے بعد راجہ اندر کو بکاؤلی کی یاد آئی۔ اس نے پریوں سے پوچھا کہ بکاؤلی کہاں ہے۔ پریوں نے بتایا کہ اس نے شہزادہ تاج الملوک سے شادی کر لی ہے۔ راجہ اندر نے حکم دیا کہ وہ جہاں ہے اسے اٹھا کر لے آؤ۔ پریاں گئییں اور بکاؤلی کو تاج الملوک کے ساتھ اٹھا کر راجہ اندر کے دربار میں لے گئیں۔ اسے آگ میں ڈال کر پاک کیا گیا پھر وہ راجہ اندر کی محفل میں ناچنے اور گانے لگی۔ وہاں سے اجازت ملتے ہی رات کے آخری پہر وہ اڑ کر چلی گئی۔ اس کے بعد یہ اس کا روزانہ کا معمول بن گیا ایک دن رات کے وقت شہزادہ جاگا تو دیکھا کہ پری بغل میں نہیں ہے۔ وہ پریشان ہو گیا کچھ دیر بے قرار رہنے کے بعد وہ سوگیا۔ صبح کے وقت جاگا تو پری کو اپنی بغل میں پایا۔ اس پر شہزادے کو شک ہو گیا دوسری رات شہزادہ جاگتا رہا۔ جب پری تخت پر سوار ہو کر جانے لگے تو وہ پیچھے پیچھے آیا اور تخت کا پایا پکڑ کر ساتھ چلا گیا۔چھپ کر وہاں سے محفل میں گیا۔ وہاں بکاؤلی کے ناچ گانے کا لطف اٹھایا۔ طبلہ نواز سے طبلہ لے کر خوب بجایا اور محفل کو متاثر کیا۔ راجہ اندر نے خوش ہو کر بکاؤلی کو نو لاکھ کا ہار دیا اس نے وہ ہار طبلہ نواز یعنی تاج الملوک کے کاندھے پر ڈال دیا۔ محفل ختم ہوئی۔ پری سوارہوکر واپس گئی تو اسی طرح پائے کے ساتھ چمٹ کر شہزادہ بھی واپس آگیا۔ محل میں پہنچ کر بکاؤلی کپڑے بدلنے کے لیے گئی تو شہزادہ اپنے پلنگ پر آکر سوگیا۔ اگلی صبح یہ راز فاش ہوگیا۔ پری نے شہزادے کو وہاں جانے سے منع کیا مگر اس نے ایک نہ مانی۔ جب اگلی رات آئی تو حسب معمول شہزادہ بھی پری کے ساتھ راجہ اندر کی محفل میں گیا۔ پری ناچنے گانے لگی اور شہزادہ طبلہ بجانے لگا محفل ختم ہونے پر آئی تو راجہ اندر نے بکاؤلی سے کہا مانگو جو کچھ مانگنا ہے۔ اس نے صلے میں شہزادہ تاج ملوک کو مانگ لیا راجہ اندر کو غصہ آیا اس نے بد دعا دی کہ جا تیرا آدھا جسم پتھر کا ہو۔ کچھ عرصہ تو اسی طرح رہے۔ پھر تیرے جسم میں تبدیلی آئے تو آدمی کی شکل میں آئے۔ 12سال تو اسی طرح رہے۔ اس کے بعد تجھے پری کا جسم ملے اور تو اپنی مراد پائے۔پری کو ایک بت خانے میں پھینکا گیا جہاں اس کا کمر سے نیچے کا جسم پتھر کا ہو گیا اور شہزادے کو ایک صحرا میں پھینک دیا گیا۔ صحرا میں چلتے ہوئے وہ ایک چشمہ پر پہنچا جہاں کچھ پریاں نہا رہی تھیں۔ پریوں نے شہزادے کو دیکھا تو ہنسنے لگیں اور ایک دوسرے سے کہنے لگیں کہ یہ وہی طبلہ نواز ہے جس پر بکاؤلی عاشق ہے۔ بکاولی کا نام سن کر شہزادے نے پریوں سے کہا کہ خدا کے لئے بکاؤلی کا پتا بتائے۔ پریوں نے اسے بت خانے میں پہنچا دیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی اپنی داستان سنائی صبح ہوتے ہی شہزادہ وہاں سے نکل کر باہر گیا۔ راستے سے بھول کر وہ ایک محل کے قریب پہنچا۔ راجا کی ایک بیٹی تھی جس کا نام چتراوت تھا۔ شہزادے کو دیکھ کر وہ اس پر عاشق ہو گئی۔ شہزادے کو بلا کر اسے محل میں پابند کر لیا گیا اور شادی کے لئے مجبور کر دیا گیا۔
اس طرح چترات اور تاج الملوک کی شادی ہوگئی۔ دوسری رات جب شہزادہ پری کے پاس گیا تو مہندی والے ہاتھ دیکھ کر وہ ناراض ہو گئی۔ شہزادے نے مجبوری کا اظہار کرکے پری کو مطمئن کیا۔ شہزادہ رات کو اٹھ کر پری کے پاس بت خانے میں جاتا تھا۔ ایک دن شہزادے کو پاس نہ پا کر چتراوت کو شک ہو گیا اس نے نوکروں سے شہزادے کا پیچھا کرایا۔ سارا راز فاش ہوگیا نوکروں نے بتایا کہ شہزادہ ایک پری سے پیار کرتا ہے جو بت خانے میں ہے۔ چتراوت کے حکم سے بت خانے کو کھود کر باہر پھینک دیا گیا۔ پری بھی نیست و نابود ہوگئی۔ ایک کسان نے اپنے کھیت میں سرسوں بوئی جب وہ تیار ہوئی تو دہقان کی بیوی نے وہاں سے ساگ کھایا۔ اس سے حمل ہو گیا 9 ماہ گزرنے کے بعد اس کے بدن سے ایک خوبصورت بچی پیدا ہوئی اور بہت جلدی جوان ہوگئی۔ہر طرف اس کی خوبصورتی اور جوانی کا چرچا ہو گیا یہ شہرت سن کر تاج الملوک اسے دیکھنے کے لئے آیا۔ لڑکی کو دیکھ کر شہزادے کو راجہ اندر کی بات یاد آگئی۔ تاج ملوک نے کسان سے لڑکی کا رشتہ مانگا مگر اس نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا لیکن چہرے کو دیکھ کر اس سے اندازہ ہوا کہ یہ پری ہی ہے۔ شہزادہ واپس چلا گیا اور مناسب وقت کا انتظار کرنے لگا۔
خدا کے فضل سے برا وقت گزر گیا اور اچھا وقت آیا لڑکی باپ کو ہاتھ سے پکڑکر مکان کے پیچھے لے گئی وہاں اسے دفن کیا گیا خزانہ بتایا اور باپ سے کہا کہ میں بکاؤلی پری ہوں اور ایک آدمی ذات کی وجہ سے مجھے خدا نے تیرے گھر پیدا کیا ہے۔ مگر یہ بات ظاہر نہ کیجئے۔ اچانک سمن پری تخت لے کر بکاولی کے پاس آئی اسے تخت پر بٹھایا اور اڑا کر چتراوت رانی کے محل میں لے گئی۔ تاج الملوک سویا ہوا تھا اسے جگایا جب شہزادہ اٹھا تو سورج چڑھا ہوا تھا۔ رانی بھی جاگ گئی۔ پری نے اسے دیکھ کر کہا کہ یہی میری سوتن ہے؟ شہزادے نے کہا کہ یہ تمہاری کنیز ہے۔ اس کے بعد سمن پری نے بکاؤلی، تاج الملوک اور رانی کو تخت پر بٹھایا اور "گلشن نگاریں” میں لے گئی۔ مدت سے کھوئے ہوئے شہزادے کے دوبارہ واپس آنے پر سب نے خوشیاں منائیں۔ بکاولی کی تاج الملوک سے شادی ہوگئی۔ تمام لوگ ایک ایک کرکے چلے گئے مگر بکاؤلی نے روح افزا کواپنےپاس روک لیا۔
ایک دن روح افزا چاندنی رات میں سوئی ہوئی تھی۔ سلطان کا وزیر بہرام سیر کرتا ہوا آیا۔ پری کو دیکھ کر وہ اس پر عاشق ہو گیا۔ سمن پری کو ایک دن وہ اکیلا پاکر بہرام نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ میں روح افزا پر عاشق ہوں۔ اس سے میری شادی کرائیے۔ سمن اسے لے کر روح افزا کے پاس آئی۔ اس سے ملاقات کرائی۔ روح افزا دن کو بہرام کو فاختہ بنا کر پنجرے میں بند کر لیتی تھی اور رات کو اسے آدمی بنا کر اپنے پاس رکھتی تھی اور عیش و عشرت کرتی تھی۔ ایک چغل خور خواص نے اس بات کی خبر روح افزا کی ماں حسن آرا کو کر دی۔ اس نے پنجرا منگوایا، جادو دور کیا اور پنجرہ کھولا تو دیکھا کہ وہ آدمی زاد ہے۔ اس نے حکم دیا کہ اسے لے جا کر جلا دو۔ لوگ اسے جلانے کے لیے لے جا رہے تھے اچانک راستے میں بکاؤلی اور تاج الملوک مل گئے۔ انہوں نے پہچان لیا۔ بہرام کو ان سے چھوڑا کر فردوس میں لے گئے۔ حسن آرا کو منایا اور بہرام اور روح افزا کی شادی کرا دی۔ اس کے بعد اپنے اپنے مقامات پر چلے گئے۔ اس طرح ان کی مرادیں پوری ہو گئیں۔

مرثیہ عربی لفظ ،رثا سے مشتق ہے ۔رثا کے معنی مردے پر رونا اور آہ وزاری کرنا ہے ۔ یہ صنف عربی شاعری میں رائج تھی جس میں اپنے عزیزوں اور بزرگوں کے انتقال پر رنج والم کے جذبات سے پُر اشعار کہے جاتے تھے ،انہیں مرثیہ کہا جاتاتھا۔ مرثیہ اردومیں موضوعاتی لحاظ سے واقعات کر بلا سے مخصوص ہوگیاہے۔ یہ اسی مفہوم میں اردو میں رائج ہے لیکن اردو میں ایسے مرثیوں کی بھی کمی نہیں جو مختلف اشخاص کی اموات پر اظہار غم کے لیے لکھے گئے ہیں ۔ عام طور پر مرثیہ مسدس کی ہیئت میں لکھے جاتے ہیں ۔ مرثیہ نویسی میں مشہور نام میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے ہیں ۔مرثیہ کے اجزائے ترکیبی میں چہرہ ، سراپا، رخصت ،آمد، رجز ،رزم ، شہادت بین ہیں جو میر ضمیرؔ نے قائم کیے تھے ۔لیکن تما م مرثیوں میں ان کی پابندیاں لازماً نہیںملتی ۔
مرثیہ کی کوئی ایک فارم مقرّر نہیں ہے۔سوداؔ سے قبل مرثیہ مخمس، ترجیع بند، غزل وغیرہ کی شکل میں لکھے جاتے تھے۔بعض ادبی مورخین کا خیال ہے کہ مرثیہ کو مسدس کی شکل پہلی بار سوداؔ نے دی۔بعد کومرثیہ کی یہی فارم سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔
مرثیہ کی نشو نما :دیگر اصناف سخن کی طرح مرثیے کی ابتدا بھی دکن سے ہوئی، شاہان گولکنڈہ و بیجا پور خود بھی شاعرانہ ذوق کے حامل تھے اور شعرا کے قدردان بھی تھے بلکہ بعض نے مرثیہ (ہیئت کے فرق سے) خود بھی کہے، ولی کے بارے میں خیال ہے کہ انھوں نے مرثیہ نہیں کہا مگر واقعات کربلا پر ان کی ایک مثنوی ملتی ہے جس کو ہم مثنوی کی ہیئت میں مرثیہ کہہ سکتے ہیں (اس وقت تک مرثیے کے لیے ہیئت مقرر نہ تھی) مرثیہ حصول ثواب کے لیے بطور مذہبی فریضہ لکھا جاتا تھا ،اس لیے اس کی عروضی خامیوں پر توجہ ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی ، میر تقی میرؔ نے تذکرہ نکات الشعراء میں کئی مرثیہ گو شعرا کے نام تحریرکیے ہیں۔
خود میرؔ اور سوداؔ نے مرثیے لکھے مگر ان کے مراثی میں کوئی جدت زمانۂ گزشتہ سے نہیں ملتی بلکہ ان مرثیوں میں حقیقی جذبات اور اثر آفرینی بھی مفقود ہے، البتہ سوداؔ کے مرثیے میں ہیئتی تبدیلی کا سہرا ضرور باندھا جاسکتا ہے کیونکہ سودا کے زمانے تک مرثیہ عام طور پر چومصرعہ ہوا کرتے تھے، خیال ہے کہ سوداؔ نے سب سے پہلے مسدس میں مرثیہ لکھا جہاں تک مضمون، جدید تشبیہات و استعارات، میدان کار زار کے تفصیلی حالات کا مرثیہ میں اضافے کا تعلق ہے، اس کے لیے میرضمیرؔکا نام لیا جاتا ہے گویا مرثیے کا رنگ و انداز بدلنے میں میر ضمیر ؔکو اولیت حاصل ہے۔
میر ضمیرؔ کے بعد کئی مرثیہ گو شعرا کے مختصر حالات ملتے ہیں، البتہ میر خلیقؔ نے مرثیے کے بندوں میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ جدید مضامین و مطالب بھی پیدا کیے جس کے باعث مرثیے گو مقبولیت حاصل ہوئی اور بطور صنف شاعری اس کا مقام متعین ہوا اور مرثیہ اردو شاعری کی ایک معتبر صنف قرار پایا میر خلیقؔ کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے زبان کی صفائی وسلاست، محاورے کی صحت اور روزمرہ پر خصوصی توجہ دی، انھوں نے کلام میں ادق تشبہیات اور شکوہِ الفاظ کے بجائے درد اور اثرآفرینی کو ترجیح دی جو آگے چل کر میر انیسؔ کے کلام کی نمایاں خصوصیت قرار پائی۔
میر انیسؔ نے واقعات کربلا کو تاریخ کے ساتھ ساتھ شاعرانہ حسن کے تناظر میں پیش کرکے اردو شاعری کے دامن کو اس قدر وسعت دی کہ مزیدکوئی گنجائش نہ رہی، انیس ؔکی شاعری پر اظہار خیال کرنے والوں نے ان کی فصاحت وبلاغت، تمثیلوں، استعاروں اور صنایع و بدایع کا تواتر سے تذکرہ کیا ہے اس میں شک نہیں کہ کلام انیس ؔمیں یہ تمام خصوصیات موجود ہیں مگر انیس ؔکا اصل کمال کردار نگاری، منظرکشی اور جذبات انسانی کی مرقع کشی میں ہے، انسانی تعلقات اور رشتوں کا تقدس ایک مکمل اسلامی معاشرے کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے، انیس نے خانوداہ رسالتؐ کی عظمت،کرداروں کے تزکیہ نفس سے مرثیے کی فضا کو بے حد اعلیٰ و ارفع بنادیا ہے۔ مرثیے کا یہ ارتقا انیسؔ کے زمانے تک ہے جو رکا نہیں بلکہ ارتقا کا یہ سفر جاری ہے ،جدید مرثیے کا آغاز جوش ملیح آبادی سے کیا جاتا ہے۔ جوش نے یہ جدت اختیار کی کہ موضوعاتی یا عنواناتی مرثیے لکھے ۔آزادی کے بعد آزاد نظم کی صورت میں بھی کچھ مرثیے کہے گئے۔
اجزائے ترکیبی : میر ضمیرؔ نے مرثیہ کے اجزاے ٔ ترکیبی متعین کئے جو درجِ ذیل ہیں
چہرا :مرثیہ کا ابتدائی حصہ چہرہ کہلاتا ہے۔ چہرہ دراصل مرثیہ کی تمہید ہے۔(جس طرح سے قصیدہ کی تمہید ’تشبیب‘ کہلاتی ہے) اس میں مختلف موضوع دیکھنے کو ملتے ہیں مثلاً مناظر فطرت، قلم یا شعر کی تعریف،شاعرانہ تعلی ،صبح و شام کا بیان وغیرہ۔مثال کے طور پر انیس نے اپنے ایک مرثیہ کا آغاز یوں کیا ہے۔
چلنا وہ باد صبح کے جھونکوں کا دم بہ دم      مرغان باغ کی وہ خوش الحانیاں بہم
وہ آب و تاب نہر، وہ موجوں کا پیچ و خم      سردی ہوامیں، پر نہ زیادہ بہت نہ کم
کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا تھا      موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوا
سراپا :مرثیہ کے جس حصہ میں شاعر ہیرو (کردار)کا تذکرہ کرتا ہے اسے سراپا کہتے ہیں۔ سراپا میں ہیرو کی خصوصیات بھی بیان کی جاتی ہیں مثلاً اس کے خد و خال، قد و قامت اور شان و شوکت وغیرہ۔
پیشانیاں خورشید جہاں تاب سے بہتر      رخسار وہ رنگین گل شاداب سے بہتر
دانتوں کی صفا، گوہر نایاب سے بہتر      چہرے کا عرق موتیوں کی آب سے بہتر
ابرو نہیں پیشانی ذی قدر سے نیچے      ہیں دو مہ نوبال سے اک بدر کے نیچے
رخصت :جنگ میں جانے قبل ہیرو اپنے عزیز و اقارب سے ملتا ہے اور اس کے اہل و عیال اسے رخصت کرتے ہیں۔ جس حصہ میں ان واقعات کا بیان ہوتا ہے اسے رخصت کہتے ہیںمثال ملاخطہ ہو ۔
جب سب سے مل چکا تو حر نے کیا کلام      امیدوار حرب کی رخصت کا ہے غلام
روکر یہ اس سے کہنے لگے شاہ تشنہ کام      اک دم تو گھر میں فاقہ کشوں کے بھی کر قیام
ہم پہلے داغ خویش برادر کے دیکھ لیں      تو ہم کو دیکھ، ہم تجھے جی بھر کے دیکھ لیں
آمد : میدان جنگ میں ہیرو کی آمد ہوتی ہے۔ یہاں مرثیہ میں ایک جوش و خروش نظر آتا ہے اور شاعر جذباتیت کے عروج پر ہوتا ہے۔ اس حصہ کو آمد کہتے ہیں۔ملاخطہ کیجئے۔
حر چلا فوج مخالف اڑا کر توسن      چوکڑی بھول گئے جس کی تگا پو سے ہرن
وہ جلال اور وہ شوکت، وہ غضب کی چتون      ہاتھ میں تیغ، کماں دوش پہ، بر میں جوشن
دوسرے دوش پہ ثملہ کے جو بل کھاتے تھے      کاکل حور کے سب پیچ کھلے جاتے تھے
رجز :آمد کے بعد ہیرو کی زبانی اپنے اپنے آبا ئو اجداد کے اوصاف و کمالات کا بیان ہوتا ہے جسے رجز کہتے ہیں۔مثال ملاخطہ ہو۔
ہم صاحب شمشیر ہیں ہم شیر جری ہیں      ہم بندہ مقبول ہیں عصیاں سے بری ہیں
ایک ان سے میں آیا ہوں جرات میری دیکھو      سن دیکھو مرا اور شجاعت میری دیکھو
کیا دیر ہے منہ پر میری شمشیر کے آؤ      دیکھوں تو بھلا کچھ ہنر جنگ دکھاؤ
رزم/جنگ :اب شاعر جنگ کے مناظر پیش کرتا ہے اور ہیرو بے جگری سے لڑکر باطل کے خلاف حق کے لیے جان دیکر شہید ہو جاتا ہے۔ یہ حصہ کافی درد و الم کے بیان میں گزرتا ہے۔ اس حصہ میں شاعر درد و رنج کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ مثال دیکھیں۔
قاسم نے رن میں لاشے پہ لاشہ گرادیا      عباس نے بھی خون کا دریا بہا دیا
اکبر نے دم میں ناموروں کو بھگا دیا      انداز ضرب شیر الہی دکھا دیا
تنہا جب اس کے بعد شہ بحر و بر ہوئے      تیروں کے سامنے علی اصغر سپر ہوئے
شہادت :مرثیے کا وہ حصہ جس میں ہیرو شہید ہو جاتا ہے۔ یہاں شاعر شدید رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور درد و الم کا ماحول پیدا کرتا ہے۔
لیتا تھا غش میں، ہچکیاں وہ چودھویں کا ماہ      جو گرز فرق پاک پہ مارا کسی نے، آہ
بیٹھا گلے پہ تیر کہ حالت ہوئی تباہ      رہوار سے گرا پسر شاہ دیں پناہ
بنت رسول رونے منہ ڈھانپنے لگی      تڑپا وہ نوجواں کہ زمیں کانپنے لگی
بین :یہ مرثیہ کا آخری جز ہے جس میں شہید کے اقارب اور اہل خانہ گریہ وزاری اور آ ہو بکا کرتے ہیں۔یہ مناظر بھی بڑے دردناک ہوتے ہیں۔مثال دیکھیں۔
شبیر نے یہ خیمے کی ڈیوڑھی سے پکارا، مارے گئے اکبر      گھر لٹ گیا ، اے بانوے دلشاد تمھارا، مارے گئے اکبر
ہم بیکس و تنہا ہوئے، وا حسرت و دردا، وا حسرت و دردا      جینے کا سہارا نہ رہا کوئی، مارے گئے اکبر

مرثیہ کے آخری دو اجزاء یعنی شہادت اور بیں اس کا اصل مموضوع ہوتے ہیں ان کی کامیابی پر مرثیہ نگار کی کامیابی کا دار و مدار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شہادت اور بین کی پیش کش میں شاعر اپنا سارا زورِ کلام صرف کرتا ہے اور اپنے اشعار کو موثر بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔

میر ببر علی نام اور انیس تخلص تھا۔1802ء میں فیض آباد میں پیدا ہوئے۔انیس کے آباواجداد دہلی کے رہنے والے تھے۔ان کے پردادہ میرغلام حسین ضاحک دہلی کی تباہی کے بعد اپنے بیٹے میر حسن کے ساتھ دہلی چھوڑکر فیض آباد چلے آئے۔میر انیس کے والد کا نام میرخلیق تھا جو اردو کے مشہور مرثیہ گو شاعر تھے۔اس طرح انیس کو شاعری اور زبان دانی ورثہ میں ملی تھی۔
اردو کے عظیم شاعروں میں انیس کا شمار ہوتا ہے۔انیس کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے صنفِ مرثیہ کو بام عروج پر پہنچا دیا اور اسے ایسا فروغ دیا کہ مرثیے میں مزید ترقی کے امکانات ہی ختم ہوگئے۔مرثیہ نگار انیس کے بعد بھی پیدا ہوئے لیکن ان میں سے کوئی بھی اس صنفِ سخن میں اضافہ نہ کرسکا۔انیس کو اردو کا ہومر کہا جاتا ہے۔
شاعری اور زبان دانی انیس نے ورثہ میں پائی تھی اس لیے بچپن ہی یعنی 13 سال کی عمر میں شعر کہنے لگے۔انھوں نے غزل گوئی سے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔جب والد نے سمجھایا کہ عاقبت کی فکر بھی لازم ہے تو اسلام اور مرثیہ کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس صنف کو آسمان پر پہنچا دیا۔ انیس پہلے حزیں تخلص کرتے تھے۔ ناسخ کے کہنے پر 1816ء میں انیس تخلص اختیار کیا۔ ہوا یوں کہ 1816ء میں اپنے والد خلیق اور ناسخ کے سامنے انیس نے جب یہ مطلع پڑھا”کھلا باعث یہ اس بے درد کے آنسو نکلنے کا” تو ناسخ نے بہت تعریف کی ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کا تخلص حزیں کے بجائے کچھ اور ہو تو بہتر ہے۔ اس پر خلیق نے کہا کہ آپ ہی ان کے لئے کوئی تخلص تجویز فرمائے۔ تو ناسخ نے کہا کہ مجھے انیس پیارا لگتا ہے۔قبضہ میر ببر علی نے خزیں کے بجائے انیس تخلص اپنا لیا۔
انیس کو مختلف علوم پر قدرت تھی،گھوڑ سواری اور سپہ گری سے بھی واقفیت رکھتے تھے اس لئے مرثیہ گوئی میں بھی بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ان کے بہت سے مرثیے زمانے کے ہاتھوں تلف ہوگئے اور بہت سے ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں۔انیس کے مرثیوں کی ہیت مسدس ہے۔
انیس انسانی نفسیات سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور خوب جانتے تھے کےکس صورتحال میں کیا واقعہ پیش آسکتا ہے یا کس موقع پر کونسا کردار کیا قدم اٹھائے گا یا اس کی زبان سے کیا کلمات ادا ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ انیس نے کردار نگاری میں بڑی مہارت کا ثبوت دیا۔اس صنف میں کردارنگاری بہت مشکل تھی کیونکہ کرداروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے پھر یہ کردار مختلف قسم کے ہیں۔ ایک طرف نیک اور دیندار لوگ ہیں تو دوسری طرف برے اور بے دین۔کربلائی کرداروں میں مرد بھی ہیں، عورتیں بھی، بوڑھے، بچے اور نوجوان بھی،مختلف لوگوں کے مختلف مزاج ہیں مگر انیس نے تمام کرداروں کے ساتھ انصاف کیا ہے اور خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیے ہیں۔
پلاٹ کی ترتیب میں بھی انیس نے بے مثال فنکاری کا ثبوت دیا ہے۔واقعہ کربلا کے سلسلے میں جتنے واقعات پیش آئے و ہ تاریخ کی کتابوں میں موجود نہیں صرف اشارے ملتے ہیں۔یہ فنکار کا کمال ہے کہ اس نے گم شدہ کڑیوں کو اپنے تخیل کے ذریعے فراہم کردیا اور مربوط پلاٹ پیش کردئیے۔جناب حر کا مرثیہ” بخدا فارس میدان تہور تھا حر” اس کی بہترین مثال ہے۔انیس نے ایک مرثیے میں دعا کی تھی کہ "اے خدا مجھے ایسی مہارت عطا فرما کہ خون برستا نظر آئے جو دکھاؤں صف جنگ” دعا مقبول ہوئی اور انیس نے جو واقعہ بیان کیا اس کی تصویر کھینچ دی۔میدان جنگ کی تصویر اس خوبی سے کھینچی کہ ایک خونی ڈراما پیش نظر ہوگیا۔انیس نے اپنے مرثیوں میں مختلف مناظر پیش کئے ہیں ہر جگہ مرقع کشی کا حق ادا کیا ہے۔
انیس کے مرثیوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان میں اخلاقی تعلیم بھی ملتی ہے۔ان کے مرثیے نیکی، بلندکرداری، ایثار اور حق گوئی کی تعلیم دیتے ہیں۔اور یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان کو باطل کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینا چاہیے۔اور اس سلسلے میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے انہیں پامردی کے ساتھ برداشت کرنا چاہئے۔شاعری کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہترین الفاظ بہترین ترتیب کے ساتھ یکجا کر دیے جائیں تو شعر وجود میں آتا ہے۔ انیس کے مرثیے اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں۔انھیں زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔وہ اس راز سے بخوبی واقف تھے کہ کون سا لفظ کہاں مناسب رہے گا۔گویا فصاحت انکی زبان کا وصف خاص ہے۔
انیس کے مرثیوں نے اردو زبان کا دامن وسیع کردیا۔اردو شاعری میں ابھی تک کسی نے اتنے الفاظ و محاورات استعمال نہیں کیے جتنے انیس نے کیے ہیں۔انیس نے مرثیہ میں رزمیہ کی شان پیدا کی اور اس صنف کو ایسے مقام پر پہنچا دیا گیا کہ ابھی تک اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکا۔ میر انیس کے مرثیوں کی کل پانچ جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ان کے کچھ مشہور مرثیوں کے ایک مصرعے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔
یا رب چمن نظم کو گلزارِ ارم کر ۔
فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے۔
بخدا فارس میدان تہور تھا حر۔
پھولا شفق سے چرخ پہ جب لالہ زار صبح۔
آمد ہے کربلا کے نیستاں میں شیر کی۔
جب بادبان کشتی شاہ امم گرا۔
جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے۔
نمک خوان تکلم ہے فصاحت میری۔

ختم شورِ طوفاں تھا ، دور تھی سیاہی بھی                  دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی
نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری      ناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میری
رنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری      شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری
عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں      پانچویں پشت ہے شبیرؔ کی مداحی میں
ایک قطرے کو جو دوں بسط تو قلزم کردوں      بحر مواج فصاحت کا تلاطم کر دوں
ماہ کو مہر کروں ذروں کو انجم کردوں      گنگ کو، ماہر انداز تکلم کر دوں
درد سر ہوتا ہے بے رنگ نہ فریاد کریں      بلبلیں مجھ سے گلستاں کا سبق یاد کریں
اس ثنا خواں کے بزرگوں میں ہیں کیا کیا مداح      جدّ اعلیٰ سے نہ ہوگا کوئی اعلیٰ مداح
باپ مداح کا مداح ہے دادا مداح      عم ذی قدر ثنا خوانوں میں یکتا مداح
جو عنایات الٰہی سے ہوا نیک ہوا      نام بڑھتا گیا جب ایک کے بعد ایک ہوا
طبع ہر ایک کی موزوں قد زیبا موزوں      صورت سرو ازل سے ہیں سراپا موزوں
نثربے سجع نہیں، نظم معلیٰ موزوں      کہیں سکتہ نہیں آ سکتا، کجا ناموزوں
تول لے عقل کی میزاں میں جو فہمیدہ ہے      بات جو منہ سے نکلتی ہے وہ سنجیدہ ہے
خلق میں مثل خلیق اور تھا خوش گو کوئی کب      نام لے دھو لے زباں کوثر و تسنیم سے جب
بلبل گلشن زہرا و علی عاشق رب      متبع مرثیہ گوئی میں ہوئے جس کے سبب
ہو اگر ذہن میں جودت ہے کہ موزونی ہے      اس احاطے سے جو باہر ہے وہ بیرونی ہے
بھائی خوش فکرت و خوش لہجہ و پاکیزہ خصال      جن کا سینہ گہر علم سے ہے مالا مال
یہ فصاحت، یہ بلاغت، یہ سلاست یہ کمال      معجزہ گر نہ اسے کہیے تو ہے سحر حلال
اپنے موقع پہ جسے دیکھیے لاثانی ہے      لطف حضرت کا یہ ہے رحمت یزدانی ہے
کیوں نہ ہو بندۂ موروثیٔ مولا ہوں میں      قلزم رحمت معبود کا قطرہ ہوں میں
جس میں لاکھوں در و مرجاں ہیں وہ دریا ہوں میں      مدح خوانِ پسرِ حضرتِ زہرا ہوں میں
وصف جوہر کا کروں یا صفت ذات کروں      اپنے رتبے پہ نہ کیوں آپ مباہات کروں
مبتدی ہوں مجھے توقیر عطا کر یارب      شوقِ مداحیِٔ شپیر عطا کر یارب
سنگ ہو موم وہ تقریر عطا کر یارب      نظم میں رونے کی تاثیر عطاکر یا رب
جد و آبا کے سوا اور کوئی تقلید نہ ہو      لفظ مغلق نہ ہوں گنجلک نہ ہوں تعقید نہ وہ
وہ مرقع ہو کہ دیکھیں اسے گر اہل شعور      ہر ورق میں کہیں سایہ نظر آئے کہیں نور
غل ہو یہ ہے کششِ مو قلم طرۂ حور      صاف ہر رنگ سے ہو صنعت صانع کا ظہور
کوئی ناظر جو یہ نایاب نظیریں سمجھے      نقشِ ارژنگ کو کاواک لکیریں سمجھے
قلمِ فکر سے کھینچوں جو کسی بزم کا رنگ      شمعِ تصویر پہ گرنے لگیں آ آ کے پتنگ
صاف حیرت زدہ مانیؔ ہو تو بہزادؔ ہو دنگ      خوں برستا نظر آئے جو دکھاؤں صفِ جنگ
رزم ایسی ہو کہ دل سب کے پھڑک جائیں ابھی      بجلیاں تیغوں کی آنکھوں میں چمک جائیں ابھی
روزمرہ شرفا کا ہو سلامت ہو وہی      لب و لہجہ وہی سارا ہو متانت ہو وہی
سامعیں جلد سمجھ لیں جسے، صنعت ہو وہی      یعنی موقع ہو جہاں جس کا عبارت ہو وہی
لفظ بھی چست ہوں مضمون بھی عالی ہووے      مرثیہ درد کی باتوں سے نہ خالی ہووے
ہے کجی عیب مگر حسن ہے ابرو کے لیے      تیرگی بد ہے مگر نیک ہے گیسو کے لیے
سرمہ زیبا ہے فقط نرگسِ جادو کے لیے      زیب ہے خالِ سیۂ چہرۂ گلرو کے لیے
داند آنکس کہ فصاحت بہ کلامے دار      د ہر سخن موقع و ہر نکتہ مقامے دارد
بزم کا رنگ جدا، رزم کا میداں ہے جدا      یہ چمن اور ہے زخموں کا گلستاں ہے جدا
فہم کامل ہو، تو ہر نامے کا عنواں ہے جدا      مختصر پڑھ کے رلا دینے کا ساماں ہے جدا
دبدبہ بھی ہو، مصائب بھی ہوں، توصیف بھی ہو      دل بھی محفوظ ہوں، رقت بھی ہو تعریف بھی ہو
ماجرا صبحِ شہادت کا بیان کرتا ہوں      رنج و اندوہ و مصیبت کا بیاں کرتا ہوں
تشنہ کاموں کی عبادت کا بیاں کرتا ہوں      جاں نثاروں کی اطاعت کا بیاں کرتا ہوں
جن کا ہمتا نہیں، ایک ایک مصاحب ایسا      ایسے بندے نہ کبھی ہوں گے ، نہ صاحب ایسا
صبح صادق کا ہوا چرخ پہ جس وقت ظہور      زمزمے کرنے لگے یادِ الٰہی میں طیور
مثلِ خورشید برآمد ہوئے خیمے سے حضور      یک بیک پھیل گیا چار طرف دشت میں نور
شش جہت میں رخِ مولا سے ظہور حق تھا      صبح کا ذکر ہے کیا، چاند کا چہرہ فق تھا
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں وہ سحر      دم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر
اوس نے فرشِ زمرد پہ بچھائے تھے گہر      لوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظر
دشت سے جھوم کے جب بادِ صبا آتی تھی      صاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی
بلبلوں کی وہ صدائیں، وہ گلوں کی خوشبو      دل کو الجھاتے تھے، سنبل کے وہ پر خم گیسو
قمریاں کہتی تھیں شمشاد پہ یاہو یاہو      فاختہ کی یہ صدا سرو پہ تھی ، کو کو کو
وقت تسبیح کا تھا عشق کا دم بھرتے تھے      اپنے معبود کی سب، حمد و ثنا کرتے تھے
آئے سجادۂ طاعت پہ امامِ دو جہاں      اس طرف طبل بجا یاں ہوئی لشکر میں اذاں
وہ مصلی کہ زباں جن کی حدیث و قرآں      وہ نمازی کہ جو ایماں کے تنِ پاک کی جاں
زاہد ایسے تھے کہ ممتاز تھے، ابراروں میں      عابد ایسے تھے کہ سجدے کیے تلواروں میں
عرشِ اعظم کو ہلاتی تھیں دعائیں ان کی      وجد کرتے تھے ملک، سن کے صدائیں ان کی
وہ عمامے، وہ قبائیں، وہ عبائیں ان کی      حوریں لیتی تھیں بصد شوق بلائیں ان کی
ذکرِ خالق میں لب ان کے جو ہلے جاتے تھے      غنچے فردوس کے شادی سے کھلے جاتے تھے
کیا جوانانِ خوش اطوار تھے، سبحان اللہ      کیا رفیقانِ وفادار تھے، سبحان اللہ
صفدر و غازی و جرار تھے، سبحان اللہ      زاہد و عابد و ابرار تھے، سبحان اللہ
زن و فرزند سے فرقت ہوئی، مسکن چھوڑا      مگر احمد کے نواسے کا نہ دامن چھوڑا
اللہ اللہ عجب فوج عجب غازی تھے      عجب اسوار تھے بے مثل، عجب تازی تھے
لائقِ مدح و سزاوارِ سر افرازی تھے      گو بہت کم تھے، پہ آمادۂِ جاں بازی تھے
پیاس ایسی تھی کہ آ آ گئی جاں ہونٹوں پر      صابر ایسے تھے کہ پھیری نہ زباں ہونٹوں پر
زہد میں حضرت سلماںؔ کے برابر کوئی      دولتِ فقر و قناعت میں ابوذرؔ کوئی
صدقِ گفتار میں عمارؔ کا ہمسر کوئی      حمزۂؔ عصر کوئی مالکِ اشترؔ کوئی
ہوں گے ایسے ہی محمدؔ کے جو شیدا ہوں گے      پھر جہاد ایسا نہ ہوگا، نہ وہ پیدا ہوں گے
گو مصیبت میں تلاطم میں، تباہی میں رہے      سرکٹے پاؤں مگر راہِ الٰہی میں رہے
یوں سرافراز، وہ سب لشکرِ شاہی میں رہے      جس طرح تیغِ دو دم دستِ سپاہی میں رہے
اس مصیبت میں نہ پایا کبھی شاکی ان کو      آبرو ساقیِٔ کوثر نے عطا کی ان کو
وہ تخشع، وہ تضرع، وہ قیام اور وہ قعود      وہ تذلل وہ دعائیں وہ رکوع اور وہ سجود
یادِ حق دل میں، تو سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ درود      یہ دعا خالقِ اکبر سے کہ اے ربِ ودود
یوں لٹیں ہم کہ، نہ آل اور نہ اولاد رہے      مگر احمدؔ کے نواسے کا گھر آباد رہے
موم فولاد ہو آوازوں میں وہ سوز و گداز      اپنے معبود سے سجدوں میں عجب راز و نیاز
سر تو سجادوں پہ تھے عرش معلی پہ نماز      شیر دل منتخبِ دہر وحید و ممتاز
چاند شرمندہ ہو، چہرے متجلی ایسے      نہ امام ایسا ہوا پھر نہ مصلی ایسے
جب فریضے کو ادا کر چکے وہ خوش کردار      کس کے کمروں کو بصد شوق لگائے ہتھیار
جلوہ فرما ہوئے گھوڑے پہ شۂ عرش وقار      علمِ فوج کو عباس نے کھولا اک بار
دشت میں نکہتِ فردوس بریں آنے لگی      عرش تک اس کے پھریرے کی ہوا جانے لگی
لہر وہ سبز پھریرے کی، وہ پنجے کی چمک      شرم سے ابر میں چھپ جاتا تھا خورشید فلک
کہتے تھے صلِ علیٰ چرخ پہ اٹھ اٹھ کے ملک      سب وہ سماں سے تھا سماں تا بہ فلک
کہیے پستی اسے جو اوج ہما نے دیکھا      وہ سماں پھر نہ کبھی ارض و سما نے دیکھا
اس طرح جب علمِ دلبرِ زہرا جائے      کس سے پھر معرکۂ رزم میں ٹھہرا جائے
سانپ دشمن کی نہ کیوں چھاتی پہ لہرا جائے      لہر میں تا بہ فلک جس کا پھریرا جائے
رفع شر کو، علم خیر بشر آیا تھا      سورۂ نصر پئے فتح و ظفر آیا تھا
وہ علم دار کہ جو شیرِ الٰہی کا خلف      گوہر بحرِ وفا، نیرِ دیں درِ نجف
فخرحمزہؔ سے نمودار کا جعفرؔ کا شرف      کس طرح چاند کہوں، چاند میں ہے عیب کلف
کس نے پایا وہ جو تھا جاہ و حشم ان کے لیے      یہ علم کے لیے تھے اور علم ان کے لیے
سرو شرمائے، قد اس طرح کا، قامت ایسی      اسد اللہ کی تصویر تھے، صورت ایسی
شیر نعروں سے دہل جاتے تھے ، صولت ایسی      جا کے پانی نہ پیا نہر پہ ہمت ایسی
جان جب تک تھی اطاعت میں رہے بھائی کی      تھے علم دار، مگر بچوں کی سقائی کی
وہ بہشتی نے کیا، جس کو وفا کہتے ہیں      ہم انہیں عاشقِ شاہِ شہدا کہتے ہیں
ان کو قبلہ تو انہیں قبلہ نما کہتے ہیں      جو بہادر ہیں، وہ شمشیرِ خدا کہتے ہیں
عشقِ سردار و علمدار کا افسانہ ہے      وہ چراغِ رہِ دیں ہے تو یہ پروانہ ہے
اک طرف اکبرِ مہرو سا جوانِ نایاب      کچھ جو بچپن تھا تو کچھ آمدِ ایام شباب
روشنی چہرے پہ ایسی کہ خجل ہو مہتاب      آنکھیں ایسی کہ رہا، نرگسِ شہلا کو حجاب
جس نے ان گیسوؤں میں رخ کی ضیا کو دیکھا      شبِ معراج میں، محبوبِ خدا کو دیکھا
ؔاے خوشا حسنِ رخِ یوسفِ کنعانِ حسن      ؔراحتِ روحِ حسین، ابن علی، جانِ حسن
ؔجسم میں زورِ علی، طبع میں احسانِ حسن      ؔہمہ تن خلقِ حسن، حسنِ حسن، شانِ حسن
تن پہ کرتی تھی نزاکت سے گرانی پوشاک      کیا بھلی لگتی تھی بچپن میں سہانی پوشاک
اللہ اللہ اسدِ حق کے نواسوں کا جلال      چاند سے چہروں پہ بل کھائے ہوئے زلفوں کے بال
نیمچے کاندھوں پہ رکھے ہوئے، مانندِ ہلال      گرچہ بچپن تھا، پہ رستم کو سمجھتے تھے وہ زال
صف سے گھوڑوں کو بڑھا کر جو پلٹ جاتے تھے      مورچے لشکرِ کفار کے ہٹ جاتے تھے
آستینوں کو چڑھائے ہوئے آمادۂ جنگ      وہی سارا اسد اللہ کا نقشہ، وہی ڈھنگ
سرخ چہرے تھے کہ شیروں کا یہی ہوتا ہے رنگ      ولولہ صف کے الٹنے کا، لڑائی کی امنگ
جسم پر تیر چلیں، نیزۂ خونخوار چلے      شوق اس کا تھا کہ جلدی کہیں تلوار چلے
یک بیک طبل بجا فوج میں گرجے بادل      کوہ تھراے، زمیں ہل گئی گونجا جنگل
پھول ڈھالوں کے چمکنے لگے تلواروں کے پھل      مرنے والوں کو نظر آنے لگی شکلِ اجل
واں کے چاؤش بڑھانے لگے دل لشکر کا      فوجِ اسلام میں نعرہ ہوا یا حیدر کا
شور میدانیوں میں تھا، کہ دلیرو نکلو!      نیزہ بازی کرو، رہواروں کو پھیرو نکلو!
نہر قابو میں ہے، اب پیاسوں کو گھیرو نکلو!      غازیو! صف سے بڑھو غول سے شیرو نکلو!
رستمو! دادِ وغا دو، کہ یہ دن داد کا ہے      سامنا حیدر کرار کی اولاد کا ہے
شور سادات میں تھا، یا شۂ مرداں مددے      کعبۂ دیں مددے، قبلۂ ایماں مددے
قوتِ بازوئے پیغمبرِ ذی شاں مددے      دم تائید ہے، اے فخرِ سلیماں مددے
تیسرا فاقہ ہے، طاقت میں کمی ہے مولا!      طلب قوتِ ثابت قدمی ہے مولا!
پیاس میں حرف نہ شکوے کا زباں پر لائیں      دم بدم سینوں پہ فاقوں میں سنانیں کھائیں
دل نہ تڑپے، جو دمِ نزع نہ پانی پائیں      تیرے فرزند کی تائید کریں، مرجائیں
لاشے مقتل میں ہوں لاشِ شہ دلگیر کے پاس      سر ہوں نیزے پہ سرِ حضرتِ شبیر کے پاس
سامنے بڑھ کے یکایک صفِ کفار آئی      جھوم کر تیرہ گھٹا، تاروں پہ اک بار آئی
روزِ روشن کے چھپانے کو شبِ تار آئی      تشنہ کاموں کی طرف، تیروں کی بوچھار آئی
ہنس کے منہ بھائی کا شاہِ شہدا نے دیکھا      اپنے آقا کو بہ حسرت رفقا نے دیکھا
عرض عباسؔ نے کی جوش ہے جراروں کو      تیر سب کھاتے ہیں، تولے ہوئے تلواروں کو
میہمانوں کا نہیں پاس، ستمگاروں کو      مصلحت ہو تو رضا دیجیے، غمخواروں کو
رو سیاہوں کو مٹا دیں کہ بڑھے آتے ہیں      ہم جو خاموش ہیں وہ منہ پہ چڑھے آتے ہیں
یہی ہنگامہ رہا صبح سے، تا وقتِ زوال      لاش پر لاش گری، بھر گیا میدانِ قتال
سرخرو خلق سے اٹھے، اسد اللہ کے لال      مورچے سب تہہ و بالا تھے، پرے سب پامال
کھیت ایسے بھی کسی جنگ میں کم پڑتے ہیں      جو لڑا سب یہی سمجھے کہ علی لڑتے ہیں
قاسم و اکبر و عباس کا اللہ رے جہاد      غل ہر اک ضرب پہ تھا اب ، ہوئی دنیا برباد
الاماں کا تھا کہیں شور کہیں تھی فریاد      دے گئے خلق میں مردانگیٔ حرب کی داد
گو وہ دنیا میں نہیں، عرش مقام ان کا ہے      آج تک عالمِ ایجاد میں نام ان کا ہے
دوپہر میں وہ چمن بادِ خزاں نے لوٹا      پتا پتا ہوا تاراج تو بوٹا بوٹا
باپ بیٹے سے چھٹا، بھائی سے بھائی چھوٹا      ابنِ زہراؔ کی کمر جھک گئی بازو ٹوٹا
پھر سے نہ یاور، نہ وہ جاں باز نہ وہ شیدا تھے      ظہر کے وقت حسینؔ ابنِ علی تنہا تھے
ساتھ جو جو کہ بہادر تھے، وطن سے آئے      سامنے سوتے تھے ریتی پہ سنائیں کھائے
دھوپ میں پیاس سے مثلِ گلِ تر مرجھائے      مرگئے پر نہ غریبوں نے کفن تک پائے
دھوپ پڑتی تھی یہ دن چرخ نے دکھلایا تھا      نہ تو چادرتھی کسی لاش پہ نے سایا تھا
صاحبِ فوج پہ طاری تھا عجب رنج و ملال      زرد تھا رنگ، تو آنکھیں تھیں لہو رونے سے لال
کبھی بھائی کا الم تھا، کبھی بیٹے کا خیال      کبھی دھڑکا تھا کہ لاشیں نہ کہیں ہوں پامال
کبھی بڑھتے تھے وغا کو، کبھی رک جاتے تھے      سیدھے ہوتے تھے کبھی، اور کبھی جھک جاتے تھے
بڑھ کے چلاتے تھے بے درد کہ اب آپ آئیں      جوہر تیغِ شہنشاہِ نجف دکھلائیں
مرنے والے نہیں جیتے جو سنائیں کھائیں      کاٹ لیں آپ کا سر تن سے تو فرصت پائیں
پسرِ سعد سے وعدہ ہے، صلا لینے کا      حکم ہے خیمۂ اقدس کے جلا دینے کا
شہ نے فرمایا، مجھے خود ہے شہادت منظور      نہ لڑائی کی ہوس ہے، نہ شجاعت کا غرور
جنگ منظور نہ تھی ان سے پہ اب ہوں مجبور      خیر، لڑ لو کہ ستاتے ہیں یہ بے جرم و قصور
ذبح کرنے کے لیے لشکرِ ناری آئے      کہیں جلدی مرے سر دینے کی باری آئے
حکم پانا تھا کہ شیروں نے اڑائے تازی      مثل شہباز گیا ایک کے بعد اک غازی
واہ ری حرب، خوشا ضرب، زہے جانبازی      اڑ گیا ہاتھ بڑھا جو پئے دست اندازی
لوٹتے رن میں سر و جسم نظر آتے تھے      ایک حملے میں قدم فوج کے جم جاتے تھے
جس پہ غصہ میں گئے صید پہ شہباز گرا      یہ کماں کٹ کے گری، وہ قدر انداز گرا
جب گرا خاک پہ گھوڑے سے، تو ممتاز گرا      نہ اٹھا پھر کبھی، جو تفرقہ پرداز گرا
ہاتھ منہ کٹ گئے، سر اڑ گئے جی چھوٹ گئے      مورچے ہو گئے پامال، پرے ٹوٹ گئے
بعد غیروں کے عزیزوں نے کیا عزمِ نبرد      سر کو نہیوڑا کے بھرا سبطِ نبیؐ نے دم سرد
ہوک اٹھی کبھی سینے میں، تو دل میں کبھی درد      سرخ ہوتا تھا کبھی چاند سا چہرہ کبھی زرد
کوئی گل رو تو کوئی سرو سہی بالا تھا      وہ بچھڑنے لگے، گودی میں جنہیں پالا تھا
زلفوں والا تھا کوئی، کوئی مرادوں والا      کوئی بھائی کا پسر، کوئی بہن کا پالا
چاند سا منہ جو کسی کا تھا تو گیسو ہالا      کوئی قامت میں بہت کم کوئی قد میں بالا
نوجواں کون سا خوش رو و خوش انداز نہ تھا      کتنے ایسے تھے کہ سبزہ ابھی آغاز نہ تھا
ہاتھ وہ بچوں کا، اور چھوٹی سی وہ تلواریں      موم کردیتی تھیں فولاد کہ جن کی دھاریں
آب ہو شیر کا زہرہ ہے، جسے وہ للکاریں      بجلیاں کوند رہی ہیں کسے نیزہ ماریں
کس بشاشت سے ہزاروں یہ، دلیر آتے ہیں      بچے آتے ہیں کہ بپھرے ہوئے شیر آتے ہیں
شہ نے فرمایا کہ سر کاٹ لو، حاضر ہوں میں      نہ تو لڑنے میں، نہ مرجانے میں قاصر ہوں میں
فوج بھی اب نہیں بے یاور و ناصر ہوں میں      شہر و صحرا بھی تمہارا ہے، مسافر ہوں میں
لوٹ لو پھونک دو، تاراج کرو بہتر ہے      کلمہ گویو! یہ تمہارے ہی نبی کا گھر ہے
کئی سیدانیاں خیمے میں ہیں پردے والی      جن کا رتبہ ہے زمانے میں ہر اک پر حالی
اب نہ وارث کوئی سر پر ہے، نہ کوی والی      ان کو دیجو! کوئی رہ جائے جو خیمہ خالی
یہ نبی زادیاں بے پردہ نہ ہوئیں جس میں      ایک گوشہ ہو کہ سب بیٹھ کے روئیں جس میں
سن کے ان باتوں کا اعدا نے دیا جو کہ جواب      گر لکھوں اس کو تو ہو جائے جگر سنگ کا آب
قلب تھرا گیا ہر گز نہ رہی ضبط کی تاب      دیکھ کر رہ گئے گردوں کو، شۂ عرش جناب
اشک خالی اسے کرتے ہیں جو دل بھر آئے      آپ رونے کے لیے خیمے کے در پر آئے
تھم کے چلائے کہ اے زینبؑ و ام کلثوم      تم سے رخصت کو پھر آیا ہے حسینِ مظلوم
آ مرے قتل کے درپے ہے یہ سب لشکرِ شوم      ہاں جگادو اسے غش ہو جو سکینہ معصوم
نہیں ملتا جو زمانے سے گزر جاتا ہے      کہہ دو عابدؔ سے کہ مرنے کو پدر جاتا ہے
یہ صدا سن کے حرم خیمے سے، مضطر دوڑے      شہ کی آواز پہ سب بے کس و بے پر دوڑے
گر پڑیں سر سے ردائیں تو کھلے سر دوڑے      بچے روتے ہوئے ماؤں کے برابر دوڑے
رو کے چلائی سکینہ شہ والا آؤ!      میں تمہیں ڈھونڈتی تھی، دیر سے بابا آؤ!
آؤ اچھے مرے بابا، میں تمہاری واری      دیکھو تم بن ہیں گلے تک مرے آنسو جاری
آج یہ کیا ہے کہ بھولے مرے خاطر داری      ہاتھ پھیلا کے کہو! آ مری بیٹی پیاری
منہ چھپانے کی ہے کیا وجہ نہ شرماؤ تم      اب میں پانی بھی نہ مانگوں گی، چلے آؤ تم
دیکھ کر پردہ سے یہ کہنے لگی، زینبِؑ زار      ابنِ زہراؔ تری مظلومی و غربت کے نثار
آؤ چادر سے کروں پاک، میں چہرے کا غبار      شہ نے فرمایا، بہن مر گئے سب مونس و یار
تم نے پالا تھا جسے، ہم اسے رو آئے ہیں      علی اکبرؑ سے جگر بند کو کھو آئے ہیں
منہ دکھائیں کسے، سب سے ہے ندامت زینبؔ      گھر میں آنے کی نہیں، بھائی کو مہلت زینبؔ
کھینچ لائی ہے سکینہ کی محبت زینبؔ      بھائی جاتا ہے، دکھا دو ہمیں صورت زینبؔ
نہ تو سر کھولو، نہ منہ پیٹو، نہ فریاد کرو      بھول جاؤ ہمیں، اللہ کو اب یاد کرو
صبر سے خوش ہے خدا، اے مری غم خوار بہن      سہل ہوجاتا ہے، جو امر ہو دشوار بہن
اپنی ماں کا ہے طریقہ، تمہیں درکار بہن      پھر میں کہتا ہوں سکینہ سے خبردار بہن
ناز پرور ہے مرے بعد الم اس پہ نہ ہو      بُندے کانوں سے اتارو کہ ستم اس پہ نہ ہو
کہیو عابد سے یہ پیغام مرا بعد سلام      غش تھے تم پھر گئے دروازے تلک آ کے امام
قید میں پھنس کے نہ گھبرائیو اے گل اندام      کاٹیو صبر و رضا سے، سفرِ کوفہ و شام
ناؤ منجدھار میں ہے شور طلاطم جانو!      نا خدا جاتا ہے، گھر جانے اور اب تم جانو!
کہہ کے یہ باگ پھرآئی طرفِ لشکرِ شام      پڑ گیا خیمۂ ناموس نبی میں کہرام
رن میں گھوڑے کو اڑاتے ہوئے آئے جو امام      رعب سے فوج کے دل ہل گئے کانپے اندام
سر جھکے ان کے جو کامل تھے زباں دانی میں      اڑ گئے ہوش فصیحوں کے رجز خوانی میں
تھا یہ نعرہ کہ محمد کا نواسا ہوں میں      مجھ کو پہچانو! کہ خالق کا شناسا ہوں میں
زخمی ہونے سے نہ مرنے سے ہراسا ہوں میں      تیسرا دن ہے یہ گرمی میں کہ پیاسا ہوں میں
چین کیا چیز ہے، آرام کسے کہتے ہیں؟      اس پہ شکوہ نہیں کچھ، صبر اسے کہتے ہیں
اس کا پیارا ہوں جو ہے ساقیِٔ حوضِ کوثر      اس کا بیٹا ہوں، جو ہے فاتحِ بابِ خیبر
اس کا فرزند ہوں کی جس نے مہم بدر کی سر      اس کا دلبر ہوں میں، دی جس کو نبی نے دختر
صاحبِ تخت ہوئے، تیغ ملی، تاج ملا      دوش احمدؔ پہ انہیں رتبۂ معراج ملا
بے وطن ہوں نہ مسافر کو ستاؤ اللہ      قتل کیوں کرتے ہو تم، کون سا میرا ہے گناہ
اب نہ یاور ہے کوئی ساتھ نہ لشکر نہ سپاہ      تم کو لازم ہے غریبوں پہ ترحم کی نگاہ
ہاتھ آئے گا نہ انعام، نہ زر پاؤگے      یاد رکھو! مرا سر کاٹ کے پچھتاؤگے
نہ بھی ختم ہوئی تھی یہ مسلسل تقریر      حجت اللہ کے فرزند پہ چلنے لگے تیر
چوم کر تیغ کے قبضے کو پکارے شبیر      لو خبردار! چمکتی ہے علیؔ کی شمشیر
پسرِ فاتحِ صفین و حنین آتا ہے      لو صفیں باندھ کے روکو تو حسینؔ آتا ہے
لو کھنچو تیغِ دوسر، فوج پہ آفت آئی      لو ہلا، قائمۂ عرش، قیامت آئی
فتح تسلیم کو، آداب کو نصرت آئی      فخر سے غاشیہ برداری کو شوکت آئی
چوم لوں پاؤں، جلال اس تگ و دو میں آیا      چوم لوں پاؤں، جلال اس تگ و دو میں آیا
ہاتھ جوڑے ہوئے اقبال جلو میں آیا      آپ سیدھے جو ہوئے رخش نے بدلے تیور
دونوں آنکھیں ابل آئیں کہ ڈرے بانیِٔ شر      تھوتھنی مل گئی سینے سے کیا، دُم کو چنور
مثلِ طاؤس اڑا، گاہ اِدھر، گاہ اُدھر      دم بدم گرد نسیمِ سحری پھرتی تھی
جھوم کر پھرتا تھا، گویا کہ پری پھرتی تھی      ابر ڈھالوں کا اٹھا تیغِ دو پیکر چمکی
برق چھپتی ہے، یہ چمکی تو برابر چمکی      سوئے پستی کبھی کوندی، کبھی سر پر چمکی
کبھی انبوہ کے اندر، کبھی باہر چمکی      جس طرف آئی وہ ناگن اسے ڈستے دیکھا
مینہ سروں کا صفِ دشمن میں برستے دیکھا      گھاٹ وہ گھاٹ کہ دریا کا کنارا جیسے
چمک ایسی کہ حسینوں کا اشارا جیسے      روشنی وہ کہ گرے ٹوٹ کے تارا جیسے
کوندنا برق کا شمشیر کی ضو میں دیکھا      کبھی ایسا نہیں دم خم مہ نو میں دیکھا
اک اشارے میں، برابر کوئی دو تھا کوئی چار      نہ پیادہ کوئی بچتا تھا سلامت نہ سوار
برق گرتی تھی کہ چلتی تھی صفوں پر تلوار      غضب اللہ علیہم کے عیاں تھے آثار
موت ہر غول کو برباد کیے جاتی تھی      آگ گھیرے ہوئے دوزخ میں لیے جاتی تھی
تیغیں آری ہوئی ڈھالوں کے اڑے پرکالے      بند سب بھول گئے خوف سے نیزوں والے
جو بڑھے ہاتھ سرِ دست قلم کر ڈالے      تیغ کہتی تھی، یہ سب ہیں مرے دیکھے بھالے
صف بہ صف باندھ کے نیزوں کو عبث تولے ہیں      ایسے عقدے مرے ناخن نے بہت کھولے ہیں
جب کبھی جائزۂِ فوج ستم لیتی ہوں      موت سے رحم نہ کرنے کی قسم لیتی ہوں
دو زبانوں سے سدا کارِ قلم لیتی ہوں      چہرے کٹ چکتے ہیں، لشکر کے تو دم لیتی ہوں
ہر طرف ہو کے، عدم کے سفری ہوتے ہیں      طبقلیں کٹتی ہیں، چہرے نظری ہوتے ہیں
وہ برش وہ چمک اس کی وہ صفائی اس کی      کسی تلوار نے تیزی نہیں پائی اس کی
اس کا بازو جو اڑایا، تو کلائی اس کی      مل گئی جس کے گلے سے اجل آئی اس کی
صورتِ مرگ کسی نے بھی نہ آتے دیکھا      سر پہ چمکی تو کمر سے اسے جاتے دیکھا
کبھی ڈھالوں پہ گری اور کبھی تلواروں پر      پیدلوں پر کبھی آئی کبھی اسواروں پر
کبھی ترکش پہ رکھا منہ، کبھی سوفاروں پر      کبھی سر کاٹ کے آ پہنچی کمانداروں پر
گر کے اس غول سے اٹھی تو اس انبوہ میں تھی      کبھی دریا میں، کبھی بر میں، کبھی کوہ میں تھی
کبھی چہرہ کبھی شانہ، کبھی پیکر کاٹا      کبھی در آئی جگر میں، تو کبھی سر کاٹا
کبھی مغفر، کبھی جوشن، کبھی بکتر کاٹا      طول میں راکب و مرکب کا برابر کاٹا
برشِ تیغ کا غسل، قاف سے تا قاف رہا      پی گئی خون ہزاروں کا، پہ منہ صاف رہا
نہ رکی خود پہ وہ، اور نہ سر پر ٹھہری      نہ کسی تیغ پہ دم بھر، نہ سپر پر ٹھہری
نہ جبیں پر نہ گلے پر، نہ جگر پر ٹھہری      کاٹ کر زین کو، گھوڑے کی کمر پر ٹھہری
جان گھبرا کے تنِ دشمنِ دیں سے نکلی      ہاتھ بھر ڈوب کے تلوار، زمیں سے نکلی
کٹ گئی، تیغ تلے جب صفِ دشمن آئی      یک بیک فصلِ فراقِ سر و گردن آئی
بگڑی اس طرح لڑائی کہ نہ کچھ بن آئی      تیغ کیا آئی کہ اڑتی ہوئی ناگن آئی
غل تھا بھاگو کہ یہ ہنگام ٹھہرنے کا نہیں      زہر اس کا جو چڑھے گا تو اترنے کا نہیں
وہ چمک اس کی، سروں کا وہ برسنا، ہرسو      گھاٹ سے تیغ کے، اک حشر بپا تھا لبِ جو
آب میں صورت آتش تھی، جلا دینے کی      خو اور دم بڑھتا تھا، پیتی تھی جو اعدا کا لہو
کبھی جوشن، تو کبھی صدرِ کشادہ کاٹا      جب چلی ضربتِ سابق سے زیادہ کاٹا
تنِ تنہا شۂ دیں لاکھ سواروں سے لڑے      بے سپر برچھیوں والوں کی قطاروں سے لڑے
صورتِ شیر خدا، ظلم شعاروں سے لڑے      دو سے اک لڑ نہیں سکتا، یہ ہزاروں سے لڑے
گر ہو غالب، تو ہزاروں پہ وہی غالب ہو      جو دل و جانِ علیؔ ابن ابی طالبؔ ہو
تیسرے فاقے میں یہ جنگ، یہ حملے یہ جدال      تیسرے فاقے میں یہ جنگ، یہ حملے یہ جدال
پیاس وہ پیاس کہ نیلم تھے سراسرلب لعل      دھوپ وہ دھوپ کہ سوکھے ہوئے تھے تازہ نہال
لُو وہ لُو جس کی حرارت سے پگھلتے تھے جبال      سنگ ریزوں میں، تب و تاب تھی انگاروں کی
سر پہ یا دھوپ تھی، یا چھاؤں تھی تلواروں کی      شیر سے تھے کبھی جنگل میں، ترائی میں کبھی
ڈھال کو چہرے پہ روکا نہ لڑائی میں کبھی      تیغ حیدر نے کمی کی نہ صفائی میں کبھی
فرق آیا نہ سر و تن کی جدائی میں کبھی      کبھی ابرو کا بھی ایسا نہ اشارا دیکھا
جس پہ اک وار کیا اس کو دوبارا دیکھا      آنکھ وہ آنکھ کہ شیروں کی جلالت جس میں
رخش وہ رخش، کہ سب برق کی سرعت جس میں      تیغ وہ تیغ، عیاں موت کی صورت جس میں
ہاتھ وہ ہاتھ، ید اللہ کی طاقت جس میں      روک لے دار، جگر کیا کسی بے پیر کا ہے
زور وہ، جس میں اثر فاطمہؔ کے شیر کا ہے      جنگ میں پیاس کا صدمہ شۂ دیں سے پوچھو
تنِ تنہا کی وغا، لشکرِ کیں سے پوچھا      زلزلہ دشت پر آفت کا، زمیں سے پوچھو
ضربِ شمشیر دو سر، روحِ امیں سے پوچھو      باپ اس فوج میں تنہا، پسر اس لشکر میں
کربلا میں یہ تلاطم ہوا، یا خیبر میں      اسد اللہ کے صدقے، شہ والا کے نثار
وہی حملے تھے، وہی زور، وہی تھی تلوار      فتحِ حیدر نے کیا جنگ میں خیبر کا حصار
مورچے فوج کے، حضرت نے بھی توڑے کئی بار      کیوں نہ ہو احمدِ مرسل کے نواسے تھے حسینؔ
فرق اتنا تھا کہ دو روز کے پیاسے تھے حسینؔ      *ہر طرف فوج میں غل تھا کہ دہای مولا!
ہم نے دیکھی ترے ہاتھوں کی صفائی مولا!      الاماں خوب سزا جنگ کی پائی مولا!
آپ کرتے ہیں بروں سے بھی بھلائی مولا!      ہاتھ ہم باندھتے ہیں پھینک کے شمشیروں کو
یہ وغا تیسرے فاقے میں، بشر کا نہیں کام      آتی ہاتف کی یہ آواز کہ اے عرشِ مقام
اے محمدؔ کے جگر بند، امام ابنِ امام      لوحِ محفوظ پہ مرقوم ہے، صابر ترا نام
اب نہیں حکم لعینوں سے وغا کرنے کا      ہاں! یہی وقت ہے وعدے کے وفا کرنے کا
آج ہے آٹھوں بہشتوں کی نئی تیاری      نخل سرسبز ہیں فردوس میں نہریں جاری
شب سے حوریں ہیں مکلل بجواہر ساری      خانۂ دوست میں ہے، دوست کی مہانداری
پیشوائی کو رسول الثقلین آتے ہیں      عرش تک شور یہی ہے کہ حسینؔ آتے ہیں
تھم گئے سن کے یہ آواز شۂ جن و بشر      روک کر تیغ کو فرمایا کہ حاضر ہے یہ سر

عید ہو جلد اگر ذبح کریں بانیِ شر      شمرِؔ اظلم ہے کدھر؟ کھینچ کے آئے خنجر
ہے وہ عاشق جو فدا ہونے کو موجود رہے      بس مری فتح یہی ہے کہ وہ خوشنود رہے
کہہ کے یہ میان میں مولا نے رکھی تیغِ دو دم      ہاتھ اٹھا کر یہ اشارہ کیا گھوڑے کو کہ تھم
رہ گیا سر کو جھکا کر فرسِ تیز قدم      چار جانب سے مسافر پہ چلے تیرِ ستم
نیزے یوں گرد تھے جسے گلِ تر خاروں میں      گھر گئے سبطِ نبی، ظلم کی تلواروں میں
پہلے تیروں سے کمانداروں نے چھاتی چھانی      نیزے پہلو پہ لگاتے تھے ستم کے بانی
سر پہ تلواریں چلیں، زخمی ہوئی پیشانی      خوں سے تر ہو گیا حضرت کا رخِ نورانی
جسم سب چور تھا، پرزے تھے زرہ جامے کے      پیچ کٹ کٹ کے کھلے جاتے تھے عمامے کے
برچھیاں مارتے تھے، گھاٹ پہ جو تھے پہرے      کس طرف جائے، کہاں تیغوں میں بیکس ٹھہرے
ایک ہزار اور کوئی سو زخم تھے تن پر گہرے      دیکھنے والوں کے ہو جاتے تھے، پانی زہرے
خوں میں ڈوبا ہوا وہ مصحفِ رخ سارا تھا      جزو ہر اک تن شبیر کا سی پارا تھا
ہاتھ سے باگ جدا تھی، تو رکابوں سے قدم      غش میں سیدھے کبھی ہوتے تھے فرس پر کبھی خم
بہتے تھے پہلوؤں سے، خوں کے دڑیڑے پیہم      کوئی بیکس کا مددگار نہ تھا ہائے ستم
مارے تلواروں کے مہلت تھی نہ دم لینے کی      کوششیں ہوتی تھیں کعبے کے گرادینے کی

دشت سے آتی تھی زہراؔ کی صدا ہائے حسین      میرے بیکس، میرے بے بس، مرے دکھ پائے حسینؔ
در سے چلاتی تھی زینبؔ مرے ماں جائے حسینؔ      کون تیغوں سے بچا کر تجھے لے آئے حسینؔ
فاطمہؔ رو رہی ہیں، ہاتھوں سے پہلو تھامے      حکم گر ہو تو بہن دوڑ کے بازو تھامے
ہائے سیدا ترا تن اور ستم کے بھالے      کس کو چلاؤں کہ جیتے نہیں مرنے والے
اس پہ یہ ظلم دکھوں سے جسے زہراؔ پالے      کون سر سے ترے تلواروں کی آفت ٹالے
کون فریاد سنے بے سر و سامانوں کی      یاں تو بستی بھی نہیں کوئی مسلمانوں کی
نہ رہا جب کہ ٹھہرنے کا فرس پر یارا      گرپڑا خاک پہ، وہ عرش خدا کا تارا
غش سے کچھ دیر میں چونکا جو علیؔ کا پیارا      نیزہ سینے پہ، سناں ابنِ انس نے مارا
واں تو نیزے کی انی پشت سے باہر نکلی      یاں بہن خیمے کی ڈیوڑھی سے کھلے سر نکلی
کھینچ کر سینے سے نیزہ جو ہٹا دشمنِ دیں      جھک کے حضرت نے رکھی خاک پہ سجدے میں جبیں
تیز کرتا ہوا خنجر کو بڑھا شمر لعیں      آسماں ہل گئے تھرا گئی مقتل کی زمیں
کیا کہوں تیغ کو کس طرح گلے پر رکھا      پاؤں قرآں پہ رکھا، حلق پہ خنجر رکھا
ڈھانپ کر ہاتھوں سے منہ بنتِ علی چلائی      ذبح ہوتے ہو مرے سامنے ہے ہے بھائی
ضربِ اول تھی کہ تکبیر کی آواز آئی      گر پڑی خاک پہ غش کھا کے علی کی جائی
آنکھ کھولی تھی کہ ہنگامۂ محشر دیکھا      سر اٹھایا تو سرِ شہ کو سناں پر دیکھا
رو کے چلائی کہ ہے ہے ہمرے مظلوم حسینؔ      فوجِ اعدا میں، ترے قتل کی ہے دھوم حسینؔ
کچھ مجھے آنکھوں سے ہوتا نہیں معلوم حسینؔ      ہائے میں رہ گئی دیدار سے محروم حسینؔ
مڑ کے دیکھو کہ مصیبت میں پڑی ہوں بھائی      ننگے سر بلوۂ اعدا میں کھڑی ہوں بھائی
بس انیسؔ آگے نہ لکھ زینبِ ناشاد کے بین      قتل ہو جانے پہ بھی دھوپ میں تھی لاشِ حسینؔ
قبر میں بھی نہ ملا احمدِؔ مختار کو چین      گھر جلا، قید ہوئی، آلِ رسول الثقلین
کتنے گھر شاہ کے مر جانے سے برباد ہوئے      لٹ گئے یوں کہ نہ سادات پھر آباد ہوئے


مرزا سلامت علی نام اور دبیر تخلص تھا۔9 اگست 1803ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مرزا غلام حسین تھا۔کم عمری میں والد کے ساتھ لکھنؤ آئے اور یہیں تعلیم و تربیت حاصل کی۔عربی اور فارسی میں کمال حاصل کرلیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ درس و تدریس اور بحث و مباحثے سے بھی دلچسپی تھی۔ابتداء میں میر ضمیر کے شاگرد ہوئے البتہ مشق اور لگن سے استاد سے بھی آگے نکل گئے اور مرثیہ گوئی میں کمال حاصل کرلیا۔ وہ صاحب علم و فضل بھی تھے۔
مرزا دبیر بڑے قانع آدمی تھے۔ لکھنو سے کبھی باہر نہیں گئے البتہ آزادی کی پہلی لڑائی 1857ء کے بعد مرشد آباد اور پٹنہ گئے جہاں مجلسوں کا انعقاد ہوتا تھا اور آنکھوں کی بصارت کی کمی کا علاج کرنے کے لئے کلکتہ گئے پھر واپس لکھنؤ آ گئے۔مرزا دبیر نے میر انیس کے انتقال کے تین ماہ اور ایک دن بعد مارچ 1875ء میں لکھنؤ میں انتقال کیا اور اپنے مکان میں ہی سپرد خاک کئے گئے۔
مرزادبیر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں مرثیہ گوئی میں کمال حاصل کرلیا۔بارہ سال کی عمر میں مرثیہ کہنا شروع کردیا۔ابتداء میں میر ضمیر کی شاگردگی اختیار کی لیکن تھوڑے ہی عرصے میں اس فن کے استاد مانے گے اور اپنے استاد سے بھی آگے نکل گئے۔مرزا دبیر نے گیارہ بارہ برس کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ میر مظفر حسین ضمیر کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کی شاگردگی اختیار کی اور میر مظفر حسین ضمیر ہی نے مرزا سلامت علی کا تخلص دبیر تجویز فرمایا تھا۔ مرزا دبیر نہایت زود گو تھے۔ ان کا تخیل بلند تھا۔ ان کے مرثیوں کا مطالعہ کرنے سے ان کے علم و فن کا ثبوت ملتا ہے۔انیس کے بعد اردو مرثیہ گوئی میں دوسرا مقام دبیر کو حاصل ہے۔اس لئے ان دونوں کا باہم مقابلہ اور موازنہ کیا جاتا ہے۔یہ مہمل بات بھی اکثر کہی جاتی ہے کہ انیس کے کلام میں فصاحت ہے تو دبیر کے کلام میں بلاغت۔فصاحت و بلاغت کے معنی پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بیان کس قدر بے معنی اور لغو ہے۔
انیس اور دبیر دونوں اپنے عہد کے بےحد مقبول مرثیہ گو تھے۔دونوں کے شاگردوں اور پرستاروں کے بڑے گروہ تھے جن کی آپس میں برابر نوک جھوک رہتی تھی مگر دونوں گروہوں نے شرافت کا دامن نہ چھوڑا۔ان کی چشمک نے انشاء اور مصحفی کے معرکوں کا رنگ کبھی اختیار نہیں کیا بلکہ ان کے اختلافات میں ایک ادبی شان برقرار رہی۔
شبلی نے ایک کتاب "موازنہ انیس و دبیر” لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انیس دبیر سے بڑے مرثیہ نگار ہیں۔اس کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا لیکن اصلیت یہ ہے کہ دبیر کی چند خامیاں انہیں انیس کے رتبے تک نہیں پہنچنے دیتیں۔دبیرکی پر گوئی نے انکے فن کو نقصان پہنچایا۔انیس کا قلم بھی بہت زرخیز تھا انہوں نے بھی بہت بڑی تعداد میں مرثیے کہے لیکن ان کے کلام میں ہمواری باقی رہتی ہے اور زیادہ گوئی ان کا عیب نہیں کہی جاسکتی جبکہ دبیر کے مرثیے اکثر جگہ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔
دبیر کی علمیت نے بھی ان کے فن کو نقصان پہنچایا۔وہ جا بجا عربی فارسی کے ثقیل الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔یہ طبیعت کو ناگوار گزرتا ہے۔ صنعتوں کی کثرت بھی دبیر کے مرثیوں کا اثر کم کر دیتی ہے۔وہ کوشش کر کے زیادہ سے زیادہ صنعتیں استعمال کرتے ہیں اور رعایت لفظی کے بہت زیادہ شوقین ہیں۔اس سے دبیر کے مرثیوں میں تصنع اور بناوٹ کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے۔کبھی کبھی وہ جزئیات نگاری میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ مرثیے کے مجموعی تاثر میں کمی آجاتی ہے۔ایک اور اہم بات یہ کہ انسانی نفسیات سے واقفیت میں وہ انیس کی ہمسری نہیں کر سکتے۔انیس نفسیات کے جیسے ماہر ہیں اردو ادب میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔دبیر اس میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھ پاتے کہ کہاں کیا بات کہنے کی ہے اور کیا نہ کہنے کی۔
انیس کی طرح دبیر بھی مرثیہ پڑھنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔پڑھنے کے دوران ہاتھ یا چشم و ابرو کا صرف اتنا اشارہ کرتے جتنا مناسب ہوتا اور جس سے عصر میں اضافہ ہوجاتا۔پڑھنے میں جوش ایسا ہوتا کہ مجلس پر سکوت کا عالم چھا جاتا اور جب بین پڑھتے تو سامعین بے اختیار رونے لگتے اور اکثر لوگ تو روتے روتے بے ہوش ہوجاتے۔
1857ء میں جب ہندوستان کی حالت دگرگوں ہوئی تو مجبوراً دبیر نے اپنا وطن چھوڑا اور سکون کی تلاش میں کئی جگہ پہنچے مگر مصیبتوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔بڑھاپے میں جوان بیٹے کی موت ہوئی۔ ان کی اپنی بینائی جاتی رہی۔واجد علی شاہ نے علاج کے لیے کلکتہ بلایا۔آخر بینائی واپس آگئی۔ اسی زمانے میں انیس کا انتقال ہوا۔دبیر کو ان کی موت کا بھی بڑا غم تھا۔مرزا دبیر کی مرثیہ گوئی کو مضامین کے تنوع نے اعلیٰ مقام بخشا ہے۔فون کے مرثیوں میں معنی آفرینی، فصاحت و بلاغت،زوربیاں، تشبیہوں اور استعاروں کی کثرت،صنائع و بدائع خاص خصوصیات کے طور پر موجود ہیں۔مرزا دبیر کے مراثی میں مدح کے حصوں میں پرشکوہ زبان اور علمی مضامین زیادہ ملتے ہیں۔رزم کے حصوں میں زور بیان ہے اور بین کے اظہار میں زبان کی سادگی،سلاست، روانی اور جزبات نگاری سے مرثیہ نہایت پرتاثیر ہوجاتا ہے۔
مرزا دبیر نے سینکڑوں مرثیے کہے اور اس کے علاوہ مثنویاں، قصائد، رباعیاں،سلام قطعات وغیرہ بھی کافی تعداد میں تصنیف کیے۔ان کی اہم کتابوں میں "دفتر ماتم” کی دو جلدیں، رباعیات دبیر”، "ابواب المصائب” اور رسالہ مرزادبیر ہیں۔مرزا دبیر کی پہلی سوانح عمری "شمس الضحیٰ” 1881ء میں شائع ہوئی۔افضل حسین ثابت نے 1910 میں "حیات دبیر” شائع کی۔اس کے علاوہ مرزا دبیر کی تین مثنویاں ملتی ہیں جن میں دو مطبوعہ اور ایک غیر مطبوعہ ہے۔(1) مثنوی احسن القصص (2) مثنوی معراج نامہ (3) مثنوی ممتاز نامہ۔ان مثنویوں کے علاوہ مرزا دبیر کے دو قصیدے بھی ملتے ہیں۔ایک فارسی میں منتظم الدولہ کی مدح میں اور دوسرے اردو میں مہاراج چندولعل کی مدح میں۔آخر میں مرزا دبیر کے چند مشہور مرثیوں کے ایک مصرعے پیش کیے جاتے ہیں۔

کس کا علم حسین کے منبر کی زیب ہے
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
اے شمس وقمر نور کی محفل ہے یہ محفل
پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی
دست خدا کاقوت بازو حسین ہے
پہنچا کہ لاش اکبر عالی وقار کو

مضراب شہادت مرزا دبیرؔ


جنبش سے میرے کامئہ افسوس طراز کی      گھلتی ہے آنکھ اس گرہ نیم باز کی
دم کاجس کاگھٹ رہاتھاکشاکش سے راز کی      سطریں نہیں ، شکن ہے حجابات ناز کی
دل کے دیئے جلیں گے محبت کے دیس میں      نکلاہے حسن ، لفظ ومعانی کے بھیس میں

آواز میں بھی حسن ہے اور خاموشی میں بھی      تنظیم میں بھی حسن ہے ،آشفتگی میں بھی
یوں توظہور حسن کاہے راستی میں بھی      اک بانکپن ضرور ہے لیکن کجی میں بھی
سچ پوچھئے اگر توبصیرت میں حسن ہے      آنکھوں میں روشنی ہو توظلمت مین حسن ہے

لیکن شعور حسن کا ،اس آگہی کے ساتھ      ممکن نہیں طبع کی آشفتگی کے ساتھ
پنپے گاخاک ذوق نظر مفلسی کے ساتھ      ہوتی ہے فن کی نشوونمازندگی کے ساتھ
سوبھینٹ چڑ ھ رہے ہوں جہاں چار کے لئے      اس ملک میں جگہ نہیں فن کارکے لئے

ظلمت کدہ میں ہندکے محشر بپاہے آج      تہذیب اپنے خون سے رنگین قباہے آج
رفتار وقت مدعی ارتقاہے آج      لیکن جوہورہاتھاوہی ہورہاہے آج
جنس خودی جہاں میں ہے ارزاں اسی طرح      انسان کاغلام انسان اسی طرح

ہے حکمراں عقل پہ دولت ابھی تلک      ایمان کی ہورہی ہے تجارت ابھی تلک
جاگیر اہرمن کی ہے جنت ابھی تلک      ابلیس ہے معلم فطرت ابھی تلک
پامالی حقوق کاتہذیب نام ہے      انسانیت کی روح کاایک قتل عام ہے

چھائی ہے دل پہ موت کی سردی اسی طرح      ہے چہرہ حیات پہ زرد ی اسی طرح
پائے ہو س کی دشت نوردی اسی طرح      ذوق طلب کی میکدہ گردی اسی طرح
احساس کازوال وہی پستیاں وہی      ساقی وہی ہے جام وہی ہے مستیاں وہی
فطرت وہی ہے گردش لیل ونہار کی      سمٹی ہے ایک باغ میں رونق بہار کی
مٹھی میں ایک شخص کی قسمت ہزار کی      توہین عدالت پروردگار کی
بدلانہیں نظام مشیت ابھی تلک      کروٹ ہی لے رہی ہے قیامت ابھی تلک

عالم خراب فلسفہ ناؤ نوش ہے      شاعر ہے اور ماتم تمکین وہوش ہے
احساس کوجمود ہے ،فتنوں کوجوش ہے      ہرموج حادثات کی طوفان بدوش ہے
دنیاتلاش کرتی ہے ساحل نجات کی      دکھلادے کوئی اس کوکنارہ فرات کا

جس طرح آج قسمت انسان کوزوال ہے      دور یزد میں تھایہی کچھ عرب کاحال
روحوں کوکردیاتھاغلامی نے پامال      مردان حق پرست کی تھی زندگی وبال
ایمان فروش مست طرب انجمن میں تھے      اصحاب خیر منزل دارورسن میں تھے

حاکم ہوراہزن تو رعایاکوکہاں ہوچین      تھا ہر طرف غریبوں کی دنیامیں شورو شین
افزوں مگر تھی قصر خلافت کی زیب وزین      اللہ کی زمین پہ تاحد مشرقین
لہرارہاتھاگرچہ پھریرانشان کا      دور بند ہوگیاتھامگر آسمان کا

جوش عمل نہ ولولہ خدمت امم      شیران رزن بن گئے تھے آہوئے حرم
اتناجھکے کہ آہی گیاگردنوں میں خم      ملتاتھاسب کوبادہ تسلیم بیش وکم
بھٹی کھلی تھی قصر خلافت پناہ میں      خاک اڑ رہی تھی میکدہ لالہ میں

اک عالم سکوت میں تھی بزم آب وگل      قدرت کاساز جس کہیں آدمی کادل
پھر ہورہاتھااپنی خموشی سے منفعل      تاروں سے آرہی تھی یہ آواز متصل
روح عمل کوگردش بے تاب چاہئے      مضراب چاہئے ہمیں مضراب چاہئے

مضراب بڑھ کر دی مہیاحسین ؓ نے      خون اپنانبض وقت کو بخشا حسین ؓ نے
خوابیدہ قوتوں کوجھنجھوڑا حسین ؓ نے      فطرت کوکردیاتہہ وبالاحسین ؓ نے
اللہ رے صبر سنگ کادل آب ہوگیا      ہرماجرا فسانۂ مضراب ہوگیا

کعبہ وہ سفر وہ محبوں کااضراب      وہ سخت منزلیں ، وہ کٹھن جادہ ٔ صواب
وہ قاصدوں کاقتل ، وہ کوفے کاانقلاب      وہ انتشار فوج وہ فہمائش جناب
وہ حکم دوستوں کوامام غریب کا      انصار کاوہ خوش وہ خطبہ حبیب کا

تقسیم آب ولشکر حر خوش اعتقاد      ریتی پہ نصیب خیمہ ورفع شر وفساد
پہرے فرات پر بہ رضائے بن زیاد      اک مشک آب کے لئے عباس کاجہاد
درس وفامکالمہ ہرایک عون کا      نعرہ وہ ام وہب کے فقرہ وہ جون کا

بچوں کی پیاس سعی وہ اصحاب خیر کی      بہتی ہوئی وہ خاک پہ محنت زبیر کی
جرأ ت وہ سعد کی وہ سعادت عمیر کی      طاعت وہ ظہر کی وہ اطاعت زہیر کی
وہ رنج دوستوں کاامام غریب کو      وہ ابن عوجہ کی وصیت حبیب کو

تاریخ میں وہ صبح شہادت ہے یادگار      بچوںکے خون نے جس میں بھرارنگ اعتبار کا
ماؤں کی آرزو، کہ یہ امت پہ ہونثار      انسانیت کوہے انہیں قدروں سے افتخار
رفتار ارتقاپہ یہ قدریں گواہ ہیں      تہذیب کے سفر میں یہی زاد راہ ہیں

سینے سپر کیے وہ بنو عبد مطلب      سولہ پہر کی پیاس میں دریا مجتنب
چھوڑے سے نیمچے میں وہ نیاموں میں مضطرب      عارض کے پھول جوش شجاعت سے ملتبب
وہ رخصتیں جدال کی ہاتھوں کوجوڑ کے      وہ پھینکنادغامین نیاموں کوتوڑ کے

تھی دوپہر ،شباب پہ تھارنگ داستاں      کھولے ہوئے سیاہ علم لشکر گراں
گرم لووہ دھوپ کی تیزی کہ الاماں      سورج بھی لے رہاتھادلیروں کاامتحان
لیکن تپش سے کیا خطر ان کی نگاہ کو      رد کر دیا جنہوں نے سپر پناہ کو

اپنی نظر پہ کیا ہو مؤرخ کو اعتبار      صحرا عرب کا خون محمد سے لالہ زار
دیکھتی نہ ہوگی چرخ نے ایسی کبھی بہار      تربیت پیمبر بطحا کے شاہکار
گلگوں کفن مرقع کرب وبلا میں تھے      صف بستہ امتحان گہہ صبر و رضا میں تھے

بہنوں کامامتاکووہ بھائی پہ وارنا      بیٹوںکووہ بھتیجے پہ صدقے اتارنا
سقے کاوہ ترائی میں تلوار امارنا      بچی کادرسے اپنے چچا کوپکار نا
نظریں سوئے خیام چچاکی ایک اس پر      آنسونکل رہے تھے بھتیجی کی پیاس پر

وہ اک جواں حملہ کفار روکنا      بڑھتے ہوئے ہجوم کاہربار روکنا
بچے کابن کے شہ کی سپر وارروکنا      وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھوں پہ تلوار روکنا
مضرابیں تھیں جمیل اسی ساز کے لئے      سوامتحاں ایک عاشق جاں باز کے لئے

وہ بیکسی وہ تشنہ لبی وہ ہجوم غم      بچوں کی اور جوانوں کی وہ میتیں بہم
وہ آفتوکاشور وہ بے تابی حرم      خیمے سے العطش کی وہ آواز ومبدم
وہ ایک جواں کی لاش پہ سجدہ حسین ؓ کا      فطرت بھی دیکھتی تھی کلیجہ حسین ؓ کا

اس تشنگی نہر پہ دوبار جاکے آئے      موجوں کواپنے صبر کی طاقت دکھاکے آئے
آئے حرم سرامین توگھر کولٹائے کے آئے      پیری میں نوجوانوں کالاشے آٹھاکے آئے
زینب کودی صداکہ مشیت خداکی ہے      لے آؤ آخری جوامانت خداکی ہے

لائیں رباب گود میں بچے کو مرحبا      دولت کو ان کی لے کے چلے شاہ کربلا
آواز دی بہن نے کہ بھیایہ کیایہ کیا      فرمایامڑکے ، قرض ابھی تک نہیں چکا
کیاپوچھتی ہے تم کہ ارادہ کہاں کاہے      زینب دعاکروکہ یہ وقت امتحان کاہے

جب تک کہ امتحان کایہ وقت نہ ٹل جائے      سینوں میں ظالموں کے کلجہ پگل نہ جائے
آہن کی روسنگ کی فطرت بدل نہ جائے      پیشانی غرور سے جب تک کہ بل نہ جائے
سینے پہ اپنے داغ لئے جائے گاحسین ؓ      فدیہ اسی طرح سے دئے جائے گاحسین ؓ

ہے یہ مقام صبر کااے زینب حزیں      ممکن ہے اس کوذبح کریں رن میں ابل کر
لیکن مجھے برب محمد یہ ہے یقین      فطرت نہ سہ سگے گی مری ضرب آخریں
اکھڑے گی سانس ظلم کی اس کے لہو کے ساتھ      میں اس کولے چلاہوں بڑی آرزوکے ساتھ

ممکن ہے اس سے قوم کوکچھ زندگی ملے      غفلت کوحس، جمود کوکچھ بے کلی ملے
غیرت ملے ، شعور ملے ، آگہی ملے      مستقبل حیات کوایک روشنی ملے
میں جانتاہوں مصلحت بے نیازکو      مضراب چاہئے دل انسان کے ساز کو

یہ طفل جوتتمہ احرار ہے بہن      فرض آج اس کے خون کاطلبگار رہے بہن
یہ سیرت حسنین ؓ کاشہکار ہے بہن      اس جنگ میں یہی مری تلوار ہے بہن
ہوگی اداجہاد کی سنت اسی سے آج      جیتے گی رن خداکی سیاست اسی سے آج

بچے کو لائے رن میں جوآقائے دوجہاں      آواز دی کہ بھائیوسن لومیری فغاں
بچہ یہ میرے پیاس سے لیتاہے ہچکیاں      کچھ تم سے کہہ رہاہے بلک کر یہ بے زباں
بہتے ہے اشک پیاس سے چہرہ ملول ہے      دیکھواسے یہ باغ محمدکاپھول ہے

مجبور ہے جہاں مین بشر حادثات سے      ماں کی بھی زندگی ہے اسی کی حیات سے
سینے میں مامتاکے تلاطم ہے رات سے      کیوں میں کہوں کہ دو کوئی قطرہ فرات سے
ہاں اس کی بے کسی سے اگر کچھ کھلاہے وہ      پوچھوخود اپنے دل سے کہ کیاکہہ کررہاہے وہ

حضرت کے اس سوال کاجوکچھ ملاجواب      لکھوں اگر اسے توسیاہی ہوآب آب
بس مختصر یہ ہے کہ ہوئے منفعل جناب      بچہ ہوافیوض شہادت سے بہر ہ یاب
صابر اس امتحان میں بھی دیکھاجوآپ کو      دی مسکراکے تہنیت اصفر نے باپ کو

دم توڑ نے لگی جوتمنارباب کی      چھائی دل حزیں پہ گھٹا اضطراب کی
ڈھانپاعباسے اس کورسالت مآب کی      ریش سفید اس کے لہو سے خضاب کی
اس صبر کاگلہ جوکیادل نے باپ کے      خاموش کردیااسے تیور نے آپ کے

فرمایاکھینچتے ہوئے گردن سے تیر کو      احسنت حرملہ ترے نفس شریر کو
نازاں نہ ہو کہ تیر سے مارا صغیر کو      توہلاک کرلیااپنے ضمیر کو
لے دیکھ اب تجھے جوسعادت حصول ہے      پیکاں میں تیرے قطرہ خون رسول ہے

حجت مراشعار تھاحجت ہوئی تمام      میں نے تجھے معاف کیااے سیاہ شام
لیکن بہت شدید ہے فطرت کاانتقام      دیکھ ابن سعد دیکھ مشیت کاانتظام
آنکھیں تیری سیاہ کی گریاں ابھی سے ہیں      مظلومیت کی فتح کے ساماں ابھ سے ہیں

لاش پسر تھی ہاتھ پہ اورسوچتے تھاشاہ      کس منہ سے جاؤ لے کے اسے سوئے خیمہ گاہ
رک جاتے تھے بڑھاکے قدم کومیان راہ      لیکن بقول عشق نہ کچھ بن پڑاتوآہ
ننھی سی قبر کھود کے اصغر کوگاڑکے      شبیر اٹھ کھڑے ہوئے دامن کوجھاڑ کے

مطلع ثانی

شوخی نہ کیوں ہوخاصہ ٔ رنگین کلام میں      قرناپھینکی ہے جنگ کی پھر فوج شام میں
کب تک رہے گی تیغ شہ دیں نیام میں      شعلے لپک رہے ہیں زبان حسام میں
ممکن ہے آسماں کویہ شعلے لپیٹ لے      روح الامیں کدھر ہیں پروںکوسمیٹ لے

ہے وقت وہ کہ فوج عدومیں خلفشار      چہرے میں آفتاب کے ہے دشت کاغبار
پشت فرس پہ چپ ہیں امام فلک وقار      مہر مبین رخ سے جلالت ہے آشکار
ہے قلب مطمئن میں تلاطم فرات کا      کروٹ بدل رہاہے سمندر حیات کا

آتی ہے اب جلال میں غیر حسین کی      طاری ہے فوج شام پہ ہیبت حسین کی
تیور بدل رہی ہے شجاعت حسین کی      غالب مگر غیظ پہ رحمت حسین کی
گودست رعشہ دار میں طاقت علی کی ہے      لیکن یہ سوچتے ہیں کہ امت نبی کی ہے

لرزش نہ کیوں ہو ہاتھ میں طاعت گزار کے      بندے کھڑے ہیں سامنے پردگار کے
ہر سمت سے پرے ہوبد شعار کے      نرغے کیے ہیں گرد شہ ذی وقار کے
اسطرح دشمنوں پہ نظر ہے عتاب کی      جیسے گل وثمر پہ کرن آفتاب کی

فوجوں میں چپ کھڑے ہیں شہنشاہ بحر وبر      افسردہ جیسے تیرگی ابر میں سحر
ہے روح خیر معرکہ آرا بہ فوج شر      عالم یہ ہے کہ رخ یہ نہیں روکتے سپر
پہلونکل رہے ہیں شجاعت کے صبر سے      تیروں کامنہ برستاہے ڈھالوں کے ابر سے

آنکھوں کانور کھوجوگیاہے سپاہ میں      ہے اک ستائے شیر کی ہیبت نگاہ میں
لب ہائے خشک معرکہ رزم گاہ میں      جنباں ہیں ذکر اشہد ان لاالہ میں
مطلب یہ ہے کے سوائے خدانہیں      چوکھٹ پہ اقتدار کے سجدہ روانہیں

ہے مائل جہاد خداوند ذوالفقار      نعرہ یہ ہے کہ ہم ہیں وہ شیران کردگار
جن کی گرج سے بزم عناصر میں خلفشار      بخشاہے ہم نے نبض دوعالم کواضطرار
مہمیز دی ہے ابلق لیل ونہارکو      ٹھنڈاکیاہے فطرت برق وشرار کو

درس حیات ہم سے لیاروزگار نے      مانگانمو ہمارے لہوسے بہار نے
سجدہ کیاہمین نگہ اعتبار نے      ہم وہ جن کی ہمت انجم شکار نے
جھٹکے دیے شمس وقمر کے نظام کو      گردوں کی پیٹھ خم ہے ہمارے سلام میں

ہم سے جنود کفر نے کھائی شکست فاش      تم کیا ہو تم تو کفر کی ہو ایک زندہ لاش
فرعونیت کے بت جو ہیں اے قوم بت تراش      ہوں گے وہ میری ضرب کلیمی سے پاش پاش
آتاہے تم پہ قہر خدائے علیم کا      یہ میری تیغ تیز عصاہے کلیم کا

بھاگو عذاب رب زمین وزماں ہے یہ      دوزخ کی سمت راہبر کاواں ہے یہ
سمجھونہ یہ کہ باد سموم خزاں ہے یہ      امت کے باغ مین تیری باغباں ہے یہ
شاخیں نکل چکی ہیں بہت چھانٹنی ہے یہ      لیناہوجس کوآئے کفن بانٹی ہے یہ

اس تیغ دوزبان میں طاقت بلاکی ہے      تلوار کیاہے حجت قاطع خداکی ہے
کیوں کر نہ شوخ ہوکہ سہیلی قضاکی ہے      ناز اس پہ ہے کہ تیغ شہ لافتاکی ہے
چاٹاتھاظالموں کالہو نہر وان میں      پیاسی ہے جب سے کیوں نہ ہوخشکی زبان میں

اللہ رے تیغ تیز شہنشاہ بحر وبر      مثل کنیز جس کی خواصی میں تھی ظفر
خادم کی طرح تھے ملک الموت ہم سفر      دوڑے اسی طرف کو اشارہ کیاجدھر
اس طرح کب چلے تھے کسی کی رکاب میں      ساتھ اس کاچھوٹ چھوٹ گیااضطراب میں

بن کر گھٹاجوفوج ضلالت شعار آئی      آڑتی ہوئی وہ صاعقہ شعلہ بارآئی
غل تھاجراحتوں کے چمن میں بہا رآئی      گلشن لٹاتی لیلی گلگوں عذار آئی
بسمل ہیں کشتگان اداجلوہ گاہ میں      زخموں کے پھول بانٹ رہی ہیں سپاہ میں

چھائی تھی فوج شام کی ہرسوگھٹاسیاہ      دشت وجبل سیاہ تھے ارض وسما سیاہ
چہرے سیاہ رایت اہل جفاسیاہ      ڈھالوں سے ہوگئی تھی وہ ساری فضاسیاہ
اوراس فضائے تار میں جلوہ فگن تھی وہ      ظلمت کدے میں صبح کی پہلی کرن تھی وہ

مڑتے ہی اس کے ہوگئی اہل چمن ادھرادھر      پھٹنے لگے سپاہ کے بادل ادھر ادھر
بارش یہاں وہاں تھی توجل تھل ادھر ادھر      گرتے تھے کٹ کے نیزوں کے جنگل ادھر ادھر
لوہے کی کیا بساط ہے بجلی کی گشت میں      سائے سے اس کے دھوپ بھی کٹتی تھی دشت میں

کب اس سے شان کم فرس باوپاکی ہے      ٹاپوسے جس کی چور زمین کربلاکی ہے
غل تھاکہ مرتجز نہیں قدرت خداکی ہے      پیکر میں اس کے بند طبیعت ہواکی ہے
حوریں نثار زین پہ اور زین پوش پر      رف رف دھرا ہوا تھافرشتے دوش پر

گھوڑاہے یہ نسیم نہیں ہے صبا نہیں      لیکن مزاج برق بھی اتنارسانہیں
کہتاہے کون یہ کہ فرس باوفانہیں      دریا کو ہنہنا کہ کبھی دیکھتا نہیں
ہر چند تشنگی کاجگر میں وفور ہے      صابر حضورہیں تو فرس بھی غیور ہے

رن میںسلاح پوش لعینوں کاوہ جماؤ      مڑتی ہوئی صفیں تھی کہ دریاکاتھاچڑھاؤ
اور ان صفوںکے بیچ سے وہ اس کی آؤ جاؤ      پانی کوکاٹتی ہوئی چلتی ہوجیسے ناؤ
حیرت تھی اس کے گشت پہ ہر شیخ وشاب کو      ٹاپوں سے توڑتاتھاسروں کے حباب کو

ہوکر جوتازہ دم سپہ بد شعار آئی      پھر توغضب مین لیلی آہوشکارآئی
توڑا جو سینہ کو تو سوئے یسار آئی      سب نشہ غرور شجاعت اتار آئی
ہر صف الٹ پلٹ کر سپہ جنگ جوکی تھی      مینہ پڑرہاتھاباڑھ پہ ندی لہوکی تھی

سانس ان کے ڈر سے بند جوبادصباکی تھی      حالت تباہ لشکر اہل جفاکی تھی
ہر صف میں دھاک فتنہ محشر بپاکی تھی      شعلوں سے اس کے گرم ہوا کربلاکی بھی
بھڑکی تھی آگ معرکہ رزم گاہ میں      سہمی ہوئی تھی دھوپ سپر کی پناہ میں
پھر تو سیاہ اہل جفابھاگنے لگی      آیاجو خوف دل میں حیا بھاگنے لگی
گرد اس قدر اڑی ،کہ فضا بھاگنے لگی      گھوڑوں کے ساتھ ساتھ ہوابھاگنے لگی
آنکھوں میں دھول جھونک دی بجلی نے کوند کے      بھاگے سوا راپنے پیادوں کوروند کے
کچھ سمت کوفے ،کچھ سوئے باب سقر چلے      ایک ایک سے یہ پوچھ رہاتھاکدھر چلے
کہتے تھے سب کہ بھاگ چلو بس اگر چلے      منزل کا کیاسوال ہے گھوڑ اجدھر چلے
گھوڑے نے بوجھ پھنک دئیے اپن زین کے      اک شورتھاالٹ گئے طبقے زمین کے

اللہ رے خوف دور سے خطرے کوبھانپ کے      جنگل کے شیر بھاگ گئے ہانپ ہانپ کے
پرچم جھکے پھرہرے سے منہ ڈھانپ ڈھانپ کے      چادر ہلارہے تھے حکم کانپ کانپ کے
اکھڑے تھے پاؤ ں و قت کے اس اژدہام میں      ہل مچی تھی قافلہ صبح وشام میں

تھی بس کے زلزلہ میں فضادوجہاں کی      جاتی تھی خاک تابہ فلک خاکدان کی
دیواریں گر رہی تھی زمان ومکان کی      تھامے تھے جبریل طناب آسمان کی
ٹکراکے چور ہوتے گئے عالمین کے      لیکن زمین دبی تھی قدم سے حسین ؓ کے

حاضر فوج جن پنے تعمیل اک طرف      کنکر لئے تھے منہ میں ابابیل ایک طرف
مضطرتھی علقمہ صفت بیل ایک طرف      حکم خدالئے ہوئے جبریل ایک طرف
منہ سے لگاچکے تھے سرافیل صور کو      امت پہ رحم آگیالیکن حضور کو

قربان رحم سرور عالی وقارکے      آجاتاہے جو زد پہ کوئی ذوالفقارکے
منہ اپناپھر لیتے ہیں تلوار مار کے      جمتے نہیں قدم سپہ بد شعار کے
حضرت مگر لجام فرس پھیرتے نہیں      ڈرکر جوبھاگتاہے اسے گھر تے نہیں

بھگدڑ مچی ہوئی ہے سواران شام میں      جاتی ہیں اڑکے خون کی چھنیٹیں خیام میں
زخمی کچل کچل جوگئے اژدہام میں      تلوار کورحیم نے رکھا نیام میں
پھر صدایہ آنے لگی مشرقیں سے      فطرت کی لاج رہ گئی صبر حسین ؓ سے

تلوار روک لی تو ہوا ضعف کاوفور      پشت فرس یہ حالت غش میں رہے حضور
گرمی سے اس کی بجھ جورہاتھاخداکانور      چہرے پہ آفتاب کے کے تھی خجلت قصور
تھا وقت عصر دی جواذاں فوج شام نے      اپنے مصلیوں کوپکارا امام نے

آواز دی کہ دن ہے تمام اے نمازیو      اٹھو کہ اب قریب ہے شام اے نمازیو
دیتے نہیں جواب سلام اے نمازیو      تم کوپکارتا ہے امام اے نمازیو
بھولے ہمیں بھی کیاکہیں اس خواب ناز کو      اٹھو صفیں جماکے کھڑے ہونماز کو

غیرت کاآرہاہے مقام اے مجاہدو      جاتی ہے فوج سوئے خیام اے مجاہدو
ہے آفتاب دیں لب بام اے مجاہدو      ہاتھوں سے چھوٹتی ہے لجام اے مجاہدو
اتریں فرس سے تھام لے بازواگرکوئی      لیتانہیں غریب کی آکر خبر کوئی

کروٹ بدل کے دیکھ تولومیراحال زار      میں جاں بلب ہوں سرد ہے میدان کارزار
مہلت مگر نہیں کہ کروں شکر کردگار      نیزے لگارہے ہیں مسلسل جفاشعار
تیروسنان وتیغ وتیر روکتے نہیں      تم اٹھ کے میرے رخ پہ سپر روکتے نہیں

تڑپی یہ سن کے لاش رفیقان ذی وقار      زینب ہوئیں ادھر در خیمہ پہ بے قرار
آواز دی کہ آپ پہ بھیابہن نثار      گر حکم ہوتو خیمے سے نکلے یہ سوگوار
دیتے نہیں جواب جو پیارے حضور کو      آکر بہن فرس سے اتارے حضور کو

پہنچی یہ جاں گداز صدا گوش شاہ میں      اک کیفیت ملال کی ابھری نگاہ میں
آواز دی کہ ہم ہے کھڑے وعدہ گاہ میں      در پیش مرحلہ ہے محبت کی راہ میں
اس حال میں مریض پسرکے قریں رہو      عابد نکل پڑے گابہن تم وہی رہو

اتنے میں پھر پلٹ جوپڑی فوج کینہ جو      دیکھا یاس سے حضرت نے چار سو
گرنے لگے توبیٹھ گیا اسپ نیک خو      اترے فرس سے ہوجوچکاخون سے وضو
عجلت نہ کیوں ہوبندگی بے نیاز میں      حسرت یہ کہ سرجو کٹے نماز میں

بس اے کمیت خاصہ ماتم طراز بس      سجدے میں شکر کے ہیں امام حجاز بس
طاری ہے دل پہ عالم راز ونیاز بس      اٹھتے ہیں درمیاں سے حجابات راز بس
خم ہیں حضور پیش خداسر لئے ہوئے      قاتل کھڑاہے پشت پہ خنجر لئے ہوئے

مضراب آخری کابھی اب سن لوماجرا      ہر تار ساز وقت جس سے لرزااٹھا
شمر لعیں جوکاٹ رہاتھا رگ قفا      جنبش ہوئی لبوں کوتوحیرت ہوئی سوا
جھک کر سنا توحمد خداکررہے تھے آپ      قاتل کی مغفرت کی دعاکر رہے تھے آپ

بس اختصار مظہری بہتر ہے طول سے      اسرار عشق کیاکہوں قوم جہول سے
ظاہر میں منحرف ہوں فروع اصول سے      وابستہ گونہیں ہوں خدا و رسول سے
لیکن میں پوجتا ہوں شہ مشرقین کو      کرتاہے میراکفر بھی سجدہ حسین کو

اُردومیں مرثیہ نگاری کے ذکر کے ساتھ ہی ذہن میں جو دو نمایاں تصویریں ابھرتی ہیں وہ میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔکی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انیس ؔو دبیر ؔنے اپنے بے پناہ زورِ تخیل اور جدتِ طبع سے مرثیے کے فن کو اس قدر بام ِعروج پر پہنچایا کہ اب اس میں مزید ترقی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اسی طرح اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگاکہ جوش ؔاور وحید اخترؔ کے بعد مرثیہ نگاری کا فن زوال پذیر ہوگیا… مرثیے کے ذکر کے ساتھ جو دوسرا تصور ا بھر تا ہے‘ وہ ہے میدانِ کربلا میں شہادتِ حسین ؓکا جاں گسل سانحہ۔ واقعہ یہ ہے کہ اُردو کا تقریباً تمام رثائی ادب کربلا ئی مرثیوں پر مشتمل ہے۔ شخصی مرثیوں کی طرف ہمارے شعرائے کرام کی نظرِ التفات بہت کم رہی ۔ اردومیں شخصی مرثیے جتنے لکھے گئے ہیں انھیں بہ آسانی انگلیوں پر گناجاسکتا ہے ۔ کچھ تو شہادتِ حسینؓ کے واقعے سے جذباتی وابستگی کی بنا پر ‘ کچھ تقدس وکارِثواب کی خاطر ‘ بہر حال وجوہات جو بھی رہی ہوں ‘ اردو شاعری کے آغاز سے لے کر جدید دور میں جوشؔ اور وحید اخترؔ تک ہر دور میں کربلا ئی مرثیوں کی روشن روایت نظر آتی ہے ۔ا س کے بر خلاف شخصی مرثیوں کی طرف خاطر خواہ تو جہ نہیں دی گئی ۔
اگر چہ غالبؔ نے مرثیہ ٔعارفؔ لکھ کر شخصی مرثیوں کی داغ بیل ڈالی ‘ لیکن حالیؔ وہ پہلے شاعرو نقاد ہیں جنھوں نے سب سے پہلے نہ صرف اس کمی کو شدت سے محسوس کیا بلکہ انھوں نے کہاکہ مرثیے کی صنف کو صرف سانحۂ کر بلا تک محدودر کھنا مناسب نہیں ۔ ایسے اشخاص کی وفات پر بھی مرثیے لکھے جاسکتے ہیں اور لکھے جانے چاہئیں ‘ جن سے ہمیں غایت درجے کی الفت ومحبت تھی اور جن کے انتقال سے ہمیں فی الواقعی شدید صدمہ پہنچا ہو۔ وہ ہمارے عزیز واقارب ہوں یا قوم وملت کے رہنما‘ ہر کسی کی وفات پر اس کے محامد ومحاسن اور خدمات بیان کر کے اپنے غم واند وہ اور ذہنی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے نو حے لکھ کر ہمارے رثائی ادب میں وسعت پیدا کرنی چاہیے۔ چنانچہ غالبؔ کے ’’مرثیۂ عارف ‘‘ کے بعد خود حالیؔ نے مرثیۂ غالبؔ ‘‘لکھا پھر اقبالؔ نے’’مرثیۂ داغؔ ‘‘اورپھر صفیؔ لکھنوی نے حالیؔ کا مرثیہ لکھ کر اس روایت کو آگے بڑھایا ۔ذیل میں انہی چار شخصی مرثیوں کاتنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

غالبؔ کامرثیۂ عارفؔ
زین العابد ین خاں عارف ؔ مرزاغالب ؔ کی اہلیہ کے بھانجے تھے ۔یہ نہا یت علم دوست ‘ سخن فہم اور خوش فکر شاعر بھی تھے۔ ان کی انھی گوناں گوں خوبیوں کی وجہ سے غالبؔ انہیں بے حد عزیز رکھتے تھے۔ یہ غالبؔ کے شاگردبھی تھے۔ ان کاانتقال عین جوانی میں ۱۸۵۳؁ء کو ہوا۔ ان کی موت سے غالبؔ کوبے حد صدمہ پہنچا۔انہوں نے عارفؔ کی موت پر غزل کی ہیئت میں ایک مختصر مگر پُر سوز مر ثیہ کہا ہے جودس اشعار پر مشتمل ہے ۔ چند اشعاردرج ذیل ہیں :

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور       تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
مٹ جائےگا سَر، گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا       ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ "جاؤں؟"       مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو "قیامت کو ملیں گے"       کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف       کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے       پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے       کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی       بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش       کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ "کیوں جیتے ہیں غالبؔ"       قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور

ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ غالبؔ ‘ عارفؔ سے غایت درجے کی محبت رکھتے تھے ۔ یہ ہے تو مرثیہ لیکن غالبؔ نے اس میں ایسا پیرایۂ اظہار اختیار کیا ہے جس میں شوخی و طنز بھی ہے ۔ مرنے والے سے یہ کہنا کہ تنہا گئے کیوں ؟اب رہو تنہا کوئی دن اور ‘ غالب ؔ کی اسی شوخی کی غمازی کرتا ہے ساتھ ہی عارفؔسے ان کی بے انتہامحبت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ دوسراشعرتو بہت غضب کا ہے مرنے والے سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ تم تو جاتے ہوئے یہ کہہ رہے ہو کہ اب قیامت کوملیں گے لیکن یہ تو بتا ؤ کہ اس سے بڑھ کربھی کوئی قیامت کادن ہے؟چوتھا شعر بھی غالب ؔ کی مخصوص شوخی و طرزِ اداکاحامل ہے ۔کہتے ہیں کہ تم لین دین کے معاملے میں ایسے کونسے کھرے تھے۔ ملک الموت کو بھی کسی بہانے سے چند دن ٹال دیا ہوتا۔ بہر حال یہ مرثیہ غالبؔ کی انفرادیت ‘ جدتِ طبع اور ندرتِ خیال کی اپنی مثال ہے۔ شاید ہی کوئی مرثیہ ہوجس میں مرثیہ نگارنے اپنے غم واندوہ کے بیان میں شوخی وطنز سے بھی کام لیا ہو۔
حالی کا مرثیۂ غالبؔ :
غالبؔ ( ۱۷۹۷۔۱۸۶۹ء)کاشمارنہ صرف اردواور فارسی کے اہم ترین شاعروں میں ہوتا ہے بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں کے چندعظیم شاعر وں میں بھی ان کی خاص شنا خت ہے ۔ اردو شاعری میں غالبؔ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہواہے ۔ اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگاکہ غیر اردوداں حضرات بھی اردوکے حوالے سے غالبؔ کواور غالبؔ کے حوالے سے اُردو کو جانتے ہیں ۔ غالبؔ نے اپنے جدتِ خیال ‘ ندرتِ بیان، معنی آفرینی ‘ شوخی وظرافت سے اُردو غزل کوفرسود گی سے آزادی دلا کرنہ صرف تازگی وتوانائی بخشی بلکہ اسے فکر ی وفلسفیانہ اسا س بھی فراہم کی۔
حالیؔ جب پانی پت سے بغرض تعلیم دہلی آئے تو یہاں انکی ملاقات غالبؔ جیسے نابغۂ روز گار سے ہوئی ۔ حالیؔ نہ صرف غالبؔکے حلقۂ احباب میں شا مل ہوگئے بلکہ ان سے شرفِ تلمذبھی حاصل کیا ۔ وہ ایک زمانے تک غالبؔ کی صحبتوں سے فیض اٹھا تے رہے ۔ انھیں بہت قریب سے دیکھا ان کے مزاج ‘ اخلاق وعادات سے بھی متا ثر رہے ۔ حالیؔ ‘ غالبؔ کے شاعر انہ کمالات کے قائل بھی تھے اور ان کے مخلص معتقد بھی ۔ اگرچہ بعدمیں حالیؔ شیفتہ کی صحبت سے بہت مستفید ہوئے لیکن وہ معتقد بہرحال غالبؔ کے تھے جیساکہ انھوں نے اپنے ایک شعرمیں کہاہے :

حالیؔ سخن میں شیفتہ سے مستفید ہوں       غالبؔ کا معتقد ہوں ،مقلد ہوں میرؔ کا

بہرحال حالیؔکوغالبؔ سے بڑی عقیدت تھی جس کا حق انھوں نے نہ صرف ’’یادگارِ غالب ‘‘ لکھ کرادا کیابلکہ ان کی وفا ت پرعقیدت ومحبت سے مملو پرسوز مرثیہ بھی لکھا جو دس دس شعر کے دس بند پر مشتمل تر کیب بند کی ہیئت میں ہے ۔ اس مرثیے میں حالیؔ نے غالبؔ کے مزاج ‘ عادات واطوار ‘ شخصیت ‘ شوخی ‘ ظرافت ،بذلہ سنجی ‘رندوسر مستی ‘ احباب نوازی ‘ نکتہ دانی، نکتہ شناسی‘ پاک باطنی اورمجلسی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے۔ غالبؔ کونوشہ اور شہردلی کو برات قراردیتے ہوئے یہ کہاہے کہ غالب ؔکے مرنے سے دلی مرگئی۔ مراد یہ ہے کہ دلی کی شعروسخن کی محفلوں کی رونق وآب وتاب غالبؔ سے تھی
اس کے مرنے سے مرگئی دلی       خواجہ نوشہ تھا اور شہر برات
یاں اگر بزم تھی تو اس کی بز م       یاں اگر ذات تھی تو اس کی ذات
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا       شہر میں اک چراغ تھانہ رہا

حالیؔ کے خیال میں غالبؔ کے شاعرانہ کمالات ایسے تھے جن پرفارسی کے عظیم شعرا عرفی ؔوطالبؔ کو بھی رشک ہوتاتھا چنا نچہ کہتے ہیں :

رشکِ عرفیؔ و فخر طالبِ مُرد       اسد اللہ خاں غالب ؔ مُرد

حالی ؔ نے یہ کہہ کر بھی غالبؔکو خراج ِ تحسین پیش کیا ہے کہ غالبؔ کو فارسی شاعری میں قدسیؔ‘صائبؔ ‘ اسیرؔ اور کلیمؔ کا ہم پلہ ٹھہر انا نہایت غلط ہے بلکہ غالبؔ کا درجہ ان سے بہت بلندہے۔کہتے ہیں :

قدسیؔ وصائبؔ واسیر ؔ وکلیم       لوگ جو چاہیں اُن کو ٹہر ائیں
ہم نے سب کاکلام دیکھا ہے       ہے ادب شرط منہ نہ کھلو ائیں
غالبؔ ِنکتہ داں سے کیانسب       خاک کو آسماں سے کیا نسبت

غالبؔ کی نثرو نظم کے حسن وجمال اور اس کی گونا گوں خوبیوں کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں :

چشمِ دوراں سے آج چھپتی ہے       انوریؔ وکمالؔ کی صورت
لوحِ دوراں سے آج مٹتی ہے       علم وفضل وکمال کی صورت
دیکھ لو آج پھر نہ دیکھوگے       غالبِؔ بے مثال کی صورت
ساتھ اس کے گئی بہارِ سخن       اب کچھ اندیشۂ خزاں نہ رہا
اہل ہنداب کریں گے کس پرناز       رشک ِشیراز و اصفہاں نہ رہا
کوئی ویسا نظر نہیں آتا       وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا
اُٹھ گیا‘ تھا جو مایہ دارِ سخن       کس کوٹھہر ائیں اب مدارِ سخن

غالب کے مزاج و شخصیت کی عکا سی اس طرح کی ہے :

خاکساروں سے خاکساری تھی       سربلند وں سے انکسار نہ تھا
لب پہ احباب سے بھی تھانہ گلہ       دل میں اعدا سے بھی غبارنہ تھا
بے ریائی تھی زہد کے بدلے       زہد اس کا اگر شعار نہ تھا

غالبؔ کی وفات سے حالیؔ کو جودلی صدمہ پہنچااوروہ جس ذہنی ورو حانی کرب وابتلا کا شکارہوئے اس کااظہار بھی انھوں نے بڑے رقت آمیز اسلوب میں کیا ہے ۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ زاروقطار ورہے ہیں اور حزن وملا ل کے دریا میں بہے جارہے ہیں ۔ حالیؔ شاعری میں جوش ‘ اصلیت اور سادگی کے بڑے مبلغ تھے ۔
یہ تینوں چیزیں ان کے زیرِ نظر مرثیے میں بہ تمام و کمال نظر آتی ہیں ۔ حزن وملال میں ڈوب کر کہے ہوئے ماتمی اشعارمیں آج بھی حالیؔ کے سچے جذبات کی تپش اور آنسوؤں کی نمی محسوس کی جاسکتی ہے ۔ مثلاََ:

بارِ احباب جو اٹھا تا تھا       دوشِ احباب پر سوار ہے آج
تھی ہر اک بات نیشکر جس کی       اس کی چپ سے جگر فگا رہے آج
دلِ مضطر کو کون دے تسکیں       ماتمِ یارِ غم گسار ہے آج
تلخیِ غم کہی نہیں جاتی       جانِ شیر یں بھی نا گوار ہے آج
غم سے بھر تانہیں دلِ ناشاد       کس سے خالی ہوا جہاں آباد
کچھ نہیں فرق باغ وزنداں میں       آج بلبل نہیں گلستاں میں
شہر سارا بنا ہے بیت ِحزن       ایک یوسف نہیں جو کنعاں میں
وہ گیا‘جس سے بزم تھی روشن       شمع جلتی ہے کیوں شبستاں میں

سچے جذبات کی پُر اثر تر جمانی ‘ تاثیر بیانی ‘ تسلسل اور روانی ‘ اہلِ کمال کی قدر دانی ‘ رقت آمیز اسلوب ‘ بر محل الفاظ کا استعمال ‘ غلوسے اجتنا ب ‘ عقیدت ومحبت کابے ساختہ اظہار اور مترنم بحرکی خوش آہنگی غرض ان کئی خوبیوں سے متصف یہ مرثیہ نہ صرف شخصی مرثیوں میں ممتاز اہمیت کا حامل ہے بلکہ ایک شاگرد کا اپنے استاد کو زبر دست خراجِ تحسین بھی ہے ۔ اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ اسی مرثیے سے اُردو میں شخصی مرثیوں کی روایت کو استحکام حاصل ہوا ۔
اقبالؔ کا مرثیۂ داغؔ :داغ ؔدہلوی(۱۸۳۱۔۱۹۰۵ء) اردو کے ممتا ز غزل گوشعرا میں اپنی رنگین مزاجی ‘ بانکپن ‘ معاملہ بندی ‘مخصوص رنگِ تغزل اورصفائیِ زبان کے حوالے سے منفرد شناخت رکھتے ہیں ۔ اقبالؔنے جب شاعری کا آغاز کیا توسارے ہندوستان میں غزل کے حوالے سے داغؔ کا طوطی بول رہا تھا ۔ داغؔ کے بے شمار شاگردہندوستا ن بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔چنانچہ اقبالؔ نے بھی اپنے ابتدائی کلام پر داغ ؔ ہی سے اصلاح لی ۔ اس طرح وہ شاعری میں داغؔ کے شاگرد تھے جیسا کہ انھوں نے ایک شعر میں خود کہا ہے

نسیمؔ وتشنہؔ ہی اقبالؔکچھ اس پرنہیں نازاں       مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ داغِ سخن داں کا

لیکن داغ ؔ نے بہت جلد اقبال ؔکو فارغ الا صلا ح قرار دیا۔ اقبالؔ کی ابتدائی غزلیات پر داغ ؔ کے اثر ات صاف طور پرمحسوس کیے جاسکتے ہیں : مثلاََ

نہ آتے اگر اس میں تکرار کیا تھی       مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
بھر ی بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا       نگہ تیری مستی میں ہشیار کیا تھی

1905ء میں داغؔ کا انتقال حیدرآباد دکن میں ہوا اور وہیں پیوندِخاک ہوئے۔ داغؔ کی وفاتِ حسرت آیات پر اقبالؔ (1875۔1938ء) نے 123 اشعار پر مشتمل مثنوی کی ہیئت میں ایک مختصر مرثیہ لکھا جو ایجاز واختصار، رمز وکنایہ، تاثیر وبلاغت اور دیگر شعری محاسن سے مملو اور لاجواب ہے۔اقبالؔ نے مرثیے کی ابتدا میں غالبؔ ، میر مہدی مجروحؔ اورامیرؔ مینائی کی اموات کا ذِکر کرکے داغؔ کو شمعِ بزمِ سخن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے:

شمع روشن بجھ گئی بزمِ سخن ماتم میں ہے

داغؔ کو بلبلِ دِلّی اور اپنے طرز کا آخری شاعر قرار دیتے ہوئے کہا ہے:

چل بسا داغؔ آہ! میت اس کی زیبِ دوش ہے       آخری شاعر جہاں آباد کا خاموش ہے

داغؔ کی شاعرانہ خصوصیات کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے:

اب کہاں وہ بانکپن وہ شوخیِ طرزِ ادا       آگ تھی کافورِ پیری میں جوانی کی نہاں
اب صبا سے کون پوچھے گا سکوتِ گل کا راز       کون سمجھے گا چمن میں نالۂ بلبل کا راز

اقبالؔ نے اس احساس کا اظہار کیا ہے کہ دنیا میں بہت سے شاعر پیدا ہوتے رہیں گے۔ کوئی تلخیٔ دوراں کا نقشہ کھینچ کر ہمیں رلائے گا تو کوئی تخیلات کی دنیا بسائے گا۔ کتابِ دل کی تفسیریں بھی بہت لکھی جائیں گی اور خوابِ جوانی کی تعبیریں بھی بہت ہوں گی مگر عشق کی ہو بہو تصویر کھینچنے والا اور اپنے رنگین اشعار کے تیروں سے دلوں کو مجروح کرنے اور تڑپا نے والا کوئی نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں :

ہوبہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون       اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیرکون

اپنے غم واندوہ کا اظہار کرتے ہوئے خاکِ دلّی سے مخاطب ہوکرکہا ہے:

اشک کے دانے زمینِ شعر میں بوتا ہوں میں       تو بھی رو، اے خاکِ دلّی!داغؔ کو روتا ہوں میں
اے جہاں آباد! ائے سرمایۂ بزمِ سخن!       ہوگیا پھر آج پامالِ خزاں تیرا چمن
وہ گلِ رنگین ترا‘ رخصت مثالِ بو ہوا       آہ! خالی داغؔ سے کاشانۂ اردوہوا

اقبالؔ نے اپنے مخصوص طرزِ سخن، شعر ی زبان ،سحرکاری ، فکر وتخیل اور جذبات کی وارفتگی کو بروئے کارلاتے ہوئے اس مرثیے میں داغؔ کی شاعرانہ انفرادیت ، شوخی بانکپن ، جذبات نگاری، وارداتِ عشق کے بے محابا اظہار، دلکشی، جاذبیت اور رنگینیٔ خیال، غرض داغؔ کی شاعری کے جملہ عناصرِ ترکیبی کوبہترین خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ شخصی مرثیوں میں اقبالؔ کے مرثیۂ داغؔ کی خصوصیت وانفرادیت مسلم ہے۔
صفیؔ لکھنوی کا مرثیۂ حالی ؔ: حالیؔ (۱۸۳۷۔۱۹۱۴ء) نہ صرف اردو کے بلند پایہ ادیب، شاعر ، نقاد اور سوانح نگار تھے بلکہ مصلحِ قوم بھی تھے۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی زبان وادب اور قوم کی اصلاح وفروغ اور خدمت میں گزاری۔حالیؔ قوم وملت کو بیدار کرکے اسے نئے زمانے سے ہم آہنگ ہونے کا شعور بخشنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ حالیؔ اردو شاعری میں مجدد کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ انھوں نے مقصدی ‘اصلا حی‘قومی اورنیچرل شاعری کا نہ صرف احساس دلایابلکہ عملی طورپرخودبھی اس قسم کی شاعری کوفروغ دینے کی حتی المقدورکو شش کی۔ ان کی ادبی وقومی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی۔حالیؔ نیک دل ‘ فرشتہ صفت اور بلند اخلاق کے حامل انسان تھے ۔ ایسے مجدّ دِشاعری ‘ مصلحِ قوم اور نیک و مخلص انسان کا دنیا سے اٹھ جانا یقینا باعثِ رنج وملا ل تھا۔
غزل کے نمائندہ شاعر صفیؔ لکھنوی ( ۱۸۶۲؁۔۱۹۵۰؁ء) نے حالیؔ کی وفات کا گہر اصد مہ و تا ثر قبول کیا اور اپنے اس صدمے اور تا ثر کو نظم کاجامہ پہنا کر مر ثیے کی صورت میں پیش کیا جو بارہ بند پر مشتمل مسدس کی ہیئت میں ہے ۔ صفی لکھنوی نے مرثیۂ حالیؔ میں حالیؔکی تمام خوبیوں اور ان کی قومی وادبی خدمات کاتذکرہ رمز وکنا یے کے ساتھ بڑے سلیقے اور ہنر مندی سے کیاہے جس میں سادگی بھی ہے اور پر کاری بھی ۔ مرثیے کی چھوٹی بحر اور دھیما لہجہ ‘ اندازِ بیان میں سادگی ومتا نت ‘ غلوسے پاک اور اصلیت سے پر مصر عے حالیؔ کی شخصیت ومزاج کے عین مطا بق ہیں جس سے مرثیے میں بلا غت کی اعلیٰ وار فع شان پیدا ہوگئی ہے ۔ حالی ؔ کے مزاج و ذہن اور فطرت وطینت کا اظہار اس سے بڑھ کر بلیغ اور کیاہوسکتا ہے :

سعد یؔ ‘ عطارؔ اس صدی کا       طینت میں اثرنہ تھا بدی کا
دل آئینہ عشقِ سرمدی کا       پتلا خلقِ محمد ی کا
تھا حسنِ عمل سے جس کو رشتہ       قالب میں بشر کے ایک فرشتہ

حالیؔ کی رہنمایانہ و مجتہدانہ شعری وادبی خدمات اور ان کی سیرت ومزاج کا پورا عکس اس ایک بند میں کس خوبصورتی کے ساتھ جھلک رہا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

وہ خضرِ ادب‘ ادیبِ مشاق فرخندہ سِیَر‘ طبیبِ اخلاق
یکتا ئے زماں ‘ و حیدِ آفاق گر نظم میں فرد‘ نثر میں طاق
پاکیزہ خیال پاک طینت جس بزم میں ہواس کی زینت

صفیؔ نے مختلف اشعار اور مصرعوں میں حالیؔ کی تصانیف اور اُن کی نظموں کے عنوانات اس خوبی اور بے ساختگی سے استعمال کیے ہیں جیساایک مشاق جو ہری نگینے جڑتا ہے ۔ مثلاََ:

کس بحرِ سخن کاآگیاہے نام       بے تاب ہے ’’مدوجزرِ اسلام ‘‘
مرحوم تھے ’’یاد گارِ غالب ‘‘ تلمیذِوفا شعارِ غالب       اندوہ ربا ’’نشاطِ امید ‘‘ فرحت افزا’’حیاتِ جاوید‘‘

یہی حال ان کے خطاب اور نام کا بھی ہے :

سلطانِ قلمروِ خیالی       اقلیمِ سخن کا بابِ عالی
بے مثل ‘ مثال ِبے مثالی       شمس العلماجنابِ حالی
ذی عزت وخواجہ گرامی       الطاف حسین نامِ نامی

بہر حال صفیؔ لکھنوی کا’’مرثیۂ حالیؔ ‘‘ حالیؔ کے اوصافِ حمید ہ ‘خدماتِ جلیلہ کا بہترین مرقع بھی ہے اور صفیؔ کے سچے جذبات کاآئینہ دار بھی ‘ جس میں حالیؔ کی موت پر صفیؔ کا حزن وملا ل اور افسر دگی و مایوسی صاف طورپر محسوس کی جاسکتی ہے ۔
اردو کے دیگر چند مشہور شخصی مرثیوں میں اقبال ؔکی نظم’’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ اور چکبستؔ کے دومرثیے ’’ مر ثیۂ تلکؔ‘‘اور ’’گھوکھلےؔ کی موت‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکرہیں ۔

نام سید کاظم علی، جمیل تخلص ۔2؍ستمبر 1904ء کو پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ وطن حسن پورہ ضلع سارن (بہار) تھا۔ کلکتہ یونیورسٹی سے 1931ء میں فارسی میں ایم اے کیا اور روزنامہ ’عصرجدید‘ کلکتہ میں کالم لکھ کر ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ وحشت کلکتوی سے تلمذ حاصل تھا۔1946ء میں صوبہ بہار کے افسر اطلاعات کے عہدے پر مامور ہوئے۔1950ء میں پٹنہ یونیورسٹی میں اردو اور فارسی کے پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سیاست میں حصہ لینے پر 1942ء میں جیل گئے۔ اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند سے ’’غالب ادبی ایوارڈ‘‘ حاصل کیا۔23؍جولائی1979ء کو انتقال کرگئے۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’عرفان جمیل‘، ’فکرجمیل‘، ’نقش جمیل‘، ’وجدان جمیل‘۔ نظم ،غزل، گیت ،رباعیات، قطعات اور مراثی میں طبع آزمائی کی۔ شاد عظیم آبادی اور یگانہ چنگیزی کے بعد بہار کے ممتاز ترین شعرا میں جمیل مظہری کا شمار ہوتا ہے۔
آپ کے والد مولانا خورشید حسنین تھے جو اپنے عہد کے ایک جیّد عالم اور شاعر بھی تھے۔ خورشید تخلص کر تے تھے مرثیے میں ان کی خصوصی خوا ندگی کے زبانوں پر چرچے رہے۔بیسوی صدی میں فکری اعتبار سے جد ید مرثیے کی سب سے بڑی اور سب سے سنجیدہ آواز علامہ جمیل مظہری کی آواز ہے۔

ہجومِ فکر نے اپنالیا ہے مجھ کو جمیلَ غلط       نہیں ہے کہ میں انجمن میں تنہا ہوں

۱۹۱۸ء میں جبکہ ان کی عمر صرف ۱۴ برس تھی انھوں نے پہلا شعر کہا اور پھر وہ شاعر ی ہی کی دنیا کے ہو کر رہ گئے۔ حیرت ہو تی ہے اس فن میں اس قدر انجذاب و انہماک کے باوجود اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’ نقشِ جمیل‘‘ ۱۹۵۳ میں اُس وقت شائع ہوا جب وہ اپنی عمر کی نصف صدی طے کرچکے تھے ۔پہلا مرثیہ انھوں نے ۲۶ سال کی عمرمیں کہا۔جدید مرثیے کی تاریخ اور تذکرے میں جمیل مظہر ی کا نام اُن کے ہم عصر مرثیہ گو شعرا ء جوشؔ ، نجم آفندیؔ ،نسیم امروہویؔ اور سید آل رضاؔ کے بعد لیا گیا ہے اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں ۔ پہلا سبب جدید مرثیے کے سب سے بڑ ے مرکز کر اچی سے جمیل مظہری کی مستقل دوری اوردوسرا سبب ان کے مرثیوں کی اشاعت میں انتہائی تاخیر ہے ۔ جمیل مظہری نے پہلا مرثیہ 1930 میں کہا اور آخری مرثیہ 1980 میں ۔یوں ان کی مرثیہ گوئی پوری نصف صدی پر محیط ہے اگر چہ اس تمام عرصے میں ان کے مرثیوں کی تعداد صرف دس ہے لیکن پچاس برس کی طویل مدت کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کی مرثیہ گوئی کو چار ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلا دور1930ء سے 1940ء تک ہے اس دور کی یاد گار دو مرثیے ہیں پہلاعرفان عشق 1930ء اور دوسرایمان وفا 1936ء جبکہ دوسرا دور1941ء سے1951ء تک ہے دس برسوں پر محیط یہ دورِ مرثیہ گوئی بھی ان کے دو مرثیوں سے پہچانا جائیگا ۔ایک عزم محکم1942 اور دوسرا مضرابِ شہادت1951ء۔تیسرا دور 1952 ءسے1963 ء تک ہے اس دور میں جمیل مظہری نے یہ تین مرثیے کہے۔ ارباب وفا1956ء افسانہ ہستی1957ء اور شامِ غریباں 1963ء۔ چوتھا دور1964ء سے 1980ء تک ہے مسدس کی ہیت میں تیسرے مصرعے کی تبدیلی کے ساتھ اس دور میں اُنھوں نے تین مرثیے کہے لمحہ غور 1973ء علمدارِ وفا 1975ء اور حقیقتِ نور ونار1980 ء تک ہے۔جمیل مظہری نے بھی پہلا مرثیہ26 برس کی عمر میں کہا اس کے پس منظر میں اُس خاندانی تربیت کا بڑا داخل تھا جو مرثیہ خوانی سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری طرف اُس ادبی فکری تاریخ اورسیاسی مزاج کا پس منظر بھی تھا جو بچپن کی آخری سیٹرھیوں کوطے کرتے ہوئے دورِ شباب تک پہنچنے سے تعلق رکھتا ہے۔ 1928ء میں انھوں نے بی اے کرلیا تھا ۔ اس وقت تک وہ فکری و علمی صحبتوں کی بہت سے منزلیں طے کرچکے تھے۔ جمیل مظہری نے پہلا مرثیہ عرفانِ عشق1930ء میں کہا ،یہ وہی سال ہے جب انھوں نے غالب کے معروف قصیدے پر نظمیں لکھی ۔اسی سال انھوں نے اپنی ایک غزل میں یہ مطلع لکھ کر اپنے قامتِ فکر کی بلند ی کا احساس دلایا ۔

بقدرِ پیمانہ تخیل سُرور ہر دل کو ہے خودی کا       اگر نہ ہو یہ فریبِ پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

یہ شعر جمیل مظہری کی فکری شناخت کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا حوالہ بنا، اس حوالے کے پسِ پردہِ فکر غالب کی گرمیِ انفاس صاف محسوس ہوتی ہے۔

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا       درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا
حجت مرا شعا رتھاحجت ہو ئی تمام       میں نے تجھے معاف کیا اے سپاہِ شام
لیکن بہت شدید ہے فطرت کا انتقام       دیکھ ابنِ سعد دیکھ مشیت کا انتقام
آنکھیں تری سپاہ کی گریاں ابھی سے ہیں       مظلومیت کی فتح کے ساماں ابھی سے ہیں

جمیل مظہری کے کلام میں مذکورہ بالا کشمکش ان کی نظمیہ شاعری کا پر وردہ ہے مگر جب یہ کشمکش صنف مرثیہ کی حدود میں آگئی تو اس نے اظہار کی ہمہ گیر اور نفاست کو بیانیہ اسلوب سے زیادہ ہم آہنگ پایا ۔’’ آفسانہ ہستی‘‘ کے عنوان سے جمیل مظہری نے جو مرثیہ تصنیف کہاہے اس میں کشمکش کا عنصراور نظمیہ اسلوب بھی سب سے نمایا ں ہے اور اس میں قدرے بندگی کی کشمکش تونہیں مگر واقعہ ء کربلا کے پس منظر میں خدا سے شکایات کا دفتر کھل گیا ہے جو بذاتِ خود مرثیے کے اندر ایک ڈرامائی کیفیت کو لے آتا ہے مگر یہ عنصر پنپ نہیں سکا چونکہ تشبیب بہ اندازِ نظم کہی گئی ہے اور مرثیے کے بیانیہ حصے سے منسلک تو ہوگئی لیکن ہم آہنگ نہ ہوسکی۔’’ آفسانہء ہستی ‘‘ فلسفیانہ مرثیہ نگاری کے ضمن میں جمیل مظہری کی سب سے بڑی کوشش تھی ۔ایک عظیم سانحے کی نقاشی کا شعور رکھنے کے باوجود وہ اس کے مطالبات کو پورا نہ کرسکے۔

خم بہ خم کا کلِ ہستی کا فسانہ ہے عجیب       اس کے بننے کا بگڑنے کا بہانہ ہے عجیب
حیرتِ بیکسی آینہِ خانہ ہے عجیب       اک گرہ بھی نہ کھلی قسمتِ شانہ ہے عجیب
گُھتیاں اور بھی بڑھی گئیں سُلجھانے سے       زلف الجھتی رہی کچھ بن نہ پڑا شانے سے

جمیل مظہری کی مرثیہ نگاری کی ابتدا قومی مقاصد کے تحت ہو ئی اور اُنھوں نے پہلا مرثیہ عرفانِ عشق ( ۱۹۳۰ء)میں ترقی پسند تحریک اور مولانا آزاد کی تقاریر سے متاثر ہو کر کہا۔بقول محمد رضا کاظمی’’ سیاسی اغراض کی موجودگی کے باوجود اس مرثیے میں سیاسی عنصر نمایاں ہے اور ان کا مقصد جدید مرثیے کے مبادیات کو مرتب کرنے تک محدود رہا ہے۔ جدید مرثیے نے مذہب اور فلسفے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے زمانے میں پرور ش پائی ہے، اُس زمانے کا مرثیہ نگار مذہبی مقصدیت کو ایک تسلیم شدہ حقیقی شے کی حیثیت سے قبول کرنے پر قانع نہیں وہ ان کی وضاحت چاہتا ہے اسی وضاحت کی خاطرعرفانِ عشق‘‘ میں شُہدائے کربلا کے جذبہ روحانی کی تشریح کی گئی ہے ۔ اس جذبہ روحانی کو نیم صوفیانہ اور نیم فلسفیانہ اصطلاح میں عشقِ وفا کہہ کر جمیل مظہری نے اس مرثیے کو ان جذبات کی عظمت کا مرقع بنا دیا‘‘۔مثلاَ

عشق کیا ہے غم ِ ہستی سے رہا ہوجانا       اور رہا ہوکے گرفتارِ بلا ہوجانا
بے پیے مستِ مئے جامِ فنا ہوجانا       بسکہ دشوار ہے پابندِ وفا ہو جانا
قید اس میں یہ بڑی ہے کہ دل آزاد رہے       فکر ِ انجام نہ ہو کوششِ برباد رہے
اہلِ دل عشق کو اک مشقِ فنا کہتے ہیں       گرمیِ انجمنِ ارض وسما کہتے ہیں
عُرفا قلبِ مکدر کی صفا کہتے ہیں       ہم مسلما ں ہیں محبت کو خدا کہتے ہیں
وہ محبت نہیں جو ایک سے بدنام رہے       وہ محبت جو خدائی کے لیے عام رہے

Our sponsored

Large online bookstores offer used books for sale, too. Individuals wishing to sell their used Books